Allama Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani Fanpage

Allama Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani Fanpage

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Allama Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani Fanpage, Tutor/Teacher, Nazimabad, Karachi.

حق گو اور 100 سے زیادہ کتب کے مولف علامہ آغا علی شرف الدین آف چھورکاہ شیگر بلتستان1941 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 21 جون 2025 عیسوی کو وفات پائے۔۔یہ پیج آغا صاحب کے افکار اور ان جیسے دیگر علماء کے افکار کو پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
www.sibghatulislam.com

23/06/2026

تعارفِ کتاب
اُٹھو! قرآن کا دفاع کرو (حصہ پنجم)
کتاب ’’اُٹھو! قرآن کا دفاع کرو‘‘ کا یہ حصہ نہایت اہم، حساس اور فکری اعتبار سے فیصلہ کن مباحث پر مشتمل ہے۔ مصنفِ جلیل اس حصے میں صرف اُن شخصیات اور محدثین کا تعارف پیش کرنے پر اکتفا نہیں کرتے جن کی کتب میں تحریفِ قرآن سے متعلق روایات پائی جاتی ہیں، بلکہ اُن علماء کے افکار، استدلالات، تاویلات اور دفاعی مناہج کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہیں جنہوں نے بعد کے ادوار میں ان روایات کی توجیہ، تاویل یا دفاع کی کوشش کی۔ بالخصوص مصنفِ محترم علامہ سید علی میلانی اور دیگر معاصر علماء کے موقف کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر بعض شخصیات کے تحریفِ قرآن سے متعلق اقوال کو ’’شخصی رائے‘‘ قرار دے کر پورے مکتب کی نمائندگی سے خارج کیا جا سکتا ہے تو یہی اصول دوسرے مکاتبِ فکر پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ مصنف کے نزدیک دوہرا معیار اختیار کرنا علمی دیانت اور اصولِ تحقیق کے منافی ہے۔
مصنفِ اجل اس باب میں یہ بحث بھی چھیڑتے ہیں کہ جب بعض اکابر محدثین اور مؤلفین کو خود ان کے مذہبی حلقوں میں ثقہ، معتمد، جلیل القدر، حجت اور مرجعِ روایت قرار دیا جاتا ہے، ان کی کتب کو غیر معمولی تقدیس حاصل ہوتی ہے، اور ان کے مندرجات پر فقہی و اعتقادی استنباط کی بنیاد رکھی جاتی ہے، تو پھر انہی کتابوں میں موجود تحریفِ قرآن سے متعلق روایات کو محض یہ کہہ کر نظر انداز کرنا کہ وہ مؤلف کا عقیدہ نہیں تھیں، ایک ایسا موقف ہے جو مزید وضاحت اور تحقیق کا محتاج ہے۔ اسی تناظر میں مصنف ’’اصول کافی‘‘، ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ اور دیگر بنیادی مصادر کے مقدمات، مؤلفین کے بیانات اور بعد کے علماء کی توثیقات کو موضوعِ بحث بناتے ہیں اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان مصادر کے بارے میں دی جانے والی ضمانتوں اور بعد کی تاویلات کے درمیان کس حد تک ہم آہنگی موجود ہے۔
یہ حصہ دراصل قرآن اور فرقہ، نص اور شخصیت، دلیل اور تعصب، تحقیق اور تقلید کے درمیان جاری ایک فکری کشمکش کا آئینہ دار ہے۔ مصنفِ گرامی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قرآنِ مجید کا دفاع ہر قسم کی جماعتی وابستگی، شخصی عقیدت اور مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر ہونا چاہیے۔ وہ اس رویے پر بھی نقد کرتے ہیں جس میں بعض افراد اپنے اکابرین کی علمی حیثیت کے تحفظ کے لیے قرآن سے متعلق پیدا ہونے والے اشکالات کو کم اہم قرار دیتے ہیں یا ان کی توجیہ میں غیر ضروری تکلفات اختیار کرتے ہیں۔ اس پورے باب میں مصنف کی کوشش یہ ہے کہ قاری محض شخصیات کے احترام یا تاریخی شہرت سے متاثر ہونے کے بجائے دلائل، اصولِ تحقیق اور قرآنِ کریم کی قطعی حیثیت کو معیار بنائے۔
الغرض کتاب کا یہ حصہ محض تاریخی اقوال کا مجموعہ نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے باب میں پیدا ہونے والے فکری تضادات، اعتقادی پیچیدگیوں، حدیثی مناہج اور فرقہ وارانہ تعصبات کا ایک گہرا علمی محاکمہ ہے، جس کے ذریعے مصنفِ جلیل یہ باور کراتے ہیں کہ قرآن کا دفاع صرف زبانی دعوؤں سے نہیں بلکہ فکری دیانت، علمی جرأت اور ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر حقائق کے اعتراف سے ممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________
رابطہ برائے حصولِ کتاب
اگر آپ کتاب "قرآن میں مذکر و مونث" سے مکمل استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ فرمائیں:
دارالکتب القرآنیہ
رابطہ نمبر
03208082542
03148082542
دینی، علمی اور تحقیقی کتب کے لیے رابطہ فرمائیں

