Deen ki Baatain

Deen ki Baatain

Share

اسلام علیکم
دین کی باتیں ایک ایسا پیج هے جو آپ کے عقائد ?

20/12/2025

اسلام کے دوبارہ عروج کا آغاز غزوہ ہند سے شروع ہو گا۔۔۔
احادیث میں غزوہ ہند اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے خراسان سے امام مہدی کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ ہونے کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں۔۔۔۔
ان سب احادیث سے ثابت ہوتا ہے امام مہدی سے قبل ایک مضبوط اسلامی حکومت خراسان و پاکستان کے علاقے میں قائم ہو چکی ہو گی اور امام مہدی کے ظہور کے بعد ہندوستان کو فتح کیا جائے گا اور پھر بیت المقدس کی آزادی کیلئے یورپ کی مشترکہ فوج سے عظیم جنگ ہو گی اور فتح مسلمانوں کو ہوگی۔۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہند کا ذکر کیا تو فرمایا : ”تمہارا ایک لشکر ہند پر حملہ کرے گا تو اللہ ان پر فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ سندھ کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے ، اللہ ان کے گناہ بخش دے گا ، جس وقت وہ واپس جائیں گے تو وہ مسیح ابن مریم کو شام میں پائیں گے ۔
(مسند اسحاق بن راہویہ867)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا
(مسند احمد 8823)
(مسند احمد، 369/2، مسند ابوہریرہ، 8467)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے ۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا “ ۔
(سنن نسائی 3177)

حضرت کعب رضی اللّٰہ تعالٰی کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سر زمینِ ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پر قبضہ کر لیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کریگا۔ اس کے مجاہدین بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کر لیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔
(الفتن، غزوة الہند، 409/1، حدیث 1235)

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا
جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں (کا قافلہ) آتے ہوئے دیکھو تو اس میں ضرور شامل ہو جانا اگرچہ برف پرگھسٹ کر آنا پڑے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہوں گے

(ابن ماجة: 4084، وأحمد بن حنبل : 22441
والحاکم في المستدرک : 8432).

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کچھ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے
(سنن ابن ماجہ 4088)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے ۔
مسند احمد 8775

حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی ؓ ہوں گے ۔
مسند احمد 22387

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔

(سنن ابوداؤد 4284)،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا،
(سنن ابو داؤد 4282)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
۔۔۔۔۔۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا ۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (نصارائے روم عیسائیوں) کے درمیان ہو گی ، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اس میں 80 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے) ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نو لاکھ عیسائی فوجی مسلمانوں سے لڑیں گے ۔
(صیح بخاری 3176)

17/12/2025

اس بابرکت دروازے سے کون کون گزرا ۔

08/12/2025

جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے
دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں۔۔۔ ! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟
یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا۔۔۔ ! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا۔۔ ! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،
اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟
حضرت عمرؓ نے فرمایا۔۔ !
بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہذا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔۔؟
کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔
عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔
حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،
اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن الیمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔
اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،
اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔
عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن الیمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟
ام المؤمنین نے جواب دیا۔۔۔ ! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔
اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی کا اتنا خوف۔۔۔
ہمارا کیا بنے گا؟ ہمیں ضرور اس بارے میں فکر کرنی چاہیے۔
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
1. صحیح بخاری – کتاب الجنائز (حدیث: 1392 / بعض نسخوں میں 3700 کے قریب)
اس میں حضرت عمرؓ کے زخمی ہونے، دودھ زخم سے بہہ نکلنے، وصیت، اور ام المؤمنین عائشہؓ سے دفن کی اجازت لینے کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔
2. صحیح مسلم – کتاب فضائل الصحابہ (حدیث: 2402)
حضرت عمرؓ کے قاتلانہ حملے، ان کی وصیت، اور آخری لمحات سے متعلق روایات موجود ہیں۔

01/12/2025

بیت الخلاء (واش روم)توجہ سے پڑھیں
سے متعلق چند ضروری اور اہم ہدایات کیا ہیں؟
👈 چند کام کر لیجئے آپ کے جسم سے منفی توانائی کا خاتمہ ہوگا اور آپ کے شیاطین کمزور پڑجائیں گے۔
👈 بیت الخلاء کی صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں اور بیت الخلاء کومستقل بنیادوں پر صاف ستھرا اور بدبو سے پاک رکھئے ۔
👈 رات کو سونے سے پہلے لیٹرین کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجئے۔
👈 بیت الخلاء کا دروازہ ہروقت اور مستقل بنیادوں پر بند رکھنے کا اہتمام کیجئے۔ .....
👈 بیت الخلاء میں کپڑے اتار کر لٹکے نہ رہنے دیجئے ایک رات کے لیے لٹکے رہنے والے کپڑوں میں جتنی منفی توانائی بھر جاتی ہے اس کا خاتمہ تقریبا ناممکن ہے کم از کم 72 گھنٹے دھوپ میں لٹکانے سے کچھ خلاصی ممکن ہے۔
👈 میلے کپڑوں کو ہمیشہ بیت الخلاء سے باہرکسی ٹوکری میں رکھنے کا اہتمام کیجئے۔
👈 بیت الخلاء میں بھی عطر نہ رکھیے اور نہ ہی اس میں خوشبو وغیرہ کا استعمال کیجئے۔
👈 بیت الخلاء میں رونے سے سخت گریز کریں ایسا کرنا شیاطین کو کھلی دعوت دینا ہے کہ وہ آپ کے جسم میں داخل ہو جائیں یا وہ آپ کے جسم کو پکڑ لیں ۔
👈 ہر تیسرے دن اپنے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں کھولئے اور گھر میں سورۂ بقرہ کی ریکارڈنگ چلائیں آپ کو بذات خود اپنے اور اپنے گھر والوں میں بہتری محسوس ہوگی
👈 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق گھر سے شیاطین اور جراثیم بھگانے کے لیے کلونجی کی دھونی دیجئے۔
👈 گھر میں جگہ جگہ شیشے آویزاں نہ کیجئے، گھر میں ایسی جگہ نہ بیٹھئے جہاں سے ابھی ابھی کوئی اٹھ کر گیا ہو۔
👈 جاگنے پر لمبی لمبی سانس لیجئے اور اٹھتے ہوۓ بسم اللہ پڑھئے۔
👈 رات میں سونے کا ایک مستقل وقت مقرر کرلیجئے اور سونے سے پہلے سورۂ ملک کی تلاوت بھی نہ چھوڑیئے یہ سورۃ عذاب قبر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت سے آپ اور جنت کے درمیان صرف موت کا حائل ہونا باقی رہتا ہے اس لئے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا بھی نہ بھولیں
اللہ تعالی ہمیں ان تمام ہدایات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین۔
جزاک اللہ 👍🏻👍🏻👍🏻

