"اے اللہ! درود و سلام بھیج اُنﷺ پر ، جن کی انگلیوں کے درمیان سے پانی (کے چشمے) جاری ہوئے۔"🤍🫀
Hafiz Malik1203
Whatsapp 03303487293
میری تنخواہ ایک مزدور کے برابر مقرر کی جائے اگر میرا گزارا نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دُونگا۔
خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضہ
یوم مزدور پر اس سے بڑا پیغام کوئی نہیں۔❤️❤️
اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کی محبت کی
اسیر ہوں ، اور میرا دل ہر پل آپ ہی کے عشق
کی سرگوشیاں کرتا ہے۔🥺🤎
نماز میں ہنسنے کا حکم
سوال
نماز میں ہنسنے کا کیاحکم ہے؟
جواب
نماز کی حالت میں ہنسنا گناہ ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دربار اقدس کے آداب کے خلاف ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے، اگر نماز کے دوران ہنسی میں صرف دانت کھل گئے یعنی صرف مسکرایا، آواز بالکل نہیں نکلی تو وضو اور نماز دونوں باقی ہیں یعنی نہ نماز فاسد ہوئی اور نہ وضو ٹوٹا، اور اگر اتنی آواز نکلی کہ خود سن لی تو نماز ٹوٹ گئی، وضو نہیں ٹوٹا، اور اگر اتنی زور سے ہنسا کہ اہل مجلس نے آواز سن لی تو وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی، بشرطیکہ بالغ ہو، نابالغ کا وضو نماز میں ہنسنے سے نہیں ٹوٹتا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها القهقهة) وحد القهقهة أن يكون مسموعا له ولجيرانه، والضحك أن يكون مسموعا له ولا يكون مسموعا لجيرانه، والتبسم أن لا يكون مسموعا له ولا لجيرانه كذا في الذخيرة. القهقهة في كل صلاة فيها ركوع وسجود تنقض الصلاة والوضوء عندنا، كذا في المحيط، سواء كانت عمدا أو نسيانا كذا في الخلاصة، ولا تنقض الطهارة خارج الصلاة، والضحك يبطل الصلاة ولا يبطل الطهارة، والتبسم لا يبطل الصلاة ولا الطهارة، ولو قهقه في سجدة التلاوة أو في صلاة الجنازة تبطل ما كان فيها ولا تنقض الطهارة، كذا في فتاوى قاضي خان.والقهقهة من الصبي في حال الصلاة لا تنقض الوضوء كذا في المحيط."
(الفتاوى الهندية: كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء 1/ 12، ط. رشيديه)
"اے خلاصہِ مجموعہِ کمال ، اے مطلعِ انوارِ ذوالجلال ، اے حقیقتِ لازوالﷺ"🤍🫀
"کتنا دلکش ہوگا وہ سراپاﷺ۔؟ جس کی خاطر صحابہ اپنے گھر بار، اپنی جانیں اور اپنی کل کائنات قربان کرنا اپنی معراج سمجھتے تھے"۔🥺❤🫀
﴿ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴾
"جو بھی اس (زمین) پر ہے،
فنا ہونے والا ہے۔"
(سورہ الرحمن: 26) 🤎
28/04/2026
"حضرت محمد ﷺ پر درود ہو قرآن کے حروف کی
تعداد کے برابر ، ایک ایک حرف کر کے ، اور ہر حرف
کو ہزار ہزار بار ضرب دے کر (لاکھوں بار)"🤍🫀
شبِ زفاف کی قبیح و بدترین عادات میں سے ایک !
امام الدميری الشافعي (ت: ٨٠٨هـ) بیوی کو لوگوں کے سامنے بوسہ دینے کے بارے میں کہتے ہیں:
" یہ کام وہی شخص کرتا ہے جسکی ہمت پست اور طبعیت گھٹیا ہو "
ابن حجر الھیتمی الشافعی (ت ٩٧٤هـ) کہتے ہیں:
" شب زفاف میں لوگوں اور اجنبی عورتوں کے سامنے بیوی کو بوسہ دینے کا عمل وہی کرسکتا ہے، جس میں اخلاق(حیا و دین) نام کی کوئی شے نہیں "
اسی طرح نجمد الدین الغزی (ت: ١٠٦١هـ) لکھتے ہیں:
" ان کاموں میں سے جو مروت کے خلاف ہیں، بیوی یا اپنی باندی کی لوگوں کے سامنے تقبیل کرنا، چاہے صرف محرم عورتیں ہی سامنے کیوں نہ ہو "
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi