Hafiz Malik1203

Hafiz Malik1203 Whatsapp 03303487293

09/08/2026

`رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:`
*’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا، آج کے دن جب میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں۔‘‘*💞
_صحیح مسلم 6548_

07/08/2026
21/07/2026

سیرت کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جب عکرمہ بن ابی جہل ایمان لا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے تھے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو جمع کیا اور ان فرمایا:

«يأتيكم عكرمة بن أبي جهل مؤمنًا مهاجرًا، فلا تسبوا أباه، فإن سب الميت يؤذي الحي، ولا يبلغ الميت»

’’تمہارے پاس عکرمہ بن ابی جہل مومن اور مہاجر بن کر آ رہے ہیں۔ ان کے باپ کو برا نہ کہنا، کیونکہ مردے کو برا کہنا زندہ کو اذیت دیتا ہے اور مردے تک نہیں پہنچتا۔‘‘

پھر جب عکرمہؓ پہنچے تو روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ ان کی آمد پر خوش ہوئے اور ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔

قربانت شوم۔۔۔

ابو جہل کی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہ تھی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے اور اسلام کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے یہ گوارا نہیں کیا کہ اس کے جرائم کا ذکر اس کے بیٹے کے لیے اذیت کا باعث بنے۔

یہ واقعہ ہمیں اخلاق کا ایک نہایت اہم اصول سکھاتا ہے۔ہر سچی بات ہر جگہ اور ہر موقع پر کہنا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کسی بات کا حاصل صرف یہ ہو کہ سامنے والے کا دل دکھے، اس کی عزت مجروح ہو اور ایک ایسی تکلیف پیدا ہو جس سے کوئی خیر وابستہ نہ ہو، تو اسے چھوڑ دینا بھی حسنِ اخلاق ہے۔

ہم اپنی ناراضی اور اختلاف میں اکثر یہ حد بھول جاتے ہیں۔ کسی شخص کے والدین، خاندان، ماضی یا تعلقات کو نشانہ بنانا شاید وقتی طور پر ہمارے غصے کو تسکین دے دے، مگر یہ انصاف بھی نہیں اور اخلاق بھی نہیں۔ ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار ہے؛ اسے دوسروں کے اعمال کا طعنہ دینا زیادتی ہے۔

اور جو شخص ماضی سے نکل کر خیر کی طرف قدم بڑھائے، اسے بار بار اس کی پرانی نسبتوں سے زخمی کرنا نہیں، بلکہ اس کے لیے واپسی کا راستہ کشادہ کرنا ہی رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صرف حق پر قائم رہنا نہیں سکھایا
آپ نے یہ بھی سکھایا کہ حق کہتے ہوئے انسان کی حرمت، اس کی عزت اور اس کے دل کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔

21/07/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔"
(جامع الترمذی: 2344)
ذرا اس حدیث پر غور کیجیے۔
پرندے صبح اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، رزق کی تلاش میں اڑتے ہیں، ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، پھر شام تک اللہ تعالیٰ انہیں سیر کر کے واپس لوٹاتا ہے۔ وہ گھونسلوں میں بیٹھ کر رزق کے آنے کا انتظار نہیں کرتے۔
یہی حقیقی توکل ہے۔
توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز اسباب اختیار کیے جائیں، پوری محنت کی جائے، دعا کی جائے، اور پھر نتیجہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔
میرے انباکس میں اکثر قرآن پڑھانے والی بہنوں اور بھائیوں کے پیغامات آتے ہیں کہ: "ہمیں طلبہ کیسے ملیں گے؟ کیا آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں؟"
میری سب بہنوں اور بھائیوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں، تجوید اور قرآن کی تعلیم میں مہارت حاصل کریں، اخلاص کے ساتھ پڑھائیں، اپنی خدمات لوگوں تک پہنچانے کی جائز کوشش کریں، اور اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کریں۔ پھر پورے یقین کے ساتھ اسی پر بھروسہ رکھیں۔
یقین رکھیں، اگر آپ کا توکل واقعی اللہ تعالیٰ پر ہوگا تو وہ آپ کے لیے ایسے دروازے کھول دے گا جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
جس رب نے آسمانوں میں اڑتے پرندوں کے رزق کی ذمہ داری لی ہے، وہ اپنے بندوں کو کیسے بھول سکتا ہے؟ اس لیے سب سے پہلے اپنے رب کے دروازے پر دستک دیجیے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ عطا فرمانے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو کوئی بھی اس کے فضل کو روک نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا توکل، مضبوط ایمان، اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق، اور حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲🏻🌿

21/07/2026

درود پڑھنا دل کی روشنی زبان کی خوشبو اور روح کی راحت ہے!

