Sirat Syed Al-Mursalin

Sirat Syed Al-Mursalin

Share

مستند سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسان انداز میں

19/03/2024

دعوت فکر و عمل

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پُرفتن دور میں مسلمان نوجوانوں کے ایمان اور اخلاق کو بچانا انتہائی سنگین و تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بعض اساتذہ و کچھ نصابی کتب اور انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کو دین سے پھیرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ ایسے شکوک و شبہات ان کے دل و دماغ میں ڈالے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں اللہ تعالی پر ان کا ایمان ختم ہو رہا ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم کو پیغمبر ماننے کو تیار نہیں۔ جب کہ تقدیر اور آخرت کو ناسمجھی کی باتیں کہہ رہے ہیں، نعوذ باللہ!

اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور علمی و عملی طور پر مضبوط افراد کی ضرورت ہے۔ الحمد للہ! کراچی میں قائم تحقیقی و تعلیمی مرکز معھد الشروق الاسلامی گزشتہ 3 سال سے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے، اور مدارس، یونیورسٹیز، کالجز اور مساجد میں ایمان و عقیدے کی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ دور جدید کے فتنوں اور ان سے بچاؤ کی تدابیر سے مسلمانوں کو آگاہ کررہا ہے۔

یاد رکھیے! ایمان ہم مسلمانوں کا قیمتی ترین اثاثہ ہے اور ہم سب نے ہر قیمت پر اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اس لیے اس عظیم مشن اور کار خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں زکوۃ، صدقات اور عطیات کے ذریعے دین کے اس عظیم شعبے کے احیا و فروغ میں اپنا حصہ ڈالیں۔

جزاکم اللہ خیرا

آپ اپنے زکوۃ، صدقات اور عطیات اس اکاؤنٹ میں جمع کراسکتے ہیں۔ 👇

Account Title:
HORIZON RESEARCH CENTRE
Account Number:
10240107729092
IBAN:
PK69MEZN0010240107729092
Meezan Bank ltd

25/05/2022

علم وفکر

معھد الشروق الاسلامی کالج اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم نوجوانوں اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے حامل افراد کے لیے ہفتہ وار نصاب "علم وفکر" شروع کررہا ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے روز دوپہر 2:30 سے سہ پہر 4:30 تک اس کورس میں درج ذیل مضامین پڑھائے جائیں گے:

1. منتخب سورتوں کی تفسیر

2. احادیث کے منتخب ابواب

3. دور جدید کے لامذہبی نظریات وافکار

4. تاریخ اسلام اور تاریخِ یورپی استعمار

کراچی کے رہایشی افراد درس گاہ میں (On Campus) اور کراچی سے باہر کے خواتین وحضرات آن لائن (Online) شرکت کے لیے گوگل فارم 👇 پُر کریں۔

https://forms.gle/VZcNry4McEJCJUb97

25/05/2022

معارف دینیہ

معھد الشروق الاسلامی کالج اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم یا فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے اپنی نوعیت کا منفرد ایک سالہ نصاب "معارف دینیہ" شروع کررہا ہے، جس کے تحت درج ذیل مضامین پڑھائے جائیں گے:

1. منتخب سورتوں کی تفسیر
2. احادیث کے منتخب ابواب
3. فقہ العبادات
4. عقائد اہلِ سنت والجماعت
5. فلسفہ اور منطق
6. دورِ جدید کے اشکالات کا جواب
7. علامتِ قیامت اور سلف کا طرز
8. تصوف کا مختصر تعارف
9. دینی مدارس کی تاریخ، خدمات اور مقاصد
10. تاریخ اسلام... جاہلیت سے سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ
11. استعمار اور اس کے بعد کا عالم اسلام... تاریخ سے حالاتِ حاضرہ
12. اصولِ دعوت

محدود نشستوں کے باعث داخلے کے خواہش مند نوجوان فوری رابطہ کریں۔

Photos 20/07/2015

سیرت سید المرسلین صلى الله عليه وسلم
قسط (007)

شام کا دوسرا سفر:

خدیجہ بنت خویلد قریش کے معروف اور شریف خاندان بنو اسد کی نہایت مال دار خاتون تھیں۔ ان کی نسبی اور شخصی شرافت کے باعث زمانہ جاہلیت اور اسلام میں لوگ انہیں 'طاہرہ' کے نام سے پکارتے تھے۔ ان کی دولت کا یہ حال تھا کہ قریش اپنا کوئی قافلہ تجارت کے لیے بھیجتے تو اس میں حضرت خدیجہ کا سرمایہ قریش کے کُل سرمائے کے برابر ہوتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 برس ہوچکی تھی اور گھر گھر میں آپ کی امانت و دیانت کا چرچا تھا. کوئی شخص مکہ امیں ایسا نہ تھا جو آپ کو ’امین‘ کے لقب سے نہ پکار تا ہوـ حضرت خدیجہ نے آپ کی شہرت سنی تو آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپ میرا مال تجارت شام لے جائیں تو آپ کو بہ نسبت دوسروں کے دوگنا معاوضہ دوں گی۔ آپ نے اپنے چچا ابو طالب کی مالی مشکلات کے باعث یہ پیشکش قبول فرما لی اور حضرت خدیجہ کے غلام مَیسرہ کے ساتھ سامان تجارت لے کر شام روانہ ہوگئے۔

جب یہ قافلہ شام کے شہر بُصریٰ پہنچا تو آپ ایک سایہ دار درخت تلے بیٹھ گئے۔ اس جگہ نسطورا نامی ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔ وہ آپ کو دیکھ کر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ عیسیٰ بن مریم کے بعد سے اب تک یہاں آپ کے سوا اور کوئی نبی نہیں اترا۔ پھر میسرہ سے پوچھا کہ ان کی آنکھوں میں یہ سرخی کیسی ہے؟ میسرہ نے کہا کہ یہ سرخی ہر وقت آپ کی آنکھوں میں رہتی ہے۔ اس پر راہب نے کہا کہ یہ وہی نبی ہیں اور یہ آخری نبی ہیں۔

میسرہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب دوپہر کے وقت شدید گرمی ہوتی تو میں ایک بادل دیکھتا جو آپ پر سایہ کیے رہتا.

اس سفر میں حضرت خدیجہ کو پہلے سے زیادہ منافع ہواـ پھر واپسی پر میسرہ نے بھی سفر کے تمام حالات و واقعات انہیں سنائے۔ حضرت خدیجہ نے آپ کے حالاتِ سفر، راہب کا بیان اور بادل کا آپ پر سایہ کرنا اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کو جا کر بیان کیا جو عیسائی مذہب اختیار کر چکے تھے اور انجیل کے عالم تھےـ ورقہ نے کہا: 'خدیجہ اگر یہ واقعات سچ ہیں تو پھر یقیناً محمد اس امت کے نبی ہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس امت میں ایک نبی آنے والے ہیں جن کا ہمیں انتظار ہے اور اب ان کا زمانہ بھی قریب آچکا ہے'۔

حضرت خدیجہ سے نکاح:

یہ سب واقعات و حالات سن کر حضرت خدیجہ کے دل میں آپ سے نکاح کا شوق پیدا ہوا۔ چناں چہ سفر شام سے واپسی کے 2 ماہ 25 دن بعد خود حضرت خدیجہ نے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اپنے چچا کے مشورہ سے اسے قبول فرما لیا اور یوں آپ دونوں کا نکاح ہوگیا۔ نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک 25 برس جب کہ حضرت خدیجہ کی 40 برس تھی۔ نکاح کے وقت 20 اونٹ مہر مقرر ہوا۔ یہ آپ کا پہلا جب کہ حضرت خدیجہ کا تیسرا نکاح تھا۔

بیت اللہ کی تعمیر:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے 5 برس پہلے جب آپ کی عمر مبارک 35 برس تھی قریش نے بیت اللہ کی از سر نو تعمیر کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بیت اللہ کی چھت نہیں تھی۔ دیواروں کی بلندی بھی کم تھی۔ عمارت صدیاں گزرنے کے باعث بہت بوسیدہ ہو چکی تھی۔ نشیب میں ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی بھی اس کے اندر بھر جاتا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے آگ لگنے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا اور پھر بارش نے عمارت کو منہدم کردیا تھا۔ اس لیے قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

پہلے تو سب نے حلال اور پاک مال جمع کیا جس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر شروع کردی گئی۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچاؤں کے ساتھ اس میں شرکت کی. آپ پتھر اٹھا اٹھس کر لاتے اور بیت اللہ کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیتے۔

جب تعمیر مکمل ہوگئی تو حجر اسود کو اس کی جگہ نصب کرنے کا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے اور خاندان کی خواہش تھی کہ یہ سعادت اس کے حصے میں آئے۔ جھگڑا اتنا بڑھا کہ نوبت لڑائی کو پہنچ گئی۔ 4 روز تک بحث مباحثہ جاری رہا۔ آخر قریش کے عمر رسیدہ سردار اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا ابو اُمیہ بن مغیرہ مخزومی نے مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے کے بجائے کسی کو ثالث بنالو جو فیصلہ کردے۔ قریش نے کہا کہ جو کل صبح پہلا شخص حرم میں داخل ہوگا ہم اسے ثالث بنائیں گے۔

اگلے روز اتفاق سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں داخل ہوئے۔ آپ کو دیکھ کر قریش کی خوش کا ٹھکانا نہ رہا اور کہنے لگے کہ یہ تو امین ہیں۔ قریش نے آپ کو مسئلہ بتایا۔ آپ نے اپنی چادر مبارک بچھائی اور خود اپنے دست مبارک سے حجر اسود اٹھا کر اس میں رکھا۔ پھر تمام سرداروں سے فرمایا کہ چادر کو کونون سے پکڑ کر اٹھائیں اور بیت اللہ تک لے چلیں۔ وہاں پہنچ کر آپ نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود بیت اللہ کے کونے میں نصب کردیا۔ اس طرح ایک بہت بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گئی اور سب آپ کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔

جاری ہے....

Photos 19/07/2015

سیرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
قسط (006)

دادا کی سرپرستی میں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا جناب عبد المطلب آپ کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ جناب عبد المطلب جب مسجدحرام تشریف لے جاتے تو خانہ کعبہ کے سایہ میں ان کے لیے خاص بچھونا بچھایا جاتا۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ اس پر قدم رکھ سکے، لیکن وہ آپ کو اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔ 2 برس تک آپ اپنے دادا جناب عبد المطلب کی کفالت میں رہے اور عمر مبارک 8 برس ہوئی تو جناب عبد المطلب بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور مقام حجون میں دفن ہوئے۔ جناب ابو طالب چوں کہ حضرت عبد اللہ کے ماں باپ شریک یعنی سگے بھائی تھے، اس لیے جناب عبد المطلب نے مرتے وقت آپ کو ابو طالب کے سپرد کیا اور وصیت کی کہ خوب شفقت اور محبت سے آپؐ کی کفالت اور تربیت کریں۔

چچا کی کفالت میں:

جناب عبد المطلب کی وفات کے بعد آپ اپنے چچا جناب ابو طالب کی آغوش تربیت میں آگئے۔ جناب ابو طالب نے آپؐ کو اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھا، اور اس شفقت اور محبت سے مرتے دم تک آپؐ کی سرپرستی فرمائی کہ پورا پورا حق ادا کردیا، لیکن افسوس کہ اس والہانہ محبت اور تربیت و کفالت کے باوجود جناب ابو طالب ایمان کی دولت سے محروم رہے۔

شام کا پہلا سفر:

جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 برس تھی جناب ابو طالب نے قریش کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا ارادہ کیا۔ سفر کی تکلیفوں اور مشکلات کے خیال سے جناب ابو طالب نے ارادہ کیا کہ آپؐ کو اپنے ہمراہ نہ لے کر جائیں، لیکن عین روانگی کے وقت آپؐ کے چہرے پر غم اور پریشانی کے آثار دیکھ کر وہ آپؐ کو اپنے ہمراہ لے کر شام روانہ ہوگئے۔ آپؐ کا قافلہ شام کے شہر بُصریٰ کے قریب پہنچا۔ وہاں ایک نصرانی راہب رہتا تھا جس کانام جرجیس تھا اور بحیرا راہب کے نام سے مشہور تھا۔ یہ راہب آسمانی کتابوں میں نبی آخر الزمان کی بیان کردہ علامات سے بخونی واقف تھا۔ چناں چہ مکہ کے اس قافلے نے بحیرا راہب کی خانقاہ کے پڑاؤ ڈلا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی پہچان گیا کہ آپؐ وہی آخری نبی ہیں جن کی پچھلی کتابوں میں خبر دی گئی ہے۔ اس راہب نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ’یہی ہے جہانوں کا سردار۔ یہی ہے پروردگارِ عالم کا رسول جس کو وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گا‘۔