23/06/2026

تعارفِ کتاب
اُٹھو قرآن کا دفاع کرو (حصہ چہارم)
کتاب کا یہ نہایت اہم، حساس اور فکری اعتبار سے فیصلہ کن حصہ قرآنِ کریم کی صیانت، حفاظت اور عدمِ تحریف کے مسئلہ پر صدیوں سے جاری علمی مناقشات کا تفصیلی اور تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔ مصنفِ اجل نے اس حصے میں بالخصوص اُن علماء، محدثین، مفسرین اور فقہاء کے اقوال، تصریحات اور تالیفات کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے جن کے بارے میں تاریخِ مذہب میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ کسی نہ کسی درجے میں تحریفِ قرآن کے نظریے سے متاثر یا اس کے مؤید رہے ہیں۔ اس ضمن میں مرحوم کلینی، علی بن ابراہیم قمی، عیاشی، صفار، کشی، نعمانی، طبرسی، حر عاملی، علامہ مجلسی، مازندرانی، فیض کاشانی، سید نعمت اللہ جزائری، سید بحرانی، سید عبداللہ شبر، شیخ نراقی، محدث نوری اور دیگر متعدد شخصیات کے افکار، عبارات، تصنیفات اور ان کے متعلق علماءِ رجال و تراجم کے اقوال کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
مصنفِ جلیل اس امر کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ بعد کے بعض علماء نے ان شخصیات پر وارد ہونے والے اعتراضات کا کس طرح دفاع کیا، کن تاویلات اور توضیحات کے ذریعے ان کے اقوال کو تحریفِ قرآن کے عقیدے سے الگ ثابت کرنے کی کوشش کی، اور کس حد تک یہ دفاعات علمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ خصوصاً علامہ سید علی میلانی، محمد ہادی معرفت، جعفر مرتضیٰ عاملی اور دیگر معاصر علماء کے دلائل و جوابات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا صرف روایات کو کتابوں میں جمع کر دینا کسی مؤلف کے اس عقیدے کا ثبوت ہے یا نہیں، اور کیا ان اکابر کے بارے میں بعد کے دفاعات تاریخی حقائق سے ہم آہنگ ہیں۔
اس حصے میں صرف شخصیات ہی نہیں بلکہ اُن بنیادی مصادر و مراجع کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے جنہیں تحریفِ قرآن کے قائلین یا ان کے ناقدین بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ اصولِ کافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تفسیرِ قمی، تفسیرِ عیاشی، بصائر الدرجات، کتاب سلیم بن قیس، الغیبۃ نعمانی، احتجاجِ طبرسی، تفسیرِ امام حسن عسکری، البرہان، الصافی، وافی، بحار الانوار، وسائل الشیعہ اور فصل الخطاب سمیت متعدد کتب کے اسناد، منہج، روایات اور علمی حیثیت پر مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کتابوں میں موجود روایات کی نوعیت کیا ہے، ان کے راوی کون ہیں، اور ان روایات سے کون سے اعتقادی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
مصنفِ محترم نے تحریفِ قرآن کے قائلین کے دلائل کو بھی پوری دیانت کے ساتھ نقل کیا ہے۔ چنانچہ سابقہ امتوں کی تحریف شدہ کتب سے قیاس، مصحفِ علیؑ کے بارے میں منقول روایات، بعض مخصوص قراءات، نسخِ تلاوت کے مباحث، مختلف مصاحف کے اختلافات، اور قرآن میں ائمہؑ کے اسماء یا فضائل کے حذف کے دعووں جیسے تمام معروف استدلالات کو جمع کر کے ان کی حقیقت، بنیاد اور علمی وزن کو پرکھا گیا ہے۔ مصنف یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آیا چند منتشر اور متعارض روایات کو اکٹھا کر کے "تواتر معنوی" کا دعویٰ کرنا علمی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
کتاب کے اس حصے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصنفِ اجل نے صرف روایات یا اقوال نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حدیثی ذخائر کی تدوینی تاریخ، محدثین کے مناہج، کتبِ حدیث کی باہمی نسبت، اسانید کی کمزوریوں، مرسل روایات، راویوں کی جرح و تعدیل اور فرقہ وارانہ تعصبات کے اثرات کو بھی زیرِ بحث لایا ہے۔ وہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح مختلف ادوار میں روایات کے انبار جمع ہوتے گئے اور بعد کے مصنفین نے انہی ذخائر سے استدلال کر کے عقائد کی تشکیل کی۔
مزید برآں مصنف نابغہ نے عصرِ حاضر کے بعض معروف علماء اور مفکرین کے اقوال، ان کے طرزِ استدلال اور تحریفِ قرآن کے مسئلہ پر ان کے مؤقف کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں علمی شخصیات کے مابین اختلافات، باہمی تنقیدات، دفاعات اور اعتراضات کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا گیا ہے تاکہ قاری اس پوری بحث کا جامع اور متوازن تصور حاصل کر سکے۔
حقیقت میں کتاب کا یہ حصہ قرآنِ مجید کی حفاظت، حجیت، تواتر، تدوین، روایت اور فرقہ وارانہ مناظرات کے گرد گھومنے والے اُن تمام بنیادی سوالات کو یکجا کرتا ہے جو صدیوں سے اہلِ علم کے درمیان زیرِ بحث رہے ہیں۔ مصنفِ جلیل کی کوشش ہے کہ قاری صرف شخصیات کے احترام یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کرے بلکہ دلائل، مصادر، روایات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں خود اس پورے مسئلے کا تنقیدی مطالعہ کرے اور قرآنِ کریم کے دفاع کے نام پر پیش کیے جانے والے تمام دعووں، اعتراضات اور جوابات کو علمی میزان میں پرکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________
رابطہ برائے حصولِ کتاب
اگر آپ کتاب "قرآن میں مذکر و مونث" سے مکمل استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ فرمائیں:
دارالکتب القرآنیہ
رابطہ نمبر
03208082542
03148082542
دینی، علمی اور تحقیقی کتب کے لیے رابطہ فرمائیں

