Allama Agha Ali Sharfuddin Baltistani- Students, Followers & Admirers

Allama Agha Ali Sharfuddin Baltistani- Students, Followers & Admirers Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Allama Agha Ali Sharfuddin Baltistani- Students, Followers & Admirers, Tutor/Teacher, Nazimabad, Karachi.

حق گو اور 100 سے زیادہ کتب کے مولف علامہ آغا علی شرف الدین آف چھورکاہ شیگر بلتستان1940 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 21 جون 2025 عیسوی کو وفات پائے۔۔یہ پیج آغا صاحب کے افکار اور ان جیسے دیگر علماء کے افکار کو پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
www.sibghatulislam.com

قرآن … وہ عظیم امانت جو ہمارے رب نے ہم پر نازل کی، آج ہماری زندگیوں میں صرف رسمی تلاوت، میلاد کی محفلوں، اور مردوں کی بخ...
20/09/2026

قرآن … وہ عظیم امانت جو ہمارے رب نے ہم پر نازل کی، آج ہماری زندگیوں میں صرف رسمی تلاوت، میلاد کی محفلوں، اور مردوں کی بخشش تک محدود کر دی گئی ہے۔ ہم نے اس کتابِ ہدایت کو سمجھنے، سوچنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے محض ثواب کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
اور افسوس! دین کے نام پر بولنے والے واعظین اور فرقہ پرست خطیبوں نے ہمارے دلوں میں یہ زہر بھر دیا کہ قرآن صرف علما اور مفتیان کا حق ہے، گویا عام انسان کو اس کی حکمت اور ہدایت سمجھنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ سب الفاظی تعویذ ہیں جو ہماری روحوں کو غفلت کی نیند سلا چکے ہیں، اور ہمیں غیر محسوس طریقے سے قرآن سے مزید دور کر چکے ہیں۔
دوستو ! لمحہِ فکریہ ہے۔ موت قریب ہے، سانسیں تھم رہی ہیں، مگر قرآن اب بھی ہمارے دلوں سے مہجور ہے۔ قیامت کے دن جب قرآن اپنے رب کے حضور کہے گا: "اے رب! اس امت نے مجھے چھوڑ دیا تھا"، اس لمحے ہماری رسوائی اور شرمندگی کا عالم کیسا ہوگا؟ سوچو! کیا اس دن ہم سر اُٹھا سکیں گے؟
ابھی وقت ہے۔ جذباتی نعروں اور فرقہ واریت کی زنجیروں کو توڑو، اور اس کتابِ عظیم سے تعلق جوڑو۔ آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن قرآن کو سمجھ کر پڑھو، اس پر غور کرو، اور اپنی زندگی کے ہر فیصلے کو اس کی روشنی میں پرکھو۔ یہ کتاب تمہیں بلاتی ہے سکون کی طرف، ہدایت کی طرف، عزت اور نجات کی طرف۔
آؤ ۔۔ اس مہجور کتاب کو اپنا محبوب بناؤ، اس کی محفل کو اپنی زندگی کا محور بنا لو۔ وہ دن آنے سے پہلے جب سانسیں رک جائیں، جب آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں، اور صرف حسرت باقی رہ جائے کہ کاش! ہم قرآن کے ساتھ جیتے، کاش! ہم قرآن کو اپناتے۔ ابھی موقع ہے… ابھی وقت ہے… اس سے پہلے کہ وقت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔

مصنف جلیل، علی شرف الدین، اپنی کتب میں امت کو اس فکری حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ قرآن خالص دین کا اصل محور ہے اور ہر وہ نظام، عقیدہ یا روایت جو قرآن سے ہٹ کر قائم کیا گیا، غش، تدلیس اور فکری انحراف کا باعث ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ فرقہ واریت، امت میں اختلاف کے تصورات، اور مذاہب کی بنیاد دراصل قرآن سے دوری اور بشری مفادات پر مبنی ہیں، اور یہی غشوان امت کو ظلم، اضطراب اور فکری مفلوجی میں مبتلا کرتا ہے۔ مصنف اجتہاد، فقہ، حدیث، فلسفہ اور علمِ کلام کو بھی اس پس منظر میں بے نقاب کرتے ہیں کہ یہ علوم قرآن کی جگہ لے کر دین کو پیچیدہ، مبہم اور طبقاتی بناتے ہیں۔ حوزات و مدارس کے نظام کو وہ "مذاہب" قرار دیتے ہیں، جہاں اسلام کا خالص، واضح اور عملی قرآن پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ان کتب کا بنیادی مقصد قاری کو یہ شعور دینا ہے کہ حقیقی دین صرف قرآن اور حضرت محمدؐ کے اسوہ پر قائم ہے، اور جس دن امت اس سے رجوع کرے گی، اسی دن سے فکری آزادی اور ہدایت کی راہیں کھلیں گی۔

لیکن صرف قرآن کے بارے میں بات کرنا کافی نہیں، قرآن کے قریب جانا بھی ضروری ہے۔ قرآن کو پڑھیں، سمجھیں، اس پر غور کریں، اس کے موضوعات کو جانیں، اور قرآن سے متعلق اچھی اور سنجیدہ کتب کا مطالعہ کریں تاکہ کتابِ اللہ سے ہماری واقفیت محض تلاوت تک محدود نہ رہے بلکہ ہم اس کے پیغام، ہدایت اور رہنمائی کو اپنی زندگی میں سمجھ سکیں۔ قرآن خود ہمیں دعوت دیتا ہے: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾ اور فرماتا ہے ﴿هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴾ اپنے موروثی عقائد، تصورات اور مذہبی خیالات کو آخری حق سمجھ کر قرآن کے سامنے رکھنے کے بجائے خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں، اسے سمجھیں اور دیکھیں کہ ہماری سوچ کہاں قرآن کے مطابق ہے اور کہاں ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ قرآن کہتا ہے ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ﴾
ابھی وقت ہے کہ ہم قرآن سے مانوس ہوں، اس کے ساتھ جئیں، اس سے ہدایت لیں اور اپنی زندگی کو اس کی ہدایت کے مطابق سنوارنے کی کوشش کریں۔ موت آنے کے بعد سوچنے اور سمجھنے کا موقع نہیں ہوگا؛ جو کرنا ہے، آج کرنا ہے۔

کتب کے حصول کے لیے رابطہ نمبر:
📱 0320-8082542

نہ نبی ص اور امام ع کو غیب کا علم ہے ، اور نہ ان کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں،قرآن کو صرف امام نہیں عام عوام...
18/09/2026

نہ نبی ص اور امام ع کو غیب کا علم ہے ، اور نہ ان کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں،قرآن کو صرف امام نہیں عام عوام بھی سمجھ سکتے ہیں ❤️

زیدی شیعہ امام، امام قاسم بن ابراہیم الرسی، متوفی ۲۳۵ ہجری، اپنی کتاب الرد علی الروافض میں غالی فرقوں کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وكل من قال بجعفر من الروافض يزعم أن الإمام يخلق عالما، وطبعه العلم، والعلم مطبوع فيه، ويزعمون أن الإمام يعلم الغيب، ويعلم ما في تخوم الأرضين السابعة السفلى، وما في السماوات السابعة العليا، وما في البر والبحر، والليل والنهار عنده مجرى واحدا. فسبحان الله! وما هذه إلا صفات رب العالمين!

اہل رفض میں سے جو لوگ جعفر کے قائل ہیں، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ امام ایک عالم پیدا کرتا ہے، اور اس کی طبیعت ہی علم ہے، اور علم اس کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ امام غیب کو جانتا ہے، زمینوں کی ساتویں اور سب سے نچلی تہہ کی انتہاؤں میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے، ساتوں بلند آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے، خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے، اور اس کے نزدیک رات اور دن ایک ہی راستے پر جاری ہیں۔ پس اللہ پاک ہے! یہ تو رب العالمین کی صفات کے سوا کچھ نہیں!

فكيف يخلقون علماء، ورسول الله ÷ لم يخلق عالما، ولم يكن طبعه العلم، ولم يعلم إلا بعد تعلّم، ولم يعرف حتى عرّف! وكيف وقد حدّث بعض أهل بيت النبيصلى الله عليه وآله عن آبائه قال: قال: رسول الله ÷: (أنا عبد مخلوق مربوب لم أكن نبيئا فنبئت، ولم أكن رسولا فأرسلت، ولم أكن عالما فعلّمت، فلا تقولوا فيّ فوق طولي).

پھر وہ عالم کیسے پیدا کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی عالم کو پیدا نہیں کیا، اور آپ کی طبیعت ہی علم نہیں تھی، اور آپ نے علم حاصل کرنے کے بعد ہی جانا، اور آپ اس وقت تک واقف نہ ہوئے جب تک آپ کو واقف نہ کرایا گیا! اور یہ کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ نبی ﷺ کے اہلِ بیت میں سے بعض نے اپنے آباء سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’میں ایک پیدا کیا ہوا اور پروردہ بندہ ہوں۔ میں نبی نہیں تھا، پھر مجھے نبی بنایا گیا؛ میں رسول نہیں تھا، پھر مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا؛ میں عالم نہیں تھا، پھر مجھے علم سکھایا گیا۔ لہٰذا میرے بارے میں میری حد سے آگے نہ بڑھو۔‘‘

وقد قال الله تبارك وتعالى: {وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى ٧}⁣[الضحى: ٧].

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اس نے آپ کو بے خبر پایا، پھر آپ کو ہدایت دی۔‘‘

پس اللہ نے آپ کو ’’ضال‘‘ کہا، پھر آپ کو ہدایت دی۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ ضلالت شرک کی ضلالت نہیں تھی، نہ قریش کی ضلالت جیسی تھی، نہ یہود و نصاریٰ کی ضلالت جیسی تھی، بلکہ آپ شریعتوں سے ناواقف تھے، یعنی شریعتوں کا علم نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بصیرت عطا فرمائی، ہدایت دی اور آپ کو معرفت عطا کی۔ اور رسول اللہ ﷺ رب العالمین سے ناواقف نہیں تھے۔

أما بلغك قول الله سبحانه لنبيه: {وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْماً}⁣[طه: ١١٤]؟ !

کیا تم تک اللہ سبحانہٗ کا اپنے نبی سے یہ فرمان نہیں پہنچا: ’’اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘

کیا اضافہ صرف کمی کے بعد ہی نہیں ہوتا؟ پس جو چیز رسول اللہ ﷺ کے لیے نہیں تھی، وہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے بھی نہیں ہو سکتی۔ ہر عالم جہالت کے بعد علم حاصل کرتا ہے، اور ضروری ہے کہ اس کی تمام مخلوق پر جہالت کا نام واقع ہو، تاکہ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ مشابہ نہ کیا جائے؛ کیونکہ اللہ نہ جاہل ہوا اور نہ اس نے علم حاصل کیا۔ وہ ہمیشہ سے عالم ہے، جبکہ اس کی تمام مخلوق نے جہالت کے بعد علم حاصل کیا۔ اللہ سبحانہٗ نہ جاہل ہوا اور نہ اس نے علم حاصل کیا۔

اگر معاملہ ویسا ہی ہوتا جیسا روافض نے کہا ہے کہ ائمہ ایسے عالم ہیں جنہوں نے کسی سے علم حاصل نہیں کیا، اور ائمہ میں سے کسی پر کسی وقت بھی جہالت واقع ہونا جائز نہیں، تو اللہ پاک ہے! کیا تم نے اسے رب العالمین کے ساتھ مشابہ نہیں کر دیا، کیونکہ تمہارا صاحب نہ جاہل ہوا اور نہ اس نے علم حاصل کیا؟ یا کیا تم نے اسے اپنے قول کے ذریعے اللہ کے ساتھ مشابہ نہیں کیا، جب تم نے دعویٰ کیا کہ وہ غیب کو جانتا ہے، بندوں کے اعمال کو جانتا ہے، ان کے مقامات کو جانتا ہے، ہر شخص کو اس کے نام اور نسب کے ساتھ جانتا ہے، تم جو کچھ زبان سے کہتے ہو اسے جانتا ہے، اور بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے بھی جانتا ہے؟ پس اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو وہ کہتے ہیں! کیا یہ رب العالمین کی صفت کے سوا کچھ ہے؟!

وتأولوا قول الله سبحانه في كتابه - لقوله -: {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ}⁣[التوبة: ١٠٠]

اور انہوں نے اللہ سبحانہٗ کے اپنی کتاب میں اس فرمان کی تاویل یہ کی ہے کہ: ’’اور کہہ دیجیے: عمل کرو، پس عنقریب اللہ، اس کا رسول اور مؤمن تمہارے اعمال کو دیکھیں گے۔‘‘

چنانچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ، اس کا رسول اور ائمہ بندوں کے اعمال کو دیکھتے ہیں۔ پس اللہ پاک ہے! جو چیز ان سے غائب ہو، اسے وہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

وإنما قال الله سبحانه: {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ}

اللہ سبحانہٗ نے تو یہ فرمایا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مؤمنین اور انبیاء آخرت میں تمہارے اعمال کو دیکھیں گے، جب غیب ظاہر ہو جائے گا، پردہ اٹھ جائے گا، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں، اور مخلوق کے لیے فرمانبردار اور نافرمان، کافر اور مؤمن، صالح اور بدکار واضح ہو جائیں گے۔

پس کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا تھا، لیکن انہیں دردناک عذاب کی طرف گھسیٹا جائے گا، جبکہ دنیا کی زندگی میں لوگوں کے نزدیک ان کی حالت اس کے برخلاف تھی۔

ولو رأى أحد ممن وصفت الروافض، من الأنبياء والأئمة، من غير أن يخبر لم يكونوا يموتون بالسم، ولم يكونوا ليأكلوا السم، فيعينوا على أنفسهم بالقتل، وقد قال تبارك وتعالى: {وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ}⁣[النساء: ٢٩].