سرداران قریش نے اس راہب سے پوچھا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ راہب نے کہا کہ جس وقت آپ سب گھاٹی سے نکلے تو کوئی درخت یا پتھر ایسا نہ تھا جس نے آپؐ کو سجدہ نہ کیا ہو، اور درخت اور پتھر صرف نبی کے لیے ہی جھکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ آپؐ کو واپس مکہ بھیج دیں، کیوں کہ اگر شام میں یہود نے انہیں پہچان لیا تو انہیں قتل کر دیں گے۔ راہب کے مشورے پر جناب ابو طالب نے آپ کو واپس مکہ بھیج دیا۔

جاری ہے....

Photos 18/07/2015

سیرت سید المرسلین صلى الله عليه وسلم
قسط (005)

دودھ چھڑانے کے بعد حضرت حلیمہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر مکہ مکرمہ آئیں، تاکہ حضرت آمنہ کی امانت ان کے حوالے کر دیں، مگر آپؐ کی محبت اور برکات کا نزول دیکھ کر حضرت آمنہ سے درخواست کی کہ آپؐ کو چند روز مزید انہی کے پاس رہنے دیں، کیوں کہ مکہ میں وبا پھیلی ہوئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ حضرت حلیمہؓ کا پُرزور اصرار دیکھ کر حضرت آمنہ نے ان کی درخواست منظور کر لی اور آپؐ کو واپس ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔

شق صدر (سینے کا چاک کیا جانا):

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو سعد کی وادی میں اپنے رضاعی بھائیوں کے ہمراہ بکریاں چرانے گئے ہوئے تھے. اچانک آپ کا رضاعی بھائی دوڑتا ہوا گھر آیا اور والدین کو بتایا کہ سفید کپڑے پہنے دو آدمی آئے، ہمارے قریشی بھائی کو زمین پر لٹا کر اس کا سینہ چاک کیا اور اب واپس سی رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت حلیمہؓ اور ان کے شوہر کے ہوش اڑ گئے۔ دوڑتے ہوئے اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ آپؐ ایک جگہ سہمے کھڑے ہیں اور چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے۔ حضرت حلیمہؓ نے فوراً آپ کو بھینچا، پھر آپؐ کے رضاعی والد نے آپ کو سینہ سے لگایا اور آپؐ سے دریافت کیا کہ کیا ہوا تھا؟ آپؐ نے بتایا: ’سفید کپڑے پہنے دو آدمی آئے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا یہی ہیں؟ دوسرے نے کہا: ہاں یہی ہیں۔ پھر ان دونوں نے مجھے لٹا دیا، میرا سینہ چاک کرکے کچھ تلاش کیا، پھر اسے نکال کر پھینک دیا اور میرا سینہ دوبارہ سِی کر چلے گئے‘۔

وہ دونوں حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے۔ انسان کی شکل میں ایک سونے کا طشت برف سے بھرا ہوا لے کر نمودار ہوئے تھے۔ انہوں نے آپؐ کا سینہ مبارک چاک کر کے دل نکالا، پھر اسے بھی چاک کیا اور اس میں سے جمے ہوئے خون کے ایک یا دو لوتھڑے یہ کہتے ہوئے نکال کر پھینک دیے کہ یہ شیطان کا مادہ ہے۔ پھر سینے اور دل کو طشت میں رکھ کر برف سے دھویا، دل کو واپس اس کی جگہ رکھ کر سینہ پر ٹانکے لگائے اور دونوں شانوں کے درمیان مہر لگا دی جو مہر نبوت تھی۔

اس واقعے کے وقت آپؐ کی عمر تقریباً 4 برس تھی۔ اس واقعے کے بعد حضرت حلیمہؓ خوف زدہ ہوگئیں اور آپؐ کو واپس مکہ مکرمہ آپ کی والدہ حضرت آمنہ کے حوالے کر آئیں۔

