TUTOR

TUTOR

Share

TUTOR. Qualified ACMAP (Inter)
M.A (Economics)
B.Com. (Hons)
CT Certified “The task of the modern educator is not to cut down jungles, but to irrigate deserts.”

27/04/2026

کنواں پاک کرنا ہے کتا تو نکالنا ہی پڑے گا 👊

27/04/2026

بیوی کا "خواب" اور شوہر کی عقلمندی
کہا جاتا ہے کہ دمشق کے ایک محلے میں ایک بہت ہی کنجوس شخص رہتا تھا، لیکن اس کی بیوی کو قیمتی لباسوں اور لذیذ کھانوں کا بہت شوق تھا۔ میاں صاحب کا اصول تھا کہ "پیسہ بچاؤ، چاہے بھوکے سو جاؤ"۔
ایک صبح بیوی مسکراتے ہوئے اٹھی اور شوہر سے کہنے لگی:
"اے میرے سرتاج! آج میں نے ایک کمال کا خواب دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ آپ میرے لیے ریشمی جبّہ اور سونے کے کنگن لائے ہیں، اور ہم نے مل کر بہترین شامی 'قوزی' (گوشت اور چاول) کھائی ہے۔"
شوہر نے سکون سے سنا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"واہ! کتنا مبارک خواب ہے۔ شامی روایت کے مطابق خواب کی تعبیر الٹی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تم میرے لیے ایک اونی واسکٹ لاؤ گی اور ہم مل کر دال روٹی کھائیں گے۔"
بیوی نے فوراً پینترا بدلا اور بولی:
"نہیں نہیں! ابھی مجھے یاد آیا، خواب میں آپ نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ 'بیگم، یہ سب تحفے تو معمولی ہیں، میں تمہیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے بلاد الشام کے پہاڑوں پر لے جاؤں گا'۔"
شوہر نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:
"بیگم! یہ تو تم نے بہت ہی خطرناک خواب دیکھ لیا۔ شامی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ اگر خواب میں 'سفر' نظر آئے، تو اس کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنے گھر کے صحن میں بیٹھ کر ہی قہوہ پی لینا چاہیے، کیونکہ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی جیب خالی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے!"
بیوی شوہر کی حاضر جوابی دیکھ کر خاموش ہوگئی، لیکن جاتے جاتے کہہ گئی:
"خواب میرا تھا یا آپ کا، لیکن 'تعبیر' ہمیشہ آپ کے بٹوے کے حق میں ہی کیوں نکلتی ہے؟"😊

26/04/2026

ارجنٹائن کا ایک شہری انڈوں کا کارٹن خریدنے گیا۔ جب اس نے قیمت پوچھی تو معلوم ہوا کہ ریٹ معمول سے کافی زیادہ ہے۔ اس نے وجہ پوچھی تو دکاندار نے کہا:
"ڈسٹری بیوٹرز نے قیمت بڑھا دی ہے۔"

یہ سن کر اُس شہری نے خاموشی سے انڈوں کا کارٹن اٹھایا… پھر واپس رکھ دیا اور کہا:
"ہم انڈوں کے بغیر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔"

یہ کوئی مہم نہیں تھی، نہ ہڑتال… بلکہ یہ لوگوں کا شعور اور کلچر تھا۔
آہستہ آہستہ پورے شہر کے لوگوں نے یہی طرزِ عمل اپنا لیا۔ کسی نے شور نہیں مچایا، بس خریدنا بند کر دیا۔

نتیجہ کیا نکلا؟

ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سپلائرز انڈے لے کر دکانوں پر پہنچے، مگر دکانداروں نے نیا مال لینے سے انکار کر دیا… کیونکہ پرانا اسٹاک ہی نہیں بک رہا تھا۔

کمپنیوں نے سوچا کہ یہ وقتی ردعمل ہے، چند دن میں لوگ واپس خریداری شروع کر دیں گے۔
لیکن ایسا نہیں ہوا… لوگوں نے اپنا فیصلہ قائم رکھا۔

نقصان بڑھنے لگا…
ایک طرف انڈے فروخت نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہے تھے،
دوسری طرف مرغیوں کی خوراک اور دیکھ بھال کا خرچ جاری تھا۔
یوں نقصان دوہرا ہوتا چلا گیا۔

آخرکار پولٹری کمپنیوں کے مالکان بیٹھے، مشورہ کیا اور قیمتیں واپس پرانے لیول پر لانے کا فیصلہ کیا…
مگر عوام پھر بھی نہ مانے۔

جب حالات مزید خراب ہوئے تو کمپنیوں کو عوام سے باقاعدہ معافی مانگنی پڑی،
اور انڈوں کی قیمت کو پہلے سے بھی کم کر کے تقریباً ایک چوتھائی تک لے آنا پڑا۔

یہ کوئی کہانی نہیں… ایک حقیقت ہے۔

یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
ہم بحیثیت قوم چاہیں تو کسی بھی چیز کی قیمت کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
نہ ہنگامہ چاہیے، نہ احتجاج…
بس شعور، صبر اور اجتماعی فیصلہ۔

اگر ہم خود بدل جائیں، تو حالات خود بدل جاتے ہیں۔

26/04/2026

اپنی اقدار (Values) کو کبھی نہ کھوئیں
​زندگی ہر اس چیز کی اہمیت گھٹا دیتی ہے جو اپنی اصل پہچان پر قائم رہنے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایک سانپ سے صرف اس لیے ڈرا جاتا ہے، اس کا احترام (خوف کی وجہ سے) کیا جاتا ہے اور اس سے بچا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی جبلت اور پہچان برقرار رکھتا ہے۔
​لیکن جس لمحے وہ ایک سانپ کی طرح برتاؤ کرنا چھوڑ دیتا ہے—نہ کوئی چوکنا پن، نہ اپنا دفاع اور نہ ہی اپنی موجودگی کا احساس—تو وہ اپنی قیمت اور اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔ وہ ایک عام سی چیز بن جاتا ہے، جسے لوگ کھلونا بنا لیتے ہیں۔
​یہی اصول ہم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔ جب آپ اپنی بے عزتی برداشت کرنے لگتے ہیں۔ جب آپ کسی مقصد کے لیے کھڑے ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جب آپ وہاں خاموش رہتے ہیں جہاں آپ کی آواز کی ضرورت ہوتی ہے۔
​تو لوگ آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک شروع کر دیتے ہیں جیسا آپ خود کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ ویسا جو آپ حقیقت میں ہیں۔ عزت لفظوں سے نہیں مانگی جاتی، بلکہ یہ آپ کی پہچان اور آپ کے طرزِ عمل سے حاصل کی جاتی ہے۔
​اگر آپ خود اپنی پہچان نہیں بنائیں گے، تو دنیا آپ کی پہچان طے کرے گی۔ اگر آپ اپنی قدر خود نہیں کریں گے، تو لوگ آپ کو بہت سستا سمجھیں گے۔
​جانیے کہ آپ کون ہیں۔ اپنی اقدار پر ڈٹ جائیں۔ اپنے آپ کو وقار کے ساتھ پیش کریں۔
​کیونکہ جس لمحے آپ نے ویسا بننا چھوڑ دیا جیسا آپ کو ہونا چاہیے تھا، تو یہ دنیا آپ کا رتبہ گھٹا کر وہ بنا دے گی جو آپ کبھی تھے ہی نہیں۔
​خلاصہ:
​یہ تحریر ہمیں سکھاتی ہے کہ خودداری، عزتِ نفس اور اپنی پہچان (Identity) پر سمجھوتہ کرنا انسان کو دوسروں کی نظر میں معمولی بنا دیتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کی قدر کرے، تو پہلے خود کو پہچانیں اور اپنی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں۔
اس تحریر کا گہرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا کوئی طاقتور چیز اپنی ہیبت، رعب یا اپنی اصل پہچان کھو دے، تو لوگ اسے اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگتے ہیں۔ یہ محاورتاً عزتِ نفس اور اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

25/04/2026

بھیڑیا کبھی لاشیں نہیں کھاتا، نہ جانور، نہ انسان۔ یہ اپنی پوری زندگی ایک ساتھی کے ساتھ گزارتا ہے، یہ اپنی ماں یا بہن کے ساتھ ہمبستری نہیں کرتا؛ یہ یک زوجیت والا جانور ہے، یہ دھوکہ نہیں دیتا۔
اگر کوئی ساتھی مر جائے تو بھیڑیا اکیلا رہتا ہے۔ یہ اپنے بچوں کو اچھی طرح جانتا ہے: یہ واحد جانور ہے جو بڑھاپے کے بعد اپنے والدین کی مدد کرتا ہے اور انہیں کھانا لاتا ہے۔
*بعض اوقات فلم میں بری چیز یہ نہیں ہوتی کہ وہ اسے کیسے پیش کرتے ہیں 🤨

24/04/2026

بڑے کام کرنے کے لیے قد و قامت کا بڑا ہونا لازم نہیں۔
​تفصیلی وضاحت
​اس جملے کا مطلب صرف جسمانی طاقت یا جسامت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہری حکمت پر مبنی ہے جس کے چند پہلو یہ ہیں:
​عقل اور حکمت کی فوقیت: انسان اپنی عقل، نئی سوچ اور صحیح آلات (Tools) کے استعمال سے وہ پہاڑ بھی ہٹا سکتا ہے جو بظاہر اس کی ہمت سے باہر ہوتے ہیں۔ جیسے ایک چھوٹا سا "جیک" پوری گاڑی کو اٹھا لیتا ہے۔
​ارادہ اور ہمت: کامیابی کا تعلق آپ کے جسم کے سائز سے نہیں بلکہ آپ کے ارادے کی مضبوطی سے ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے بڑے انقلاب ان لوگوں نے برپا کیے جن کے پاس وسائل کم تھے لیکن عزم پہاڑ جیسا تھا۔
​تکنیک کا استعمال (Leverage): فزکس کا اصول ہے کہ اگر آپ کے پاس صحیح "لیور" (Lever) ہو، تو آپ تھوڑی سی قوت لگا کر بہت وزنی چیز کو حرکت دے سکتے ہیں۔ زندگی میں بھی صحیح حکمتِ عملی (Strategy) جسمانی زور سے زیادہ کارگر ہوتی ہے۔
​خود اعتمادی: یہ جملہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کبھی بھی خود کو چھوٹا یا کمزور سمجھ کر پیچھے نہ ہٹیں، کیونکہ آپ کی طاقت آپ کی جسامت میں نہیں بلکہ آپ کے حوصلے اور طریقہ کار میں چھپی ہے۔
​خلاصہ: یہ جملہ دراصل "ہمتِ مرداں مددِ خدا" اور "عقل بڑی کہ بھینس" جیسے تصورات کی جدید عکاسی کرتا ہے کہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کام کو کس مہارت سے انجام دیتے ہیں، نہ کہ یہ کہ آپ دکھنے میں کتنے طاقتور ہیں

24/04/2026

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شريک ہے
شرکت ميانہ حق و باطل نہ کر قبول

فرہنگ:
(۱) باطل: جھوٹ
(۲) دوئی پسند: دو کو پسند کرنے والا، توحید کا منکر، خدا کے سوا کسی دوسری ہستی کو ماننے والا
(۳) حق: سچ، مراد خدا
(۴) لاشریک: جس کا کوئی ثانی یا شریک نہ ہو، یعنی صرف وہی عبادت کے لائق ہو
(۵) میانہ: درمیان، بیچ
تشریح:
عشق حق کے لیے آزمائش کا وقت آ جائے تو سچا عاشق بے تکلف حق کا راستہ اختیار کر لیتا ہے خواہ اس کا نتیجہ کچھ نکلے۔ باطل ایسے موقعوں پر اپنے لیے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے اور حق کے سوا کسی غیر کی اطاعت بھی قبول کر لیتا ہے حالانکہ حق کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ اے مخاطب! تو بھی حق کے ساتھ باطل کو شریک نہ کر۔ اگر اپنے عشق کے دعوے میں سچا ہے تو صرف حق ہی کے لیے زندگی وقف رکھ۔
(شرح غلام رسول مہر)

باطل کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے ساتھ، طاقتور انسان یا قوم کی اطاعت بھی کرو۔ اور حق کی تلقین یہ ہے کہ خدا کے علاوہ اور کسی کی اطاعت مت کرو، چونکہ تو حق پرست ہے، اس لیے حق کے ساتھ باطل کو شامل مت کر یعنی ﷲ کے سوا اور کسی کی اطاعت مت کرو۔
(شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

ضر ب کلیم
سلطان ٹيپوکی وصيت

24/04/2026

شیطان آپ کے معاملے میں صبر کا بہترین مظاہرہ کرتا ہے کیونکہ آپ اس کی زندگی کا مقصد ہیں۔ وہ آپ کے ساتھ اتنی باریکی سے اور آہستہ آہستہ کام کرتا ہے کہ آپ اکثر اس کا احساس نہیں کر پاتے۔
ابتداء میں وہ صرف ایک چھوٹے عمل — جیسے ایک روزانہ کی عبادت یا تسبیح — سے آپ کو محروم کر دیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ دل سے دین کی محبت کو نکال کر اسے اپنی مرضی کے عناصر سے بھر دیتا ہے۔

Manahil malik

23/04/2026

احتیاط کرو پاکستانیو ورنہ دنیا کی ایک نایاب قوم مشکل میں پڑ جائے گی۔
کیسے۔۔
دھیان کریں 👇👇👇
1۔دنیا میں ایسی کوئی اور قوم نہیں جس کا پڑھا لکھا نوجوان پینٹ شرٹ پہن کر نوے کو "نبے" اور گیارہ کو "یارہ" سترہ کو "ستارہ" بولتا ہو

2۔دنیا میں ایسی کوئی اور قوم نہیں جو واٹس ایپ پر عالم،فیس بک پر دانشور اور ٹک ٹاک پر مراثی ہو 🤣🤣

3۔دنیا کی ایسی کوئی اور قوم نہیں جو مینار پاکستان کے اوپر چڑھ کر مقابلہ کرے کہ "آ ویکھ نیچے تھوک کس کی جلدی پہنچے گی؟"

4۔دنیا میں ایسی کوئی اور قوم کدھر ہے جو اگر ایکسیڈنٹ میں سر پھٹ جائے تو ہسپتال جاتے ہیں اور ایکسیڈنٹ ہونے سے بچ جائے تو ایک دوسرے کا سر پھاڑ کر تھانے جاتے ہیں 😁😁
5۔دنیا کی ایسی قوم بھلا کس نے دیکھی ہے جو بازارِ میں پڑے ہیلی کاپٹر کی قیمت بھی پوچھ لیتی ہے "بھائی ہیلی کاپٹر کتنے کا ہے؟"
"دس کروڑ کا" "تین سو میں دے دو،پچھلے سال بھی ہم نے لیا تھا دو سو کا"😑😑

6۔دنیا کی وہ قوم مشکل میں ہو گی جو کھانا کھا کر ہاتھ پردے سے صاف کرتے ہیں اور سر سے جوئیں بھگانے کیلئے دیسی گھی کا استعمال کرتے ہیں۔۔جوؤں کے ساتھ آس پاس کی عوام بھی بھاگ جاتی ہے 😅😅

7۔ایسی قوم بھلا کدھر ہو گی جس نے رشوت کے نام بھی اتنے دلچسپ رکھے ہیں کہ رشوت لینا ثواب کا کام لگتا ہے "خدمت" "چٹی" "نذرانہ" 😑😑

8۔ایسی قوم بھلا کدھر ہو گی جو عید پر نئے کپڑے سلوانے کے لئے درزی کو ہزار روپے دے دیتے ہیں پر قربانی کیلئے قصائی والے پیسے بچا کر خود جانور حلال کرتے ہیں اور کپڑوں کا ستیاناس کرتے ہیں 🤣

9۔دنیا کی وہ قوم کدھر ہے جو ساس بہو کی لڑائی میں بھی امریکی سازش ڈھونڈ لیتے ہیں۔۔👌

10۔ایسی قوم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنی جو پانچ روپے کا دھنیا خرید کر بھی شاپر ڈبل کرواتے ہیں 😅😅