اور اگر انبیاء اور ائمہ میں سے کوئی ایسا شخص، جس کا وصف روافض نے بیان کیا ہے، بغیر کسی خبر دیے ان چیزوں کو دیکھ لیتا، تو وہ زہر کے ذریعے قتل نہ ہوتے، اور نہ ہی زہر کھاتے کہ اس طرح اپنے ہی قتل میں اپنے آپ کی مدد کریں۔ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘‘

أو ليس من أكل شيئا من السم وهو يعلم أن فيه نفسه، فقد أعان على قتلها؟

کیا جو شخص کوئی ایسی زہریلی چیز کھائے، جبکہ وہ جانتا ہو کہ اس میں اس کی جان چلی جائے گی، تو وہ اپنے قتل میں مددگار نہیں ہوا؟

فإن زعموا أنه أكل السم من الخوف. يقال لهم: من أي شيء يخاف؟ فإن زعموا أنه إنما يخاف من القتل. فقل لهم: أو ليس قتله بالسم فلا يأكل حتى يقتل مظلوما، خير له من أن يقتل نفسه وهو معين عليها.

اگر وہ دعویٰ کریں کہ اس نے خوف کی وجہ سے زہر کھایا، تو ان سے کہا جائے گا: وہ کس چیز سے خوفزدہ تھا؟ اگر وہ کہیں کہ وہ صرف قتل کیے جانے سے خوفزدہ تھا، تو ان سے کہو: کیا زہر کے ذریعے قتل کیے جانے کا انتظار کرنا، یہاں تک کہ وہ مظلوم حالت میں قتل ہو، اس کے لیے اس سے بہتر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو قتل کرے اور اپنے قتل میں خود مددگار بنے؟

وكيف يعلم وقد قال الله تبارك وتعالى: {قُلْ ما كُنْتُ بِدْعاً مِنَ الرُّسُلِ وَما أَدْرِي ما يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ}⁣[الأحقاف: ٩].

اور وہ کیسے جانتا ہوگا، جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’کہہ دیجیے: میں رسولوں میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں، اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔‘‘

یعنی دنیا کے پیش آنے والے واقعات کے بارے میں۔

وقد قال الله تبارك وتعالى: {وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ}⁣[التوبة: ١٠٠].

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور مدینہ والوں میں سے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔‘‘

پھر وہ بندوں کے اعمال کو کیسے دیکھتا ہے؟! یہ اللہ کی کتاب ہے جو تمہارے قول کو جھٹلاتی ہے۔ اگر معاملہ ویسا ہی ہوتا جیسا تم نے ان کے بارے میں بیان کیا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے قول کے خلاف یہ نہ فرماتا کہ: ’’آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔‘‘

وقد قال تبارك وتعالى: {وَما تَدْرِي نَفْسٌ ما ذا تَكْسِبُ غَداً وَما تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ}⁣[لقمان: ٢٩].

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کس زمین میں مرے گی۔‘‘

تو کیا تمہارے اصحاب بھی ان جانوں میں سے نہیں ہیں؟

وقد قال الله تبارك وتعالى: {وَاللهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهاتِكُمْ لا تَعْلَمُونَ شَيْئاً}⁣[النحل: ٧٣].

اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، جبکہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔‘‘

پس اس آیت نے تمام اولادِ آدم کو شامل کر لیا، کیونکہ اولادِ آدم میں سے ہر شخص عورتوں کے پیٹوں سے نکلا ہے، خواہ نبی ہو یا کوئی اور۔ اور اللہ نے ہمیں خبر دی کہ وہ کسی چیز کا علم نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں علم سکھایا گیا۔

وقد قال - تصديق ما قلنا في محكم كتابه -: {ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ وَلَا الْإِيمانُ}⁣[الشورى: ٥٢].

اور اللہ تعالیٰ نے ہماری کہی ہوئی بات کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی محکم کتاب میں فرمایا: ’’آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کیا ہے۔‘‘

اور تمہارے تمام دعوے اللہ کی کتاب کے ذریعے جھٹلائے جاتے ہیں۔ پس اللہ پاک ہے! تم کتنی بڑی بات کہتے ہو! اور کیا شرک بھی اس دعوے سے کم درجے کی چیز نہیں جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟

فإن زعموا أنهم يجهلون تأويل كتاب الله، والنظر فيه، ويحتجون علينا بشيء، وتأويله خلاف ما يظنون.

پھر اگر وہ یہ دعویٰ کریں کہ وہ اللہ کی کتاب کی تاویل اور اس میں غور کرنے سے ناواقف ہیں، اور ہمارے خلاف کسی چیز سے استدلال کرتے ہیں، جبکہ اس کی تاویل اس کے برخلاف ہے جو وہ سمجھتے ہیں۔

يقال لهم: كيف ذلك؟

ان سے کہا جائے گا: یہ کیسے؟

فإن زعموا أنه ليس لأحد ينظر في تأويل كتاب الله، ولا يحتج به إلا الأئمة.

اگر وہ یہ دعویٰ کریں کہ اللہ کی کتاب کی تاویل میں کسی کو غور کرنے اور اس سے استدلال کرنے کا حق نہیں، سوائے ائمہ کے۔

يقال لهم: أخبرونا عن القرآن كله ليس لأحد ينظر في كتاب الله، ولا يحتج به إلا الأئمة، ولا يتدبر إلا هم؟

ان سے کہا جائے گا: ہمیں بتاؤ، کیا پورے قرآن کے بارے میں یہی بات ہے کہ اللہ کی کتاب میں کسی کو غور کرنے اور اس سے استدلال کرنے کا حق نہیں، سوائے ائمہ کے، اور کیا اس میں تدبر بھی صرف وہی کرتے ہیں؟

فإن قالوا: نعم.

اگر وہ کہیں: ہاں۔

فقل لهم: فلم يتعلم الناس كتاب الله وهم لا يتدبرونه؟ وكيف وقد أكذب الله قولكم بقوله تبارك وتعالى: {أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلى قُلُوبٍ أَقْفالُها ٢٤}⁣[محمد: ٢٤]. أفترى هذا قول الله للأئمة؟ !

تو ان سے کہو: پھر لوگوں نے اللہ کی کتاب کو کیوں سیکھا، جبکہ وہ اس میں تدبر ہی نہیں کرتے؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے قول کو اپنے اس فرمان کے ذریعے جھٹلا دیا ہے: ’’کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟‘‘ کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا ائمہ سے خطاب ہے؟!

فإن قالوا: نعم.

اگر وہ کہیں: ہاں۔

فقل: أفلا ترون أن الله قد عاب أئمتكم إذ تركوا تدبر كتاب الله، وعابهم فقال: {أَمْ عَلى قُلُوبٍ أَقْفالُها}!

تو کہو: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے تمہارے ائمہ کو اس وجہ سے عیب دار قرار دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تدبر چھوڑ دیا؟ اور اللہ نے انہیں عیب دار قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟‘‘

فإن قالوا: ليس هذا في الأئمة، وإنما هذا في العوام: أن ينظروا في كتاب الله ويتدبرون فيه.

اگر وہ کہیں: یہ ائمہ کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ عوام کے بارے میں ہے کہ وہ اللہ کی کتاب میں غور کریں اور اس میں تدبر کریں۔

يقال لهم: أفلا ترون أن الله ألزم العباد النظر في كتابه، وقد قال تبارك وتعالى: {نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ كِتابَ اللهِ وَراءَ ظُهُورِهِمْ}⁣[البقرة: ١٠١].

ان سے کہا جائے گا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے بندوں پر اپنی کتاب میں غور کرنا لازم قرار دیا ہے؟ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اپنی پشت کے پیچھے پھینک دیا۔‘‘

کیا اللہ نے ان کو اس وجہ سے عیب دار قرار نہیں دیا کہ انہوں نے اس کی کتاب میں غور کرنا، اس چیز کو جاننا جو اس نے انہیں حکم دیا، اور جس سے انہیں منع کیا، اور اولیاء کو دشمنوں سے پہچاننا چھوڑ دیا؟ پھر جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا تو اللہ نے اسی وجہ سے انہیں عیب دار قرار دیا!

وقد قال رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم فيما رويتم وروينا: (أيها الناس خلفت فيكم الثقلين فتمسكوا بهما لا تضلوا بعدي أبدا كتاب الله وعترتي أهل بيتي).

اور رسول اللہ ﷺ نے، جیسا کہ تم بھی روایت کرتے ہو اور ہم بھی روایت کرتے ہیں، فرمایا:

’’اے لوگو! میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، پس ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہلِ بیت۔‘‘

وقد قال صلى الله عليه وعلى آله وسلم: (أيها الناس قد كذب على الأنبياء الذين كانوا من قبلي، وسيكذب علي من بعدي، فما أتاكم فاعرضوه على كتاب الله، فإن وافق كتاب الله فهو مني، وإن لم يوافق كتاب الله فليس مني)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اے لوگو! مجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، ان پر جھوٹ بولا گیا ہے، اور میرے بعد مجھ پر بھی جھوٹ بولا جائے گا۔ پس جو بات تمہارے پاس آئے، اسے اللہ کی کتاب کے سامنے پیش کرو؛ اگر وہ اللہ کی کتاب کے موافق ہو تو وہ میری طرف سے ہے، اور اگر اللہ کی کتاب کے موافق نہ ہو تو وہ میری طرف سے نہیں ہے۔‘‘

فكيف يدعونا رسول الله ÷ ويأمرنا بشيء ليس لنا فيه النظر؟ لقوله: (اعرضوه على كتاب الله).

پس رسول اللہ ﷺ ہمیں ایسی چیز کو چھوڑنے کا حکم کیسے دے سکتے ہیں جس میں ہمارے لیے غور و فکر کی گنجائش ہی نہ ہو؟ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اللہ کی کتاب کے سامنے پیش کرو۔‘‘

وقوله صلى الله عليه وعلى آله: (تمسكوا بالثقلين) فإن كان الإمساك بالقرآن هو القراءة، فقد قرأه جميع أهل الأهواء، فهم ممن حفظ وصية رسول الله ÷، وتمسكوا بكتاب الله.

اور آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ’’دونوں گراں قدر چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘ اگر قرآن کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد صرف اس کی قراءت ہے، تو تمام اہلِ خواہش و فرقوں نے بھی اسے پڑھا ہے؛ پس وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وصیت کو محفوظ رکھا اور اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھاما۔

فإن زعموا أنه لا يكون التمسك إلا النظر فيه، والقيام بما فيه، والعمل به، فقد أطلقوا للخلق ينظرون فيه، ويعرفون الحق من الباطل، وقد وجدنا كتاب الله مكذبا لجميع دعواكم.

اور اگر وہ دعویٰ کریں کہ قرآن کو مضبوطی سے تھامنا صرف اسی صورت میں ہوگا کہ اس میں غور کیا جائے، اس میں جو کچھ ہے اسے قائم کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، تو انہوں نے تمام مخلوق کے لیے اس میں غور کرنے کی اجازت دے دی، تاکہ وہ حق کو باطل سے پہچان سکیں۔ اور ہم نے اللہ کی کتاب کو تمہارے تمام دعووں کو جھٹلانے والا پایا ہے۔

کتاب کا لنک زیدی شیعہ مکتبہ:
https://ziydia.com/book/373/page/353/1

وہ اعمال جو زیدی شیعہ نہیں کرتے اور اثناعشری شیعہ کرتے ہیں❤️زہدی شیعہ عالم علامہ سید محمد الکبسی امامیہ(اثناعشری) اور زی...
18/09/2026

وہ اعمال جو زیدی شیعہ نہیں کرتے اور اثناعشری شیعہ کرتے ہیں
❤️

زہدی شیعہ عالم علامہ سید محمد الکبسی امامیہ(اثناعشری) اور زیدیہ کے درمیان موجود واضح فرق بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

امامیہ کے ساتھ مخصوص بعض اعمال

"امامیہ نے بعض ایسے اعمال اختیار کیے ہیں جن کی وجہ سے ان پر طعن و تشنیع کی گئی اور جو ان پر تنقید کا باعث بنے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سجدہ کرنے کے لیے مٹی کی بنی ہوئی ٹکیوں (تربت، سجدہ گاہ) کے استعمال کا اہتمام کرتے ہیں۔

اسی طرح عاشوراء کے دن وہ رونے، چیخنے چلانے، سروں اور جسموں کو پیٹنے جیسے اعمال انجام دیتے ہیں۔ یہ سب ان کے علماء کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ ایک مانوس عادت اور رائج سنت بن چکا ہے۔

ایسا طرزِ عمل اہلِ بیت ع کو پسند نہیں ہو سکتا، اور اہلِ بیت ع کی طرف یہ بات منسوب نہیں کی جا سکتی کہ سجدہ صرف ان کی قبروں کی مٹی پر ہی کیا جائے، یا ان کی شہادت کی یاد میں کپڑے پھاڑے جائیں اور سر پیٹے جائیں۔

اسی طرح بعض مسائل ایسے بھی ہیں جن میں امامیہ نے زیدیہ سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے لیے ایک مخصوص موقف اختیار کیا ہے۔ ان میں متعہ (نکاحِ متعہ) کے جائز ہونے کا قول بھی شامل ہے، اگرچہ اس قول کو امت کے جلیل القدر عالم عبداللہ بن عباس کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعہ منسوخ نہیں ہوا۔"

حوالہ: الفروق الواضحہ، صفحہ 37
تفرد الإمامية بأعمال

تفردت الإمامية بأعمال كانت مدعاة للتشنيع عليهم ومثاراً للنقد منها حرصهم على استعمال أقراص ترابية للسجود عليها، ومنها ما يعملونه يوم عاشوراء من البكاء والعويل، وضرب الرؤوس والأبدان على مرأى ومسمع من علمائهم، حتى أصبحت عادة مألوفة وسنة متبعة، ومثل هذا لا يرضاه أهل البيت، ولا ينسب إلى أهل البيت أن لا يكون السجود إلا على تراب من قبورهم، وأن تشق الثياب وتضرب الرؤوس عند ذكرى استشهادهم، ومن المسائل التي اختصوا بها مخالفين للفرقة الزيدية القول بجواز المتعة ( ، وإن كان قد نسب القول بها إلى حبر الأمة عبد الله بن عباس ، وأنها لم تنسخ.

🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️

مولف کا تعارف

محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن اسماعیل عبد الرحمن بن یحییٰ بن احمد علیہم السلام
(1919ء–2009ء)

آپ 1919ء میں ہجرۃ الکبس میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے خاندان کے اکلوتے فرزند تھے۔ ابتدائی تعلیم اور علومِ قرآن ہجرۃ الکبس ہی میں حاصل کیے۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے صنعاء کے مدرسۂ وسطیہ میں داخل ہوئے اور وہاں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے۔ یہ امام یحییٰ حمید الدین کا زمانہ تھا۔ آپ کے ہم جماعتوں میں سید علامہ محمد بن احمد الکبسی، المعروف بالعزّی، بھی شامل تھے۔

آپ کچھ عرصہ مدرسۂ علمیہ میں زیرِ تعلیم رہے، تاہم دو اسباب کی بنا پر تعلیم مکمل نہ کر سکے۔

پہلا سبب یہ تھا کہ ہجرۃ الکبس میں مکتب کے لیے ایک مدرس کی ضرورت پیش آگئی تھی، خصوصاً اس وقت جب مکتب کے سابق مدرس سیدی علامہ مرحوم محمد بن اسماعیل بن احمد الکبسی عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ چنانچہ آپ کو ہجرۃ الکبس واپس آ کر مکتب کی تدریس کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔

اس کے بعد آپ عبادت اور قبائل کے باہمی معاملات کے حل میں مصروف رہے۔ 1982ء میں جب الکبس کی اس کی ہمسایہ بستی قطین الضباینہ کے ساتھ جنگ ہوئی تو آپ اس معاملے میں بھی مصروف رہے۔

دوسرا سبب آپ کے والد کی خراب ہوتی ہوئی صحت تھی۔ آپ کے والد کے پاس اموال اور مویشیوں کی چراگاہیں تھیں، علاوہ ازیں وہ الکبس اور دیگر علاقوں میں بیت الہجوہ کے اموال کے وکیل بھی تھے۔ چنانچہ والد کی دیکھ بھال اور ان اموال کی نگرانی کی ذمہ داری بھی آپ کو سنبھالنی پڑی۔

آپ رحمہ اللہ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے 1962ء کے انقلاب کے بعد تباہ حال ہجرۃ الکبس میں واپس آ کر دوبارہ تعمیر اور آباد کاری کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں آپ کی متعدد یادداشتیں بھی موجود ہیں، جن میں انقلاب کے بعد الکبس کو پیش آنے والی غارت گری اور لوٹ مار کے واقعات کا ذکر ہے۔

آپ جمعہ، 16 جنوری 2009ء کو اپنے رب کے جوارِ رحمت میں تشریف لے گئے۔

یمن کے زیدی شیعہ( مکتب اہل بیت ع کے پیروکار) عصمت آئمہ، رجعت،اماموں کے معجزات،تقیہ، انکار امامت کرنے والوں کے عدم ایمان،...
18/09/2026

یمن کے زیدی شیعہ( مکتب اہل بیت ع کے پیروکار) عصمت آئمہ، رجعت،اماموں کے معجزات،تقیہ، انکار امامت کرنے والوں کے عدم ایمان،قران کے باطنی معنی کے قائل نہیں
❤️

علامہ سید محمد الکبسی متوفی 2009 عیسوی ،یمن کے ممتاز زیدی شیعہ عالم اپنی کتاب " امامیہ فرقوں اور فرقۂ زیدیہ کے درمیان نمایاں اور صریح فرق(الفروق الواضحة البهية بين الفرق الإمامية وبين الفرقة الزيدية)" میں زیدی شیعہ اور امامی شیعوں کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے ایک جگہ 6 اہم فرق لکھتے ہیں کہ زیدی ان 6 چیزوں کے قائل نہیں،عصمت آئمہ، رجعت،اماموں کے معجزات،تقیہ، انکار امامت کرنے والوں کی تکفیر،قران کے باطنی معنی۔

🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️🖋️

چھ اصولوں میں سے چار اصولوں پر امامیہ کا اتفاق

"مجموعی طور پر امامیہ، ان چھ اصولوں میں سے چار اصولوں پر متفق ہیں:

1۔ امام کے معصوم ہونے کا عقیدہ

امامیہ امام کے عصمت کے قائل ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک ائمہ انبیاء کی مانند معصوم ہوتے ہیں۔ وہ کبیرہ و صغیرہ گناہوں اور نسیان، یعنی بھول چوک، سے محفوظ ہوتے ہیں؛ کیونکہ ان کے بقول امام شریعت کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔

2۔ رجعت کا عقیدہ

امامیہ رجعت کے بھی قائل ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ پردۂ غیبت میں ایک امام زندہ موجود ہے، البتہ اس امام کی تعیین کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔

کثیر عَزَّہ، سید حمیری اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کے نزدیک وہ محمد بن حنفیہ ہیں۔

جبکہ اثنا عشریہ کے نزدیک وہ محمد بن حسن بن علی عسکری ہیں۔

بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ محمد بن عبداللہ بن حسن ہیں۔

تیسرا گروہ سبعیہ ہے۔ ان کے نزدیک پردۂ غیبت میں موجود امام محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ہیں۔

3۔ ائمہ کی معجزات سے تائید

تیسرا اصول یہ ہے کہ امامیہ مجموعی طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ ائمہ کے پاس ایسے معجزات ہوتے ہیں جو ان کی امامت کے اثبات کے لیے ان کے امتیازی اوصاف میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اعتقاد کے مطابق ائمہ نبی کریم ﷺ کے اوصیاء ہیں؛ لہٰذا جس چیز کا حق وصی بنانے والے کو حاصل تھا، وہی چیز وصی کے لیے بھی ثابت ہے۔

4۔ تقیہ کا عقیدہ

چوتھا اصول یہ ہے کہ امامیہ مجموعی طور پر تقیہ کے قائل ہیں۔ تقیہ سے مراد یہ ہے کہ ضرورت یا خوف کے وقت مسلمان اپنے دل میں موجود بات کے برخلاف ظاہری طور پر کوئی اور بات ظاہر کر سکتا ہے۔

جبکہ باطنیہ نے پانچویں اور چھٹے اصول کو اپنے ساتھ مخصوص رکھا ہے:

5۔ امت کی تکفیر

باطنیہ امت کو کافر قرار دینے کے قائل ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک امت نے امام علی ع کے حق میں زیادتی کی اور انہیں خلافت سے دور کر دیا۔

6۔ ہر ظاہر کے لیے باطن

باطنیہ کا کہنا ہے کہ شریعت کے علوم میں ہر ظاہری چیز کے لیے ایک باطنی مفہوم بھی ہوتا ہے۔"

🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️

مولف کا تعارف

محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن اسماعیل عبد الرحمن بن یحییٰ بن احمد علیہم السلام
(1919ء–2009ء)

آپ 1919ء میں ہجرۃ الکبس میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے خاندان کے اکلوتے فرزند تھے۔ ابتدائی تعلیم اور علومِ قرآن ہجرۃ الکبس ہی میں حاصل کیے۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے صنعاء کے مدرسۂ وسطیہ میں داخل ہوئے اور وہاں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے۔ یہ امام یحییٰ حمید الدین کا زمانہ تھا۔ آپ کے ہم جماعتوں میں سید علامہ محمد بن احمد الکبسی، المعروف بالعزّی، بھی شامل تھے۔

آپ کچھ عرصہ مدرسۂ علمیہ میں زیرِ تعلیم رہے، تاہم دو اسباب کی بنا پر تعلیم مکمل نہ کر سکے۔

