مجمع العلوم الاسلامیۃ کی طرف عوامی اور طلبہ کے رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ وفاق المدارس سے آگے نکلے گا۔ وفاق کے پاس اکابر کے تقدس اور خیالی تبرک کے سوا کچھ نہیں جبکہ مجمع کے پاس حقائق ہیں اور آئندہ دور میں طلب اسی کی ہوگی۔ طلبہ بھی اسی کی طرف متوجہ ہوں تو مستقبل کا فایدہ ہوگا۔ ہر طالب علم درس نظامی کے ساتھ کالجوں اور یونی ورسٹیوں سے ڈگریاں ضرور حاصل کریں۔ درس نظامی کا اور کوئی مستقبل نہیں ہے۔
Mufti Umer Razi
زندگی کا مقصد خدمت دین کی کوشش
مولوی پوری قوم کو مدارس کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے، گویا مولوی ہونا اس کے نزدیک بہت بڑا اعزاز ہے، یقینا دینی مسائل سیکھنا اور قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے معاون علوم حاصل کرنا بڑی بات ہے، مگر دین کو صرف درس نظامی تک محدود کرنا اور صرف اسی کے پڑھنے والے کو دین کا حامل سمجھنا بے حد تنگ نظری ہے۔ مدارس کو پہلے اپنے فضلا کی زندگی اور اساتذہ کی حالت جان کر دوسرے لوگوں کو پھر دعوت دینی چاہیے ، اس وقت مولوی کی زندگی جتنی تنگی اور بدحالی سے دو چار ہے اس کی کوئی مثال نہیں ، صرف وہ مولوی کامیاب ہیں جو مانگ سکتے ہیں ، مختلف ناموں سے چندہ اکھٹا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں یا مدارس کے مہتمم ہیں اور مدرسے کے نام پر لے کر خود کھاتے پیتے ہیں، جو مولوی ان صفات سے عاری ہے وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی کا شکار ہوکر فاقہ کشی میں مبتلا ہے۔ عید کے ایام جو خوشی کے ہوتے ہیں بعض مولویوں کے لیے کرب اور مشکل کے دن بن جاتے ہیں بیس ہزار تنخواہ میں وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے تو عید پر بچوں کے لیے کپڑے اور عیدی کیسے خرید سکے گا۔ اس وقت بہت سے قاری حضرات اور مولوی صاحبان کا حال بندے کے سامنے ہے ، عید کی رات ہے اور وہ بچوں کے لیے کپڑے خریدنے کی سوچوں میں مبتلا ہیں اور اس کے لیے کوئی سبیل نکلتی نہیں۔ قربانی کرنا تو گویا مولوی کی قسمت میں لکھی نہیں۔ وہ صرف دوسروں سے گوشت اکھٹا کرنے کے لیے پیدا ہے اور وہ اسی کام پر لگا ہوا اپنی قسمت کی کھا رہا ہے۔
اس لیے مدارس کے طلبہ سے یہ خصوصی درخواست ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کچھ ہنر بھی سیکھیں۔ درس نظامی پڑھنا کوئی ضروری بھی نہیں اور ایسا بھی نہیں کہ اس پر سارا وقت ضائع کیا جائے۔ مختصر وقت پڑھنے میں لگائیں اور پھر ہنر سیکھنے کے لیے محنت اور جد وجہد کریں۔ تاکہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ صرف مدرسے کی تنخواہ پر کسمپرسی کے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے رزق حلال کماسکے اور اپنے بچوں کو دوسرے لوگوں کے رحم اور ان کے چندوں پر نہ چھوڑیں۔ یہ زندگی کا تلخ تجربہ ہوتا ہے کہ جب بچے آس پاس کے گھروں میں ان کے بچوں کو کھیلتے اور نئے کپڑوں میں ملبوس دیکھتے ہیں اور خود پر نظر ڈالتے ہیں تو بدحالی کو نظروں میں پاتے ہیں تو کبھی ماں کے پاس جاکر کپڑے مانگتے ہیں اور کبھی باپ سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مطالبے کے پورے کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ہم نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ مولوی جب بڑے منصب تک جاپہنچتا ہے، تو طلبہ اور عوام کی طرف سے اس کی عزت کی جاتی ہے مگر وہ اس بے عزتی کے مقابل میں کچھ نہیں ہوتی جو گھر میں بیوی اور بچوں کی طرف سے اس کی آئے روز ہوتی ہے۔ مہمان آنے پر جو کہرام مچتا ہے اس کا تو کوئی پوچھے ہی نہیں۔ ہمیشہ قرضوں میں ڈوبی زندگی گزارنا مولوی کی مقدر ہوتی ہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے قرض بھی کوئی نہیں دیتا۔ اس لیے کہ وہ نادہندہ ہوتا ہے۔ یاد رکھیں ، عزت وہی ہے جو گھر سے ملے ، اس لیے کہ گھر والے ہی انسان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ باہر استاذ، استاذ ، اور شیخ الحدیث اور پتہ نہیں کیا کیا القاب ملے مگر گھر کی دھلیز پر قدم رکھتے ہی یہ سب کافور ہوجاتا ہے۔ مجھے اس بارے بہت سی معلومات ہیں اور بڑے علما کی گھریلو زندگی کا پتہ ہے مگر انہیں ذکر کرنا تطویل لا طائل ہے۔ اس سال ایک اچھے استاذ جو صاحب استعداد اور انتہائی باصلاحیت ہیں، نے مدرسے استعفا دیا ، عجب لگا کہ بیس سال سے تدریس کرنے والا ایسا عالم جس کی قابلیت کے گواہ ان کے شاگرد ہیں۔ ایک شاگرد نے کہا کہ اتنے قابل ہیں کہ ہر طرز پر پڑھانے کی استطاعت رکھتے ہیں ، ہر فن کی کتاب ایسا ہی پڑھاتے ہیں جیسے یہی اس کا مخصوص فن ہو، کچھ دن قبل ان سے ملاقات ہوئی تو انتہائی کرب ناک صورت حال بتائی۔ کہا کہ اب تک جو ہوسکا برداشت اور کسمپرسی کی زندگی گزارتا رہا مگر مسئلہ بچوں کا ہے ، وہ ہمارا حال نہیں جانتے اور دوسرے لوگوں کو دیکھ کر احساس کمتری کے شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی کھانا نہیں، کبھی آٹا نہیں، کبھی کچھ نہیں ، کبھی کچھ نہیں۔ بیوی روز روز بچوں کو دیکھ کر روتی ہے اس لیے کچھ کاروبار شروع کیا ہے۔ یہ حال جان کر بہت افسوس ہوا کہ ایک قابل اور قدیم استاذ کا یہ حال ہے۔ درس نظامی کے فضلا کو نہ معاشرے نے قبول کیا ہے اور نہ سرکار نے۔ اس لیے مؤدبانہ گزارش یہی ہے کہ طلبہ کو بھکاری اور بانجھ بنانے کے بجائے انہیں علوم سیکھائیں، ہنر سیکھائیں۔ درس نظامی کے ساتھ اسکولوں اور کالجوں سے دوسرے علوم حاصل کرنے کی ھدایت کی جائے۔ جتنا پیسہ فضول جلسوں اور اشتہار بازی اور مدرسے کے رنگ روغن پر لگایا جاتا ہے اس سے ایک دوگنا کم سہی ، استاذ پر خرچ کیا جائے قابل طلبہ کو محکموں تک پہنچانے کے لیے انہیں یونی ورسٹیوں سے امتحانات دلوائیں۔
علم روشنی ہے اور روشنی شیطان اور مجرمانہ کردار اور دماغ کے لوگ قبول نہیں کرتے وہ اندھیروں کے طالب رہتے ہیں تاکہ ان میں اپنے مجرمانہ واردات کرسکیں
27/09/2024
