16/08/2026
بگھی کا پروٹوکول اور اونٹ کی نکیل
آج جب یہ منظر نامہ آنکھوں کے سامنے سے گزرا، تو نہ جانے کیوں ماضی کی دھول جھاڑتی تاریخ کا ایک روشن اور لازوال باب یکایک ذہن کے پردے پر لہرانے لگا۔ خیال صدیوں پیچھے اڑ کر اس دور میں جا پہنچا جب بیت المقدس کے باسی، شہر کی فصیلوں پر کھڑے، دنیا کی سب سے عظیم سلطنت کے فرمانروا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ اہلِ شہر کے گمان میں شاید یہ تصور رہا ہوگا کہ وقت کا فاتح کسی ریشمی لبادے میں، زرق برق پروٹوکول، ہاتھی گھوڑوں اور جاہ و جلال کے لاؤ لشکر کے ساتھ ان کی سرزمین پر قدم رکھے گا۔
مگر تاریخ نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے حکمرانی کے مروجہ فلسفے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے خادم کے درمیان سفر کا ایک مخلصانہ اصول طے تھا کہ باری باری ایک سواری کرے گا اور دوسرا پیدل چلے گا۔ اتفاق دیکھیے کہ جب یہ مختصر سا قافلہ بیت المقدس کی حدود میں داخل ہونے لگا، تو اونٹ پر بیٹھنے کی باری خادم کی تھی۔ خادم نے اصرار بھی کیا کہ "یا امیر المؤمنین! شہر قریب ہے، آپ سوار ہو جائیے"، مگر عدل کے پیکر نے اصول بدلنے سے انکار کر دیا۔
پھر دنیا نے وہ دنگ کر دینے والا منظر دیکھا کہ ایک عظیم سلطنت کا سربراہ، جس کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے ایوان کانپتے تھے، وہ خود اونٹ کی نکیل تھامے پیدل چل رہا ہے اور اس کا خادم سواری پر سوار ہے۔ بیت المقدس کے عیسائی پیشوا پیٹریارک صفرونیئس نے جب یہ سادگی، کردار اور عدلِ فاروقی کا جلال دیکھا، تو وہ پکار اٹھا کہ ایسی قیادت کو شکست دینا ممکن نہیں۔ شہر کی چابیاں بغیر کسی جنگ اور خون خرابے کے، امن و سلامتی کے ساتھ مسلمانوں کے حوالے کر دی گئیں۔
یہی اسلامی تصورِ حکمرانی کا اصل حسن تھا، جہاں منصب کوئی جاہ و جلال یا عیاشی نہیں بلکہ امانت تھا؛ اقتدار مراعات کا نام نہیں بلکہ بھاری ذمہ داری تھا؛ اور حاکم خود کو عوام سے برتر نہیں، ان کا سچا خادم سمجھتا تھا۔
میں خود ایک مڈل کلاس گھرانے سے وابستہ ہوں اور روزانہ لوئر مڈل کلاس کے محنتی، سفید پوش لوگوں کو اُمید اور مایوسی کے درمیان جھولتے دیکھتا ہوں۔ ان زمینی حقائق کو روز دیکھنے کے بعد یہ بات بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اس کی کرسی، مہنگے لباس یا وی آئی پی پروٹوکول سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ اس مخلصانہ خدمت سے ہوتا ہے جو وہ انسانیت کے لیے سرانجام دیتا ہے۔
شاید زندگی کا یہی سنہری اصول ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔ حکومت ہو، طب ہو، تعلیم ہو یا کوئی بھی عوامی منصب—عہدہ دراصل ایک آزمائش اور امانت ہے۔ جتنا بڑا منصب ہوتا ہے، جوابدہی کا خوف اور ذمہ داری کا بوجھ بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔
لیکن جب ہم اس تاریخی پسِ منظر کے آئینے میں آج کے اس منظر کو دیکھتے ہیں، جہاں غریب ملک کے خادم شاہی بگھیوں اور پرتعیش لاؤ لشکر میں نظر آتے ہیں، تو دل میں ایک خاموش سا سوال انگڑائی لیتا ہے:
کیا ہم نے حکمرانی کو واقعی خدمت سمجھا ہے یا محض ایک وی آئی پی سہولت؟
کیا ہم نے منصب کو خدا کی طرف سے امانت جانا ہے یا ملوکیت کا اعزاز؟
یہ باتیں کسی فردِ واحد یا کسی مخصوص حکومت پر تنقید کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور کے جھنجھوڑنے کے لیے ایک درد مندانہ یاد دہانی ہے۔ ہماری تاریخ ہمیں پکار پکار کر بتاتی ہے کہ عظمت اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر عوام کو دور رکھنے میں نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ان کے درمیان کھڑے ہونے میں ہے۔
کاش! ہم اپنے عہدوں کو جاہ و جلال اور نمود و نمائش کی علامت بنانے کے بجائے، خدمت کی ایک کٹھن ذمہ داری سمجھ سکیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف اونچے محلوں، لمبی گاڑیوں، چمکتے پروٹوکولز اور غریب عوام کے ٹیکسوں پر اڑنے والے شاہی اخراجات سے کبھی عظیم نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے صاحبِ اختیار لوگ دل سے خود کو عوام کا حاکم نہیں، ان کا سچا اور وفادار خادم تسلیم کر لیتے ہیں۔