حضرت آمنہ کی وفات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حلیمہؓ کے پاس سے واپس آئے 2 برس ہی ہوئے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو یثرب (مدینہ منورہ) میں حضرت عبد اللہ کی ننہیال بنی نجار کے ہاں لے گئیں جہاں حضرت عبد اللہ نے وفات تھی۔ حضرت آمنہ یثرب میں کچھ عرصہ قیام کرکے واپس مکہ مکرمہ لوٹ رہی تھیں کہ راستہ میں بیمار پڑگئیں اور اَبواء نامی مقام پر پہنچ کر وفات پاگئیں۔ یہ تقریباً 576ء کا واقعہ ہے اور اس وقت آپؐ کی عمر صرف 6 برس تھی۔ ان 6 برس میں سے آپ صرف 2 برس اور کچھ دن ہی اپنی والدہ ماجدہ کے زیر سایہ رہے۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ آپ کے والد کی کنیز اُم ایمن بھی تھیں۔ وہ آپ کو مکہ مکرمہ واپس لے آئیں اور آپ کے دادا جناب عبد المطلب کے سپرد کر دیا۔

Photos 16/07/2015

سیرت سید المرسلین صلى الله عليه وسلم
قسط (004)

رضاعت (دودھ پینے کا زمانہ):

ولادت با سادت کے بعد تین چار روز تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا، پھر آپؐ کے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ باندی ثویبہ نے آپؐ کو دودھ پلایا۔ ثویبہ نے ہی اپنے آقا ابو لہب کو آپؐ کی ولادت باسعادت کی خوش خبری سنائی تھی جس کے باعث اس نے اس خوشی میں اسی وقت ثویبہ کو آزاد کردیا تھا۔ ثویبہ نے ہی آپؐ سے پہلے آپ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا تھا، اس لیے حضرت حمزہ آپ کے رضاعی بھائی ہیں اور آپ کے بعد ثویبہ نے ابو سَلَمہؓ کو دودھ پلایا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت حمزہؓ اور حضرت ابو سلمہؓ تینوں دودھ شریک بھائی تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثویبہ کا بہت اکرام فرماتے تھے۔ ہجرت کے بعد بھی مدینہ منورہ سے ثوبیہ کے لیے تحفے بھیجا کرتے تھے۔ جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آپ نے ثویبہ اور ان کے بیٹے مسروح کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ دنوں کا انتقال ہوچکا ہے۔ پھر دریافت فرمایا کہ ان کے رشتے داروں میں سے کوئی زندہ ہے، تاکہ اس کے ساتھ کچھ حسن سلوک اور احسان فرمائیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے رشتے داروں میں سے بھی کوئی زندہ نہیں۔

قریش کا دستور تھا کہ اپنے بچوں کو دودھ پینے کے لیے دیہات میں بھیج دیا کرتے تھے، تاکہ ان کی صحت بھی اچھی رہے اور زبان بھی فصیح ہو جائے، کیوں کہ شہر میں دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کی وجہ زبان بگڑ چکی تھی۔ اسی دستور کے مطابق ہر سال دیگر دیہاتی قبائل کی طرح بنو سعد کی عورتیں بھی دودھ پیتے بچوں کی تلاش میں مکہ مکرمہ آیا کرتی تھیں۔

بنی سعد کی ان عورتوں میں سے ایک حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے اور آپؐ کی پرورش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت حلیمہ یہ واقعہ خود بیان فرماتی ہیں کہ میں اور بنو سعد کی عورتیں دودھ پیتے بچوں کی تلاش میں مکہ آئے۔ میرے شوہر اور میرا ایک دودھ پیتا بچہ میرے ساتھ تھے۔ سواری کے لیے ایک لاغر و دبلی گدھی اور ایک اونٹنی ساتھ تھی جس کا یہ حال تھا کہ ایک قطرہ دودھ کا نہ دیتی تھی۔ ہماری یہ حالت تھی کہ بھوک کی وجہ سے رات بھر سو نہ سکتے اور اسی وجہ سے ہمارے بچے کا بھی پیٹ نہ بھرتا۔ ہم مکہ پہنچے تو کوئی عورت ایسی نہ تھی کہ جس کے سامنے دودھ پلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیش نہ کیا گیا ہو، مگر جب یہ معلوم ہوتا کہ آپ یتیم ہیں تو وہ فوراً انکار کردیتی۔ سوچتی کہ جس بچے کا باپ ہی زندہ نہیں ہے، اسے دودھ پلا کر کیا ملے گا۔ سب عورتوں نے بچے حاصل کرلیے صرف میں خالی ہاتھ رہ گئیں۔ جب روانگی کا وقت آیا تو مجھے خالی ہاتھ جانا عجیب سا معلوم ہوا۔ یکایک میرے دل میں اس یتیم کو ساتھ لے جانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ میں نے اپنے شوہر سے جاکر کہا کہ خدا کی قسم میں اس بچے کو ضرور ساتھ لے کر جاؤں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتی ہو تو کوئی حرج نہیں، اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لیے خیر و برکت کا سبب بنا دیں گے۔