پہلا سبب یہ تھا کہ ہجرۃ الکبس میں مکتب کے لیے ایک مدرس کی ضرورت پیش آگئی تھی، خصوصاً اس وقت جب مکتب کے سابق مدرس سیدی علامہ مرحوم محمد بن اسماعیل بن احمد الکبسی عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ چنانچہ آپ کو ہجرۃ الکبس واپس آ کر مکتب کی تدریس کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔

اس کے بعد آپ عبادت اور قبائل کے باہمی معاملات کے حل میں مصروف رہے۔ 1982ء میں جب الکبس کی اس کی ہمسایہ بستی قطین الضباینہ کے ساتھ جنگ ہوئی تو آپ اس معاملے میں بھی مصروف رہے۔

دوسرا سبب آپ کے والد کی خراب ہوتی ہوئی صحت تھی۔ آپ کے والد کے پاس اموال اور مویشیوں کی چراگاہیں تھیں، علاوہ ازیں وہ الکبس اور دیگر علاقوں میں بیت الہجوہ کے اموال کے وکیل بھی تھے۔ چنانچہ والد کی دیکھ بھال اور ان اموال کی نگرانی کی ذمہ داری بھی آپ کو سنبھالنی پڑی۔

آپ رحمہ اللہ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے 1962ء کے انقلاب کے بعد تباہ حال ہجرۃ الکبس میں واپس آ کر دوبارہ تعمیر اور آباد کاری کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں آپ کی متعدد یادداشتیں بھی موجود ہیں، جن میں انقلاب کے بعد الکبس کو پیش آنے والی غارت گری اور لوٹ مار کے واقعات کا ذکر ہے۔

آپ جمعہ، 16 جنوری 2009ء کو اپنے رب کے جوارِ رحمت میں تشریف لے گئے۔

زیدیہ اور اصحابِ رسول ﷺامامیہ فرقوں اور فرقۂ زیدیہ کے درمیان نمایاں اور صریح فرق(الفروق الواضحة البهية بين الفرق الإمامي...
18/09/2026

زیدیہ اور اصحابِ رسول ﷺ

امامیہ فرقوں اور فرقۂ زیدیہ کے درمیان نمایاں اور صریح فرق
(الفروق الواضحة البهية بين الفرق الإمامية وبين الفرقة الزيدية)

اس کتاب میں زیدی شیعہ عالم علامہ سید محمد بن احمد بن محمد الکبسی(متوفی 2009 عیسوی) اثنا عشری اور دیگر فرقوں کے ساتھ اپنے اختلافات کا تذکرہ کرتے ہوئے " صحابہ کرام کے متعلق زیدیہ کا موقف " یوں بیان کرتے ہیں:

"فرقۂ زیدیہ جس طرح امام علیؑ سے محبت رکھتا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام سے بھی محبت کرتا ہے، جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں مدح فرمائی ہے:
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾
[الأنفال: 74]
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جن لوگوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہی لوگ حقیقت میں سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
امام علیؑ سے ایسی محبت جو غلو سے پاک اور کسی حق تلفی سے خالی ہو، اور ساتھ ہی ان کے صحابہ و قرابت دار بھائیوں کے حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے لیے رضائے الٰہی کی دعا کرنا—جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان سے راضی ہونے کا ذکر فرمایا ہے—یہی صحیح طرزِ فکر ہے۔
ہم ان(صحابہ) سے محبت کیوں نہ کریں، جبکہ وہ عادل و نیک لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ کی کتاب اور رسولِ مختار ﷺ کی سنت ہم تک پہنچائی؟
اسی طرزِ فکر سے زیدیہ اور ان لوگوں کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے جو اپنے آپ کو شیعہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور صحابۂ کرام کے پاکیزہ کردار اور عزت و آبرو کے بارے میں نامناسب گفتگو کرتے ہیں۔ یہی زیدیہ اور دوسرے گروہوں کے درمیان امتیازی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت ہے۔

🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️🖍️

مولف کا تعارف

محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن اسماعیل عبد الرحمن بن یحییٰ بن احمد علیہم السلام
(1919ء–2009ء)

آپ 1919ء میں ہجرۃ الکبس میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے خاندان کے اکلوتے فرزند تھے۔ ابتدائی تعلیم اور علومِ قرآن ہجرۃ الکبس ہی میں حاصل کیے۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے صنعاء کے مدرسۂ وسطیہ میں داخل ہوئے اور وہاں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے۔ یہ امام یحییٰ حمید الدین کا زمانہ تھا۔ آپ کے ہم جماعتوں میں سید علامہ محمد بن احمد الکبسی، المعروف بالعزّی، بھی شامل تھے۔

آپ کچھ عرصہ مدرسۂ علمیہ میں زیرِ تعلیم رہے، تاہم دو اسباب کی بنا پر تعلیم مکمل نہ کر سکے۔

پہلا سبب یہ تھا کہ ہجرۃ الکبس میں مکتب کے لیے ایک مدرس کی ضرورت پیش آگئی تھی، خصوصاً اس وقت جب مکتب کے سابق مدرس سیدی علامہ مرحوم محمد بن اسماعیل بن احمد الکبسی عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ چنانچہ آپ کو ہجرۃ الکبس واپس آ کر مکتب کی تدریس کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔

اس کے بعد آپ عبادت اور قبائل کے باہمی معاملات کے حل میں مصروف رہے۔ 1982ء میں جب الکبس کی اس کی ہمسایہ بستی قطین الضباینہ کے ساتھ جنگ ہوئی تو آپ اس معاملے میں بھی مصروف رہے۔

دوسرا سبب آپ کے والد کی خراب ہوتی ہوئی صحت تھی۔ آپ کے والد کے پاس اموال اور مویشیوں کی چراگاہیں تھیں، علاوہ ازیں وہ الکبس اور دیگر علاقوں میں بیت الہجوہ کے اموال کے وکیل بھی تھے۔ چنانچہ والد کی دیکھ بھال اور ان اموال کی نگرانی کی ذمہ داری بھی آپ کو سنبھالنی پڑی۔

آپ رحمہ اللہ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے 1962ء کے انقلاب کے بعد تباہ حال ہجرۃ الکبس میں واپس آ کر دوبارہ تعمیر اور آباد کاری کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں آپ کی متعدد یادداشتیں بھی موجود ہیں، جن میں انقلاب کے بعد الکبس کو پیش آنے والی غارت گری اور لوٹ مار کے واقعات کا ذکر ہے۔

آپ جمعہ، 16 جنوری 2009ء کو اپنے رب کے جوارِ رحمت میں تشریف لے گئے۔

صحابہ کے متعلق یمن کے زیدی شیعہ عقیدہ اور موقفزیدی شیعہ عالم و خطیب علامہ یحیی سالم العزان کی کتاب " الصحابہ عند الزیدیہ...
18/09/2026

صحابہ کے متعلق یمن کے زیدی شیعہ عقیدہ اور موقف

زیدی شیعہ عالم و خطیب علامہ یحیی سالم العزان کی کتاب " الصحابہ عند الزیدیہ(زیدی شیعوں کے ہاں صحابۂ کرام کا مقام)" میں مولف نے زیدی شیعہ اماموں کے اقوال نقل کیے ہیں کہ وہ صحابہ کرام کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہیں۔ چند عبارات مع اردو ترجمہ و حوالہ جات

