Matchless Grammar Secondary School

Matchless Grammar Secondary School

Share

Confidence Creates Ability.

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 25/03/2022

Celebrating 🎉 Annual Result Day 2022.

“Define success on your own terms, achieve it by your own rules, and build a life that you are proud to live.”

Inshallah all of students one day become a successful person.(Ameen)

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 13/08/2019

# # Independance day # # #

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 06/08/2019
05/08/2019
Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 21/12/2017

Day 1.

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 26/09/2017

Usman you did well.

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 26/09/2017

Team Dettol thank you.

23/08/2017

عظیم بیٹیاں
دل کو چھووو جانے والی تحریر

5 ذی الحج کو بڑی بیٹی نے کہا کہ بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں، ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی.
مولوی صاحب نے کہا، اچھا میرا پتر، ابھی بہت دن ہیں، خرید لیں گے، چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے.
مولوی صاحب یہ بات کر رہے تھے کہ آذان سنائی دی. مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے، ان کو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دیے.

عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کہ واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں تھی، اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کون سے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں، ان کے کون سے احساسات ہوتے ہیں، وہ کون سا فیلنگ رکھتے ہیں، انہوں نے کون سا باہر نکلنا ہے.

تو مولوی صاحب جو تاویلوں کے بےتاج بادشاہ تھے، دلیل جن کے گھر کی لونڈی تھی، سمجھانے میں جو ماہر تھے، جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے، سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا، یہ تو قربانی کی عید ہے، لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے، یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کر رہے، تو کیا جواب دوں گا.

خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لے کر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لا دیں گے.
مولوی صاحب کھنگورا مارتے گھر میں داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں، وہ جلدی سے گئی اور پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی. ماں تو ماں ہوتی ہے، اس کے آنسو اولاد کے لیے پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں، لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکتی تھی.

مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماؤں، مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس کے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے، اسے اشارے سے روکتی ہے، اور اس کے ہاتھ سے پرچی لے کر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپا لیتی ہے. یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کر رہے تھے. مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے. مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا تھا، اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے.

اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی، بابا جان! کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپ کو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے، ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے؟ چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں، وہی پہن لیں گے، وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کیے ہوں، اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی.
بیٹی کی بات سن کر مولوی صاحب نے نظر اٹھائی، بیٹی کے چہرے کو دیکھا، کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی، اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا، لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اس کو توڑ گیا، اسے اپنا آپ ناکام انسان اور ناکام باپ جیسا محسوس ہوا، جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش پوری نہ کرسکا. مولوی صاحب سے یہ برداشت نہ ہوا، جلدی سے کمرے میں گئے اور سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے، ہونٹ سی لیے، منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا کہ تم آزاد ہو، برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاؤ گی.

صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لیے چلے گئے، واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے، بولی، بابا! یہ پیسے ہیں، آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں، اس نے کل آپ کے ساتھ مسجد جانا ہے، اور وہ چھوٹا ہے، گلی میں کھیلےگا تو سب کیا کہیں گے. یہ ایک اور دھماکہ تھا. لیکن بہن کا بھائی کے لیے پیار کیا ہوتا ہے، سب سمجھا گیا. مولوی صاحب نے بیٹی سے پیسے لیے اور اس میں مبلغ سو روپیہ اور ملا کر بچی کو واپس کردیے اور مولون کو قہوے کا کہہ کر وہیں ایک طرف بیٹھ گئے. کچھ دیر سوچتے رہے کہ کل کی رات کیسے سامنا ہوگا بچیوں کا؟ ایک اور کرب کا پہاڑ سر پر امڈنے والا تھا.

