Bahas ul hikma

Bahas ul hikma

Share

This page aims to provide research base information regarding ismaili sect of islam.We encourage intellectual discussions,arguments and ideas on this page.

we encourage intellectual discussions,we share research base materials.

21/06/2024

آج سوات میں توہین مذہب کے کیس میں ایک سیاح کو مذہبی جنونیوں نے جلایا ہے۔
جب انسان خدا کے ہادی برحق علیہ السلام کو چھڑ دیتے ہیں تو وہ جانوروں کا ایک ریوڑ بن جاتے ہیں۔
یا مولا تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنی ظاہری اور باطنی رہنمائی سے ہمیں جانور ہونے سے بچایا ہے۔ آج کوئی اسماعیلی ایسا عمل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ اسلئے ہے کیونکہ ہمارے پاک مولا علیہ السلام کی ہدایات ہمارے ساتھ ہیں۔۔ ہمیں اسکا اندازہ بھی نہیں ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم زیادہ عقل مند ہیں اسی لئے یہ حرکتیں نہیں کرتے ہیں لیکن یہ صرف اور صرف مولا پاک کی ہدایت کی بدولت ہے۔۔۔

شاہ کریم دینہ شہنشاہ مِمیون انہ ہول بان
برچی کشہ سر لو چِھرٹہ مُکک جُوٙن چھآ دول بان

حضرت شاہ کریمؑ شاہنشاہِ دین ہیں، اور ہم سب اسکے (روحانی) لشکر ہیں،
ہم دب اطاعت گزاری کی لڑی میں موتیوں کی طرح ہمیشہ پروئے ہوئے ہیں۔

دیوانِ نصیری

14/06/2024

اہل بیت علیہم السلام اور قرآن پاک ❤️

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا۔۔،،۔

حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم اس کے ساتھ تمسک اختیار رکھو گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، ان میں سے ایک دوسری سے عظیم تر ہے ، اللہ کی کتاب جو کہ ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف دراز کی گئی ہے ، اور میری عترت اہل بیت ، یہ دونوں الگ نہیں ہوں گے حتیٰ کہ حوض (کوثر) پر میرے پاس آئیں گے ۔ دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسی جانشینی نبھاتے ہو ۔‘‘

کتاب ،،۔(مشکوته)
حدیث نمبر ،،۔۔(6153)
کتاب ،،۔(مستدرک الحاکم)
حدیث نمبر ،،۔("4711")
کتاب ،،۔(مسند احمد)
حدیث نمبر ،،۔("11396")

12/06/2024

عید قربان کی تاویل
حضرت پیر ناصر خسرو ق س اپنی گرانقدر تصنیف وجه دین میں عید قربان کی تاویل بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:-

خدائے تعالی کی توفیق سے ہم بیان کردیتے ہیں,کہ یہ عید قائم القیامت ع پر دلیل ہے,کیونکہ انہی کے ذریعے شریعت کا باطن آشکار ہوگا,اور مومن لاعلمی کے رنج سے چھٹکارا پائینگے,اور اس عید کے دن جو اس دو جہان کے بزرگوار کی مثال ہے ,لوگں پر واجب ہوتا ہے کہ خوشی کریں اور پوشیدگی سے منظر عام پر آجائیں,اس لحے کہ جس طرح اس روز لوگوں کو پوشیدگی سے منظر عام پر آنا چاہیے,اس طرح قائم علیہ السلام رموز کو پوشیدگی سے ظاہر اور آشکار کردیں گے,اس دن کو "اضحی ا" کہتے ہیں,اور لفظ'اضحی ' کے چار حروف ہیں,جس طرح قائم علیہ السلام کے نام کے چار حروف ہیں,اور اس عید کی نماز کی بھی اذان اور اقامت نہیں,اس لئے کہ قیامت کے مالک کی دعوت ظاہر و باطن نہیں ہے,بلکہ دعوت ظاہر ناطق کی اور دعوت باطن اساس کی ہے,اور قائم علیہ السلام تو ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے والے ہیں اور اس عید کا خطبہ بھی نماز کے بعدہے,جس کی تاویل یہ ہے کہ قائم ع پہلے تو شریعت میں پرورش پائے ہوئے ہونگےاس کے بعد وہ اپنی مرتبت پر متمکن ہونگے۔اور حق کو ظاہر کردینگے ,نطقاء,اسس اور ائیمہ پر (اپنی اپنی) امت کے ظالموں,فرعونیوں اور ابلیسیوں سے جوکچھ گزرا ہے ,وہ سب اسکا انصاف چاہینگے۔
اس بات کی تاویل کہ اس عید کے روز نماز سے پہلے تکبیر پڑھی جاتی ہے,یہ ہے کہ حق تعالی کی توحید اور عظمت حضرت قائم کے ذریعہ ظاہر ہوگی ,اور اس میں پانچ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں,جس کی تاویل یہ ہے کہ پانچ جسمانی حدود(ناطق,اساس,امام حجت اور داعی)سے اس عالم میں بھی ہر وقت مومنین کو فائیدہ پہنچے گا,اور قائم علیہ السلام کے نور کی طاقت سے مومنین اس عالم یعنی (عالم بالا) تک پہنچ سکینگے,اور تکبیریں مثال ہیں,مومنوں کی خوشی اور منافقین و اعدای دین پر قائم ع کی فتح یابی کی۔اور قربانی ان عہدوں پر دلیل ہے جو ناطق سے لے کر مستجیب تک لئے جاتے ہیں,جن سے بندے کو خدا تعالی کے امر کی نزدیکی ہوتی ہے۔چنانچہ ناطق کی قربای اساس ہے,جنہوں نے ناطق کا عہد لیا ہے,اسی طرح اساس کی قربانی امام ہیں,امام کی قربانی حجت ہے,حجت کی قربانی داعی ہے ,اور داعی کی قربانی ماذون و مستجیب ہیں,اونٹ ناطق پر دلیل ہے,گائے اساس پر دلیل ہے,اور بھیڑ امام پر دلیل ہے,عیدالاضحی کی تاویل یہی ہے۔"

عزیزان گرامی قائم شناس ہونا مقصد حیات ہے۔ جو قائم شناس ہوا وہ دنیا و عقبی میں کامیاب و کامران ہوا۔

استاد عقل و جان علامہ نصیر الدین ہنزائی( ایس آئی) کی ان مستانہ اشعار کے ساتھ اجازت چاہونگا:-

کیا خوب ہے بہار دل و جان عاشقان
ازنور پاک حضرت جانان عاشقان

قائم شناس جو بھی ہے وہ کامیاب ہے
اجر و ثواب اس کے لئے بے حساب ہے۔

07/06/2024
04/06/2024
03/06/2024

امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کے بارے میں احدیث نبوی ۔
3- أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ صَفْوَانَ عَنِ الْفُضَيْلِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَنْ مَاتَ لَا يَعْرِفُ إِمَامَهُ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً قَالَ نَعَمْ قُلْتُ جَاهِلِيَّةً جَهْلَاءَ أَوْ جَاهِلِيَّةً لَا يَعْرِفُ إِمَامَهُ قَالَ جَاهِلِيَّةَ كُفْرٍ وَ نِفَاقٍ وَ ضَلَالٍ.

3۔ راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق (ع) سے کہا کیا جو اس حال میں مر گیا کہ اس نے اپنے امام زمانہ کو نہ پہچانا تو وہ کفر کی موت مرے گا . فرمایا ہاں میں نے کہا جہالت کی موت یا جاہلیت کی موت ، بغیر معرفت امام ، فرمایا کفر و نفاق و ضلالت کی موت ۔
اصول کافی.

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي وَإِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا ، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ

جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امام کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں ) یعنی اس کے ساتھ ہو کر جنگ کی جاتی ہے۔ اور اسی کے ذریعہ ) دشمن کے حملہ سے ) بچا جاتا ہے ۔

Sahih Bukhari #2957

Status: صحیح
8- عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ: وَ اللَّهِ مَا تَرَكَ اللَّهُ أَرْضاً مُنْذُ قَبَضَ آدَمَ ع إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ يُهْتَدَى بِهِ إِلَى اللَّهِ وَ هُوَ حُجَّتُهُ عَلَى عِبَادِهِ وَ لَا تَبْقَى الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ حُجَّةٍ لِلَّهِ عَلَى عِبَادِهِ.

8۔ فرمایا امام محمد باقر (ع) نے خداوند تعالی زمین پر جب سے آدم کا انتقال کیا کبھی اپنی زمین کو بغیر امام کے نہیں چھوڑا ۔ یہ امام لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ،،،،،،،۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Ayesha Manzil
Karachi
75950