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟(2015 میں ہمارے پیج پر شائع کی گئی تحریر- نشر مکرر)بسم اللہ الرحمن الرحیمجب س...
17/09/2026

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟
(2015 میں ہمارے پیج پر شائع کی گئی تحریر- نشر مکرر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جب سے یمن کی صورتِ حال پیشِ نظر ہے، پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ یمن کے شیعوں کی اکثریت(35 فیصد)، جو زیدی شیعہ کہلاتے ہیں، اور حوثی تحریک کے لوگ بھی اسی مذہب کے پیروکار ہیں، تو ان کا اثناعشری، یعنی جعفری فرقے سے کن امور میں اختلاف ہے؟ ان کے عقائد اور فروعی مسائل میں کیا فرق ہے؟

چند اہلِ علم برادران نے اس موضوع کو واضح کرنے کی مجھ سے درخواست کی ہے۔ ان شاء اللہ، اس فرق کو ہم ایک آرٹیکل کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔

ہم دونوں فرقوں کے اکثریتی یا اجماعی موقف کو پیش کر رہے ہیں۔ علماء کے ش*ذ اقوال اور انفرادی آراء کو ان نکات میں شامل نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فرقوں کے متفق علیہ یا معروف موقف کو پیش کیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ، اس سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔

والسلام
(ایڈمن)

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟

1۔ کلمہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله علي ولي الله خليفة بلا فصل ہے۔

2۔ امام کی عصمت

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق اہل کساء کے علاوہ امام معصوم نہیں ہوتا۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام معصوم عن الخطأ ہوتا ہے۔

3۔ امامت کا سلسلہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امامت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اور ان کے پچھلے امام کا انتقال 2007ء میں ہوا۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امامت بارہ ائمہ تک محدود ہے اور امام مہدی آخری امام ہیں۔

4۔ امام کا تقرر

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں امام منصوص من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ صاحبِ اختیار، حسنی یا حسینی فاطمی، اپنے زمانے میں سب سے زیادہ دینی علم رکھنے والا اور امامت کی شرائط پوری کرنے والا شخص، بیعت کے بعد امام بن جاتا ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں بارہ امام منصوص و منصوب من اللہ ہیں۔

5۔ نابالغ کی امامت

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں نابالغ بچہ امام نہیں بن سکتا؛ بلوغت شرط ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے تین امام بلوغت کی عمر سے قبل ہی امام بنے تھے۔

6۔ اذان میں «أشهد أن علياً ولي الله»

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله نہیں پڑھتے۔ ان کے نزدیک ایسا کرنا بدعت ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله پڑھتے ہیں۔

7۔ اذان کے آخر میں «لا إله إلا الله»

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ اذان کے آخر میں صرف ایک مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ دو مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔

8۔ وضو میں پاؤں

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ وضو میں اہلِ سنت کی طرح دونوں پاؤں دھوتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ دونوں پاؤں پر مسح کرتے ہیں۔

9۔ پانچ وقت کی نماز

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ پانچوں نمازیں الگ الگ اوقات میں پڑھتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ جمع بین الصلاتین کی وجہ سے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے پڑھتے ہیں۔

10۔ نماز کے آخر میں سلام

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ کی کتاب التجرید کے مطابق نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرنا ضروری ہے، جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی بلکہ ناقص رہتی ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ کے ہاں نماز کے تسلیم کا طریقہ زیدیہ سے مختلف ہے۔

11۔ امام مہدی کی پیدائش

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے؛ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے اور ممکنہ طور پر امام حسن بن علی ع کی نسل سے ہوں گے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور وہ لاولد فوت ہوئے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند پیدا ہوچکے ہیں اور وہی امام مہدی ہیں۔

12۔ غیبت و رجعتِ امام مہدی

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی، فرزندِ امام حسن عسکری، غائب نہیں ہیں؛ اس لیے ان کی غیبت، رجعت اور ظہور کا یہ تصور درست نہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ امام مہدی کی غیبت اور رجعت کے عقیدے کے قائل ہیں۔

13۔ مرتکبِ کبیرہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق جو شخص گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور توبہ کیے بغیر مر جائے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا اور وہاں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرے گا۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ کا موقف اس سے مختلف ہے۔

14۔ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی چار حقیقی بیٹیاں تھیں، البتہ حضرت فاطمہ علیہا السلام ان چاروں میں سب سے افضل تھیں۔

اثناعشری شیعہ:
اکثر اثناعشری شیعہ صرف حضرت فاطمہ علیہا السلام کو رسول اللہ ﷺ کی حقیقی اور اکلوتی بیٹی مانتے ہیں۔ تاہم اس مسئلے میں اثناعشری علماء کے درمیان اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

15۔ حضرت عثمان کا رسول اللہ ﷺ سے دامادی کا تعلق

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد تھے، جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد نہیں تھے۔

16۔ حاضر و ناظر

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق ائمہ اور رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر نہیں ہیں؛ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

17۔ علمِ غیب

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ائمہ علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کے لیے علمِ غیب ماننا ان کے نزدیک مشبہ کا عقیدہ ہے، اور ایسا کہنے والا فاسق ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر ائمہ کے لیے ما کان وما یکون یعنی ماضی و مستقبل کے امور کے علومِ غیب کے قائل ہیں۔

18۔ نکاحِ متعہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک نکاحِ متعہ اور نکاحِ سری حرام اور زنا کے حکم میں ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہے۔

19۔ ولایتِ تکوینی

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ ائمہ کے لیے ولایتِ تکوینی کے قائل نہیں ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں اکثر ولایتِ تکوینی کے عقیدے کے قائل ہیں۔

20۔ رسول اللہ ﷺ کا سایہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے متعلق کوئی روایت نہیں؛ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے متعلق سایہ نہ ہونے کا کوئی عقیدہ یا تصور زیدی شیعہ مذہب میں نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، رسول اللہ ﷺ کو نور ماننے اور آپ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

21۔ خمس

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں خمس مکاسب سے متعلق نہیں بلکہ مالِ غنیمت سے متعلق ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ عوام خمس ادا کرتے ہیں۔

22۔ سجدہ گاہ یا تربت

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ نماز کے لیے سجدہ گاہ یا تربت نہیں رکھتے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ سجدہ گاہ یا تربتِ حسینی رکھتے ہیں۔

23۔ ماتم، زنجیر زنی اور قمہ زنی

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ ماتم، زنجیر زنی اور قمہ زنی نہیں کرتے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں یہ اعمال بعض حلقوں میں رائج ہیں۔

24۔ سیرتِ حسینی اور عزاداری

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ سیرتِ حسینی علیہ السلام کو بیان کرتے ہوئے اپنے وقت کے ہر یزید کے خلاف عملی جدوجہد اور خروج کرتے ہیں۔ مراسمِ عزاداری، علم، تابوت اور ذوالجناح کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں شعائرِ حسینی اور اعمالِ شبیہ کے نام سے یہ سب امور رائج ہیں۔

25۔ اہلِ سنت کے پیچھے نماز

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ دوسرے مسلمان فرقوں کے پیچھے بغیر کسی تقیہ کے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی اکثر مساجد کے متعلق یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس فرقے کے زیرِ اثر ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں تقیہ کرتے ہوئے فرادیٰ کی نیت سے اہلِ سنت وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