اگر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کے خلاف میدان میں نہ نکلتے اور جام شہادت نوش کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے تو آمریت کی برائیاں نہیں جانی جاسکتیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں لوگ آمریت کو داخل مان کر اس طرز سیاست کو عین اسلام قرار دیتے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی دے کر بتادیا کہ اپنی میراث کی حفاظت خود کی جاتی ہےاس کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کیاجاتا۔ اور یہ کہ اسلام میں آمریت کا کوئی تصور نہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس معاملے کو دین اسلام کی تعلیمات کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور یزید بے رحم سیاسی نکتہ نظر سے۔ اس نے وہی کیا جو حکمران اور طاقت ور سیاست دان اپنے حریفوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ ایک طرفہ سیاسی اور یک طرفہ دینی ہے۔ سیاسی ہونے کے ناطے یزید سے خیر کی توقع نہیں اور اس بارے ساری دنیا عملا یزیدی ہے۔ پڑوسی شیعہ ملک میں بھی اگر سادات خاندان کا کوئی متقی ، پرہیزگار اور ہر لحاظ سے موجودہ حکمران سے افضل اور بہتر آدمی حکومت کے خلاف کھڑے ہوکر شیوہ حیسنی کو زندہ کرنا چاہے تو یقینا حکمران یزیدی بن کر اس پر حملہ آور ہوں گے اور صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ یہ اب تک ہوتا آرہا ہے اور ہورہا ہے۔ سیاسی حریف میں نسل ، تقوی ، بزرگی ، دینداری اور عوامی مقبولیت نہیں دیکھی جاتی اور نہ اس بارے شرعی حکم کا لحاظ رکھا جاتا ہے بس اسے مغلوب یا صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یزید نے یہی کیا۔ مگر حسین کے نام لیوا بتائیں کہ شیوہ حسینی، آمریت ، خلاف اسلام قوانین ، نظام اور حکومت سے بغاوت ہے ، تم کب حسین کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر اس نظام سے بغاوت کروگے۔ عملا یزیدی لوگ بھی حسین ، حسین کا گیت گاتے ہیں۔
رمضان کی فضیلت
ایک سے دو ہوگئے !!!!!
تین طلاق ایک ساتھ واقع ہوتی ہیں یا نہیں ، مذاہب اربعہ اور غیر مقلدین کے درمیان اختلاف کا معرکۃ الآرا مسئلہ ہے۔ میرے نقطہ نظر میں غیر مقلدین ائمہ کی تقلید نہیں کرتے مگر ایک دوسرے کی ضرور کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین اپنے مشہور مسائل میں متفق ہیں اور ان کے درمیان ان مسائل کے بارے اجتہادی رائے ظاہر ہوئی اور نہ اختلاف ہوا۔ معلوم ہوا کہ یہ غیر مقلدین فی تقلید الائمہ ہیں،جبکہ ایک دوسرے کے مقلد ضرور ہیں۔ بہرحال طلاق ثلاثہ میں جب لوگ پھنس جاتے ہیں تو غیر مقلدین کے پاس جاکر وہاں سے طلاق کے واقع نہ ہونے کا فتویٰ حاصل کرکے ہمیشہ بدکاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اور دل کو اس فتوی سے تسلی دلاتے ہیں۔ یہ حال بہت پہلے سے ہے اور پتہ نہیں کب تک جاری رہے گا؟
اب ایک نئی صورت سامنے آئی ہے اور اس میں ملک کے مشہور ادارے اور چند یوٹیوبرز مفتیان کرام کا جہمور علمائے کرام اور مفتیان عظام سے اختلاف ہے۔ اب اس بارے جب لوگ پھنس جاتے ہیں تو اس ادارے کا رخ کرتے ہیں اور اپنے لیے راستہ نکال لیتے ہیں، بار بار کہتے ہیں کہ دیوبند کا بہت بڑا ادارہ ہے نا۔ اس کا فتویٰ ہے۔ بات ہے لفظ آزاد سے وقوع طلاق کی ، کنایہ ہے یا صریح ، اس سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے یا بائن ؟ کسی نے تین بار بیوی کو کہدیا کہ تو آزاد ہے آزاد ہے آزاد ہے ، تو اس پر تین طلاق واقع ہوئیں یا ایک طلاق بائن۔ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے جو طلاق بائن کے قائل ہیں ، ان کے ہاں حلالہ کی ضرورت نہیں ،تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ جو طلاق ثلاثہ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ تجدید نکاح سے کام نہیں چلے گا۔ اس طرح ایک مرتبہ تو آزاد ہے کہدیا تو اب رجوع سے دوبارہ ساتھ رہ سکیں گے یا تجدید نکاح کی ضرورت ہوگی۔ رجعی والے کہتے ہیں رجوع کافی ہے اور بائن والے کہتے ہیں کہ تجدید نکاح لازم ہے۔ اس پر تو سب کا ایک حد تک اتفاق ہے کہ لفظ آزاد اس دور میں طلاق کے لیے صریح بن گیا ہے اور اس سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ البتہ اس سے واقع ہونے والی طلاق بائن ہوگی یا رجعی۔ تو اکثر اہل علم کے نزدیک اور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند ، دارالعلوم کراچی، جامعہ عثمانیہ پشاور، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی، جامعہ بنوریہ ، فتاوی قاسمیہ ، فتاوی محمودیہ، کتاب النوازل، نجم الفتاوی ، فتاوی حقانیہ، فتاوی عبادالرحمن ، امدادالاحکام کے فتاوی کے مطابق اس سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، کسی نے تین بار لفظ آزاد بول دیا تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ یہ حضرات اسے سرحتک کے لفظ پر قیاس کرتے ہیں یا اسی کا مطلب قرار دیتے ہیں ، علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ سرحتک لفظ طلاق صریح کے لیے متعین ہوچکا ہے اور اب اس سے بلا نیت طلاق ، طلاق واقع ہوگی اور وہ طلاق ، طلاق رجعی ہوگی۔ جبکہ ملک کا معروف ادارہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ لفط صریح تو ہے لیکن اس سے طلاق بائن واقع ہوگی۔ وہ اس کے صریح ہونے کے لیے سرحتک سے استدلال کرتے ہیں اور اس سے طلاق بائن کے لیے لفظ حرام سے استدلال کرتے ہیں۔ یعنی لفظ حرام بھی صریح بن گیا ہے مگر اس سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے اسی طرح لفظ آزاد صریح بن گیا ہے مگر اسے طلاق بائن واقع ہوگی۔ کچھ یوٹیوبرز علمائے کرام اور دارالافتائیں یہی موقف رکھتے ہیں۔ بندہ کا فتویٰ اور تحقیق یہی ہے کہ جمہور علمائے کرام کا قول درست ہے، لفظ حرام سے صریح ہونے کے باوجود طلاق بائن اس لیے واقع ہوتی ہے کہ اس میں حرمت کا معنی پڑا ہے، اور حرمت کا تحقق طلاق بائن میں ہوتا ہے طلاق رجعی میں نہیں جبکہ لفظ آزاد ایسا نہیں ہے۔ اس لیے اسے بہردوصورت لفظ تسریح ، سرحتک کی طرح سمجھنا چاہیے کہ صریح بھی ہے اور اس سے طلاق رجعی واقع ہوگی ۔
