19/04/2026
دنیا کے فیصلے کرنا واقعی بڑا مشکل کام ہے۔۔۔ آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک عرب سے دو ارب لے کر دوسرے عرب کو دے دیا۔۔. تیسرے عرب سے ایڈوانس بات چیت جاری ہے تاکہ پہلا عرب جب اپنے 2 ارب واپس مانگے گا تو تیسرے عرب سے لے کر پہلے عرب کے منہ پہ ماریں گے۔۔۔ دنیا ابھی بھی پاکستان کی قدر نہی کرتی۔۔۔ مگر ایسے جینیس فیصلے کرتے کرتے پتہ چلا کہ اپنے ملک ہی سے 100 ارب ڈالر باہر جا چکا تھا اور ہم باہر ٹوپیاں گھومانے میں مصروف رہے۔۔۔
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
19/04/2026
گوکہ یہ "بڑا حملہ" کرنا اتنا آسان بھی نہ ہوگا، اسکے لئے 🤡،
● مزید وقت لے گا،
● خطہ میں اپنے قریبی مہروں ( پاکستان، GCC ممالک ) کے ذریعہ زمین ہموار کروائے گا،
● ابنائے ہرموز کو ایشو بنا کر یورپی اتحادیوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کرے گا،
● دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا false flag operation کروانے کی کوشش کرے گا جس سے نفرت کی آگ مزید بھڑک اٹھے، وغیرہ وغیرہ
مگر میرے لئے قابل افسوس بات یہ ہے کہ میں جس قوم کا فرد ہوں اسکی ریاست (عسکری و سول اسٹیبلشمنٹ) اور اسکے حاکم آج سے نہیں بلکہ دہائیوں سے امریکی مہروں میں شمار ہوتے ہیں۔
اور آج بھی ہمارا 🪖PM🇵🇰 & FM امریکی صدر ٹرمپ🇺🇸 ( جوکہ بدترین جھوٹا، جنگی جرائم کرنے والا مجرم، Epstein file کا مرکزی کردار، ہوس کا پجاری ریپسٹ، لالچی فراڈیا سرمایہ دار ) کے right & left بنے پھرتے ہیں، اسکے دیئے گئے ہر پلان پر آنکھ بند کرکے عمل کرتے ہیں ( جیسا کہ حالیہ مذاکرات والا PR stunt )، اسکو نوبل پرائز کا حقدار سمجھ کر اسکو دنیا کی قیادت کرنے والا بہترین لیڈر مانتے ہیں۔
کیا کیجئے کہ ہماری ریاست(عسکری و سول اسٹیبلشمنٹ) اور ہمارے حاکم کبھی بھی اپنی ذاتی لالچ سے باہر نہ آسکے❗️
🖋ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
#پاکستان #ایران
18/04/2026
آپ امریکہ کو ریسکیو کرنا چاہتے ہیں، اسے اچھی فیس سیونگ دلوانا چاہتے ہیں، ضرور کریں مگر تھوڑا ہوش کے ناخن بھی لے لیں۔۔۔ اتنی ہی بات کریں جتنا کہ وہ نئے زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہو اور یہ سمجھ کر آگے چلیں کہ آنے والے وقت میں اس خطہ کی نئی چال ڈھال کا تعین ان ہی طاقتوں نے کرنا ہے جنہوں نے آپکے boss کے Boss کا گھمنڈ توڑ کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
🖋ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
15/04/2026
❗️چین نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا: امریکہ صرف اور صرف 16 سال بغیر جنگ کے رہا ہے۔۔۔❗️
● چینی وزارتِ قومی دفاع نے کہا:
240 سالہ تاریخ کے باوجود، امریکہ نے صرف 16 سال ایسے گزارے ہیں جن میں وہ جنگ میں شامل نہیں رہا۔
● دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں اس کے تقریباً 800 فوجی اڈے موجود ہیں۔۔۔ امریکہ عالمی انتشار کا بنیادی کردار اور امن و علاقائی استحکام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا ملک ہے۔
● اب اس دعوے کے پیچھے موجود اعداد و شمار پر نظر ڈالیں:
2001 کے بعد سے، مختلف جنگی تحقیقات کے مطابق امریکہ عراق، افغانستان، شام اور یمن جیسے ممالک میں 430,000 سے زائد افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار رہا ہے۔ جب بھوک، بیماری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں ہونے والی بالواسطہ اموات کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ان تنازعات کے علاقوں میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
