24/01/2026
جامع مسجد فلاح کلفٹن کراچی
An institution for the study of Islamic theology and religious law.
24/01/2026
جامع مسجد فلاح کلفٹن کراچی
جامع مسجد فلاح کلفٹن میں بزم دعوت قرآن کے زیر اہتمام درس قرآن مجید 10 سال مکمل ہونے کی تقریب سعید، استاذ العلماء علامہ ڈاکٹر صحبت خان کوہاٹی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں مہمان خصوصی استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ مظہر الحق شاہ صاحب مدظلہ نے خصوصی خطاب فرمایا۔
جو طلباء ائمہ اور موذنین منزل حفظ کا شوق رکھتے ہیں اور صحیح تلاوت و قرأت کے ساتھ قرأن مجید کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ فوری طور پر رابطہ کریں۔ ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی شعبئہ حفظ و ناظرہ، تجوید و قرأت، درسِ نظامی میں داخلے جاری ہیں۔
طلبہ شعبہ تجوید و قرأت کے استاذ، فضیلۃالشیخ قاری محمد اسلم سعیدی حفظہ اللہ سے قرأت قرآن کی مشق کرتے ہوئے ادارۂ ھذا میں ماہر اساتذہ کی نگرانی شعبئہ حفظ و ناظرہ ،تجوید قرآت ،درس نظامی میں داخلے جاری ہیں
بئر غرس مدینۃالمنورہ زادھااللہ شرفا وتعظیما استادصاحب کی مدینہ پاک میں اہم تاریخی کنویں پر حاضری. بئرِ غرس مدینہ منورہ کا ایک بہت قدیم اور مبارک کنواں ہے، جس سے نبی کریم ﷺ کو خاص محبت تھی. احدیث میں اس کنویں کے پانی کی پاکیزگی، برکت اور خوشگواری کا ذکر ملتا ہے. نبی کریم ﷺ کا اس کنویں سے تعلق احدیث کے مطابق: آپ ﷺ کو اس کنویں کا پانی بہت پسند تھا. آپ ﷺ نے وصیت فرمائی: “میرے غسلِ جنازہ کے لیے بئرِ غرس کے پانی کو استعمال کرنا.” بعض روایات میں ہے کہ وفات سے پہلے آخری پانی جو آپ ﷺ نے پیا، وہ بئرِ غرس کا تھا. اس وجہ سے یہ کنواں پورے مدینہ میں سب سے زیادہ مقدّس اور اہم سمجھا جاتا ہے. یہ کنواں آج بھی مدینہ منورہ میں موجود ہے. اس کا مقام جنت البقیع کے قریب، وادی عقیق کے علاقے میں شمار کیا جاتا ہے. آج کل اس کے گرد ایک حفاظتی دیوار اور لوحِ تعارف موجود ہے، کیونکہ یہ مقام تاریخی ورثہ ہے. غرس عربی لفظ ہے، معنی: پودا لگانا، کاشت کرنا، نرم پودا یا ثمر. ممکن ہے کہ اس علاقے میں پودے یا باغات ہوا کرتے تھے، اسی نسبت سے اس کا نام بئرِ غرس پڑا. 🏛️💚🕊️👏
زیارت مسجد قبلتین مدینۃالمنورہ زادھااللہ شرفا وتعظیما
استاذ محترم حضرت علامہ حافظ شاہ مظہر الحق مدظلہ 23/11/2025 🏛️💚
⭐ مسجدِ قبلتین کی تفصیلی تاریخ
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکےنماز پڑھتے تھے۔ یہ حکم تقریباً سولہ سے سترہ ماہ تک باقی رہا سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواہش تھی کہ قبلہ کعبۃ اللہ کو بنادیاجائے آپکی خواہش پر دوران نماز اسی مسجد میں قبلہ تبدیل ہونےکا فرمان نازل ہوا۔
⭐ قبلہ تبدیلی کا واقعہ
روایات کے مطابق، نبی کریم ﷺ نمازِ ظہر یا عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
> فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
یعنی: اپنا چہرہ مسجدِ حرام (کعبہ) کی طرف پھیر لیجیے۔
اس حکم کے ملتے ہی:
امام (نبی ﷺ) نے نماز کے اندر ہی اپنا چہرہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف موڑ لیا۔
باقی صحابہؓ بھی نماز کے دوران فوراً دوسری سمت کی طرف پلٹ گئے۔
اس تاریخی عمل کی وجہ سے یہ مسجد مسجدِ قبلتین کہلائی۔
⭐ معماری اور موجودہ حالت
مسجد قدیم دور میں چھوٹی سی تھی، مگر وقت کے ساتھ کئی بار تعمیر اور توسیع ہوئی۔
موجودہ تعمیر نہایت خوبصورت، جدید طرز کی اور وسیع ہے۔
روایتی طور پر دو محراب رکھی گئی تھیں (ایک بیت المقدس کی سمت، ایک کعبہ کی سمت)، مگر جدید توسیع میں اصل تاریخی محراب کو محفوظ رکھتے ہوئے مسجد کو نئی شکل دی گئی ہے۔
⭐ روحانی و تاریخی اہمیت
یہ واحد مسجد ہے جہاں نماز کے دوران قبلہ تبدیل ہوا۔
حجاج اور عمرہ زائرین اسے زیارت کے اہم مقامات میں شمار کرتے ہیں۔
یہ واقعہ مسلمانوں کی شدید اطاعت اور یکجہتی کی بہترین مثال سمجھا جاتاہے