Iqbaliat E AZEEM

Iqbaliat E AZEEM

Share

Born on November 9, 1877.

Allama Muhammad Iqbal, widely revered as a monumental figure in the cultural and intellectual landscape of South Asia, was a philosopher, poet, and politician whose contributions have left an indelible mark on the region.

28/09/2024

I will be created complete video song for any kind of celebration (birthday wishes, wedding anniversaries, personal dedications, etc.) for those interested just indicate the title of the requested song and Pictures (Optional) for using the video to name of the person to be mentioned in the video for the dedication.
Whattsapp; 0308 2295965

13/09/2024

*عورتیں غلط فہمی میں نہ رہیں آپ کے حقوق اچھی طرح سے ادا ہو رہے ہیں*🧕🏻
فرانس کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے پاکستانی کے ساتھ
خواتین اور مرد حضرات بھی کام کرتے ہیں
فیکٹری میں 50 سال کی ایک فرنچ خاتون
اک دن اسے کہنے لگی
کہ
سنا ہے تم پاکستان کے لوگ
عورتوں کے حقوق نہیں دیتے
انہیں
گھر میں بند رکھتے ہو
اور
کام بھی نہیں کرنے دیتے
نوجوان نے لیڈی سے سوال کیا کہ
آپ کو کام کرتے کتنا عرصہ ہو گیا
جواب ملا
جب میں 18 سال کی تھی تب سے نوکری کر رہی ہوں
جواب میں
پاکستانی ماں کے بیٹے
نے کہا کہ
آپ گھر کا کام بھی کرتی ہیں جاب بھی کرتی ہیں
اور آپ کی عمر بھی کافی ہو گئی
جبکہ ہمارے ہاں
غالب اکثریت کے گھرانوں میں
جب بیٹی پیدا ہوتی ہے
تو بچپن سے لے کر
جب تک اس کی شادی ہوتی ہے
اس وقت تک
اس کے اس لڑکی کے والد اور بھائی اپنی اس بیٹی
کو
اللہ کی رحمت قرار دیتے ہوئے
اپنی
آنکھوں کا تارا بنا کر رکھتے ہیں
اس کی عزت و عصمت کی پوری طرح
حفاظت کرتے ہیں
اس کی ضرورتیں اور فرمائشیں پوری کرتے ہیں
اور
جب اس کی شادی کر دیتے ہیں
تو وہ اپنے شوہر کی ذمہ داری بن جاتی ہے
اب اس کی تمام خواہشات اور ضروریات اس کا شوہر پوری کرتا ہے
اور جب وہ آپ کی عمر میں پہنچ جاتی ہے
تو
تب
اس کے بیٹے اور بیٹیاں
اس کو
اپنی جنت کہہ کے پکارتے ہیں
اور اپنے حالت اور
پوزیشن کے مطابق اس کی
خدمت کرتے ہیں
ہمارے ہاں
اس عمر میں
عورت کو
آپ کی طرح اس عمر میں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی
لہذا
کیا
اسے حقوق نہ دینا کہتے ہیں
اور
کیا گھر میں بند رکھنا کہتے ہیں
یہ ہمارا مسلم معاشرہ ہے
یہ ہمارے دین کی تعلیمات اور تربیت ہے
اور یہی ہمارے رسم و رواج ہیں
فیکٹری کا وقت ختم ہو گیا اور
وہ خاتون چلی گئی
دوسرے دن اپنی ڈیوٹی
پر آ کر
اس خاتون نے بتایا
کہ وہ ساری رات سو نہیں سکی
کہ کیا کوئی ایسا معاشرہ بھی ہے
جہاں عورت کو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک
اتنی عزت دی جاتی ہو
#
ہم اپنی عورتوں کو گمراہی کی دلدل میں نہیں جھونک سکتے... جسے آزادی چاہیۓ وہ اسے اپنے گھر تک محدود رکھے
آزادی آزادی کرنے والی عورتیں دراصل عورت کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک دینا چاہتی ہیں

Photos from Iqbaliat E AZEEM's post 13/09/2024

انتہائی شاندار اور حیرت انگیز ہونے کے ساتھ فخر پاکستان بھی
*ناقابل یقین پی آئی اے* PIA
‘مالٹا کا رقبہ صرف 315 مربع کلومیٹر اور آبادی چار لاکھ 29 ہزار ہے
یوں یہ یورپ کے مختصر لیکن خوبصورت ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے‘
یہ ملک یورپ میں ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ ایک دلچسپ رشتے میں بندھاہوا ہے‘ یہ رشتہ آپ کو بھی حیران کر دے گا‘
مالٹا نے 1971ء میں اپنی ائیر لائین بنانے کا فیصلہ کیا‘ البرٹ میزی کو منصوبے کا چیئرمین بنایا گیا‘ میزی نے سول ایوی ایشن اور ائیر لائین تشکیل دینی تھی‘ انٹرنیشنل ٹینڈر ہوا۔
ہماری پی آئی اے ایشیا کی سب سے بڑی اور کامیاب ائیر لائین تھی‘ پی آئی اے نے ٹینڈر بھر دیا‘
مالٹا کو یورپ‘ مشرق بعید اور امریکا کی کمپنیوں کی طرف سے بھی کاغذات موصول ہوئے تھے
*بورڈ نے پڑتال کی امریکا یورپ اور مشرق بعید کے ٹینڈرز مسترد کیے اور پی آئی اے کو سلیکٹ کر لیا‘*
پی آئی اے نے مالٹا کے ساتھ ائیر لائین پارٹنر شپ کی اور صرف ایک سال میں ائیر مالٹا کے نام سے یورپ میں ایک شاندار ائیر لائین کھڑی کر دی‘
*ائیر مالٹا 31مارچ 1973ء کو بنی اور پی آئی اے نے یکم اپریل 1974ء کو اس کا پہلا طیارہ ٹیک آف کرا دیا۔*
پاکستانی ماہرین نے اس ایک برس میں مالٹا کی سول ایوی ایشن بنائی‘ ائیرپورٹس کو یورپین لُک دی اور ائیر لائین کو بھی آپریشنل کر دیا
آج ائیر مالٹا یورپ کی کامیاب اور منافع بخش ائیر لائینز میں شامل ہے یہ یورپ افریقہ اور امریکا کو بھی کور کرتی ہے اور اس کی فلائیٹس مشرق بعید بھی جاتی ہیں‘
*ائیر مالٹا کو 49 برس ہو چکے ہیں‘ مالٹا کے لوگوں نے ان 49 برسوں میں پی آئی اے کا احسان یاد رکھا‘*
مالٹا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پی آئی اے کو اپنے تعلیمی سلیبس میں شامل کر رکھا ہے
*یہ لوگ آج بھی ساتویں جماعت کے بچوں کو پی آئی اے کی مہربانی پڑھاتے ہیں اور مالٹا کے بچے پی آئی اے پر مضمون لکھ کر آٹھویں جماعت میں جاتے ہیں۔*
یہ اس پرانے زمانے کی بات ہے جب پی آئی اے نے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا
ہماری قومی ائیر لائین نے اس گولڈن دور میں بے شمار کمالات کیے
اس نے ائیر مالٹا کی طرح سنگا پور ائیر لائین بنائی‘ کوریا کو سول ایوی ایشن اور ائیر لائین بنانے میں مدد دی‘ ملائشین ائیر لائین بنائی اور ایمریٹس کی بنیاد رکھی‘ یہ بات آج کے زمانے میں شیخی محسوس ہوتی ہے
کہ ہم نے ایمریٹس کو کرائے پر جہاز بھی دیے تھے اور پائلٹ اور ائیر ہوسٹس بھی‘
ہم نے دنیا کی پانچ بڑی ائیر لائینز کے عملے کو ٹریننگ بھی دی تھی‘
آپ کو یہ بات بھی عجیب لگے گی کراچی کبھی ایشیا کا دروازہ ہوتا تھا
۔
ایشیا کے 80فیصد مسافر کراچی سے ہو کر یورپ‘ افریقہ اور امریکا جاتے تھے اور یورپ‘ افریقہ اور امریکا کے مسافر بھی ایشیا میں داخل ہونے سے پہلے کراچی میں اترتے تھے
لیکن وہ شاندار ماضی اور وہ شاندار ائیر لائین آج کہاں ہے؟