● امریکہ کی عالمی فوجی موجودگی بھی بے حد وسیع ہے۔ اس کے 80 سے زائد ممالک میں تقریباً 750 سے 800 فوجی اڈے قائم ہیں، جن میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں بڑے پیمانے پر تعیناتیاں شامل ہیں۔ یہ اڈے محض اتفاقی نہیں ہیں بلکہ اکثر تیل کی ترسیلی گزرگاہوں، تجارتی راستوں اور اہم اسٹریٹجک علاقوں جیسے خلیج فارس اور مشرقی ایشیا کے قریب واقع ہیں۔
● سرکاری طور پر امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ اڈے اتحادیوں کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی استحکام برقرار رکھنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم، مشاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل مدتی فوجی موجودگی واشنگٹن کو فوری طاقت کے استعمال، علاقائی سیاست پر اثر انداز ہونے، معاشی مفادات کے تحفظ اور دنیا میں کہیں بھی چند گھنٹوں میں کارروائی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
● ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جنگیں کہاں لڑی جاتی ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ کی زیادہ تر فوجی مداخلتیں کمزور یا ترقی پذیر ممالک میں ہوئی ہیں، جہاں مزاحمت نسبتاً کم اور اسٹریٹجک کنٹرول قائم رکھنا آسان ہوتا ہے۔ یہ علاقے اکثر قدرتی وسائل سے مالا مال ہوتے ہیں یا اہم عالمی راستوں پر واقع ہوتے ہیں۔
China Slams US: Only 16 Years Without W@r
Chinese Ministry of National Defense said:
Despite 240 years of history, the United States has only spent 16 years without w@r.
It has around 800 military bases in more than 80 countries.
The United States is the main actor behind global chaos and the greatest destroyer of peace and regional stability.
Now look at the numbers behind this claim
Since 2001, US has k!ll*ed more than 430,000 people in countries like Iraq, Afghanistan, Syria, and Yemen , according to multiple war studies. When indirect Murd*ers from hunger, disease, and infrastructure collapse are included, the number rises into the millions. More than 38 million people have been K!ll*ed across these conflict zones.
The global military presence is also massive. The US maintains roughly 750 to 800 military bases across more than 80 countries, including major deployments in Europe, the Middle East, and Asia. These bases are not random. Many are located near oil routes, trade chokepoints, and strategic regions like the Persian Gulf and East Asia.
Officially, the US says these bases exist to protect allies, fight terrorism, and maintain global stability. But the pattern shows something else: long-term military presence allows Washington to project power quickly, influence regional politics, secure economic interests, and K*ll people anywhere in the world within hours.
Another point often raised is where w@rs happen. Most US military interventions over the past decades have taken place in weaker or developing countries, where resistance is limited and strategic control is easier to maintain. These regions are often rich in resources or located along critical global routes.
