02/09/2026
شیخ الاسلام محدثِ سندھ الحاج مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ بروز بدھ ۱۰ ربیع الاول ۱۱۰۴ھ (بمطابق ۱۹ نومبر، ۱۶۹۲ء) کو میر پور بٹھورو، ٹھٹہ، سندھ (موجودہ پاکستان) میں مخدوم عبد الغفور ٹھٹویؒ کے گھر میں پیدا ہوئے۔
خاندانی پس منظر!
مخدوم محمد ہاشمؒ کے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹویؒ جو خود بھی ایک عالم تھے، پہلے سیہون میں رہائش پزیر تھے۔ بعد ازاں گردشِ زمانہ کی وجہ سے ٹھٹہ کے علاقے میر پور بٹھورو میں آباد ہو گئے۔ مخدوم محمد ہاشمؒ ذات کے پنہور تھے اور ان کا نسب عرب قبیلے بنو حارث یعنی حارث بن عبد المطلب سے جا ملتا ہے۔ اس قبیلے کے کچھ افراد جہاد کی غرض سے محمد بن قاسمؒ کے ساتھ پہلی صدی ہجری میں سندھ آئے تھے اور ان میں سے کچھ افراد نے تبلیغِ اسلام کو فروغ دینے کے لیے یہیں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انھیں سے مخدوم محمد ہاشم کے آبائے کرام کا نسب جا ملتا ہے۔
تعلیم!
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ کا تعلق علمی گھرانے سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی سے حاصل کی۔ یہیں حفظِ قرآن مکمل کیا اور فارسی، صرف و نحو، فقہ کی تعلیم بھی اپنے والد سے حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے ٹھٹہ شہر کا رخ کیا جو اس وقت علم و ادب کے حوالے سے تمام دنیا میں مشہور تھا۔ یہاں انھوں نے مخدوم محمد سعید ٹھٹویؒ سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ پھر مخدوم ضیاء الدین ٹھٹویؒ سے علم حدیث کی تعلیم حاصل کی اور یوں صرف ۹ برس کی عمر میں فارسی اور عربی علوم کے مطالعوں کی تکمیل کی۔ اسی دوران میں ۱۱۱۳ھ / ۱۷۰۲ء میں مخدوم ہاشمؒ کے والد بزرگوار مخدوم عبد الغفورٹھٹویؒ وفات پاگئے۔ مخدوم ہاشمؒ کو ۱۱۳۵ھ / ۱۷۲۲ء میں حجازِ مقدس کے سفر کے دوران میں تحصیلِ علم کا موقع ملا اور انھوں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مکہ اور مدینہ منورہ کے مشہور علما اور محدثین سے علم حدیث، فقہ، عقائد اور تفسیر کا علم حاصل کیا اور سندیں حاصل کیں۔ مخدوم ہاشمؒ کے سندھ کے مشہور اساتذہ میں ان کے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹویؒ، مخدوم محمد سعید ٹھٹویؒ، مخدوم ضیاء الدین ٹھٹویؒ، مخدوم رحمت اللہ ٹھٹویؒ اور مخدوم محمد معین ٹھٹویؒ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ مخدوم ہاشمؒ نے سفر حرمین کے دوران میں جن اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا ان میں شیخ عبد القادر حنفی صدیقی مکیؒ (متوفی ۱۱۳۸ھ / ۱۷۲۶ء)، شیخ عبد بن علی مصریؒ (متوفی ۱۱۴۰ھ / ۱۷۲۸ء)، شیخ ابو طاہر محمد مدنیؒ (متوفی ۱۱۴۵ھ / ۱۷۳۳ء) اور شیخ علی بن عبد المالک دراویؒ (متوفی ۱۱۴۵ھ / ۱۷۳۳ء) شامل تھے۔
دار العلوم ہاشمیہ کا قیام!
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی نے تحصیلِ علم کے بعد بٹھورو کے نزدیکی گاؤں بہرام پور میں سکونت اختیار کی اور وہاں کے لوگوں کو دین اسلام کی اشاعت، ترویج کے لیے وعظ اور تقریرروں کا سلسلہ شروع کیا مگر وہاں کے لوگوں کو مخدوم ہاشم کے وعظ و تقریروں کی اہمیت کا اندازہ نہ ہوا، اسی لیے مخدوم صاحب دل برداشتہ ہو کر بہرام پور سے ٹھٹہ شہر میں آ گئے اور یہاں اگر محلہ میں جامع خسرو (دابگراں والی مسجد) کے قریب دار العلوم ہاشمیہ کے نام سے مدرسے کا بنیاد رکھا، جہاں انھوں نے حسب خواہش دین اسلام کی اشاعت و ترویج، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔
ہاشمی مسجد!