21/06/2026

شکر بے انتہا اس ذات باری تعالٰی کا جس نے ہمیں آج علامہ صاحب کی ایک اور کاوش کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔

اللہ تعالیٰ سے علی شرف الدین صاحب کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول کرنے اور ان کے درجات کو بلند کرنے کی درخواست کرتے ہیں ۔
https://www.sibghatulislam.com/PViewer.aspx?name=Dor_Lihada_Tareekh_Pak-o-Hind

21/06/2026

تعارفِ کتاب : اُٹھو قرآن کا دفاع کرو (حصہ سوم)
زیرِ نظر کتاب "اُٹھو قرآن کا دفاع کرو" کا یہ تیسرا حصہ محض ایک علمی تحریر یا روایتی مذہبی مباحثہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری، اعتقادی اور تہذیبی کشمکش کا ایک ہمہ گیر تجزیہ ہے۔ مصنفِ جلیل اس حصہ میں قرآنِ کریم کی حاکمیت، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی حیثیت، حدیث کے ذخیرے میں در آنے والی جعل سازی، فرقہ واریت کے اسباب، تحریفِ قرآن کے الزام کی تاریخی بنیادوں، حدیثِ افتراقِ امت کی حقیقت، باطنی تحریکوں کی کارفرمائیوں اور امتِ مسلمہ کے فکری انتشار کے اسباب کو نہایت تفصیل، جرأت اور استدلال کے ساتھ زیرِ بحث لاتے ہیں۔ کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ امت کی فکری کمزوریوں، مذہبی انتشار اور اعتقادی بحرانوں کی جڑ قرآن کو مرکزِ حیات و حاکمِ اعلیٰ کے منصب سے ہٹانا اور دین کے اصل مآخذ کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار ہونا ہے۔
مصنفِ اجل ابتدا ہی سے اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو قرآن اور سنت دونوں سے وابستہ رہنے کی تلقین فرمائی تھی، لیکن بعد کے ادوار میں بعض فکری رجحانات نے قرآن اور سنت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے بجائے ایک کو دوسرے پر حاکم بنانے کی کوشش کی۔ مصنف کے نزدیک یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے امت میں فکری انحرافات نے جنم لیا۔ وہ اس امر پر مفصل بحث کرتے ہیں کہ قرآن کریم اپنی سند، حجیت اور حفاظت کا خود ضامن ہے اور اسی قرآن نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلمانوں کے لیے حجت قرار دیا ہے۔ لہٰذا سنت کی حجیت بھی بالآخر قرآن ہی کے اقرار اور تصدیق سے ثابت ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر مصنف قرآن اور سنت کے تعلق کو باہم معاون و مؤید قرار دیتے ہوئے ان تصورات پر شدید تنقید کرتے ہیں جو قرآن کو ناقص الفہم، صامت یا محض ایک ثانوی ماخذ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حصہ میں مصنفِ گرامی حدیث سازی، وضعِ حدیث اور جعلی روایات کے تاریخی پس منظر پر بھی نہایت تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین میں بہت سے فکری اختلافات، اعتقادی تنازعات اور فرقہ وارانہ کشمکشیں انہی روایات کے ذریعے در آئیں جنہیں بعد میں تقدس کا جامہ پہنا کر تنقید سے بالاتر قرار دیا گیا۔ مصنف اس امر پر زور دیتے ہیں کہ صحیح اور غلط روایت کے درمیان امتیاز کے لیے قرآن کو بنیادی کسوٹی بنایا جائے، کیونکہ قرآن ہی وہ معیار ہے جو دین کے ہر دوسرے ماخذ کی جانچ پرکھ کر سکتا ہے۔ وہ اس رویے پر بھی تنقید کرتے ہیں جس کے تحت بعض حلقوں نے روایت کے ذخیرے کو تحقیق سے ماورا قرار دے کر علمی نقد کے دروازے بند کر دیے۔
کتاب کا ایک اہم حصہ امتِ مسلمہ میں رائج فرقہ واریت اور اس کے فکری و تاریخی اسباب کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ مصنفِ جلیل کے نزدیک شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث اور دیگر مکاتبِ فکر کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات صرف فقہی یا جزوی نوعیت کے نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں دین کے مصادر، حجیت اور فہمِ دین کے بنیادی سوالات کارفرما ہیں۔ وہ اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ مختلف فرقوں نے بسا اوقات قرآن سے زیادہ اپنے اپنے مسلکی موقف کے دفاع کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں قرآن کا آفاقی اور وحدت آفرین پیغام پس منظر میں چلا گیا۔ مصنف نہ صرف فرقہ وارانہ تعصبات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں بلکہ اس ذہنیت کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہیں جو اسلام کی بجائے فرقے کو اصل شناخت بنا دیتی ہے۔