26۔ ایک دوسرے کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک اثناعشری شیعہ بہت سے گمراہ اور باطل عقائد و افکار رکھتے ہیں، جن کے رد میں اکثر زیدی علماء و ائمہ نے «الرد علی الروافض» یعنی ’’رافضیوں کا رد‘‘ کے نام سے کتب لکھی ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے نزدیک زیدی شیعہ بھی ناصبی اور دشمنانِ اہلِ بیت ہیں، کیونکہ ان کے بعض علماء کے مطابق جو شخص اثناعشری ائمہ میں سے کسی ایک امام کا انکار کرے، وہ ناصبی اور کافر ہے۔ دنیا میں اس پر اسلام کے احکام ظاہراً نافذ ہوں گے، لیکن آخرت میں جہنمی اور کافروں کے ساتھ محشور ہوگا۔ شیخ مفید نے بھی زیدیوں کے متعلق اسی طرح کی رائے بیان کی ہے۔

27۔ عاشورا کا روزہ

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ بنی امیہ ہے۔

28۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر کا واقعہ اور سقطِ محسن

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلانے اور سقطِ محسن کا واقعہ درست نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت، چند ایک کے سوا، واقعۂ ہجوم، گھر جلانے اور سقطِ محسن کو درست مانتی ہے۔

29۔ سبّ و شتم اور لعن

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک سبّ و شتم اور لعن اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں سبّ و شتم اور لعن کو جائز سمجھا جاتا ہے، اور لعنت پر مشتمل زیارتِ عاشورا اور دعائے صنمی قریش اکثر مجالس و محافل کا حصہ ہیں۔ چند علماء جو ان زیارات اور لعن کا انکار کرتے ہیں، انہیں مقصر، بتری، ضال اور مضل جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

30۔ خلفائے ثلاثہ کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:
خلفائے ثلاثہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے متعلق اکثر زیدی شیعہ وقوف کے قائل ہیں؛ یعنی نہ سبّ و شتم، لعن و تبرا کرتے ہیں اور نہ ہی رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل ہیں۔ تاہم شروع سے اب تک ایک کم تعداد میں زیدی شیعہ ترضیہ، یعنی ان خلفائے ثلاثہ سے رضامندی اور ان کے لیے رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل بھی رہے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں ان دونوں موقف، یعنی ترضیہ اور وقوف، کے بجائے تبرا، لعن اور سبّ و شتم کا کلچر پایا جاتا ہے۔

31۔ وسیلہ اور «یا علی مدد»

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں صرف یا رسول یا یا علی پکارنا شرک نہیں۔ لیکن ان سے کچھ مانگنے کی نیت یا ان سے مخاطب ہو کر حاجت مانگنا، مثلاً یا علی مدد کہنا یا نادِ علی پڑھنا اور براہِ راست ان سے مانگنا، ان کے نزدیک شرک باللہ ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں یا علی مدد، نادِ علی وغیرہ رائج ہیں۔

32۔ انبیاء اور ائمہ کی فضیلت

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک انبیاء علیہم السلام، ائمہ علیہم السلام اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے افضل ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں آج کے دور میں ائمہ علیہم السلام کو انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھنے والا طبقہ بھی موجود ہے، اگرچہ قدیم دور میں ایک قلیل تعداد اثناعشری علماء کی ایسی تھی جو انبیاء علیہم السلام کو ائمہ علیہم السلام سے افضل سمجھتی تھی۔

33۔ بنیادی کتب

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کی بنیادی کتاب مسند امام زید علیہ السلام ہے۔ اس کے علاوہ امالی امام احمد بن عیسیٰ، امالی ابوطالب، امالی مرشد باللہ بھی زیدی شیعہ کی بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
الکافی، الاستبصار، من لا یحضره الفقیه، تہذیب اور بحارالأنوار وغیرہ اثناعشری شیعہ کی معروف کتب ہیں۔

34۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک اہلِ سنت کے ائمۂ اربعہ، بالخصوص امام مالک اور امام ابوحنیفہ، جو امام زید علیہ السلام کے شاگرد تھے، محبِ اہلِ بیت تھے۔ زیدی روایات کے مطابق امام ابوحنیفہ نے امام زید علیہ السلام کی جہاد و معاونت کے لیے 900 درہم بھیجے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں ابوحنیفہ کو دشمنِ اہلِ بیت قرار دینے والی روایات موجود ہیں، جن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے ان پر لعنت منسوب کی گئی ہے۔

35۔ غروبِ آفتاب اور افطار

زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ غروبِ آفتاب کے بعد فاصلۂ احتیاطی کے قائل نہیں، بلکہ غروب کے ساتھ ہی اذان اور افطار کرتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت فاصلۂ احتیاطی کی قائل ہے، اگرچہ چند مجتہدین اس کے قائل نہیں ہیں۔

36۔ تبرا کا مفہوم

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک تبرا کا مطلب زبان سے کسی کو سبّ و شتم کرنا نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے براءت اور لاتعلقی ظاہر کرنا ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں زبانی تبرا اور سبّ و شتم بھی پایا جاتا ہے۔

37۔ نکاح میں گواہ اور اعلان

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں نکاح کے لیے دو گواہ اور اعلان شرط ہیں۔

اثناعشری شیعہ:
متعہ، جو اثناعشری شیعوں کے ہاں مروج ہے، اس میں یہ شرائط موجود نہیں ہیں۔

38۔ امام مہدی کا نسب

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ یہ امر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام لاولد فوت ہوئے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں پیدا ہوچکے ہیں اور وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔

39۔ اصحابِ رسول ﷺ کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق اصحابِ رسول ﷺ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں، لیکن انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے چند اشخاص کے علاوہ باقی اصحاب کے متعلق ترضیہ اور توقف، دونوں موقف موجود ہیں۔ انصار و مہاجرین کی ابتدائی دورِ اسلام کی قربانیاں مسلم ہیں، اگرچہ ان سے بعض بڑی غلطیاں بھی ہوئیں۔ تاہم مولا علی علیہ السلام نے ان کے متعلق جو رویہ اختیار کیا، اس کی پیروی لازمی ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق اصحاب میں سے اکثر، چند اشخاص کے سوا، منافق تھے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے، نیز شروع ہی سے مخلص نہیں تھے۔

40۔ جغرافیائی اور علمی مراکز

زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کی اکثریت یمن میں، پھر سعودی عرب اور اس کے بعد عمان و افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ ان کا اہم علمی مرکز یمن ہے۔

اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت ایران میں، پھر عراق، لبنان وغیرہ میں پائی جاتی ہے، جبکہ ان کے اہم علمی مراکز نجف اور قم ہیں۔

یہ کل 40 فرق ہیں جو اثناعشری اور زیدی شیعہ کے درمیان بیان کیے گئے ہیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا یہ آرٹیکل اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اگرچہ دونوں کے درمیان اس سے بھی زیادہ اختلافات موجود ہیں، لیکن بیان کیے گئے یہ نکات کسی حد تک دونوں مکاتبِ فکر کے فرق کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔

والسلام

Address

Nazimabad
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Agha Ali Sharfuddin Baltistani- Students, Followers & Admirers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category