اس اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ اب تک طلاق ثلاثہ سے بچنے کے لیے لوگ غیر مقلدین کے فتوی کا سہارا لیتے تھے اسی طرح اب لفظ آزاد تین بار بولنے سے وقوع طلاق ثلاثہ سے بچنے کے لیے لوگ بنوری ٹاؤن کا رخ کرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ دیوبند کے اتنے بڑے دارالافتاء نے ایک طلاق بائن کا فتویٰ دیا ہے اس لیے قبول ہے اور اسی کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔ تجدید نکاح کرکے ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں۔ ایک فتنہ یوٹیوب کا ہے جہاں ہر قسم کے مولوی نے دکان کھولی ہے اور فتویٰ بازی کا کام کرتا ہے، ہر مسئلے کے حوالے سے کوئی نہ کوئی یوٹیوبر بولتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ بعض تو ایسے ہیں کہ ان کو اپنی جامعہ کے موقف کا بھی پتہ نہیں ہوتا ، ادھر فتوی میں کچھ لکھ رہے ہوتے ہیں اور یوٹیوب میں کچھ بول رہے ہوتے ہیں۔ بہتر یہ ہوتا کہ یہ مفتیان کرام مل بیٹھ کر اتفاق کرتے کہ فتوی کس طلاق کا دینا ہے بائن کا یا رجعی کا، تین بار کہنے پر طلاق ثلاثہ واقع ہوگی یا ایک طلاق بائن واقع ہوکر باقی لغو ہوں گی۔ ؟
اللہ سے دعا ہے کہ علمائے کرام کسی ایک موقف پر متفق ہو جائیں اور قوم کو اس مخمصے سے نکالیں۔
#عمررازی دیدلی
18/10/2023
محدود داخلے جاری ہیں۔
مختلف ممالک کی کرنسی نوٹ مختلف الجنس ہیں یا نہیں ؟
آج کل سونے اور چاندی کے بجائے کرنسی رائج ہے ، جس کے پیچھے کسی زمانے میں سونے کی قوت ہوتی تھی ، لیکن اب نہ کرنسی سونے کی ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سونے کی پشت پناہی ہے۔ اس لیے آج جو بعض کرنسیوں پر کچھ عبارتیں لکھی ہیں وہ بے مفہوم ہوکر رہ گئی ہیں۔
کوئی وقت تھا کہ علمائے کرام میں کرنسی کی شرعی حیثیت سے متعلق بحث و مباحثے ہوتے تھے اور اس بارے میں ان میں اختلاف بھی ہوتا اور اس اختلاف کی وجہ سے کرنسی سے متعلق احکام میں اختلاف سامنے آتا تھا، جس کا اثر عوام پر بھی پڑتا تھا۔ اب وہ اختلاف بھی باقی نہیں رہا اور سب کا اتفاق ہوگیا ہے کہ کرنسی ثمن اصطلاحی بن گئی ہے۔ اور اس کے احکام ثمن خلقی کی طرح ہیں۔ اس کے ذریعے زکوۃ کی ادائیگی ہوگی وغیرہ۔
اس وقت کرنسی سے متعلق ایک معرکۃ الآرا مسئلہ یہ ہے کہ کرنسی کاغذ کی ہے اور عددی ہے، نوٹوں میں فرق ہے، کوئی بڑا کوئی چھوٹا ہے، کرنسی دھاتی بھی ہے جیسے ایک دو، پانچ دس اور پچھتر روپے کے سکے اور کاغذی بھی ہے جیسے دس، بیس، پچاس، سو ، پانچ سو، ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ۔ سب کی چلن ہے، ثمن اصطلاحی ہے۔ اس طرح مختلف ممالک کی کاغذی اور دھاتی کرنسیاں موجود ہیں، ان کو کیا سمجھا جائے ، یہ مختلف الجنس ہیں یا متحد الجنس۔ اس بارے عمومی طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ہر ملک کی کرنسی جس شکل میں بھی ہو متحد الجنس ہے اور مختلف ممالک کی کرنسیاں ایک دوسرے کی نسبت سے مختلف الجنس ہیں۔ یہ اتحاد یا اختلاف جنس کس بنا پر ہے۔؟
اس کی وجوہات اور اسباب بھی کم یا زیادہ ہونے کے اعتبار سے مختلف بیان کیے گئے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے فقہ البیوع میں چھ اسباب بیان کئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
(1)ماہیت میں اختلاف ہو
(2)اصل میں اختلاف ہو۔
(3) مقاصد میں اختلاف ہو۔
(4) صنعت میں زیادتی ہو۔