مصنفِ اجل تحریفِ قرآن کے مسئلے کو بھی اس حصہ میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ وہ اس موضوع کے تاریخی، اعتقادی اور فکری پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، محققین اور مصنفین کی آراء کا تذکرہ کرتے ہیں۔ علامہ میلانی، علامہ عاملی اور دیگر علماء کے نظریات کی روشنی میں مصنف یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم اپنی حفاظت اور بقا کے لیے کسی فرد، گروہ یا فتوے کا محتاج نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اسی تناظر میں وہ اس رویے پر تنقید کرتے ہیں جس کے تحت قرآن کے دفاع کے لیے دلائلِ قرآنی کی بجائے شخصیات اور فتاویٰ کو اصل بنیاد بنایا جاتا ہے۔
اس کتاب میں تعددِ قراءات، اختلافِ قراءات اور ان سے وابستہ علمی و اعتقادی مباحث کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنفِ گرامی اس مسئلے کو صرف ایک فنی یا قرآنی بحث نہیں سمجھتے بلکہ اسے امت کے فکری انتشار اور باہمی اختلافات کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قراءات کے گرد پیدا ہونے والے تنازعات نے مختلف ادوار میں امت کے اندر نئے مباحث، نئے اختلافات اور نئے فکری محاذ پیدا کیے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
کتاب کے اہم ترین مباحث میں حدیثِ افتراقِ امت کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ مصنف اس روایت کے مختلف احتمالات، نتائج اور عملی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر امت کے بے شمار فرقوں میں صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے تو اس کی تعیین کس معیار پر ہوگی، اور اگر ہر فرقہ خود کو نجات یافتہ اور دوسروں کو گمراہ قرار دیتا ہے تو اس طرزِ فکر کا منطقی نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس بحث کے ذریعے مصنف فرقہ وارانہ تکفیر، باہمی نفرت اور امت کے مسلسل انتشار کے اسباب کو نمایاں کرتے ہیں اور قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان مسائل کو محض تقلیدی انداز میں قبول کرنے کے بجائے علمی اور قرآنی اصولوں کی روشنی میں پرکھیں۔
مصنفِ جلیل باطنی تحریکوں، منافقانہ کرداروں اور اسلام دشمن قوتوں کی خفیہ سرگرمیوں کا بھی تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کے کھلے دشمن جب براہِ راست مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکے تو انہوں نے مسلم معاشرے کے اندر رہ کر فکری انتشار پیدا کرنے، قرآن اور سنت کے درمیان مصنوعی تصادم کھڑا کرنے، شخصیت پرستی کو فروغ دینے، مذہبی تقدسات کے نام پر عقل و فکر کو معطل کرنے اور امت کو فرقوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ مصنف اس پورے عمل کو ایک تاریخی تسلسل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ امت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر بیرونی اور اندرونی قوتیں کس طرح اپنے مقاصد حاصل کرتی رہی ہیں۔
زیرِ نظر حصہ کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ مصنفِ گرامی محض تنقید پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اصلاحِ احوال کی راہ بھی متعین کرتے ہیں۔ وہ امت کو دعوت دیتے ہیں کہ قرآنِ کریم کو دوبارہ مرکزِ فکر و عمل بنایا جائے، سنتِ قطعیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے حقیقی مقام پر سمجھا جائے، روایت اور درایت کے درمیان توازن قائم کیا جائے، فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر دین کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے، اور ہر اس فکری رویے کا محاسبہ کیا جائے جو مسلمانوں کو وحدت، بصیرت اور ہدایت کے راستے سے دور کرتا ہے۔
مختصراً یہ حصہ قرآن کے دفاع کے عنوان سے شروع ہو کر امتِ مسلمہ کی فکری تاریخ، مذہبی اختلافات، حدیثی مباحث، تحریفِ قرآن کے الزامات، قراءات کے تنازعات، حدیثِ افتراقِ امت کے نتائج، باطنی تحریکوں کے کردار، فرقہ واریت کے اسباب اور قرآن کی ابدی حجیت و حاکمیت جیسے موضوعات کا ایک وسیع علمی انسائیکلوپیڈیا بن جاتا ہے۔ مصنفِ اجل کی یہ کاوش قارئین کو نہ صرف غور و فکر کی دعوت دیتی ہے بلکہ انہیں اس بنیادی سوال کے سامنے بھی کھڑا کرتی ہے کہ امت کی نجات، وحدت اور فکری بقا کا حقیقی راستہ آخر قرآنِ کریم کی طرف رجوع کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________
رابطہ برائے حصولِ کتاب
اگر آپ کتاب "قرآن میں مذکر و مونث" سے مکمل استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ فرمائیں:
دارالکتب القرآنیہ
رابطہ نمبر
03208082542
03148082542
دینی، علمی اور تحقیقی کتب کے لیے رابطہ فرمائیں