ہاشمی مسجد مخدوم محمد ہاشم کے محلہ میں واقع تھی۔ اسی مسجد میں مخدوم صاحب نے اپنی بہت سی لازوال تصانیف مکمل کیں۔ اسی مسجد سے انھوں نے دین اسلام کے فروغ اور استقامت کے لیے سندھ کے حکمرانوں کے نام خطوط لکھے۔ اسی مسجد میں انھوں نے فقہی مسائل پر فتاویٰ جاری کیں۔ مخدوم صاحبؒ کا دستور تھا کہ وہ دن کے تیسرے پہر درسِ حدیث دیتے تھے۔ مخدوم صاحب کے بعد ان کے فرزند مخدوم عبد اللطیفؒ ان کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور درس و تدریس کے ساتھ وعظ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یہ مسجد تالپوروں کے عہد تک قائم رہی۔
جامع خسرو!
جامع خسرو کو دابگراں والی مسجد بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ یہ مسجد دابگراں کے محلہ میں واقع تھی۔ یہ دوسری مسجد ہے، جس میں مخدوم محمد ہاشمؒ ہر جمعہ کی صبح وعظ کیا کرتے تھے۔ مخدوم صاحب کے بعد ان کے فرزند مخدوم عبد اللطیف ٹھٹویؒ نے اپنے والد بزرگوارؒ کے طریقہ کار کو جاری رکھا۔ اب نہ یہ محلہ موجود ہے اور نہ مکین، اس لیے یہ مسجد زبوں حالی کا شکار ہو گئی ہے۔
شاگرد!
سید شہمیر شاہؒ (مٹیاری والے)
مخدوم مئیڈنہ نصرپوریؒ
مخدوم ابو الحسن صغیر ٹھٹوی مدنیؒ
مخدوم عبد الرحمان ٹھٹویؒ
مخدوم عبد اللطیف ٹھٹویؒ
مخدوم نور محمد نصرپوریؒ
شاہ فقیر اللہ علوی شکارپوریؒ
مخدوم عبد الخالق ٹھٹویؒ
مخدوم عبد اللہ مندھروؒ
سید صالح محمد شاہ جیلانیؒ گھوٹکی والے
شیخ الاسلام مراد سیہوانیؒ
عزت اللہ کیریوؒ
حافظ آدم طالب ٹھٹویؒ
نور محمد خستہ ٹکھڑائیؒ
منصبِ قضا!
مخدوم محمد ہاشمؒ نے ٹھٹہ میں رائج بدعات اور غیر اسلامی رسومات کو بند کرانے کے لیے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑاؒ سے ایک حکم نامہ جاری کرایا تھا۔ اس حکم نامہ کے اجرا کے بعد ٹھٹہ سے بری رسومات، بدعات، عورتوں کا قبروں پر جانا وغیرہ کا کسی حد تک خاتمہ ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے میاں غلام شاہ کلہوڑاؒ کو مخدوم صاحب کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ ان سازشی لوگوں کے خلاف نکلا اور میاں غلام شاہؒ نے مخدوم صاحبؒ کو ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے عہدے پر فائز کر کے ہمیشہ کے لیے مخالفین کی طاقت کو ختم کر دیا۔
ہم عصر علمائے کرام!
مخدوم محمد ہاشمؒ کے عہد میں جن علمی شخصیات اور علمائے کرام نے اپنے وقت میں تاریخ کے صفحات پر اپنے اپنے علمی نشانات ثبت کر گئے، ان میں چند کے نام ذیل میں ہیں
میاں ابو الحسن سندھی ٹھٹویؒ (صاحب مقدمۃ الصلواۃ)
مخدوم ابو الحسن ڈاہریؒ
مخدوم ضیاء الدین ٹھٹویؒ
شیخ ابو الحسن کبیر ٹھٹوی مدنیؒ
مخدوم محمد حیات سندھی مدنیؒ
مخدوم محمد قائم سندھی مدنیؒ
مخدوم محمد معین ٹھٹویؒ
سید موسیٰ شاہ جیلانی گھوٹکی والےؒ
مخدوم روح اللہ بکھریؒ
مخدوم عبد الرحمان شہید کُھڑائیؒ
مخدوم محمدی کُھڑائیؒ (مخدوم عبدؒ الرحمان شہید کھڑائی کے فرزند)
مخدوم عبد الرحیم شہید گرھوڑیؒ
مخدوم عبد الرؤف بھٹیؒ
مخدوم محمد ابراہیم بھٹیؒ
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ
مخدوم عبد اللہ واعظ ٹھٹویؒ
مخدوم المخادیم عبد الواحد سیوستانیؒ
شیخ محمد زمان لنواری والےؒ نقشبندی
سید محمد بقا شاہ شہیدؒ
محمد احسن خان ٹھٹویؒ
میون محمد مبین چوٹیاریؒ
شیخ مخدوم محمد اسماعیل پریالویؒ
میر علی شیر قانع ٹھٹویؒ
سلسلہ طریقت!