05/09/2024

‏اگر آپ نے،
کپڑے کا بستہ استعمال کیا ہوا ھے،
لکڑی کےلٹو ڈور سے چلائے ہوں
بنٹے کھیلے ہوئے ہیں،
سائیکل کے ٹائر کو چھڑی کے ساتھ گلیوں میں گھمایا ہوا ھے،
شب برات پر مصالحہ لگی "چچڑ" سمینٹ والی دیوار سے رگڑی ہوئی ھے،
دو پیسے کا ٹکہ دیکھا ہو
استاد سے سلیٹ اور سلیٹی پر سوال حل کیے ہوں،
ریاضي کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ھے،
عاد اعظم نکا لے ہوئے ہیں،
پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں،
سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ھے،
تختی کو گاچی لگائی ہوئی ھے،
گھر سے مکئی کی چھلیاں دانے نکال بھنائے ہوں
سکول کی چھٹیوں میں بیل چراۓ ہوں
غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں،
سہ پہر چار بجے اٹھ کر کتاب کہانیاں پڑھی ہوں
میلے میں کبڈی اور بیلوں کی دوڑ دیکھی ہو
گراموفون اور ریکارڈ استعمال کئیے ہوں
اپنے ریڈیو کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ھے،
میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی ھے،
صرف عید میں میلے کی سرکس اور جھولے میں بیٹھے ہوں
بارات میں پیسے لوٹے ہوئے ہوں،
کسی دشمن کی دیوار پر کوئلے سے بھڑاس نکا لی ہو،
پانی کے ٹب میں موم بتی والی کشتی چلائی ہو،
سرکاری ہسپتال سے اپنی ذاتی بوتل میں کھانسی والی دوائی بھروائی ہو،
سردیوں میں رضائی میں گھس کر پریوں کی کہانیاں سنی ہوں،
سرکٹے انسان کی افواہیں سنی ہوں،
کھڑکھڑاتے ریڈیو پر سیلاب کی تازہ صورتحال ستی ہو،
رسی لپیٹ کر لاٹو چلایا ہو،
سمیع اللہ کو ہاکی کے میدان میں ریڈیو کے نشریاتی رابطے پر فتح سے ہمکنار ہوتے ہوۓ کمنٹری سنی ہو،
گھر کے مٹی کا لیپ والے چھت پر چارپائی ڈال کر سویا ہو ،،
گرمیوں میں چھت پر چھڑکاؤ کیا ہو،
جون جولائی کی تپتی دوپہر میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو،
پھولوں کی کڑھائی والے تکیے پر سنہرے خواب دیکھے ہوں ،
گھر کے کسی کونے میں خوش آمدید لکھا ھے،
ریڈیو پر غلاف چڑھایا ھے،
لالٹین میں مٹی کا تیل بھروایا ھے،
لڈو کھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک موقع پر تین دفعہ چھ آیا ھے،
ڈھیلی تیلیوں والی ماچس استعمال کی ھے،
تختی کے لیے بازار سے قلم خرید کر اسکی نوک بلیڈ سے کاٹ کر درمیاں میں ایک کٹ لگایا ھے،
خوشخطی کے لیے مارکر کی نب کاٹی ھے،
ہولڈر استعمال کیا ھے،
زیڈ اور جی کی نب خریدی ھے،
فلاوری انگلش لکھی ھے،