20/06/2026

تعارفِ کتاب : اُٹھو قرآن کا دفاع کرو (حصہ دوم)
زیرِ نظر کتاب ’’اُٹھو قرآن کا دفاع کرو‘‘ کا دوسرا حصہ عصرِ حاضر کے اُن نہایت حساس، پیچیدہ اور دیرینہ فکری مباحث کا احاطہ کرتا ہے جنہوں نے صدیوں سے امتِ مسلمہ کی فکری وحدت، دینی شناخت اور قرآنی شعور کو متاثر کیا ہے۔ مصنفِ اجل اس حصے میں محض چند فقہی یا تاریخی اختلافات کا ذکر نہیں کرتے بلکہ وہ امت کے فکری انحرافات، فرقہ وارانہ تقسیمات، روایت پرستی، تحریفِ مفاہیم اور قرآن و سنت کے حقیقی تعلق کے بارے میں ایک وسیع اور گہری علمی تحلیل پیش کرتے ہیں۔
مصنفِ جلیل کے نزدیک اسلام کی پوری عمارت قرآنِ کریم کی بنیاد پر قائم ہے۔ قرآن ہی دین کا اصل مصدر، معیارِ حق، میزانِ عدل اور حجتِ قطعی ہے، جبکہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی قرآن کی عملی تفسیر، تطبیق اور تشریح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے ابتدائی ابواب میں قرآن اور سنت کے درمیان پیدا کی جانے والی مصنوعی کشمکش کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ امت کو اس مقام تک پہنچانے والے فکری اسباب کیا تھے جہاں قرآن و سنت کے باہمی ربط کے بجائے ان کے درمیان مقابلہ آرائی کا تصور پیدا کر دیا گیا۔
مصنفِ اجل اس امر پر تفصیلی بحث کرتے ہیں کہ کس طرح تاریخِ اسلام میں بعض فکری رجحانات نے قرآن کو زندگی کے مرکز سے ہٹا کر روایت کو محور بنانے کی کوشش کی، کس طرح وضعِ حدیث، روایت سازی، اخبار پرستی اور غیر محتاط نقل و روایت کے ذریعے قرآن کی حاکمیت کو چیلنج کیا گیا، اور کس طرح بعض حلقوں نے قرآن کو ’’صامت‘‘، ’’مبہم‘‘ اور ’’محتاجِ حدیث‘‘ قرار دے کر اسے براہِ راست فہم و استدلال کے دائرے سے دور کرنے کی سعی کی۔ مصنف کے نزدیک یہ محض علمی اختلاف نہیں بلکہ امت کے فکری سفر کا ایک نہایت اہم موڑ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
کتاب کا ایک بڑا حصہ منافقین، باطنیہ اور اسلام دشمن عناصر کی اُن تاریخی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جنہیں مصنفِ جلیل اسلام کے اندرونی فکری انتشار کا ایک بنیادی سبب قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دشمنانِ اسلام نے جب کھلی محاذ آرائی میں ناکامی دیکھی تو انہوں نے اسلام کے اندر رہ کر، دین کے خیر خواہ اور عاشق بن کر، عقائد و افکار میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کیں جن کے نتیجے میں امت اصل مقاصدِ دین سے دور ہوتی چلی گئی۔ اس تناظر میں مصنفِ اجل باطنی تحریکوں، منافقانہ طرزِ فکر اور مختلف ادوار میں رونما ہونے والی فکری دراندازیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
تحریفِ قرآن کے مسئلے پر بھی یہ کتاب غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ مصنفِ جلیل نہ صرف تحریفِ قرآن کے تاریخی پس منظر، اس کے اسباب اور اس کے فروغ میں کردار ادا کرنے والی فکری جہات کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ وہ اس امر پر بھی بحث کرتے ہیں کہ تحریفِ قرآن کا تصور کن علمی اور روایتی بنیادوں سے پیدا ہوا، اس کی نسبت کن حلقوں کی طرف کی گئی، اور امت میں اس مسئلے نے کس نوعیت کے اختلافات کو جنم دیا۔ اس سلسلے میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مفسرین، محدثین اور متکلمین کے اقوال و آراء کا ذکر کرتے ہوئے مصنف یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم اپنی ذات میں محفوظ، قطعی اور الٰہی ضمانت کا حامل ہے۔
مصنفِ اجل تعددِ قراءات، سبعہ، عشرہ اور دیگر قرآنی قراءات کے مباحث کو بھی اپنے تحقیقی دائرۂ گفتگو میں شامل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ صرف قراءت کا مسئلہ نہیں بلکہ امت کی وحدت، نصِ قرآنی کی مرکزیت اور دینی فکر کے مستقبل سے متعلق ایک اہم بحث ہے۔ اسی لیے وہ اس موضوع پر رائج آراء، ان کے نتائج اور ان سے پیدا ہونے والے فکری اثرات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔
کتاب میں فرقہ واریت کے مسئلے کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مصنفِ جلیل کے نزدیک امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی کمزوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی جامع شناخت کو پسِ پشت ڈال کر فرقہ جاتی شناختوں کو اصل بنا لیا گیا۔ چنانچہ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور دیگر مکاتبِ فکر کے مابین پائے جانے والے اختلافات، ان کے تاریخی اسباب، ان کے فکری نتائج اور امت پر ان کے اثرات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف اس امر پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کی بقا فرقوں کی بقا میں نہیں بلکہ قرآن و سنت کی مشترکہ بنیاد پر امت کے اتحاد میں ہے۔
حدیثِ افتراقِ امت کے بارے میں بھی مصنفِ اجل نہایت اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ وہ اس روایت کے مختلف فکری اور عملی نتائج کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ بحث کرتے ہیں کہ اس روایت کو امت میں جاری فرقہ وارانہ تقسیمات کے تناظر میں کس طرح سمجھا گیا، اس سے کن نظریات کو تقویت ملی اور اس کے نتیجے میں امت کے اندر کون سی ذہنی کیفیت پیدا ہوئی۔ اسی ضمن میں وہ نجات، گمراہی، تکفیر، تفسیق اور فرقہ جاتی برتری کے دعووں پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔
کتاب کا ایک نمایاں امتیاز یہ بھی ہے کہ مصنفِ جلیل ’’منکرِ سنت‘‘ اور ’’مصفّیۂ سنت‘‘ کے درمیان واضح فرق قائم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار اور روایات کی تنقیح و تحقیق دو بالکل مختلف امور ہیں جنہیں خلط ملط کر دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اسی لیے وہ قرآن اور سنتِ قطعیہ کی روشنی میں روایات کے جائزے، ان کی جانچ پڑتال اور صحیح و سقیم کی تمییز کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں۔
مصنفِ اجل اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ قرآن کی حقانیت، عظمت اور حجیت کسی فرد، فقیہ، مفسر یا مجتہد کے فتویٰ کی محتاج نہیں۔ قرآن اپنی دلیل خود ہے، اپنی سند خود ہے اور اپنی حفاظت کی ضمانت خود اپنے رب سے رکھتا ہے۔ البتہ علماء و محققین کی خدمات کو وہ اس اعتبار سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قرآن کے فہم، اس کے دلائل کی توضیح اور اس کے دفاع میں علمی کردار ادا کیا۔
الغرض یہ کتاب محض تحریفِ قرآن یا فرقہ واریت کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ قرآن کی مرکزیت، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی مقام، روایت و درایت کے توازن، حدیث و اخبار کی حیثیت، امت کے فکری انتشار، فرقہ جاتی تعصبات، دینی مصادر کی ترتیب اور اسلام کے فکری مستقبل کے متعلق ایک ہمہ گیر علمی و تحقیقی دستاویز ہے۔ مصنفِ جلیل قاری کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ موروثی تعصبات، فرقہ وارانہ وابستگیوں اور تقلیدی جمود سے بلند ہو کر قرآنِ کریم کو اپنی فکری و عملی زندگی کا مرکز بنائے اور دین کو اسی خالص سرچشمۂ ہدایت سے سمجھنے کی کوشش کرے جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے محفوظ فرمایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
________________________________________
رابطہ برائے حصولِ کتاب
اگر آپ کتاب "قرآن میں مذکر و مونث" سے مکمل استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ فرمائیں:
دارالکتب القرآنیہ
رابطہ نمبر
03208082542
03148082542
دینی، علمی اور تحقیقی کتب کے لیے رابطہ فرمائیں

