kia Behtareen Voice hy - Online Quran Teaching Academy
Online Quran Teaching Academy
OQTA is Proudly representing for all Muslim of the world in 24hrs Online Quran Teaching Courses.It has many different & easy courses.
Read Online Quran, Namaz, Dua, Roza, and Major Islamic Items,
Just like, Wozo, Tayammum, Etc
Like - Follow - and Share confirm you are Alive
21/06/2025
جنگ کا تازہ منظر نامہ
اب غزہ کی صورت حال یہ ہے کہ سوائے مصری سرحد پہ واقع رفح کے، ہر جگہ جنگ ہو رہی ہے. شمال میں غزہ سٹی کے شمالی علاقے جبالیا ، مغرب میں شیخ رضوان اور مشرقی علاقے شجاعیہ ، غزہ سٹی کے جنوب میں جحرالدیک ، وسطی غزہ میں دیر البلح اور جنوب میں خان یونس، غرض شمال سے جنوب تک چپے چپے پہ نہایت خوں ریز جنگ جاری ہے.
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تین ماہ کے عرصے میں ا.سرائیلی افواج کسی ایک علاقے کے بارے میں بھی اس طرح کا اعلان کرسکنے کی پوزیشن میں نہیں آ پائی ہیں کہ انہوں نے وہاں سے حماس کو بےدخل کردیا ہے اور اب وہاں ان پہ حملے کا کوئی خطرہ نہیں.
دوسری جانب شمالی غزہ سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ باری کا سلسلہ اب بھی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے. راکٹ باری سے دشمن کا بہت زیادہ نقصان ہو نہ ہو، مگر یہ یقینی بات ہے کہ اس کی وجہ سے حریف ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ افواج بھی نفسیاتی دباؤ کے زیرِ اثر رہتی ہیں. عوام تو ہر وقت کے بجتے سائرن کی وجہ سے جبکہ افواج اس وجہ سے کہ انہوں نے بمباری اور گولہ باری کی انتہا کردی مگر اب بھی نہ صرف اسی خطے کے گلی کوچوں میں مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے بلکہ وہاں سے برابر راکٹ بھی برسائے جارہے ہیں. گویا راکٹ باری " ہم اب بھی میدان میں پورے قد سے کھڑے ہیں" کا علامتی اظہار ہے.
حماس خود ساختہ ہتھیار تو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کر ہی رہی تھی، اب روسی ٹینک شکن راکٹس بھی آزمانے شروع کر دیے ہیں. یہ بات اسرائیل سمیت اس کے حلیفوں کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے. غزہ کی ناکہ بندی کے باوجود اگر وہاں سے دیگر ممالک تک اسلحہ کی سپلائی لائن قائم کی گئی ہے تو یہ غیر معمولی بات ہے. یہی وجہ ہے کہ دو دن قبل ا.سرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ مسئلے کے مستقل حل کے لئے مصر اور غزہ کی سرحدی پٹی کا اسرائیل کے پاس ہونا ضروری ہے. اس بیان پہ مصر بھی حیران ہے. ا.سرائیل کی جانب سے گزشتہ دنوں مصری سرحد پہ بمباری کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی تناؤ کی فضاء قائم ہے، جسے اس غیر ذمہ دارانہ بیان نے مزید بڑھاوا دیا ہے. دراصل 1979 میں مصر اور اسرائیل نے رفح کے آس پاس کے علاقے کو بفرزون قرار دیا تھا. اسی وجہ سے یہاں پر پولیس کی نفری تو ہوتی ہے مگر افواج کی تعیناتی نہیں ہوتی. اس معاہدے کے ہوتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم کا مذکورہ بیان اس کی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کر رہا ہے.
شمال میں غزہ سٹی کے آس پاس لڑا جانے والا معرکہ تو خوں ریز اور ہولناک ہے ہی، مگر اس وقت جنگ کی شدت کا ارتکاز جنوبی شہر خان یونس پہ ہے. غزہ کا دل کہلانے والے اس شہر پہ مشرق، شمال اور شمال مغرب کی جانب سے تقریباً سات راستوں سے حملہ جاری ہے مگر صہیونی افواج ایک حد سے آگے نہیں بڑھ پا رہی ہیں. عرب دنیا کے معروف عسکری تجزیہ کار میجر جنرل فائز الدویری کے بقول ایسا نہیں کہ اسرائیلی افواج خان یونس شہر میں داخل نہیں ہو رہیں، بلکہ وہ جنگی لحاظ سے اس خطرناک ترین شہر میں داخل ہونے کی ہمت اور حوصلہ ہی نہیں رکھتیں .