گھی کے خالی "پیپے" اور رسی سے کنویں سے بالٹیاں بھری ہوں
سر پر تیل جویں مارنے کے لئے کڑوا تیل لگایا ہو۔
سرما لگا کر ہیرو لگنے کی کوشش کی ھے،
غلیل استعمال کی ھو،
پرندوں کے گھونسلے کی تلاشی لی ہو
ٹچ بٹن والی شرٹ پہنی ھے،
اپنے گھر میں بیری والے درخت پر چڑھ کر بیر تڑےہوں
آگ جلا کر چھلیاں بھونی ہوں،
بالٹی میں آم ٹھنڈے کر کے کھائے ہیں،
رف کاپی استعمال کی ھے،
کھلی لائنوں والا دستہ خرید کر اس پر اخبار چڑھایا ھے،
گندھے ہوئے آٹے کی چڑی بنائی ھے،
الارم والی گھڑی کے خواب دیکھے ہیں،
بلی مارکہ اگر بتی خریدی ھے ،
مرونڈے کی لذت سے سرشار ہوئے ہیں،
سائیکل کی قینچی چلائي ھے،
والد صاحب کی ٹانگیں دبائی ہیں،
سردیوں میں ماں کے ہاتھ کا بنا سویٹر پہنا ھے،
امتحانوں کی راتوں میں " گیس پیپرز" کا استعمال کیا ہو
قائد اعظم کے چودہ نکات چھت پر ٹہل ٹہل کر یاد کیے ہیں ،
چلوسک ملوسک، عمرو عیار، چھن چھنگلو، کالا گلاب اور عنبر ناگ ماریا کی کہانیاں پڑھی ہیں،
فرہاد علی تیمور سے متاثر ہو کر موم بتی کو گھور گھور کر ٹیلی پیتھی حاصل کرنے کی کوشش کی ھے،
کاغذ کے اوپر کیل اور لوہ چون رکھ کر نیچے مقناطیس گھمانے کا مزا لیا ھے،
محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر گڈے لوٹے ہوں
صبح سویرے لسی اور مکئی کی روٹی مکھن ڈال کر کھائی ہو۔
برفی کا سب سے بڑا ٹکڑا باوجود گھورتی نظروں کے اٹھانے کی جسارت کی ھے،
لاٹری میں کنگھی نکلی ھے،
رات کو آسمان کے تارے گنے ہیں،
سائیکل پر نئی گھنٹی لگوائی ھے،
زکام کی صورت میں آستینوں سے ناک پونچھی ھے،
ڈیموں(بھڑ) کو دھاگا باندھ کر اڑایا ہوا ھے،
شہد کی مکھیوں کے چھتے میں پتھر مارا ہوا ھے،
مالٹے کے چھلکے دبا کر اس سے دوستوں کی آنکھوں پر حملہ کیا ہوا ھے،
اور صبح سویرے لسی رڑکنے کی آواز سنی ھے تو ' اسکا ایک ہی مطلب ھے کہ اب آپ بوڑھے ہو رھے ہیں۔
کیونکہ یہ ساری چیزیں اسوقت کی ہیں جب زندگیوں میں عجیب طرح کا سکوں ہوا کرتا تھا لوگ ہنسنے اور رونے کی لذت سے آشنا تھے لڑائی کبھی جنگ کا روپ نہيں دھارتی تھی۔ رشتے اور تعلقات جھوٹی انا کے مقابل طاقتور تھے تب غریب کوئی بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ سب ہی غریب تھے۔ مجھے فخر ھے کہ میرا تعلق اس دور سے ھے جب نہ کسی کے پاس موبائل تھا نہ کوئی اپنی لوکیشن شیئر کر سکتا تھا لیکن سب رابطے میں ہوتے تھے سب کو پتا ہوتا تھا کہ اس وقت کون کہاں ھے کیونکہ سب کا نیٹ ورک ایک ہوتا تھا