Photos from Allama Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani Fanpage's post 20/06/2026

تعارفِ کتاب : اُٹھو قرآن کا دفاع کرو (حصہ اول )
تالیف: علی شرف الدین صاحب
________________________________________
یہ کتاب محض ایک تصنیف نہیں بلکہ قرآنِ مجید کی مظلومیت، مہجوریت اور فکری محاصرے کے خلاف ایک درد مند صدا، ایک فکری احتجاج اور ایک بیداری کی تحریک ہے۔ مصنف نے اسے ایسے دور میں قلم بند کیا ہے جب امتِ مسلمہ بظاہر قرآن سے وابستگی کے دعوے تو کرتی ہے، مگر عملاً اس کی ہدایات، احکام، نظامِ حیات اور فکری رہنمائی کو زندگی کے مرکزی مقام سے ہٹا کر ثانوی حیثیت دے چکی ہے۔ یہی احساسِ درد اس کتاب کی روح ہے اور یہی اس کے ہر باب، ہر سطر اور ہر استدلال میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
کتاب کا انتساب اُن تمام اہلِ ایمان، علماء، معلمین، محققین، داعیانِ حق اور محافظانِ قرآن کے نام ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں قرآنِ کریم کی حفاظت، تعلیم، تفہیم، تبلیغ اور اقامتِ احکام کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔ مصنف کے نزدیک قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ امت کی اساس، اس کی شناخت، اس کا آئین، اس کا معیارِ حق و باطل اور اس کی فکری و تہذیبی بقا کی ضمانت ہے۔ چنانچہ جب قرآن کو زندگی کے میدان سے دور کر دیا جائے تو صرف ایک کتاب نہیں بلکہ پوری امت اپنی اصل بنیاد سے محروم ہو جاتی ہے۔
مصنف نہایت کرب اور جرأت کے ساتھ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قرآن کی سب سے بڑی مظلومیت یہ نہیں کہ اس کے دشمن اس پر حملہ آور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اپنے دعویدار اسے مہجور بنائے ہوئے ہیں۔ مدارس و جامعات میں قرآن کی تلاوت تو موجود ہے مگر اس کی تدبرانہ تعلیم ناپید ہے، قرآن کے نام پر ادارے تو قائم ہیں مگر قرآن کے احکامِ حیات اور نظامِ معاشرت و سیاست کو سمجھنے اور نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش کم نظر آتی ہے۔ کتاب اسی المیے کو مختلف مثالوں، استدلالات اور فکری مباحث کے ذریعے بے نقاب کرتی ہے اور قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے امت کو اپنے ہی مرکزِ ہدایت سے دور کر دیا۔
مصنف کے نزدیک قرآن سے دوری صرف ایک علمی مسئلہ نہیں بلکہ امت کے زوال، فکری انتشار، فرقہ وارانہ تقسیم، سیاسی غلامی، اخلاقی انحطاط اور خاندانی و معاشرتی بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے۔ وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جب بھی امت پر فکری، اعتقادی یا اجتماعی بحران نازل ہوا، اس کی اصل وجہ قرآن سے عملی بے تعلقی تھی۔ اسی لیے کتاب بار بار قاری کو قرآن کی طرف رجوع، تدبر، فہم اور عملی وابستگی کی دعوت دیتی ہے اور یہ باور کراتی ہے کہ امت کی نشاۃِ ثانیہ کسی شخصیت، جماعت یا نظریے کے ذریعے نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ زندہ تعلق کے ذریعے ممکن ہے۔
کتاب کا ایک اہم پہلو قرآن و سنت کے باہمی تعلق کی توضیح ہے۔ مصنف نہ تو اُن حلقوں کے مؤقف کو قبول کرتے ہیں جو سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر انداز کر کے صرف قرآن پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں اور نہ اُن رجحانات کو درست سمجھتے ہیں جو سنت کے نام پر قرآن کی حاکمیت اور مرکزیت کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دینِ اسلام کی صحیح بنیاد قرآن اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ہیں، مگر ان دونوں کے مابین اصل میزان اور معیار قرآنِ مجید ہے، جو اللہ تعالیٰ کی محفوظ اور قطعی حجت ہے۔ اسی تناظر میں کتاب قرآنیت کے نام پر سنت سے انکار کرنے والے رجحانات اور حدیث کے نام پر قرآن کی بالادستی کو کمزور کرنے والی فکر، دونوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔
مصنف فرقہ واریت کو بھی امت کی فکری شکست اور قرآنی تعلیمات سے انحراف کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہیں۔ وہ قرآن کے اس اصول کو نمایاں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کا نام "مسلمان" رکھا ہے، جبکہ بعد کی صدیوں میں پیدا ہونے والی فرقہ جاتی شناختوں نے امت کے وحدانی تشخص کو مجروح کیا۔ اس کتاب میں قاری کو ایک ایسی دعوت ملتی ہے جو مسلکی تعصبات سے بلند ہو کر قرآن و سنت کی بنیاد پر امت کی وحدت اور فکری بیداری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
کتاب کا تمہیدی حصہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، جہاں مصنف انسانی فطرت، عقل، وحی، نبوت، ختمِ رسالت، قرآنِ کریم کی جامعیت اور ہدایتِ ربانی کے مختلف پہلوؤں کو قرآنی آیات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف پیدا نہیں کیا بلکہ اسے فطرت، عقل، وحی، انبیاء اور بالآخر قرآنِ مجید جیسی عظیم نعمتوں سے نواز کر ہدایت کا مکمل سامان فراہم کیا ہے۔ لہٰذا گمراہی کا اصل سبب ہدایت کی کمی نہیں بلکہ ہدایت سے اعراض ہے۔
کتاب کے ابتدائی صفحات میں مصنف اپنے ذاتی حالات، علمی محاصرے، معاشرتی تنہائی، فکری مخالفت اور اقتصادی دباؤ کا بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن ان تمام مشکلات کو قرآن کے دفاع کے مقابلے میں معمولی قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تصنیف میں محض علمی استدلال نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کا درد بھی شامل ہے جو قرآن کی مظلومیت کو اپنی ذاتی مظلومیت سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ سمجھتا ہے۔ یہی درد اس کتاب کو محض ایک تحقیقی کام کے بجائے ایک فکری تحریک اور دعوتی منشور کی شکل عطا کرتا ہے۔
"اُٹھو قرآن کا دفاع کرو" دراصل اُس خطرے کے پس منظر میں لکھی گئی جسے مصنف قرآن کے مقام، حجیت، وحدتِ متن اور عملی حاکمیت کے خلاف ایک منظم فکری یلغار سمجھتے ہیں۔ وہ اس بات پر متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن پر حملہ صرف اس کی عبارت یا قراءت کے حوالے سے نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک حملہ یہ ہے کہ اسے زندگی، قانون، سیاست، معاشرت اور فکر کے میدان سے بے دخل کر دیا جائے۔ مصنف کی نگاہ میں قرآن کا حقیقی دفاع صرف اس کی طباعت، حفظ یا قراءت نہیں بلکہ اس کی تفہیم، تبلیغ، اقامت اور حاکمیت کا احیاء ہے۔
یہ کتاب دراصل ہر اس شخص کے لیے ایک بیدار کن صدا ہے جو قرآن سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اپنے اور قرآن کے تعلق کا ازسرِنو جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔ یہ قاری کو جھنجھوڑتی ہے، سوال اٹھاتی ہے، مسلمات کو چیلنج کرتی ہے اور اسے دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن کو صرف ثواب کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنما کتاب کے طور پر دوبارہ دریافت کرے۔ اسی لیے "اُٹھو قرآن کا دفاع کرو" ایک کتاب سے بڑھ کر ایک دعوت، ایک فکر، ایک احتجاج اور ایک عہدِ نو کی پکار محسوس ہوتی ہے؛ ایسی پکار جو امتِ مسلمہ کو قرآن کے گرد دوبارہ مجتمع ہونے، قرآن کو مہجوریت سے نکالنے اور قرآن و سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اپنی فکری، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تعمیرِ نو کی دعوت دیتی ہے۔
________________________________________
رابطہ برائے حصولِ کتاب
اگر آپ کتاب "قرآن میں مذکر و مونث" سے مکمل استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ فرمائیں:
دارالکتب القرآنیہ
رابطہ نمبر
03208082542
03148082542
دینی، علمی اور تحقیقی کتب کے لیے رابطہ فرمائیں