حضرت حلیمہؓ برکت کی اُمید پر آپؐ کو لے کر چل پڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی اُمید کے مطابق ان پر رحمت و برکت کا دروازہ کھول دیا۔ حضرت حلیمہؓ فرماتی ہیں کہ اس مبارک مولود کا گود میں لینا تھا کہ میری چھاتی جو بھوک کے مارے بالکل خشک تھی دودھ سے بھر آئی۔ اتنا دودھ ہوا کہ آپؐ بھی سیراب ہوئے اور آپؐ کا رضاعی بھائی بھی سیر ہوگیا۔ ہم اونٹنی کا دودھ نکالنے کے لیے اٹھے تو دیکھا کہ اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں نے اور میرے شوہر نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی طرح خیر و برکت دکھاتے رہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح خیر و برکت کا مشاہدہ کرتے رہے۔ اسی طرح 2 سال پورے ہوگئے اور میں نے آپؐ کا دودھ چھڑا دیا۔

جاری ہے ....

Photos 06/07/2015

سیرت سید المرسلین صلى الله عليه وسلم
قسط (003)

ولادت باسعادت:

رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم واقعہ فیل کے سال 9 ربیع الاول بہ روز پیر بہ مطابق 20 اپریل 571 عیسوی صبح صادق کے وقت مکہ مکرمہ میں میں پیدا ہوئے۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فاطمہ بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت حضرت آمنہ کے پاس موجود تھی۔ عین ولادت کے وقت میں نے دیکھا کہ تمام گھر نور سے بھر گیا اور آسمان سے ستارے جھکے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ ستارے مجھ پر آگریں گے۔

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کی والدہ ماجدہ نے آپ کی ولادت کے وقت ایک نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ یہ روایت ’مسند احمد‘ اور ’مستدرک حاکم‘ میں مذکور ہے۔ جب کہ ایک روایت میں ہے کہ بُصریٰ کے محلات روشن ہوگئے۔

کعب احبار رحمه اللہ سے منقول ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں میں رسول الله صلی اللہ علیه وسلم کی یہ شان ذکر کی گئی ہے کہ ’محمد اللہ کے رسول کی ولادت مکہ میں ہوگی، اور وہ مدینہ کی جانب ہجرت کریں گے، اور ان کی حکومت اور سلطنت شام میں ہوگی‘۔ شاید اسی لیے ولادت باسعادت کے وقت شام کے محلات دکھائے گئے اور بُصریٰ جو شام کا مشہور شہر تھا خاص طور پر اس لیے دکھایا گیا کہ شام میں سب سے پہلے بُصریٰ ہی میں اسلام کی دعوت پہنچی اور شام کی سلطنتوں میں سب سے پہلے بُصریٰ ہی فتح ہوا۔