31/08/2024

ماریہ کا "کیوں؟"
یہ پولینڈ کی نیزہ پھینک یعنی جیولن تھرور ماریہ ہے۔ 2016 میں یہ صرف دو سینٹی میٹر کی وجہ سے اولمپک میڈل ہار گئی۔ 2017 میں کندھے کی انجری ہوئی اور 2018 میں اسے بون کینسر ہو گیا۔ ماریہ کے لیے یہ سب قابل قبول نہ تھا۔ اسے زندہ رہنا تھا۔ توانا ہونا تھا۔ تمغہ جیتنا تھا۔ سو، وہ بہادری سے کینسر سے لڑی اور اس موذی مرض سے جیت گئی۔ نہ صرف یہ بل کہ اسپتال سے نکلی تو سیدھی واپس کھیل کے میدان میں گئی اور ایسا کم بیک دیا کہ 2021 میں ٹوکیو میں منعقد ہونے والے سمر اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیت لیا۔ یوں وہ اپنے ملک کی نوجوان نسل کے لیے عزم و ہمت کا ارشد ندیم بن گئی۔
انہی دنوں ایک بچے کبوس کے والدین اس کے علاج کے لیے چندہ اکٹھا کرتے پھر رہے تھے۔ تاہم اس سے پہلے کہ وہ اسپتال کا خرچہ پورا کر کے اپنے لخت جگر کا علاج کرواتے، کبوس کی سانسیں پوری ہوگئیں۔ کبوس کے والدین کے پاس اب ایک طرف چندے کے سوا لاکھ ڈالر تھے اور دوسری طرف غم کا پہاڑ۔ پھر ایک اور بچے، ملوزیک، کے والدین نے اس کے دل کے علاج کے لیے چندے کی اپیل کر دی جو کسی طرح کبوس کے والدین کے کانوں تک پہنچ گئی۔ وہ اٹھے اور سیدھا جا کر سوا لاکھ ڈالر آٹھ ماہ کے ملوزیک کے حوالے کر دیا تاکہ ملوزیک کے دل کا مشکل علاج ممکن ہو اور ان کے غم کا کچھ مداوا۔ لیکن یہ علاج مہنگا تھا۔ کم از کم سوا لاکھ ڈالر مزید درکار تھے۔
ادھر ماریہ ایک، ڈیڑھ ماہ پہلے جیتا ہوا اپنا چاندی کا تمغہ سینے پر سجائے خوشی کے جشن مناتی پھر رہی تھی۔ اسے اپنا سفر ایک خواب معلوم ہوتا تھا۔ اسے کینسر کے دنوں کی راتیں یاد آتیں جب وہ خود سے یہ سوال کرتی کہ آخر میں ہی کیوں؟ آخر مجھے ہی کیوں اس آزمائش میں ڈالا گیا؟ اور اب جب وہ اپنے تمغے کو اپنی ہتھیلی پر رکھتی تو ایک بار پھر اس کا سامنا ایک سوال سے ہوتا: کیوں؟ آخر میں ہی کیوں؟ آخر میں ہی کیوں اس اعزاز کے لیے منتخب ہوئی۔ تاہم ابھی اس نے اپنے تمغے کو جی بھر کے دیکھا ہی نہ تھا کہ ایک دن اس کے سوال کا جواب اس تک پہنچ گیا۔ ملوزیک کا دل تیزی ڈوب رہا تھا اور اس کی ماں سوشل میڈیا کے چوراہے پر جھولی پھیلائے کھڑی تھی۔ ماریہ چاہتی تو چندے کی اپیل والی پوسٹ اپنی فیس بک وال پر لگا کر یا سو، دو سو ڈالر دے کر ملوزیک کی کچھ تھوڑی بہت مدد کر سکتی تھی۔ مگر اسے معلوم تھا کہ چندہ آہستہ آہستہ آتا ہے اور وہ ملوزیک کو دوسرا کبوس بنتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ سو، اس نے اپنی زندگی کی سب سے پیاری چیز، جسے اس نے کینسر سے لڑ کر جیتا تھا، اٹھائی اور سوا لاکھ ڈالر میں بیچنے کے لیے سوشل میڈیا کے اسی چوراہے پر رکھ دیا جہاں ملوزیک کی ماں کھڑی تھی۔ پولینڈ کے 'گل احمد' والوں یعنی زبکا سپر مارکیٹ کے امیر مالکوں کو پتہ چلا تو انہوں نے ملوزیک کے والدین کو سوا لاکھ ڈالر ادا کر کے ماریہ کا تمغہ خرید لیا۔ ملوزیک امریکہ کے اسٹینفرڈ ہیلتھ سینٹر پہنچ گیا جہاں اس کی کامیاب سرجری ہوگئی۔ ماریہ کو اپنے سب سوالوں کے جواب مل گئے۔ اب ملوزیک کا دھڑکتا دل ہی اس کے سینے پہ سجا تمغہ بھی تھا اور اس کے اندر کا سکون بھی۔ مگر سونے کے دل والی یہ (2021 میں) پچیس سالہ لڑکی اپنے چاندی کے تمغے سے بھی محروم نہ ہوئی۔ یہ سوچ کر کہ سمر اولمپکس کا تمغہ ماریہ کے لیے کس قدر معنی خیز تھا، زبکا کے امیر مالکوں نے اسے اپنے کسی اسٹور میں سجانے کے بجائے اسے واپس ماریہ کی جھولی میں ڈال دیا۔
تو دوستو، ہر شکست اور ہر فتح کا ایک "کیوں" ہوتا ہے۔ اپنی ہار اور جیت کو اس وقت تک مکمل نہ سمجھیں جب تک آپ کو اس "کیوں" کا جواب نہ مل جائے۔
کیوں کہ یہیں سے اچھائی کی اک نئی لڑی کا آغاز ہوتا ہے۔ ان لڑیوں میں قربانیاں پرونے والوں کی خیر ہو!