چاند رات آگئی، ہر گھر میں مہندی لگنے لگی، کپڑے استری ہونے لگے، جھمکا جیولری کو آخری ٹچ دیا جانے لگا، جو کچھ رہ گیا، بھائیوں کی شامت آگئی کہ ابھی جاؤ اور لے کر آؤ، ایسے میں مولوی صاحب کیسے گھر میں جاسکیں گے؟ خیر مسجد کی چھت پر مولوی صاحب اپنا غبار اتار چکے تھے، اللہ کے سامنے گڑگڑا کر استقامت اور ثابت قدمی مانگ چکے تھے. آسمان کے تاروں نے کچھ دیر کو شاید چمکنا چھوڑ دیا ہو، رات کا اندھیرا بھی مولوی صاحب کی غربت کے اندھیرے سے شرما گیا ہوگا.

ایسے میں من جب ہلکا ہوتا ہے، یہ آنسو بہت وزنی ہوتے ہیں، اتنے کہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ فرشتوں سے کہتے ہیں کہ مؤمن کی آنکھ سے نکلا ہوا آنسو میں خود لکھوں گا کیونکہ وہ اتنا وزنی ہوتا ہے کہ فرشتے اسے لکھنے سے قاصر ہوتے ہیں. اللہ خود اس کو لکھتے ہیں. واقعی ایسے آنسو بہت وزنی ہوتے ہیں، جب یہ پلکوں کے بند توڑ کر اور برداشت کی رکاوٹ ہٹا کر گالوں پر لڑھکتے ڈاڑھی کو تر کرتے جھولی میں گرتے ہیں تو من ہلکا ہوجاتا ہے، انسان روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمالیہ کا پہاڑ سر سے اترچکا ہو.

مولوی صاحب گھر گئے، دوازے کی آہٹ پاکر مولون آگے بڑھی کہ استقبال کرے لیکن ابھی مولوی صاحب کے امتحان باقی تھے. بڑی بیٹی نے ماں سے آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے کندھے سے رومال اتارا، انھیں ہاتھ سے پکڑا اور چٹائی پر بٹھا کر خود چارپائی پر بیٹھ گئی. سر سے ٹوپی اتاری اور سردبانے لگی. بڑی بیٹی کا یہ مخصوص سٹائل تھا جب اس نے کوئی فرمائش کرنی ہوتی، کچھ منگوانا ہوتا تو وہ ایسا ہی کرتی. جب آج چاند رات اس نے ایسا کیا تو مولوی صاحب بچی کی طرف مڑے اور رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگے
بیٹا، میرا پتر!
چند لمحے خاموشی چھائی رہی، مولوی صاحب اپنی فصاحت و بلاغت کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ معانی و بدیع نے کان پکڑ لیے کہ نہ بابا، بیٹی اور باپ کے درمیان ہمارا کوئی کام نہیں، استعارات، تشبیہات اور تلمیحات کے دروازے پر دستک دی تو وہ دیکھتے ہی ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے کہ مولوی جی سانوں معاف رکھو.
مولوی صاحب ایک بار پھر اپنی خالی جیب کی طرح ہر قسم کے ادب سے بھی خالی ہوگئے. ایسے میں سادگی، برجستگی اور سچائی نے ساتھ دیا، ان کا سہارا لے کر مولوی صاحب بولے،
چندا! میں آپ کا اچھا باباجان نہیں ثابت ہوسکا، تمھارا باپ تمھیں کچھ بھی نہیں لاکر دے سکتا. میری لخت جگر! ہو سکے تو اس دفعہ کی عید اپنی زندگی سے ڈلیٹ کردو.
ابھی یہ جملے مولوی صاحب کے منہ میں ہی تھے کہ مولون کی چیخ نکلی اور وہ بھاگ کر اندر کمرے میں چلی گئی.
بیٹی بولی، بابا جان! آپ کو پتہ ہے، آپ ساری دنیا سے زیادہ اچھے ہیں؟
مولوی صاحب بولے، نہیں میرے بچے،
بیٹی پھر بولی، باباجان! اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں، آپ سب سے زیادہ اچھے بابا ہیں، نہیں یقین تو یہ چھوٹی سے پوچھ لیں، چھوٹی نے بھی سر سے سرکتی میلی چنی کو درست کرتے ہوئے بڑی بہن کی پرزور تائید کرتے ہوئے بانہیں بابا جان کے گلے میں ڈال کر جھولتے ہوئے کہا،
ہاں آپی! میرے بابا دنیا کے سب سے زیادہ اچھے اور پیارے بابا ہیں.
مولوی صاحب بلکل مبہوت کاٹو تو لہو نہیں، ایک دم متحیر کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں، ایسے موقع پر تو رجے پیٹ والی بیٹیاں لاڈ میں باپ کو کہتی ہیں کہ جائیں، میں آپ سے بات نہیں کرتی، آپ مجھے جیولری لاکر نہیں دے رہے، ایک اتنی سی چیز بھی تو نہیں لا کر دیتے، لیکن یہاں تو معاملہ الٹ تھا، چلو بڑی تو سمجھدار تھی لیکن یہ چھوٹی نے تو بالکل خلاف توقع یہ سب کہہ دیا.
مولوی صاحب کا تجسس بڑھا اور چھوٹی کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے دائیں جانب بٹھایا اور بڑی کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا،
اے میرے جگر کے ٹکڑے! یہ تو بتا کہ تیرے بابا کیسے دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں؟