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
14/04/2026
میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اب 🇺🇸 کبھی بھی اس خطہ کے اندر آکر ڈائریکٹ جنگ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔
تو اب اس کے پاس 3 راستے ہی بچتے ہیں،
1) دوبارہ مذاکرات کی ٹیبل پر آئے اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے 🇮🇷 #ایران سے کوئی ایسی ڈیل کرے کہ اس جوکر کو فیس سیونگ مل جائے اور یہ اس خطہ سے اپنا بوریا بسترا سمیٹ کر پتلی گلی سے سر جھکا کر اچھے بچوں کی طرح نکل جائے،
2) یا پھر اس خطہ سے دور رہ کر بین الاقوامی سمندری حدود میں ہلکی پھلکی جھڑپیں کرکے، Naval blockade کرکے اپنی چھوٹی موٹی بدمعاشی دکھا کر سپر پاور ( کھوکھلا ) ہونے کا تاثر دیتا رہے۔ گوکہ اسکی یہ چال بھی آگے چل کر خود اسکے اپنے گلے پڑ جائے گی اور اس کمزور ہوتے بدمست ہاتھی کو مزید نقصان پہنچے گا،
3) اور تیسرا مگر زیادہ خطرناک کھیل یہ کہ اس خطہ میں موجود اپنے پرانے مہروں ( جس میں #پاکستان 🇵🇰 اور ممالک سر فہرست ہیں ) کو آگے لاکر، انکو اسلحہ بیچ کر، انکو مزید قرضہ اور جنگی امداد دیکر، پرانے قرضہ معاف کرکے، عیاشیوں کے سبز باغ دکھا کر، انکی پہلے سے بکی ہوئی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو مزید اپنے کنٹرول میں لے کر، ایک ایسی جنگ کی شروعات کروا کر کہ جس میں دین، مذہب، فرقہ، مسلک اور کچھ تاریخی متشدد واقعات کو بنیاد بنا کر، آپس میں بدلہ کی آگ بھڑکا کر، بھائی کا گلا بھائی سے کٹوا کر، اس خطہ کو آگ و خون میں نہلا دیا جائے گا۔ اگر یہ خطرناک کھیل شروع ہوا تو اسکے دو اہم ترین کھلاڑی پاکستان (عسکری/ملٹری کے نکتہ نگاہ سے) اور #سعودیہ 🇸🇦 (انویسٹمنٹ اور مذہبی جذبات کا مرکز ہونے کے نکتہ نگاہ سے) ہوں گے، جوکہ امریکہ کے پرانے مہرے اور وفادار ہیں۔ واضح نظر آ رہا ہے کہ حالات کو اسی نہج پر تیزی سے دھکیلا بھی جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ماضی قریب میں پاکستان اور سعودیہ عرب کا دفاعی معاہدہ بھی امریکہ( اسرا_ئیل ) کی رضا و خوشی سے کروایا گیا تھا، تاکہ وقت آنے پر یہ دونوں وفادار اپنی وفاداری کا ثبوت بھی دے سکیں۔
مستقبل کی شکل کیا ہوگی؟
مگر ایک بات طے ہے کہ چاہے ان 3 میں سے کوئی بھی آپشن استعمال ہو، اسکا نتیجہ ایک ہی نکلنا ہے اور وہ یہ کہ اور جو ملک بھی اس خطہ میں امریکہ کے پرانے وفادار ہیں، اگر انہوں نے اپنی وفاداری نہ بدلی اور اس گرتے ہوئے ہاتھی کو سنبھالنے کے لئے اسکی جنگ لڑے، تو یاد رکھیں وہ بھی اس ہاتھی کے نیچے دب کر مارے جائیں گے۔
Content created by:
Dr Syed Adnan Khursheed
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
13/04/2026
آپ جب بھی اداس ہوں، یہ لطیفہ دیکھ لیں، طبیعت باغ و بہار ہوجائے گی۔۔۔ 👻
13/04/2026
مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ سے آئے ہوئے یہ جوکرز نہ صرف تعلیمی قابلیت میں ایرانی ٹیم کے سامنے بچے تھے بلکہ ان افراد کا مذاکرات کرنے کا تجربہ اور مہارت بھی ایسی تھی کہ جیسے گلی محلے کے لونڈے کسی معاملے پر صلح صفائی کرواتے ہوئے بھرم بازی والی گفتگو کرکے اپنا رعب جھاڑتے ہیں۔
واضح طور پر اندازہ ہو رہا ہے کہ طاقت کے گھمنڈ و زعم میں فقط جہالت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔۔۔✔️
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
12/04/2026
ہر بات تو میڈیا پر کرنا ممکن نہیں ہوتا، ہاں مگر اس بات پر میرا پختہ ایمان ہے کہ تکبر، ظلم، جبر، ناانصافی اور طاقت کا زعم ایک دن خدائے قہار و جبار کی مشیت کے سامنے بے بس کرکے مٹی میں ملا دیا جاتا ہے۔۔۔
آگے آنے والے حالات و واقعات گوکہ سخت تو ہونگے مگر اس خطہ میں نئی انگڑائی کو جنم دینے کا باعث بنیں گے۔۔۔ ایک ایسی انگڑائی جوکہ ظالم و جابر دیو اور خطہ میں اسکے حلیفوں کے اثر و نفوس کو ختم کردے گی۔