Photos from Iqbaliat E AZEEM's post 30/08/2024

افغا!نستان دریائے کا! بل میں جو اس وقت سیلاب چڑھا ہوا ہے اس نے دریاۓ سندھ میں آ کر شامل ہونا ہے۔ پختونخواہ میں جو طوفانی بارشیں اور سیلاب آیا ہے وہ پانی بھی دریاۓ سندھ میں آ کر شامل ہو گا۔ یہ جمع ہونے والا ریلہ ابھی کالاباغ کے مقام تک نہیں پہنچا لیکن جلد پہنچنے والا ہے۔ اس کے بعد میدانی علاقہ ہے او یہ بڑا ریلہ تب تک تبا! ہی مچاتا رہے گا جب تک بحرہ عرب میں جا کر نہیں گر جاتا۔ کچے کا سارا علاقہ ڈوبے گا، ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ ساتھ بھکر کا کچھ حصہ متاثر ہوگا، تبا!ہی در تبا!ہی ہو گی لیکن کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔
کالاباغ ڈیم ہوتا تو یہ سارا پانی سٹور ہو جانا تھا لیکن ڈیم بن گئے تو بجلی کے “کارخانے” لگا کر حکمران تگڑا کمیشن کیسے کھائیں گے، سولر پلیٹ کیسے بیچیں گے؟
یہ سب میٹھا پانی ہے۔ اربوں ڈالر مالیت کا یہ میٹھا پانی اربوں ڈالر مالیت کی تبا!ہی مچاتا ہوا سمندر میں جا گرے گا۔ چند ماہ بعد خشک سالی ہو گی۔
ستر سال سے اسی سیلاب اور خشک سالی کے درمیان جی رہے ہیں۔ ایک کالاباغ ڈیم اربوں ڈالر کا میٹھا پانی بچاۓ گا، اربوں ڈالر کا نقصان بچائے گا اور اربوں ڈالر کی سستی بجلی الگ سے فراہم کرے گا۔ جو قومیں فیصلے نہیں کرتیں ان کی قسمت میں بھوک، سیلاب اور خشک سالیاں ہوتی ہیں خوشحالیاں نہیں۔۔۔ہم ظالم اندھے لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظالم را_ہزن منتخب کرتے ہیں اور انکے غلط پراپیگنڈے مان کر اپنا ماضی حال اور مستقبل داؤ پر لگاتے آرہے ہیں!

07/08/2024

غریب عورت کا پڑھایا سبق آپ بھی یاد کریں اور عمل بھی کریں"
ایک اسکول ٹیچر بس میں سوار ہوئی تو کوئی سیٹ خالی نہیں تھی....ایک غریب عورت جو سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اِس نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی، آجائیے میڈم ، آپ یہاں بیٹھ جائیں ، کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر استانی کو بیٹھا دیا اور خود کھڑی ہو گئی۔ میڈم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اُسے دعائیں دیتے ہوئے کہا میری تو بری حالت تھی۔یہ سن کر اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوش کن مسکان پھیل گئی۔ کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی، لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو (جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پا رہی تھی) سیٹ پر بیٹھا دیا اگلے اسٹاپ پر وہ عورت بھی اتر گئی ، سیٹ پھر خالی ہوگئی ، لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا ، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے، کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے ، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی ۔بس میں چند مسافر ہی رہ گئے تھے۔ استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں، خود نہیں بیٹھیں، کیا بات ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا میڈم میں مزدور ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ خیرات کر سکوں، تو میں یہ کرتی ہوں کہ ،کبھی سڑک پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں، کبھی کسی پیاسے کو پانی پلا دیتی ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں ، پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے اور تو اور جب میں روٹی کھانے کے لیے کسی سڑک کنارے بیٹھتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آکر بیٹھ جاتے ہیں، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان کےسامنے ڈال دیتی ہوں، جب وہ خوشی سے چلاتے ہیں تو خدا کی اس مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے، سوچتی ہوں، روپے پیسے نہ سہی ، مفت میں دعائیں تو مل ہی جاتی ہیں ، یہ فائدہ ہی ہے نا اور ہمیں دنیا سےکیا لے کر جانا ہے، غریب عورت کی باتیں سن کر۔ استانی ہکا بکا رہ گئیں ، ایک ان پڑھ غریب عورت نےاتنا بڑا سبق انہیں پڑھا دیا۔ اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی سب کے لئے، صدقہ و خیرات صرف پیسے سے نہیں دل سے بھی کیا جاتا ہے۔

