20/09/2026
قرآن … وہ عظیم امانت جو ہمارے رب نے ہم پر نازل کی، آج ہماری زندگیوں میں صرف رسمی تلاوت، میلاد کی محفلوں، اور مردوں کی بخشش تک محدود کر دی گئی ہے۔ ہم نے اس کتابِ ہدایت کو سمجھنے، سوچنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے محض ثواب کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
اور افسوس! دین کے نام پر بولنے والے واعظین اور فرقہ پرست خطیبوں نے ہمارے دلوں میں یہ زہر بھر دیا کہ قرآن صرف علما اور مفتیان کا حق ہے، گویا عام انسان کو اس کی حکمت اور ہدایت سمجھنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ سب الفاظی تعویذ ہیں جو ہماری روحوں کو غفلت کی نیند سلا چکے ہیں، اور ہمیں غیر محسوس طریقے سے قرآن سے مزید دور کر چکے ہیں۔
دوستو ! لمحہِ فکریہ ہے۔ موت قریب ہے، سانسیں تھم رہی ہیں، مگر قرآن اب بھی ہمارے دلوں سے مہجور ہے۔ قیامت کے دن جب قرآن اپنے رب کے حضور کہے گا: "اے رب! اس امت نے مجھے چھوڑ دیا تھا"، اس لمحے ہماری رسوائی اور شرمندگی کا عالم کیسا ہوگا؟ سوچو! کیا اس دن ہم سر اُٹھا سکیں گے؟
ابھی وقت ہے۔ جذباتی نعروں اور فرقہ واریت کی زنجیروں کو توڑو، اور اس کتابِ عظیم سے تعلق جوڑو۔ آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن قرآن کو سمجھ کر پڑھو، اس پر غور کرو، اور اپنی زندگی کے ہر فیصلے کو اس کی روشنی میں پرکھو۔ یہ کتاب تمہیں بلاتی ہے سکون کی طرف، ہدایت کی طرف، عزت اور نجات کی طرف۔
آؤ ۔۔ اس مہجور کتاب کو اپنا محبوب بناؤ، اس کی محفل کو اپنی زندگی کا محور بنا لو۔ وہ دن آنے سے پہلے جب سانسیں رک جائیں، جب آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں، اور صرف حسرت باقی رہ جائے کہ کاش! ہم قرآن کے ساتھ جیتے، کاش! ہم قرآن کو اپناتے۔ ابھی موقع ہے… ابھی وقت ہے… اس سے پہلے کہ وقت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔
مصنف جلیل، علی شرف الدین، اپنی کتب میں امت کو اس فکری حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ قرآن خالص دین کا اصل محور ہے اور ہر وہ نظام، عقیدہ یا روایت جو قرآن سے ہٹ کر قائم کیا گیا، غش، تدلیس اور فکری انحراف کا باعث ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ فرقہ واریت، امت میں اختلاف کے تصورات، اور مذاہب کی بنیاد دراصل قرآن سے دوری اور بشری مفادات پر مبنی ہیں، اور یہی غشوان امت کو ظلم، اضطراب اور فکری مفلوجی میں مبتلا کرتا ہے۔ مصنف اجتہاد، فقہ، حدیث، فلسفہ اور علمِ کلام کو بھی اس پس منظر میں بے نقاب کرتے ہیں کہ یہ علوم قرآن کی جگہ لے کر دین کو پیچیدہ، مبہم اور طبقاتی بناتے ہیں۔ حوزات و مدارس کے نظام کو وہ "مذاہب" قرار دیتے ہیں، جہاں اسلام کا خالص، واضح اور عملی قرآن پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ان کتب کا بنیادی مقصد قاری کو یہ شعور دینا ہے کہ حقیقی دین صرف قرآن اور حضرت محمدؐ کے اسوہ پر قائم ہے، اور جس دن امت اس سے رجوع کرے گی، اسی دن سے فکری آزادی اور ہدایت کی راہیں کھلیں گی۔
لیکن صرف قرآن کے بارے میں بات کرنا کافی نہیں، قرآن کے قریب جانا بھی ضروری ہے۔ قرآن کو پڑھیں، سمجھیں، اس پر غور کریں، اس کے موضوعات کو جانیں، اور قرآن سے متعلق اچھی اور سنجیدہ کتب کا مطالعہ کریں تاکہ کتابِ اللہ سے ہماری واقفیت محض تلاوت تک محدود نہ رہے بلکہ ہم اس کے پیغام، ہدایت اور رہنمائی کو اپنی زندگی میں سمجھ سکیں۔ قرآن خود ہمیں دعوت دیتا ہے: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾ اور فرماتا ہے ﴿هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴾ اپنے موروثی عقائد، تصورات اور مذہبی خیالات کو آخری حق سمجھ کر قرآن کے سامنے رکھنے کے بجائے خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں، اسے سمجھیں اور دیکھیں کہ ہماری سوچ کہاں قرآن کے مطابق ہے اور کہاں ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ قرآن کہتا ہے ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ﴾
ابھی وقت ہے کہ ہم قرآن سے مانوس ہوں، اس کے ساتھ جئیں، اس سے ہدایت لیں اور اپنی زندگی کو اس کی ہدایت کے مطابق سنوارنے کی کوشش کریں۔ موت آنے کے بعد سوچنے اور سمجھنے کا موقع نہیں ہوگا؛ جو کرنا ہے، آج کرنا ہے۔
کتب کے حصول کے لیے رابطہ نمبر:
📱 0320-8082542