دنیا کے سب سے اچھے بابا میرے بابا ہیں.
مولوی صاحب نے پوچھا بیٹے وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ ہمارے بابا نے ہمیں دین سکھایا ہے، ہمارے بابا نے ہمیں پردہ سکھایا ہے، ہمارے بابا نے ہمیں شرم و حیا سے روشناس کروایا ہے، ہمارے بابا نے کبھی ہمارے وجود پر کسی غیر محرم کی نظر نہیں پڑنے دی، ہمارے بابا نے ہمارے سراپے کو گندی نگاہوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے، ہمارے بابا نے ہمیں اپنی سب سے قیمتی چیز سمجھا ہے،
بابا جان!
آپ نے ہمیں حقیقی نسوانی صفات عالیہ سے آراستہ کیا ہے، کائنات کی سب سے عظیم خوبی جو کسی عورت کے لیے ہوسکتی ہے، وہ آپ نے ہماری جھوی میں ڈال دی ہے.

مولوی صاحب بس پیار سے اسے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ میری گڑیا بڑی ہوگئی ہے، سمجھدار ہوگئی ہے.
بیٹی نے بات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے کہا،
چلیں آپ کو ایسے بتاتی ہوں. ایسا کرتے ہیں کہ ہم مسجد نبوی ﷺ چلتے ہیں، یہ کہہ کر بیٹی نے مولوی صاحب کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے اور کہا
آئیں باباجان !
مسجد نبویﷺ 1450 سال پہلے چلتے ہیں، یہ دیکھیں صحابہ ستاروں کی مانند اپنے چاند محمد عربی ﷺ کے پاس بیٹھے ہیں، حضور ﷺ پوچھتے ہیں کہ یہ بتاؤ کہ عورت کی سب سے اچھی خوبی کون سی ہے؟
سب سوچتے ہیں!!
اچانک بیٹی مولوی صاحب کا بازو پکڑ کر کہتی ہے، بابا ادھر دیکھیں،
کدھر دیکھوں چندا؟
وہ دیکھیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ چپکے سے اٹھ کر جا رہے ہیں،
گھر چلیں بابا، وہاں اماں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلتے ہیں،
حضرت علی گھر جاتے ہیں، بی بی سے پوچھتے ہیں کہ سرکار ﷺ نے پوچھا ہے کہ عورت کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ بی بی رضی اللہ عنہا کے دہن اقدس سے معارف کے موتی لڑھکتے ہیں، فرماتی ہیں میرے سرتاج! عورت کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ اس پر کسی نامحرم کی نظر پڑے نہ وہ کسی غیر محرم کو دیکھے.
جواب لے کر سیدنا علی شیر خدا دربار رسالتﷺ میں آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عورت کی سب سے بڑی خوبی تو یہ ہے.
سرکار بھانپ جاتے ہیں کہ یہ جواب تو دنیا کی سب سے عظیم بیٹی کا ہے.
پوچھتے ہیں کہ یہ جواب کس نے دیا؟
سیدنا علی جواب دیتے ہیں کہ حضور کی دختر نیک اختر نے دیا ہے.
آپﷺ مسکراتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایسا جواب فاطمہ ہی کا ہو سکتا ہے، اور کیوں نہ ہو وہ تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے.