مخدوم محمد ہاشمؒ نے حصولِ علم کے بعد روحانی تعلیم و تربیت اور اکتساب فیض کے لیے مرشدِ کامل کی تلاش شروع کی، جس کے نتیجے میں اس زمانے کی مشہور روحانی شخصیت مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹویؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مریدی میں قبول کرنے کی درخواست کی لیکن مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹویؒ نے مخدوم ہاشمؒ کو سلسلہ قادریہ کی معروف شخصیت سید سعد اللہ شاہ قادری سلونی سورتیؒ (متوفی ۲۷ جمادی الاول ۱۱۳۸ھ / ۳۱ جنوری ۱۷۲۶ء) کی جانب رجوع کرنے کا حکم فرمایا، لہٰذا مخدوم محمد ہاشمؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں ۱۱۲۳ھ سے ۱۱۲۴ھ تک قیام کیا، بعد ازاں سید سعد اللہ سلونیؒ نے مخدوم محمد ہاشمؒ کو سلسلہ قادریہ کا خرقہ پہناتے ہوئے اجازت و خلافت سے نوازا
اولاد!
مخدوم محمد ہاشمؒ کو اللہ نے دو فرزند عطا کیے:
مخدوم عبد الرحمان ٹھٹویؒ
مخدوم عبد الرحمان ٹھٹویؒ مخدوم محمد ہاشمؒ کے بڑے فرزند تھے۔ ان کی ولادت ۱۶ شوال ۱۱۳۱ھ بمطابق 1 ستمبر، ۱۷۸۹ء میں ہوئی۔ والد کے مریدین بیرونِ سندھ کاٹھیاواڑ اور کچھ میں بھی پھیلے ہوئے تھے۔ اس لیے مخدوم عبد الرحمانؒ سندھ سے باہر مریدوں کو ہدایت اور تلقین کرنے کے لیے جاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ مریدوں کے پاس کاٹھیاواڑ گئے ہوئے تھے، وہیں بروز ہفتہ ۵ ربیع الاول ۱۱۸۱ھ بمطابق ۱ اگست، ۱۷۶۷ء کو ۵1 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ میر علی شیر قانع ٹھٹویؒ کے مطابق انھوں نے جوناگڑھ میں وفات پائی۔
مخدوم عبد اللطیف ٹھٹویؒ
مخدوم عبد اللطیف ٹھٹویؒ، مخدوم محمد ہاشمؒ کے چھوٹے فرزند تھے۔ ان کی ولادت بروز پیر ۱۴ شعبان ۱۱۴۴ھ بمطابق ۱۱ فروری، ۱۷۳۲ء میں ہوئی۔ قرآن کے حافظ، حدیث اور فقہ کے جید علما میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے والد کے کام کو سنبھالا اور ان کے جانشیں ہوئے۔ ۱۱۸۷ھ میں والیٔ سندھ میاں سرفراز کلہوڑاؒ کے لشکر میں منصبِ قضا پر مامور ہوئے۔ وہ بروز منگل ۱۷ ذوالقعدہ ۱۱۸۹ھ بمطابق ۹ جنوری، ۱۷۷۶ء میں ۴۵ سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ مکلی ٹھٹہ میں اپنے والد کی مزار کے پاس مدفون ہوئے
تصانیف!
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی عظیم عالم دین اور کثیر التصانیف مصنف تھے۔ انھوں نے ایک اندازے کے مطابق ۳۰۰کتب فقہ، اسماء الرجال، قواعد، تفسیر، قرآن، سیرت النبی، علم عروض، ارکان اسلام، حدیث اور بہت سے اسلامی موضوعات پر عربی، فارسی، سندھی زبانوں میں تصنیف و تالیف کیں۔
علمی و فقہی خدمات پر تحقیقی مقالات!
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ: سوانح حیات اور علمی خدمتیں (پی ایچ ڈی مقالہ)، عبد الرسول قادری، نگراں: پروفیسر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ سندھ یونیورسٹی جامشورو
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی بروز بدھ۶ رجب، ۱۱۷۴ھ (بمطابق ۱۱ فروری، ۱۷۶۱ء) کو ٹھٹہ، سندھ میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ ٹھٹہ کے مشہور مکلی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
حوالہ جات!
۱۔محمد اسحاق بھٹی، فقہائے ہند (جلد ۵) بارہویں صدی ہجری، دار انوادر لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۹۳۲
۲۔ابوالخیر محمد زبیر، سندھ کے صوفیائے نقشبند (جلد ۱)، مطبوعہ لاہور، ۲۰۰۷ء، صفحہ ۱۳۸
۳۔ڈاکٹر عبد الرسول قادری، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی:سوانح حیات اور علمی خدمتیں (سندھی)، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، ۲۰۰۶ء، ص ۵۷
۴۔ شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، ضیائے طیبہ ڈاٹ کام"۔ ۲۵.۹.۲۰۲۰ کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ ۱۱.۹.۲۰۱۶
۵۔مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مدح نامہ سندھ (سندھی ترجمہ)، مترجم: مولانا محمد ادریس ڈاہری، سندھی زبان کا با اختیار ادارہ، حیدرآباد سندھ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۷
۶۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، توہینِ رسول اور اسلامی قوانین (اردو ترجمہ)، ترجمہ و حواشی: مفتی ابو محمد اعجاز احمد،
۷۔جمعیت اشاعت اہلسنت کراچی، ۲۰۱۶ء، ص ۱۷
۸۔مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی:سوانح حیات اور علمی خدمتیں (سندھی)، ص ۵۵.۵۶
القادری
۳۱ اگست ۲۰۲۶