20/12/2025
اسلام کے دوبارہ عروج کا آغاز غزوہ ہند سے شروع ہو گا۔۔۔
احادیث میں غزوہ ہند اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے خراسان سے امام مہدی کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ ہونے کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں۔۔۔۔
ان سب احادیث سے ثابت ہوتا ہے امام مہدی سے قبل ایک مضبوط اسلامی حکومت خراسان و پاکستان کے علاقے میں قائم ہو چکی ہو گی اور امام مہدی کے ظہور کے بعد ہندوستان کو فتح کیا جائے گا اور پھر بیت المقدس کی آزادی کیلئے یورپ کی مشترکہ فوج سے عظیم جنگ ہو گی اور فتح مسلمانوں کو ہوگی۔۔۔۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہند کا ذکر کیا تو فرمایا : ”تمہارا ایک لشکر ہند پر حملہ کرے گا تو اللہ ان پر فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ سندھ کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے ، اللہ ان کے گناہ بخش دے گا ، جس وقت وہ واپس جائیں گے تو وہ مسیح ابن مریم کو شام میں پائیں گے ۔
(مسند اسحاق بن راہویہ867)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا
(مسند احمد 8823)
(مسند احمد، 369/2، مسند ابوہریرہ، 8467)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے ۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا “ ۔
(سنن نسائی 3177)
حضرت کعب رضی اللّٰہ تعالٰی کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سر زمینِ ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پر قبضہ کر لیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کریگا۔ اس کے مجاہدین بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کر لیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔
(الفتن، غزوة الہند، 409/1، حدیث 1235)
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا
جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں (کا قافلہ) آتے ہوئے دیکھو تو اس میں ضرور شامل ہو جانا اگرچہ برف پرگھسٹ کر آنا پڑے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہوں گے
(ابن ماجة: 4084، وأحمد بن حنبل : 22441
والحاکم في المستدرک : 8432).
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کچھ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے
(سنن ابن ماجہ 4088)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے ۔
مسند احمد 8775
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی ؓ ہوں گے ۔
مسند احمد 22387
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔
(سنن ابوداؤد 4284)،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا،
(سنن ابو داؤد 4282)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
۔۔۔۔۔۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا ۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (نصارائے روم عیسائیوں) کے درمیان ہو گی ، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اس میں 80 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے) ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نو لاکھ عیسائی فوجی مسلمانوں سے لڑیں گے ۔
(صیح بخاری 3176)