شمالی خطے میں اسرائیل کی جانب سے آہستہ آہستہ حکمت عملی تبدیل کی جارہی ہے. شخ رضوان اور دیگر علاقوں سے ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں کو پیچھے ہٹایا جارہا ہے. ماہرین کے بقول ا.سرائیل شاید اب بمباری پہ زیادہ انحصار کرنے جارہا ہے، تاکہ افواج کو پہنچنے والا جانی نقصان کم کیا جاسکے. حکمت عملی میں یہ بدلاؤ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ میدانِ جنگ میں ا.سرائیلی افواج کو نہ صرف خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے بلکہ اس کا جانی نقصان بھی بہت زیادہ ہو رہا ہے. اگرچہ نیتن یاہو کے بقول حما.س کے آٹھ ہزار جنگجو مارے جاچکے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حما.س کا جانی نقصان اسرائیل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ حما.س اور اس کی حلیف مزاحمتی تنظیموں کی حکمت عملی پہ گوریلا جنگ کی چھاپ دکھائی دے رہی ہے. سرفروش کسی گلی، سرنگ یا مکان کے اندر سے اچانک نمودار ہوتے ہیں. گولیاں اور راکٹ برساتے ہیں. دشمن کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں خاکستر کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں. کہیں کہیں البتہ دوبدو بھی جھڑپیں ہوئی ہیں مگر حماس کے نقطہء نگاہ سے ابھی چوپٹ کھلی اور دوبدو جنگ کا وقت نہیں آیا. جب لگے گا کہ اب پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے، تب جنگ کی ہولناکی دیکھنے والی ہوگی. اس وقت حما.س کے اعصاب شانت ہیں. حواس قابو میں ہیں. اس کا یہی مطلب ہے کہ جنگ اس کے بنائے ہوئے منصوبے اور توقع کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے. صہیونی افواج کے گلے میں پڑے پھندے کا حلقہ دھیرے دھیرے تنگ ہوتا جارہا ہے.
حما.س تو ستائش کی مستحق ہے ہی مگر اصل داد کے مستحق غزہ کے عام عوام ہیں. ان کی ثابت قدمی میدان میں برسرِ پیکار حما.س سے کسی بھی طور کم نہیں ہے. ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ شاید غزہ کی ساری پٹی سے ف.لسطینی سمٹ کر رفح کے علاقے میں اکٹھے ہوچکے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے. ابھی بھی عوام کی اچھی خاصی تعداد نہ صرف دیر البلح کے علاقے میں موجود ہے بلکہ شمال کے وہ علاقے جہاں شدید جنگ جاری ہے، وہاں بھی اس وقت بہت سے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ڈٹے ہوئے ہیں. ا.سرائیلی وزراء متعدد بار بیانات دے چکے ہیں کہ دنیا کو غزہ کے باسیوں کے غزہ سے ہجرت کرجانے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، مگر شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی سرزمین نہ چھوڑنے کی قسم کھا رکھی ہے، ورنہ اس نوعیت کی وحشت ناک جنگ میں جہاں عوام کو شعوری طور پر نشانہ بنایا جارہا ہو ، افواج کے پاؤں بھی اکھڑ جاتے ہیں، مگر غزہ کے عوام تمام تر مصائب کے باوجود ثابت قدم ہیں.
عرب ممالک اور اسرائیل کے بیچ چار جنگیں ہو چکیں مگر اسے نفسیاتی، افرادی اور معاشی طور پر اس قدر نقصان کبھی نہیں اٹھانا پڑا، جتنا اس بار اٹھانا پڑ رہا ہے. مختلف طرح کے نقصانات کے تخمینے باقاعدہ مضامین اور کالمز کا متقاضی ہیں، البتہ نفسیاتی نقصان اس قدر بڑا اور شدید ہے کہ اگر ا.سرائیل یہ جنگ نہ جیت سکا تو دہائیوں تک اس کا مداوا نہیں کیا جاسکے گا. وہ یہ کہ اس بار ا.سرائیل کسی ملک کی باقاعدہ فوج کی بجائے ایک نجی فورس سے نبرد آزما ہے اور تین ماہ کی جنگ کے باوجود اسے شکست دینا تو درکنار، اسے کسی ایک محاذ پہ بھی پسپا نہیں سکا ہے. یہ تاثر اتنا گہرا ہے کہ اس نے اسرائیل کا ایشیا خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں طاقتور ترین اور ناقابلِ شکست عسکری طاقت ہونے کے بھرم کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں .
(منقول )
08/09/2023
رند کی توبہ ........
اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر ؔصاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔
---
در اصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔
---
اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔
---
سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوںسے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔
---
ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔
مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے؎
----
کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں
----
آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔
’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…
----
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
----
جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی
Beautiful recreation By Qari Hammad ullah Sajid
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Karachi
Opening Hours
| Monday | 18:00 - 23:00 |
| Tuesday | 18:00 - 23:00 |
| Wednesday | 18:00 - 23:00 |
| Thursday | 18:00 - 23:00 |
| Friday | 18:00 - 23:00 |
25/10/2021