11۔ایسی قوم نایاب ہے جس کے نوجوان آزادی کا جشن دوسروں کو ذلیل کرکے مناتے ہیں "پاں پاں پاں"

12۔ایسی قوم بھلا کدھر ہے جو پھلوں میں دو نمبر طریقے سے رس بھر لیتے ہیں 😎😎
اور اور اور سارا سال حکمرانوں کو گالیاں دے کر،مہنگائی کا رونا رو کر۔۔اندھے ڈرائیوروں کی گاڑیوں کے نیچے کچلے جانے اور پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے باوجود نعرہ "پاکستان زندہ باد"ہی لگاتے ہیں

Photos from Ayaan Science Academy - ASA's post 22/04/2026
22/04/2026

چالیس سے ساٹھ سال کے لڑکے لڑکیاں ضرور پڑھیں۔۔۔۔

ﻭﮦ ﭘﯿﻨﭩﯿﻢ 4 (Pentium4) ﺟﻮ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﺳﻤﺒﻞ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺁﺝ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ؛
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺻﺮﻑ ﭼﮫ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮈﯾﺴﮏ ﭨﺎﭖ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺗﮭﮯ ‘ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﭘﺎﻭﺭ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺳﯽ ﮈﯼ ﺭﻭﻡ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ' ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ‘ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺁﺝ ﮐﻞ ﻣﮑﯿﻨﮏ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻓﻼﭘﯽ ﮈﺳﮏ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻓﻼﭘﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﯽ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﭼﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﭼﻞ ﮔﺌﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐﮭﭩﮑﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﺎﻡ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮨﻢ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﻣﻮﺑﻞ ﺁﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﮯ ﺟﺪﯾﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔
ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻻ ﺗﻮ ﻣﯿﺘﮭﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺮﺍﭨﮭﮯ ﮐﺎﺳﻮﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻻ۔
ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﮕﺮ ﺑﺮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺳﭧ ﻓﻮﮈ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﮐﺎﻧﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻣﮑﺌﯽ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﮒ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ‘ ﺗﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﺴﯽ ﺍﺏ ﺭﯾﮍﮬﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔

ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮ ‘ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﯾﺎ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻓﺮﯾﺞ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ ‘ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ؛ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﻮ ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﮨﮯ۔
ﺟﻦ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺭﺍﺕ ﺁﭨﮫ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺭﺍﺕ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮈﻧﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺑﺠﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﭘﻮﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﺍﭨﺮ ﮐﻮﻟﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺑﺮﻑ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔ ﺍﺏ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺞ ﮨﮯ ‘ ﻓﺮﯾﺰﺭ ﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺮﻑ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ' ﭼﮭﮑﻮ ‘ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺏ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﭘﺮ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮕﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﮍﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺗﮯ۔
ﺍﺏ ﻟﻨﮉﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﭘﯿﻨﭧ ﺳﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻠﺘﮯ ‘ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﻭﺍﻻ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﯿﮓ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ۔
ﺑﭽﮯ ﺍﺏ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺍﻣﯽ ﺍﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ' ﯾﺎﺭ ‘ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﻠﺐ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮﺭ ﺍﯾﻞ ﺍﯼ ﮈﯼ ﻣﯿﮟ۔
ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺳﻮﻧﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮈﺑﻞ ﺑﯿﮉ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﭽﮭﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﮔﺪﮮ۔ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﻠﻨﮓ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﺳﮯ ﻣﯿﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ۔
ﺍﺏ ﺑﭽﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻼﺗﮯ ‘ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﺮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻦ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﺩﮬﻮﻝ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺏ ﮔﺎﮌﯾﺎﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺍﮌﺍﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﯿﺎﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺲ ﺁﮔﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺳﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﻟﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻞ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﯽ ﺳﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺎﻝ ﻣﻼﻧﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺗﻮ ﻟﯿﻨﮉ ﻻﺋﻦ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﮏ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﺮﯾﭩﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﻨﭧ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺰﯾﺰ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮﮔﻔﭧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ' ﮔﮭﮍﯾﺎﮞ ‘ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﺍﮎ ﻣﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﮯ ‘
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭨﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯽ ﺳﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﭨﯿﻨﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﭼﻼ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ " ﻧﻠﮑﺎ " ﺑﮭﯽ ' ﺑﻮﮐﯽ ‘ ﺳﻤﯿﺖ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺍ۔
ﻭﺍﺵ ﺑﯿﺴﻦ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ' ﮐﮭﺮﮮ ‘ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔
ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮐﭗ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔
ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺣﻘﮯ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ‘ ﺍﺏ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻘﮧ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﮭﭩﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﮑﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺗﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ‘ ﺍﺏ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﯿﭩﺮﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﻨﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﮑﯿﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺴﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﯿﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺟﺮﺳﯿﺎﮞ ﺑﻨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ... ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺮﺳﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ‘ ﺳﺴﺘﯽ ﺑﮭﯽ ‘ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺑﮭﯽ۔
ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺏ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺐ ﻣﻞ ﮐﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ‘ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ Repeat ﭨﯿﻠﯽ ﮐﺎﺳﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﺭﺍﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﻧﯿﻮﺯ ﭼﯿﻨﻞ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺑﮩﻼ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺑﭽﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﺱ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ۔
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﺎ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺧﻮﻑ ﺁﮌﮮ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ... ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﻤﮏ ﯾﺎ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﯽ۔
ﮔﺪﺍﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺤﻠﮧ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﯾﺮﻗﺎﻥ ﯾﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺳﺮﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﻡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﮭﻠﮯ ﭼﻨﮕﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻂ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﮈﺍﮐﺌﮯ ﺳﮯ ﺧﻂ ﭘﮍﮬﻮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮈﺍﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﭘﮍﮪ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺴﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔
ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ' ﻧﺼﺮ ﻣﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﻓﺘﺢ ﻗﺮﯾﺐ ‘ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ '' ﺍﻭﮐﮯ ‘‘ ﻧﮩﯿﮟ '' ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ‘ ‘ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﻮﺕ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮨﺮ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻟﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻠﯿﭧ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﻠﯿﭧ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﮨﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺣﻠﻮﮦ ‘ ﺯﺭﺩﮦ ﭼﺎﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﺮ۔
ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﺩﻭﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﺑﻨﯽ ﺭﯾﮍﮬﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﻮﺯﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺠﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﻣﮑﯿﻨﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ‘ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﻗﻤﯿﺺ ﮐﺎ ﮐﻮﻧﺎ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﺎﺋﮯ ‘ ﭘﻤﭗ ﺳﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻧﯿﺎﺯ ﺑﭩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﻖ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺟﺎﺗﯽ '' ﺑﭽﻮ ﺁﺅ ﭼﯿﺰ ﻟﮯ ﻟﻮ " ﺍﻭﺭ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻢ ﻏﻔﯿﺮ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯿﮟ '' ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ " ۔
ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﭘﯿﮑﭧ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ‘ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ' ﺑﮩﺎﻧﮯ ‘ ﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺗﮭﯽ ‘ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔
ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯿﺎﮞ ﺑﭽﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﺣﻘﮯ ﭘﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺁﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮐﮭﮯ۔
ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﻟﯿﭗ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﮭﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﺳﺨﺖ ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘
ﻟﯿﮑﻦ ... ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﮯ ﺟﺪﯾﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔
ﺍﺏ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﺧﺎﻧﮧ ﺳﯿﮍﮬﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮑﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ۔
ﻣﻨﺠﻦ ﺳﮯ ﭨﻮﺗﮫ ﭘﯿﺴﭧ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﮩﺘﺮ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﻟﯽ ﮨﮯ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺳﮩﻮﻟﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮈﺑﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ‘ * ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ‘ ﺳﺮﺩﺭﺩ ‘ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ‘ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭﻭﭨﺎﻣﻨﺰ ﮐﯽ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ * ۔💔

Photos from TUTOR's post 22/04/2026

Class 9 Biology Guess Papers

Adamjee Coaching Centre Guess Paper
Practical Centre Comprehensive Paper
Supplementary Paper 2025
Adamjee Coaching Centre Prelim Paper

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi
750570