اللہ رب العزت اس امت کا اور مخلصین کا حامی و ناصر ہو۔۔۔ آمین
🖋 ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
12/04/2026
اور کھیل ختم ہوا، وہ ( ) جھکنے کو تیار نہ ہوا، ابنائے ہرموز کے کنٹرول میں نہیں دیا گیا، مذاکرات ختم ہوئے۔۔۔ اور ہمارے لئے یہ سب کچھ ایسا ہی رہا کہ " کھایا پایا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔۔۔"
#پاکستان کو اب عقل کے ناخن لینے پڑیں گے کہ اسے بالآخر کس کی گود کا بچہ بننا ہے ( No more double game strategy، تھالی کے بیگن )۔۔۔ اور اب اسی فیصلہ پر اس ملک کے آنے والے مستقبل کا انحصار ہوگا۔۔۔
🖋 ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
11/04/2026
پاکستان ان مذاکرات کا ثالث نہیں، بلکہ فریق ہے جوکہ اپنے ساتھ GCC ممالک کی نمائندگی بھی کر رہا ہے، اور اسکی دلچسپی یہ ہے کہ کسی بھی طرح کرکے امریکہ کے اثر و نفوس کو خطہ میں برقرار رکھا جائے۔ ایسا اس لئے کہ یوں پاکستان اپنی double game strategy کو برقرار رکھ کر دونوں طرف کھیل سکے۔ یعنی کبھی چین کی گود میں، تو کبھی امریکہ کی گود میں، اور کبھی GCC ممالک کی چھتر چھاؤں میں۔ یوں "حسین سے بھی مراسم اور یزید کو بھی سلام " والا کھیل کرکے اپنے مفادات یعنی قرضہ، اسلحہ اور دیگر عیاشی و مراعات دونوں طرف سے حاصل کرتا رہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ GCC ممالک بھی اسی دو رنگی (تھالی کے بیگن) پالیسی میں پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں، اور وہ بھی مکمل امریکی انخلاء کے حامی نہیں۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران، چین اور روس امریکہ کو اس جنگ میں کھینچ کر لائے ہی اس وجہ سے تھے کہ پنجہ آزمائی کے بعد پانی کی گہرائی کا اندازہ لگایا جائے، اور اگر امریکہ کی سپر پاور امیج کو تار تار کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور انکا پلڑا بھاری ہوجائے تو یہ تینوں ممالک front foot پر آکر کھیلنا شروع کردیں، جسکا وقت اب قریب آچکا ہے۔
🖋ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
10/04/2026
I can imagine the level of stature, confidence, and conviction with which the Iranian 🇮🇷 delegation walks into negotiations with the United States 🇺🇲.
Simply put: lower your tone and speak with respect. (Awaz nichay or tamiz say...💥)
🕶Dr Syed Adnan Khursheed 👻
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x
10/04/2026
وہ ذہنی کیفیت جس میں انسان بدلتے ہوئے حالات و واقعات اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو ماننے سے انکار کر دے، اور بجائے مستقبل کی پیش بندی کرکے اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرنے کے، وہ "ماضی" کے حالات کی واپسی کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے، اسے Normalization Bias یعنی معمول پرستی کا فریب کہتے ہیں۔
● عالمی سیاست کی وجہ سے جنگیں اور کشیدگیاں ● ان حالات کی وجہ سے معیشت پر اسکے اثرات ● اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلیاں۔۔۔ یہ تین عوامل دنیا کو بہت تیزی بدل رہے ہیں۔۔۔
ایسے میں آپ inertia (جمود) میں چلے جائیں، یعنی،
1) حالات کے بگڑنے یا تبدیل ہونے کے باوجود پرانے روٹین پر معمولات کو جاری رکھیں،
2) ادھر ادھر سے معلومات اور خبریں تو اکھٹی کریں، مگر اسکے مطابق عمل نہ کریں،
3) مستقبل کے بجائے ماضی کے نارمل حالات کی واپسی کا انتظار کریں
اگر اس " معمول پرستی کے فریب " میں آپ مبتلا ہیں تو تباہی کا انتظار کریں، ورنہ بہتر یہ ہے کہ " جمود " سے نکل کر " حرکیت " کی طرف آئیں اور نئے حالات کو سیکھتے و سمجھتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں۔
🖋 ڈاکٹر سید عدنان خورشید
Follow the Balance with Dr Adnan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb3qOln9sBI1X6F7io3x