(5) صنعت میں اختلاف ہو
(6) پھلوں میں پکنے کے لحاظ سے اختلاف ہو۔ (فقہ البیوع :633/2تا 636)
ان سب کا خلاصہ تین میں ہے،
(1).اصل مختلف ہو، اگرچہ نام ایک ہو بشرطیکہ اس طرح مخلوط نہ ہوں کہ کسی ایک کو دوسرے پر غلبہ حاصل ہو۔ جیسے سرکہ، یہ انگور کا بھی ہوتا ہے اور کھجور وغیرہ کا بھی، نام ایک ہے مگر اصل مختلف ہے ، مخلوط بھی نہیں ہے اس لیے ہر ایک الگ الگ جنس ہے۔
(2) مقصود میں اختلاف ہو، اگرچہ اصل ایک ہو، جیسے اون اور بال ، بھیڑ میں اون ہوتا ہے اور بکری میں بال، اصل دونوں کا ایک ہے ، کیوں کہ دونوں حکما ایک ہی جنس شمار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بکری کی زکوۃ کا نصاب بھیڑ سے پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن اون اور بال کے مقاصد الگ الگ ہیں ، اس لیے یہ مختلف الجنس ہیں۔ اسی طرح پیٹ کی چربی اور الیہ کی چربی ، دونوں کا اصل ایک ہے مگر مقاصد الگ ہیں اس لیے مختلف الجنس ہیں۔
(3) دونوں کا وصف مختلف ہو اگر چہ اصل اور مقصد ایک ہوں ، جیسے آٹا اور روٹی ، دونوں کا اصل ایک ہے گندم ، جو ، وغیرہ مگر وصف دونوں کا الگ الگ ہے، آٹا کیلی ہے اور روٹی عددی ہے اس لیے جنس مختلف ہیں۔ باقی صنعت میں زیادتی یا اختلاف یہ دونوں اس صورت میں اختلاف جنس کے باعث بنتے ہیں جب اس صنعت کی وجہ سے وصف یا مقصد میں اختلاف پیدا ہوجائے ورنہ نہیں۔ جیسے آٹا اور گندم ، آٹا میں صنعت ہے مگر پھر بھی گندم کا ہم جنس ہے مختلف نہیں کیوں کہ اب بھی دونوں کا مقصد اور وصف ایک ہیں۔ صنعت مختلف ہو اور مقصد بھی مختلف ہو تو مختلف ہوں گے جیسے ہروی اور مروی کپڑے میں اختلاف صنعت کے ساتھ اختلاف مقصد بھی پایا جاتا ہے، کہ ایک سردی کے موسم کا کپڑا ہوتا تھا اور دوسرا گرمی کے موسم کا۔ دونوں کے مقاصد الگ تھے۔ ورنہ صرف اختلاف صنعت جنس کی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا جیسے گل احمد کاٹن اور شبیر کاٹن ، دونوں کی صنعت الگ ہے مگر مقصد ایک ہے اس لیے اختلاف جنس نہیں ہوگا۔
ماہیت میں اختلاف کے ساتھ نام میں بھی اختلاف ہو اور کسی ایک کے غلبے کے ساتھ اختلاط نہ ہو تو سبب اختلاف جنس ہے مگر یہ بدیہی بات ہے جیسے گندم اور جو، انگور اور کھجور۔ صنعت کبھی اختلاف کے بجائے اتحاد کا سبب بنتی ہے جیسے دراہم مغشوشہ ، جن میں کھوٹ مغلوب ہو، پھر کھوٹ ایک میں پیتل کی ہو اور دوسرے میں تانبے یا کسی اور دھات کی، برابر ہے، دراہم مغشوشہ کے حکم میں ہوں گے اور دوسرے دراہم مغشوشہ کے ہم جنس ہوں گے۔ پھل پکنے سے اختلاف جنس ہونا بھی مقصد کے اختلاف سے وابستہ ہے، بہت سارے پھل جب پکے نہ ہوں تو کسی اور مقصد میں کام آتے ہیں اور جب پک جائیں تو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جس پھل میں پکنا اور کچا ہونا استعمال کے اختلاف کا سبب نہ ہو تو وہ اختلاف جنس کا سبب بھی نہیں ہوگا۔ بعض نے نام کا اختلاف سبب اختلاف جنس قرار دے دیا ہے، مگر یہ کوئی بات ہے نہیں ، ہر زبان میں میں چیزوں کے نام الگ الگ ہوتے ہیں۔ یا ایک چیز کے کئی نام ہوتے ہیں ، یا مختلف چیزوں کا ایک ہی نام ہوتا ہے تو اس سے نہ جنس مختلف ہوتا ہے اور نہ متحد، ورنہ روپیہ اور پیسہ الگ الگ نام ہیں ، مختلف الجنس ہوں گے۔ اور ایک روپیہ کے بدلے سو پیسوں کے بجائے کم یا زیادہ پیسے دینا جائز ہوں گے۔ ؟ ہاں نام کے اختلاف کے ساتھ مقصد بدلتا ہو تو پھر اختلاف مقصد کی وجہ سے جنس تبدیل ہوگا۔ فقہائے کرام نے جہاں نام کا ذکر کیا ہے تو وہاں اختلاف مقصد کو لازمی ذکر کیا ہے۔
