12/06/2024
عید قربان کی تاویل
حضرت پیر ناصر خسرو ق س اپنی گرانقدر تصنیف وجه دین میں عید قربان کی تاویل بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:-
خدائے تعالی کی توفیق سے ہم بیان کردیتے ہیں,کہ یہ عید قائم القیامت ع پر دلیل ہے,کیونکہ انہی کے ذریعے شریعت کا باطن آشکار ہوگا,اور مومن لاعلمی کے رنج سے چھٹکارا پائینگے,اور اس عید کے دن جو اس دو جہان کے بزرگوار کی مثال ہے ,لوگں پر واجب ہوتا ہے کہ خوشی کریں اور پوشیدگی سے منظر عام پر آجائیں,اس لحے کہ جس طرح اس روز لوگوں کو پوشیدگی سے منظر عام پر آنا چاہیے,اس طرح قائم علیہ السلام رموز کو پوشیدگی سے ظاہر اور آشکار کردیں گے,اس دن کو "اضحی ا" کہتے ہیں,اور لفظ'اضحی ' کے چار حروف ہیں,جس طرح قائم علیہ السلام کے نام کے چار حروف ہیں,اور اس عید کی نماز کی بھی اذان اور اقامت نہیں,اس لئے کہ قیامت کے مالک کی دعوت ظاہر و باطن نہیں ہے,بلکہ دعوت ظاہر ناطق کی اور دعوت باطن اساس کی ہے,اور قائم علیہ السلام تو ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے والے ہیں اور اس عید کا خطبہ بھی نماز کے بعدہے,جس کی تاویل یہ ہے کہ قائم ع پہلے تو شریعت میں پرورش پائے ہوئے ہونگےاس کے بعد وہ اپنی مرتبت پر متمکن ہونگے۔اور حق کو ظاہر کردینگے ,نطقاء,اسس اور ائیمہ پر (اپنی اپنی) امت کے ظالموں,فرعونیوں اور ابلیسیوں سے جوکچھ گزرا ہے ,وہ سب اسکا انصاف چاہینگے۔
اس بات کی تاویل کہ اس عید کے روز نماز سے پہلے تکبیر پڑھی جاتی ہے,یہ ہے کہ حق تعالی کی توحید اور عظمت حضرت قائم کے ذریعہ ظاہر ہوگی ,اور اس میں پانچ تکبیریں پڑھی جاتی ہیں,جس کی تاویل یہ ہے کہ پانچ جسمانی حدود(ناطق,اساس,امام حجت اور داعی)سے اس عالم میں بھی ہر وقت مومنین کو فائیدہ پہنچے گا,اور قائم علیہ السلام کے نور کی طاقت سے مومنین اس عالم یعنی (عالم بالا) تک پہنچ سکینگے,اور تکبیریں مثال ہیں,مومنوں کی خوشی اور منافقین و اعدای دین پر قائم ع کی فتح یابی کی۔اور قربانی ان عہدوں پر دلیل ہے جو ناطق سے لے کر مستجیب تک لئے جاتے ہیں,جن سے بندے کو خدا تعالی کے امر کی نزدیکی ہوتی ہے۔چنانچہ ناطق کی قربای اساس ہے,جنہوں نے ناطق کا عہد لیا ہے,اسی طرح اساس کی قربانی امام ہیں,امام کی قربانی حجت ہے,حجت کی قربانی داعی ہے ,اور داعی کی قربانی ماذون و مستجیب ہیں,اونٹ ناطق پر دلیل ہے,گائے اساس پر دلیل ہے,اور بھیڑ امام پر دلیل ہے,عیدالاضحی کی تاویل یہی ہے۔"
عزیزان گرامی قائم شناس ہونا مقصد حیات ہے۔ جو قائم شناس ہوا وہ دنیا و عقبی میں کامیاب و کامران ہوا۔
استاد عقل و جان علامہ نصیر الدین ہنزائی( ایس آئی) کی ان مستانہ اشعار کے ساتھ اجازت چاہونگا:-
کیا خوب ہے بہار دل و جان عاشقان
ازنور پاک حضرت جانان عاشقان
قائم شناس جو بھی ہے وہ کامیاب ہے
اجر و ثواب اس کے لئے بے حساب ہے۔