Yahan Sab Kuch Milega

Yahan Sab Kuch Milega Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Yahan Sab Kuch Milega, Education, Karachi.

“Seeking knowledge is an obligation upon every Muslim.” Sunan Ibn Majah

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور علم کو نااہلوں کے سامنے رکھنے والا ایسے ہے جیسے خنزیروں کو جواہرات، موتیوں اور سونے کے ہار پہنانے والا۔(سنن ابن ماجہ 224)

16/08/2026

بگھی کا پروٹوکول اور اونٹ کی نکیل

آج جب یہ منظر نامہ آنکھوں کے سامنے سے گزرا، تو نہ جانے کیوں ماضی کی دھول جھاڑتی تاریخ کا ایک روشن اور لازوال باب یکایک ذہن کے پردے پر لہرانے لگا۔ خیال صدیوں پیچھے اڑ کر اس دور میں جا پہنچا جب بیت المقدس کے باسی، شہر کی فصیلوں پر کھڑے، دنیا کی سب سے عظیم سلطنت کے فرمانروا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ اہلِ شہر کے گمان میں شاید یہ تصور رہا ہوگا کہ وقت کا فاتح کسی ریشمی لبادے میں، زرق برق پروٹوکول، ہاتھی گھوڑوں اور جاہ و جلال کے لاؤ لشکر کے ساتھ ان کی سرزمین پر قدم رکھے گا۔

مگر تاریخ نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے حکمرانی کے مروجہ فلسفے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے خادم کے درمیان سفر کا ایک مخلصانہ اصول طے تھا کہ باری باری ایک سواری کرے گا اور دوسرا پیدل چلے گا۔ اتفاق دیکھیے کہ جب یہ مختصر سا قافلہ بیت المقدس کی حدود میں داخل ہونے لگا، تو اونٹ پر بیٹھنے کی باری خادم کی تھی۔ خادم نے اصرار بھی کیا کہ "یا امیر المؤمنین! شہر قریب ہے، آپ سوار ہو جائیے"، مگر عدل کے پیکر نے اصول بدلنے سے انکار کر دیا۔

پھر دنیا نے وہ دنگ کر دینے والا منظر دیکھا کہ ایک عظیم سلطنت کا سربراہ، جس کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے ایوان کانپتے تھے، وہ خود اونٹ کی نکیل تھامے پیدل چل رہا ہے اور اس کا خادم سواری پر سوار ہے۔ بیت المقدس کے عیسائی پیشوا پیٹریارک صفرونیئس نے جب یہ سادگی، کردار اور عدلِ فاروقی کا جلال دیکھا، تو وہ پکار اٹھا کہ ایسی قیادت کو شکست دینا ممکن نہیں۔ شہر کی چابیاں بغیر کسی جنگ اور خون خرابے کے، امن و سلامتی کے ساتھ مسلمانوں کے حوالے کر دی گئیں۔

یہی اسلامی تصورِ حکمرانی کا اصل حسن تھا، جہاں منصب کوئی جاہ و جلال یا عیاشی نہیں بلکہ امانت تھا؛ اقتدار مراعات کا نام نہیں بلکہ بھاری ذمہ داری تھا؛ اور حاکم خود کو عوام سے برتر نہیں، ان کا سچا خادم سمجھتا تھا۔

میں خود ایک مڈل کلاس گھرانے سے وابستہ ہوں اور روزانہ لوئر مڈل کلاس کے محنتی، سفید پوش لوگوں کو اُمید اور مایوسی کے درمیان جھولتے دیکھتا ہوں۔ ان زمینی حقائق کو روز دیکھنے کے بعد یہ بات بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اس کی کرسی، مہنگے لباس یا وی آئی پی پروٹوکول سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ اس مخلصانہ خدمت سے ہوتا ہے جو وہ انسانیت کے لیے سرانجام دیتا ہے۔

شاید زندگی کا یہی سنہری اصول ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔ حکومت ہو، طب ہو، تعلیم ہو یا کوئی بھی عوامی منصب—عہدہ دراصل ایک آزمائش اور امانت ہے۔ جتنا بڑا منصب ہوتا ہے، جوابدہی کا خوف اور ذمہ داری کا بوجھ بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔

لیکن جب ہم اس تاریخی پسِ منظر کے آئینے میں آج کے اس منظر کو دیکھتے ہیں، جہاں غریب ملک کے خادم شاہی بگھیوں اور پرتعیش لاؤ لشکر میں نظر آتے ہیں، تو دل میں ایک خاموش سا سوال انگڑائی لیتا ہے:

کیا ہم نے حکمرانی کو واقعی خدمت سمجھا ہے یا محض ایک وی آئی پی سہولت؟

کیا ہم نے منصب کو خدا کی طرف سے امانت جانا ہے یا ملوکیت کا اعزاز؟

یہ باتیں کسی فردِ واحد یا کسی مخصوص حکومت پر تنقید کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور کے جھنجھوڑنے کے لیے ایک درد مندانہ یاد دہانی ہے۔ ہماری تاریخ ہمیں پکار پکار کر بتاتی ہے کہ عظمت اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر عوام کو دور رکھنے میں نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ان کے درمیان کھڑے ہونے میں ہے۔

کاش! ہم اپنے عہدوں کو جاہ و جلال اور نمود و نمائش کی علامت بنانے کے بجائے، خدمت کی ایک کٹھن ذمہ داری سمجھ سکیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف اونچے محلوں، لمبی گاڑیوں، چمکتے پروٹوکولز اور غریب عوام کے ٹیکسوں پر اڑنے والے شاہی اخراجات سے کبھی عظیم نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے صاحبِ اختیار لوگ دل سے خود کو عوام کا حاکم نہیں، ان کا سچا اور وفادار خادم تسلیم کر لیتے ہیں۔


قوم کو 79 واں یومِ آزادی مبارک ہو۔ہم نے انگریز سے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن اپنے نظام کو آج تک حقیقی طور پر آزاد نہ کر س...
13/08/2026

قوم کو 79 واں یومِ آزادی مبارک ہو۔

ہم نے انگریز سے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن اپنے نظام کو آج تک حقیقی طور پر آزاد نہ کر سکے۔ ہم عوام کو اپنے ملک کا حقیقی حاکم اور بااختیار نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا گیا؛ ظلم، لاقانونیت اور بے روزگاری بڑھتی گئی، اور قوم کے معصوم بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر صفائی کے کپڑے اور مزدوری کے اوزار تھما دیے گئے۔

ہم اپنے غریب عوام کو طاقتوروں کے چنگل سے نکالنے میں ناکام رہے۔ نہ عدالتیں، نہ سیاسی جماعتیں، نہ صحافت اور نہ ہی قلم آزاد ہے۔ یہاں تک کہ عوام اپنی رائے کے اظہار اور حکومت کے انتخاب میں بھی آزاد نہیں ہیں۔ ووٹ کسی کو ڈلتا ہے اور نکلتا کہیں سے ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ آزادی حقیقی آزادی میں تبدیل ہو، تو فیصلوں کا اختیار بند کمروں سے نکل کر عوام کے پاس آنا ہوگا۔ ملک کی پالیسی، نظام اور اقتدار کا فیصلہ کوئی تنخواہ دار نہیں، بلکہ صرف اور صرف عوام کریں گے۔ صرف ترانے گانے اور جھنڈے لہرانے سے کام نہیں چلے گا۔

آئیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں؛ کیا یہ وہی آزادی ہے جس کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی گئیں اور کروڑوں نے ہجرت کی؟ ہمیں سب سے پہلے اس ذہنی غلامی سے آزاد ہونا ہوگا جس نے عام آدمی کو ڈی سی، ایس پی، وڈیرے اور سیٹھ کا محتاج بنا رکھا ہے۔

کوئی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ہماری معاشی پالیسی نہیں بنائے گا۔ ہمیں سود کے نظام کو چھوڑ کر اسلامی بینکاری کی طرف جانا ہوگا، جو قائد اعظم کا وژن اور مدینہ کی ریاست کا اصول تھا۔

آئیں لارڈ میکالے کے قوانین کو خیرباد کہہ کر نظامِ مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کی طرف لوٹیں، جہاں حضرت عمر فاروق ؓ کے نظامِ عدل کی طرح انصاف سب کے لیے برابر ہو—کیونکہ انصاف ہی امن، ترقی اور خوشحالی کی واحد ضمانت ہے۔

تب ہی ہم دل سے یہ نعرہ لگا سکیں گے:
پاکستان کا مطلب کیا!
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ۔


﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَس...
07/08/2026

﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾ ﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا کیسا ہے؟؟
02/08/2026

مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا کیسا ہے؟؟

پہلی صف والوں کی فضیلت۔۔۔۔۔۔۔۔!!
01/08/2026

پہلی صف والوں کی فضیلت۔۔۔۔۔۔۔۔!!

﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَس...
30/07/2026

﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾ ﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

آسان نیکیاں۔۔۔۔۔۔۔!!
29/07/2026

آسان نیکیاں۔۔۔۔۔۔۔!!

فجر اور عشاء کی نماز با جماعت پڑھنے کی فضیلت۔۔۔۔۔!
28/07/2026

فجر اور عشاء کی نماز با جماعت پڑھنے کی فضیلت۔۔۔۔۔!

اچھی بات کہیں یا خاموش رہیں
26/07/2026

اچھی بات کہیں یا خاموش رہیں

نیک اعمال پر استقامت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
24/07/2026

نیک اعمال پر استقامت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yahan Sab Kuch Milega posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category