06/08/2024

Google's online search monopoly is illegal, US judge rules
A US judge has ruled Google acted illegally to crush its competition and maintain a monopoly on online search and related advertising.
The landmark decision on Monday is a major blow to Alphabet, Google's parent company, and could reshape how technology giants do business.
Google was sued by the US Department of Justice in 2020 over its control of about 90% of the online search market.
It is one of several lawsuits that have been filed against the big tech companies as US antitrust authorities attempt to strengthen competition in the industry.

This case has at times been described as posing an existential threat to Google and its owner given its dominance of the search and online advertising business.
It is unclear yet what penalties Google and Alphabet will face as a result of the decision. The fines or other remedies will be decided in a future hearing.
The government has asked for "structural relief" - which could, in theory at least, mean the break-up of the company.
In his decision, US District Judge Amit Mehta said Google had paid billions to ensure it is the default search engine on smartphones and browsers.
“Google is a monopolist, and it has acted as one to maintain its monopoly,” Judge Mehta wrote in his 277-page opinion.
Alphabet said it plans to appeal against the ruling.
“This decision recognises that Google offers the best search engine, but concludes that we shouldn’t be allowed to make it easily available," the statement from the company said.
US Attorney General Merrick Garland, the country's top prosecutor, hailed the ruling as a "historic win for the American people".
“No company - no matter how large or influential - is above the law," Mr Garland said in a statement on Monday. "The Justice Department will continue to vigorously enforce our antitrust laws.”
Federal antitrust regulators have filed other pending lawsuits against Big Tech companies - including Meta Platforms, which owns Facebook, Amazon.com and Apple Inc - accusing them of operating unlawful monopolies.
Monday's ruling comes after a 10-week trial in Washington DC, in which prosecutors accused Google of spending billions of dollars annually to Apple, Samsung, Mozilla and others to be pre-installed as the default search engine across platforms.
The US said Google typically pays more than $10bn (£7.8bn) a year for that privilege, securing its access to a steady stream of user data that helped maintain its hold on the market.
Doing so, prosecutors said, meant other companies have not had the opportunity or resources to meaningfully compete.
"The best testimony for that, for the importance of defaults, is Google's cheque book," argued Department of Justice lawyer Kenneth Dintzer during the trial.
Google's search engine is a big revenue generator for the company, bringing in billions of dollars thanks in large part to advertising displayed on its results pages.
Google's lawyers defended the company by saying that users are attracted to their search engine because they find it useful, and that Google is investing to make it better for consumers.
“Google is winning because it’s better,” said Google's lawyer John Schmidtlein during closing arguments earlier this year.
Mr Schmidtlein also argued during the trial that Google still faces intense competition, not just from general search engine firms, such as Microsoft's Bing, but more specialised sites and apps that people use to find restaurants, airline flights and more.
In his ruling, Judge Mehta concluded that being the default search engine is "extremely valuable real estate" for Google.
"Even if a new entrant were positioned from a quality standpoint to bid for the default when an agreement expires, such a firm could compete only if it were prepared to pay partners upwards of billions of dollars in revenue share," Judge Mehta wrote.
Another case against the technology company over its advertising technology is scheduled to go to trial in September. In Europe, meanwhile, Google has been fined billions in monopoly cases.

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Bahadurabad
Karachi
45000