بیٹی نے یہ کہہ کر مولوی صاحب کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا اور کہا، بابا جان! آپ نے تو ہمیں سب سے زیادہ بڑی خوبی دی ہے، ہمیں پردے کی نعمت سے نوازا ہے.
مولوی صاحب نے پینترا بدلتے ہوئے پوچھا، وہ تو ٹھیک ہے، اللہ ہمیں ویسا بنادے لیکن بیٹا میں آپ کو اچھے کپڑے اور بہت عمدہ کھانا تو نہیں کھلا سکا نہ عید۔
ابھی لفظ زبان پرہی تھے کہ بیٹی نےمولوی صاحب کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا،
ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی، ماتھے پر شکنیں ڈالے آنکھوں کو تھوڑا نکال کر کہا،
مولوی صاحب نے مزاحا کان پکڑتے ہوئے کہا کہ بڑی بی فرمائیں ہم تو بس سن رہے ہیں.
بابا جان! یہ تو بات ہوئی کہ آپ نے ہمیں وہ دیا ہے جو کسی بڑے رئیس اور دنیادار جو بیٹیوں کو پردہ نہیں کراسکے، انہوں نے اپنی بیٹیوں کو نہیں دیا.
بابا ان کے وجود کتنی دفعہ دن میں ہوس زدہ نگاہوں سے میلے ہوتے ہیں، بابا یہ جو تن پر بھڑکیلے لباس ہوتے ہیں نا، اگر ان کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ اتنے میلے ہوتے ہیں کہ جس کا تصور بھی دشوار ہے.

اب آتے ہیں کہ آپ ہمیں وہ سب کچھ نہ دے سکے جو مالدار باپ دیتے ہیں تو بابا جان سنیں،
کائنات کے سب سےعظیم باپ کون تھے؟
مولوی صاحب کہتے ہیں کہ آپ بتاؤ نا.
کائنات کے سب سے عظیم باپ تو اللہ کے نبیﷺ تھے، لفظ عظیم کی ،، یا ،، کو بیٹی نے اتنا کھینچا اور اشارے سے بازو پھیلا کر آنکھیں بند کرکے کہا تو مولوی صاحب جو اب تک کان پکڑے ہوئے تھے، نے محبت سے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر چوما تو بیٹی بولی،
دیکھیں نا بابا! آپ کی اسی محبت کی وجہ سے تو کہتی ہوں کہ آپ سب سے زیادہ اچھے باباجان ہیں.
خیر کائنات کے سب سے عظیم بابا تو سب سے عظیم بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا کے باباجان ﷺ تھے
مولوی صاحب نے نے اثبات میں سرہلایا اور کہا بےشک بےشک،

Photos from Matchless Grammar Secondary School's post 14/08/2017

Preparing For independence.