دیکھیں البحر الرائق:128/6 طبع رشیدیہ: اختلاف الجنس یعرف باختلاف الاسم الخاص واختلاف المقصود۔
وفی الکفایہ مع الفتح: 65/7: ومن حیث اختلاف المجانسۃ بین الشیئن انما یثبت باختلاف الاسم والصورۃ والمعنی۔
بہرحال اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اصل اسباب اختلاف جنس تمام یہی تین ہیں، اور سب فقہائے کرام نے حصر کے ساتھ یہی لکھے ہیں۔ درج ذیل عبارتیں پڑھیں اور مذکورہ تفصیل پر منطبق کریں۔
مجمع الانھر126/3: طبع مکتبۃ المنار کوئٹہ۔
۔۔۔فحاصلہ ان الاختلاف باختلاف الاصل او المقصود او بتبدل الصفۃ۔
وفی الدرالمختار مع الشامی: 183/5طبع سعید: والحاصل ان الاختلاف باختلاف الاصل او المقصود او بتبدل الصفۃ فلیحفظ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: 3715/5:والضابطۃ لاختلاف الجنس عندالحنفیۃ رحمھم اللہ تعالیٰ: ھو بحسب اختلاف الاصل کخل التمر مع خل العنب ولحم البقر مع لحم الضأن او باختلاف المقصود کشعر المعز وصوف الغنم فانہ یختلف القصد من استعمال کل منھما فی الصناعات، او بتبدل الصفۃ کالخبز مع الحنطۃ فان الخبز صار عددیا او موزونا والحنطۃ مکیلۃ۔
تفصیلات کے لیے شامی اور مجمع الانھر کی مذکورہ عبارت سے پہلی والی عبارت دیکھیں۔ ان سے ظاہر ہے کہ حصر کے ساتھ اختلاف جنس کے تین اسباب ہی ذکر کیے گئے ہیں۔ درمیان میں لفظ "او" لانا حصر پر واضح دلیل ہے۔
اب کرنسیوں میں دیکھتے ہیں کہ ان میں اختلاف جنس کے اسباب پائے جاتے ہیں یا نہیں۔
کرنسی میں اصل دو چیزیں بن سکتی ہیں۔
(1)ان کا کاغذ ہونا۔
(2) ان کا ثمن (قوت خرید) ہونا۔ اگر کاغذ ان کا اصل ہو تو اس بارے میں دنیا بھر کی تمام کاغذی کرنسیاں برابر ہیں۔ کیوں کہ سب کاغذی ہونے میں مشترک ہیں۔ ہاں ہوسکتا ہے کہ ان کے کاغذوں میں مضبوط اور کمزور ، اعلی اور ادنی ہونے کا فرق ہو مگر جنس اور اصل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ اس لیے اس بنا پر تمام کرنسیوں کا متحدالجنس ہونا بالکل واضح ہے۔ ناموں میں فرق اور اختلاف، اختلاف جنس کا سبب نہیں۔ جس کی تفصیل گزرچکی۔
ثمن اور قوت خرید ہونا کہ اس کے ذریعے حصول اشیا ہوتا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی دنیا بھر کی تمام کرنسیاں جنس واحد بنتی ہیں۔ کیوں کہ اصل اور مقصد سب کا ایک ہے ، کاغذ اور ثمنیت میں تمام شریک ہیں۔ جس نظر سے بھی دیکھا جائے جنس ایک ہی بنتا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قیمتوں اور قوت خرید کے اعتبار سے ان میں فرق ہے۔ تو ٹھیک ہے کہ ہندسے کے لحاظ سے ان میں فرق ہے مگر ذریعہ برائے حصول اشیا میں برابر ہیں۔۔جتنی چیزیں ایک ڈالرز کی قوت خرید سے حاصل کی جاسکتی ہیں وہی چیزیں روپیہ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ، فرق نوٹوں کی گنتی یا ان پر لکھی ہوئی ہندسوں کا ہے۔ دونوں سے ایک ہی مقصد حاصل ہوتا ہے۔ پھر یہ فرق نوٹوں کی قوت خرید اور ان پر لکھے ہندسوں کا جس طرح مختلف ممالک کی کرنسیوں میں ہے اسی طرح ایک ملک کی کرنسیوں میں بھی ہے۔ سو روپے کے نوٹ میں قوت خرید زیادہ ہے دس سے، فرق صرف لکھی ہوئی ھندسہ کا ہے ورنہ حجم اور کاغذ ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ اسی طرح مختلف ممالک کی کرنسیوں میں قوت خرید کے لحاظ سے تفاوت ہے مگر اصل کے لحاظ سے ایک ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک ملک کی کرنسی تو ہم جنس ہے کیوں کہ ان میں تفاوت ایک ساتھ ہوتا ہے اور مختلف ممالک کی کرنسیاں مختلف جنس اس لیے ہے کہ ان میں تفاوت ایک ساتھ اور یکساں نہیں ہوتا۔ اگر یہی بات ہے کہ قوت خرید میں تفاوت ہے تو پھر کھجوروں کی قیمت میں فرق ہے ، عجوہ کھجور لے جائیں اس پر دو ہزار روپے کا مال ملتا ہے اور دوسری کجھور لے جائیں اس پر پانچ سو سے ہزار تک کا مال ملے گا۔ اب کوئی کہے گا کہ دونوں میں قوت خرید کے لحاظ سے فرق ہے اس لیے یہ ہم جنس نہیں ، تو کیا یہ دلیل قبول کی جائے گی۔ ؟
بہرحال تمام ممالک کی کرنسیاں متحدۃ الجنس ہیں۔ تبادلے کے وقت تقابض اور قیمت یومی کا اعتبار لازم ہے۔ ورنہ سود ہوگا۔ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی نے بھی قیمت یومی کا اعتبار کیا ہے اور بندہ اس کو ضروری سمجھتا ہے ، جامعہ فاروقیہ سے شائع فتوی میں بھی سرکاری قیمت ، قیمت یومی کا لحاظ ضروری قرار دیا گیا ہے، دیگر اہل علم نے اس معاملے کو متعاقدین کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے ، صرف یہ لازمی قرار دے دیا ہے کہ احد البدلین پر مجلس عقد میں قبضہ کیا جائے اور ادھار نہ ہو۔ اور دارالعلوم دیوبند ، جامعہ عثمانیہ پشاور ، بنوری ٹاؤن وغیرہ کا یہی فتویٰ ہے۔ مفتی صاحب نے اس کی وجہ فتح باب الربا بیان کی ہے یعنی مختلف الجنس ہونے کے باوجود قیمت یومی کا لحاظ اس لیے ضروری ہے کہ اعتبار نہ کرنے میں سود کا دروازہ کھلے گا اور لوگ مختلف ممالک کے روپیہ ہی ایک دوسرے پر فروخت کرکے درمیان کے فرق کو اپنا منافع بنائیں گے۔ البتہ مفتی صاحب کے نزدیک اس طرح قیمت یومی کا اعتبار بر بنائے احتیاط ہوگا اور مذکورہ بالا قول والے حضرات کے یہاں قیمت یومی کا لحاظ از روئے اصل ہے احتیاط کے طور پر نہیں۔ بہرحال دلائل کے لحاظ سے مذکورہ بالا قول مضبوط ہے اور اس کا مقابل قول اگرچہ اکثر نے اختیار کیا ہے مگر بلا دلیل ہے یا کمزور دلائل کی بنا پر ہے۔ فقہائے کرام کی تصریحات میں سے کوئی تصریح اس قول کے حق میں نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واکمل
کتبہ عمررازی دیدلی
ہم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید سیاست میں بھی کریں تو پر میدان سر خرو ہوں۔
پیری ومریدی، دوران ذکر لائٹیں بند کرنا اور مخصوص انداز پر ذکر کرنا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Nazim Abad
Karachi