بعض مؤرخین نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کی ولادت کے وقت کسریٰ کے محل میں زلزلہ آگیا جس سے محل کے 14 کنگرے کرگئے، فارس کا آتش کدہ جو ہزار سال سے مسلسل جل رہا تھا اچانک بجھ گیا اور ساوہ جھیل خشک ہوگئی۔ کسریٰ کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو جمع کیا۔ دربار منعقد ہوا تو ایک مجوسی پنڈت نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس رات میں نے خواب دیکھا ہے کہ تگڑے اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچ کر لے جا رہے ہیں اور دریائے دجلہ پار کر کے تمام ملک میں پھیل گئے ہیں۔ کسریٰ نے پنڈت سے پوچھا کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے؟ پنڈت نے کہا کہ شاید عرب کی جانب سے کوئی عظیم الشان حادثہ پیش آنے والا ہے۔ کسریٰ نے اس بات کی توثیق اور اطمینان کے لیے سے نعمان بن منذر کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ کسی بڑے عالم کو میرے پاس بھیجو جو میرے سوالات کا جواب دے سکے۔ نعمان بن منذر عیسائی تھا اور حِیرہ کا بادشاہ تھا۔ نعمان بن منذر نے ایک جہاں دیدہ عیسائی عالم عبد المسیح بن عمرو بن نفیلہ غسانی کو بھیج دیا۔ عبد المسیح جب کسریٰ کے دربار میں پہنچا تو کسریٰ نے کہا کہ میں تم سے جو بات پوچھنا چاہتا ہوں کیا تمہیں اس کا علم ہے؟ عبد المسیح نے کہا کہ آپ بیان فرمائیں اگر مجھے علم ہوا تو میں بتا دوں گا ورنہ کسی جاننے والے کی جانب رہنمائی کردوں گا۔ بادشاہ نے تمام واقعہ بیان کیا۔ عبد المسیح نے کہا کہ اس کی تحقیق میرے ماموں سطیح سے ہی ہو سکے گی جو شام کے سرحدی علاقے میں رہتے ہیں۔ کسریٰ نے عبد المسیح کو حکم دیا کہ تم خود اپنے ماموں سے اس کی تحقیق کر کے آؤ۔

عبد المسیح سواری دوڑا کر اپنے ماموں سطیح کے پاس پہنچا تو وہ نزع کی حالت میں تھا، مگر ہوش وحواس ابھی باقی تھے۔ عبد المسیح نے جاکر سلام کیا اور کچھ اشعار پڑھے۔ سطیح نے عبد المسیح کے اشعار سنے تو اس کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: ’عبد المسیح برق رفتار اونٹ پر سوار ہو کر سطیح کے پاس پہنچا ہے جس کے پیر قبر میں لٹک رہے ہیں۔ تجھے بنو ساسان کے بادشاہ نے محل کے زلزلے اور آتش کدہ کے بجھ جانے کی وجہ معلوم کرنے، اور مجوسی پنڈت کی بیان کردہ خواب کی تعبیر کی توثیق کے لیے بھیجا ہے کہ سخت اور تگڑے اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچ کر لے جا رہے ہیں اور دجلہ سے پار ہو کر تمام ملک میں پھیل گئے ہیں۔ اے عبد المسیح! جواب سن لے۔ ’جب کلام الٰہی کی تلاوت کثرت سے ہونے لگے، تہامہ کے علاقے سے لاٹھی والا ظاہر ہو، وادی سماوہ بہنے لگے، ساوہ کی جھیل خشک ہو جائے اور فارس کی آگ بجھ جائے تو سیطح کے لیے شام شام نہ رہے گا۔ گرنے والے کنگروں کی بقدر بنو ساسان کے چند مرد اور عورتیں بادشاہت کریں گے، اور جو چیز آنے والی تھی وہ گویا کہ آہی گئی‘۔ یہ کہتے ہی سطیح مرگیا۔

عبدالمسیح واپس کسریٰ کے پاس لوٹا اور اسے جواب سنایا۔ کسریٰ نے جواب سن کر کہا کہ ’14 سلطنتوں کے گزرنے کے لیے ایک زمانہ چاہیے‘۔ مگر زمانے کو گزرتے کیا دیر لگتی ہے! 10 سلطنتیں تو 4 ہی سال میں ختم ہوگئیں اور باقی 4 سلطنتیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت تک خاک میں مل گئیں، لیکن مؤرخین نے اس واقعے که سند کو صحیح قرار نہیں دیا ہے۔

ولادت کے ساتویں روز رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور تمام قریش کو دعوت دی۔ دادا نے ہی آپ کا نام محمد رکھا۔ یہ نام آپ کے آبا و اجداد اور آپ کی قوم میں اس وقت تک کسی نے نہیں رکھا تھا۔

جاری ہے....

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Block 17 Hunaid City----gulistan-e-johar
Karachi