22/07/2017

میں چیچہ وطنی (پنجاب) سے تقریر کر کے جارها تها کچھ ساتهی ساتھ تهے، ایک آدمی کو دیکها چار پائی پر بیٹها تها، مکهیاں اس کے پاس بهنبهنارهی تهیں، عجیب حالت تهی؛ چہره زرد هے، غبار و گرد هے، عجیب درد نہ اس کا کوئی همدرد هے، مجهے سمجھ نہ آئی یہ کون ہے، میں اس کے قریب گیا تو کہنے لگا "او مولانا! ادهر تشریف لائیں، پیلے دانت ہڈیوں کا ڈهانچہ کمزور سانچہ، اس کے پاؤں پر ایک کپڑا پڑا ہوا تها،
اس نے کہا مجھے عبرت سے دیکهو، ابهی آپ کی تقریر کی آواز یہاں آرهی تهی اور میں سن رها تها،
کہنے لگا یہاں میرا مکان تها، دوکان تهی، کاروبار تها،میں کون تها میں ایک شیر جیسا انسان تها، لیکن اب بهیک مانگتا هوں اور اب کوئی بهیک بهی نہیں دیتا، بلکہ مجھ پر لوگ لعنت کرتے هیں،
کہنے لگا غور سے سننا، عبرت کی بات بتارها هوں، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کافی دیر تک روتا رها، کہنے لگا میں وه بدنصیب هوں جس نے اپنی ماں کے چہرے پر جوتے مارے هیں، (استغفراللہ)کہنے لگا ایک رات اپنے بدکردار غنڈے دوستوں کے ساتھ سینما دیکهنے گیا واپسی پر گهر پہنچ کر ماں سے کهانا مانگا، تو ماں نے شرم دلائی،ساری رات آوارہ گردی کرتا هے کبهی پولیس پکڑتی هے، نہ تمہارا باپ ایسا تها نہ دادا اور نہ یہ تیری ماں ایسی هے، تو کن غنڈوں میں پهنس گیا هے،اس نے اپنی ممتا کا غصہ اتارا مجھ پر،
بس مجهے غصہ آیا اور جوتا لے کر ماں کو مارنے لگا، اس میں دو جوتے اس کے منہ پر لگے،
ماں کے منہ سے اتنی آواز سنی ، اے عرش والے! اس لیئے بچہ دیا تها کہ آج میں جوتے کها رهی هوں، اے رب مجهے اپنے پاس بلالے، اب مذید جوتے نہیں کها سکتی، اے رب جس نے ماں کے منہ پر جوتے مارے اس کتے کو تو دنیا اور آخرت میں برباد کردے،
کہنے لگا اس وقت ماں کی ان باتوں کو سن کر سو گیا، رات پاؤں میں ایک درد اٹها، پاؤں لرزنے لگا، صبح تک پاؤں سوجھ کر بہت موٹا هوگیا، ڈاکٹروں کو دکهایا لاهور گیا ملتان نشتر ہسپتال گیا،آخر پاؤں کاٹنا پڑا اور پهر مسلسل پاؤں کٹتے گئے کٹتے گئے!
اس نے اپنے پاؤں کے حصے سے کپڑا اٹهایا بہت پیپ بہہ رهی تهی، کہنے لگا یہ زخم نہیں ماں کی بدعا هے اللہ کا قہر هوا مجھ پر، ماں تو رو رو کر ایک ہفتے میں چل بسی، جائداد گئ، مال گیا، بیوی گئ، بیٹے گئے، 4 سال سے یہاں پڑا هوں، پیپ مسلسل بہہ رهی هے، ایسا لگتا هے کہ ہر وقت کتے کاٹ رهے هیں، نیند نہیں آتی، گزرنے والے کہتے هیں یہ وه لعنتی هے جس نے اپنی ماں کو جوتوں سے مارا هے، کتے کی طرح میرے سامنے روٹی پهینکنے هیں، بیٹوں کو بلاتا هوں نہیں آتے ابا نہیں کہتے، کہنے لگا مولانا مجهے روٹھا رب راضی کرادو، ماں کے ایک لفظ نے اللہ کے قہر سے مجهے برباد کردیا "" اتنا کہہ کر وه گر پڑا اور روتا رها، پهر اس نے آنکھ نہ کهولی،
،، اے اللہ تو همیں والدین کا فرمانبردار بنادے،.. آمین.
منقول و انتخاب!!.

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mominabad
Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 10:00
Tuesday 09:00 - 10:00
Wednesday 09:00 - 10:00
Thursday 09:00 - 10:00
Saturday 09:00 - 10:00