Photos from Allama Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani Fanpage's post 19/06/2026

حجت الاسلام علامہ شیخ محمد گنجی نجفی مرحوم نے آیت اللہ سید محسن عاملی کی کتاب " التنزیہ " کی تائید میں ایک کتاب " کشف التمویہ" لکھی جس میں لکھے ہیں:

"پانچویں قسم:
یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت شیطان کے بہکاوے سے بعض غیر مشروع (غیر شرعی) کاموں کو عبادت سمجھ بیٹھتی ہے اور انہیں انجام دیتی ہے، اور ان اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتی ہے، بلکہ اپنی بخشش کا یقین بھی انہی پر قائم کرتی ہے۔

اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں، مثلاً بعض ظالم لوگ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کے مال ناجائز طور پر چھین لیتے ہیں، پھر انہی اموال کو فقیروں میں تقسیم کر دیتے ہیں یا مساجد، مدارس اور پلوں کی تعمیر میں خرچ کرتے ہیں۔

اسی قبیل سے یہ بھی ہے کہ بعض اہلِ علم اجتماعات اور محافل میں بعض معزز اشخاص کو حکم دیتے ہیں کہ فلاں فقیر کو اتنی رقم دے دو یا کوئی نیک کام انجام دو، حالانکہ حکم دینے والا یہ نہیں جانتا کہ اس شخص کے پاس خود مال موجود ہے یا نہیں۔ اور وہ معزز آدمی اس عالم کی بات رد کرنے سے شرماتا ہے یا اس سے خوف کھاتا ہے۔

اسی طرح کی مثالوں میں بعض مرثیہ خوان اور تعزیہ خوان ہیں جو حضرت امام حسینؑ کی تعزیت میں گانے کے انداز اختیار کرتے ہیں اور اپنی طرف سے واقعات اور خبریں گھڑ لیتے ہیں۔

اور اسی طرح بعض عام لوگوں کے اعمال ہیں جو تعزیہ داری کے نام پر بعض مقامات کو پردوں، آویزاں کپڑوں، جھنڈوں اور آئینوں وغیرہ سے سجاتے ہیں، جیسا کہ اہلِ کوفہ اور اہلِ شام کا طریقہ رہا ہے۔ بلکہ بعض ظالم لوگ ان مجالس کی آرائش و زینت کے لیے فقراء اور مساکین کے اموال تک خرچ کر دیتے ہیں۔

مسلمانوں کی ایک جماعت محرم الحرام کے پہلے عشرے میں ان مجالس اور محافل کو چراغوں، لالٹینوں، سراجوں، آویزاں سجاوٹوں اور تصویروں سے آراستہ کرتی ہے، اور اس مقصد کے لیے بہت زیادہ مال اسراف کے ساتھ خرچ کرتی ہے۔

پھر ایک ہی محفل میں مردوں اور عورتوں کو جمع کیا جاتا ہے، اور کسی لڑکے کو ایک مرد کے ساتھ منبر پر کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ وہ گانے کے انداز میں بعض کلمات پڑھے، جو کہ حرام غناء کے زمرے میں آتا ہے۔

بعض اوقات مردوں کو عورتوں کا لباس پہنایا جاتا ہے، شبیہہ سازی اور تمثیلیں پیش کی جاتی ہیں، ڈھول، سنوج (جھانجھ) اور دمام بجائے جاتے ہیں، اور اس حیرت انگیز تماشے کا نام "تعزیۂ حسینؑ" رکھا جاتا ہے۔

اور لوگ ان قبیح اعمال کے ذریعے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ تعزیت کرنا تو ایک مستحب امر ہے، لیکن اس کے ساتھ متعدد غیر مشروع اور ناجائز امور بھی واقع ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ یہ تمام کام محض کھیل، تماشا اور لہو و لعب ہیں؛ نہ یہ تعزیت ہے اور نہ ہی مصیبت داری۔"

16/06/2026

برقعی کی کتاب سے ایک اقتباس اردو میں ترجمہ

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Nazimabad
Karachi