29/11/2025

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ " ﻟﮑﮭﺎ،
ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
ﺑﻠﮑﮧ یہ
" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮا-

ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ،
ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ گا"

خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی
تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
"ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ "

ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ مطلب بنتا هے
"ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ" ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﺍﻟﻠﮧ

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ "ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ
ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے...

1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ 78

2. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً
سورة ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ 35

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " ﺍﻟﻠﮧ " ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ.
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔۔

ﻟﻔﻆ
"ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "
ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "

" ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ "
"ﺷﺎﺀ "ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ"
"ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ "

ﺗﻮ ثابت هوا که ﻟﻔﻆ
" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "
ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔

1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ
سورة ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 70

2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ
سورة ﯾﻮﺳﻒ 99

3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ
سورة ﺍﻟﮑﮩﻒ 69

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻟﻔﻆ
" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "
ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "

انگریزی میں یوں لکھ جاسکتا ھے..
"In Sha Allah"

صدقہ جاریہ کے طور پر
اس اہم معلومات پہ خود بھی عمل پیرا ہوتے ہوۓ باقی حضرات تک فروغ کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست ھے..

جزاک اللّٰه خیرا کثیرا۔❤

28/11/2025

حدیث مبارکہ

28/11/2025

رزق دینے کی ذمہ داری صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
اسلام میں عقیدہ یہ ہے کہ ہر مخلوق کا رزق اللہ کے ذمّے ہے—چاہے انسان ہو، جانور ہو یا کوئی اور مخلوق۔ قرآن و حدیث میں اس کی واضح دلیل موجود ہے:
---
📌 قرآن سے دلائل
1. سورہ ہود، آیت 6
"وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا"
ترجمہ: زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔
➡️ اس آیت میں صاف اعلان ہے کہ ہر مخلوق کا رزق اللہ کی ذمہ داری ہے۔
---
2. سورہ الذاریات، آیت 58
"إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ"
ترجمہ: بے شک اللہ ہی بہت زیادہ رزق دینے والا ہے، طاقت والا، مضبوط ہے۔
➡️ اللہ واحد رزّاق ہے، کوئی انسان، حکومت یا کمپنی اصل میں رزق نہیں دیتی—وہ صرف ذریعہ بنتی ہے۔
---
3. سورہ طلاق، آیت 3
"وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ"
ترجمہ: جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اسے کافی ہے۔
➡️ اللہ پر توکل کرنے والوں کو اللہ ایسے راستوں سے رزق دیتا ہے جن کا وہ گمان بھی نہیں کرتے۔
---
📌 حدیث سے دلائل
1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم اللہ پر صحیح توکل کرو تو اللہ تمہیں ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے—صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔"
(ترمذی)
➡️ مطلب: رزق حرکت اور محنت کے ساتھ آتا ہے، مگر دینے والا اللہ ہے۔
---
📌 خلاصہ
رزق دینے والا صرف اللہ ہے۔
وسائل اور ذرائع انسان بنتے ہیں۔
اللہ ہر جاندار کا ضامن ہے۔
اللہ پر توکل رزق میں برکت لاتا ہے۔

13/11/2025

مسواک رکھنے کا طریقہ
سوال
مسواک رکھنے کاسنت طریقہ کار کیا ہے؟

جواب
مسواک رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک کو کھڑا کر کے رکھا جائے، لٹا کر نہ رکھا جائے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے قہستانی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کان کے پاس اس طرح مسواک رکھتے تھے جس طرح لکھاری (کاتب) کان کے پاس قلم رکھتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مسواک ان کے کانوں کے پیچھے رکھی ہوتی تھیں اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین مسواک کو اپنے عمامہ کے پیچ میں رکھتے تھے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے حکیم ترمذی رحمہ اللہ کے حوالہ سے مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جس شخص نے اپنی مسواک کو زمین پر رکھا جس کی وجہ سے اسے جنون کا مرض لاحق ہوگیا تو اسے چاہیے کہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔

03/11/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
75000

Opening Hours

Monday 18:00 - 00:00
Tuesday 07:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 11:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 13:00