صلی اللہ علیہ والہ و سلم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔"

(صحیح مسلم)

درود شریف کا ورد جاری رکھیں

21/07/2026

*محبــت کــے ســاتــھ پــڑھیــں🌹*

*`مُحَمَّـــــد صَـلّٰی الــلّٰـــهُ عَلَيــه وآلــہ وَسَـــــلَّـم`*🤍

21/07/2026

سخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کا شرعی حکم

س

بہت سے مسلمان سستی کرتے ہوئے اپنی شلوار / پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، کیا ایک مسلمان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ؟

رج

رسول الله صلى اللهم صلی العلیم نے بہت سی احادیث میں شلوار / پینٹ وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے منع فرمایا ہے، جیسے ابو ہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا:

مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ» (صحيح البخاري: 5787)

چادر کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں (جلے ) گا۔“

سید نا ابو ذر رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : المُسْبِلُ ، وَالمَنَانُ، وَالمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ» (صحيح مسلم: (106)

روز قیامت اللہ تعالی تین قسم کے لوگوں کی طرف نہ تو دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا، ( نیکی کر کے ) احسان جتلانے والا، اپنا سامان جھوٹی قسمیں کھا کر فروخت کرنے والا۔“

اور جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنی شلوار / پینٹ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے اس کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عمر النجمنا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاء» (صحيح البخاري: 5783)

اللہ تعالی اس شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“

21/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟

جب شیطان کسی انسان کو کسی بڑے گناہ میں مبتلا نہیں کر پاتا تو وہ ہار نہیں مانتا، بلکہ اسے کمزور کرنے کے دوسرے راستے تلاش کرتا ہے۔ ان میں سے ایک راستہ بے جا وسوسوں، خوف اور مایوس کن خیالات کے ذریعے انسان کے دل و دماغ کو پریشان کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

کبھی انسان بے وجہ بے چینی محسوس کرتا ہے، کبھی ضرورت سے زیادہ سوچنے لگتا ہے، کبھی مستقبل کی فکر اسے گھیر لیتی ہے، اور کبھی ایسے سوالات دل میں آنے لگتے ہیں جن کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔

میرا رزق کہاں سے آئے گا؟

اگر میرے ساتھ کوئی آزمائش آ گئی تو؟

اگر میرا مستقبل میری خواہش کے مطابق نہ ہوا تو؟

اگر میری دعائیں قبول نہ ہوئیں تو؟

اگر انسان ان خیالات میں الجھ جائے تو ایک وسوسہ ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ شیطان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسان کا دل خوف میں مبتلا رہے، اس کا توکل کمزور ہو جائے، عبادت میں سستی آ جائے، دعا سے تعلق کم ہو جائے اور رفتہ رفتہ وہ اپنے رب سے دور ہونے لگے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ﴾

"یہ شیطان ہی ہے جو لوگوں کے دلوں میں خوف ڈالتا ہے۔"
( آل عمران،175
(سورۃ آل عمران: 175)

اس لیے جب بھی ایسے وسوسے یا مایوس کن خیالات دل میں آئیں تو انہیں اپنی حقیقت نہ سمجھیں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔

دل سے کہیں:

آمَنتُ بِاللّٰهِ
"میں اللہ پر ایمان لایا۔"

پھر پڑھیں:

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
"میں شیطانِ مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔"

وضو کریں، اگر ممکن ہو تو دو رکعت نفل ادا کریں، استغفار کریں، قرآن کی تلاوت کریں اور اپنے رب سے دل کھول کر دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر پکار سنتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر پریشانی، ہر بے چینی یا ہر ذہنی بیماری شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کے طبی، نفسیاتی یا معاشرتی اسباب بھی ہوتے ہیں، اور ایسی صورت میں مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے علاج کروانا بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ جائز اسباب اختیار کرنے کا حصہ ہے۔

اگر کبھی آپ کا دل بہت زیادہ گھبرائے تو یہ بات یاد رکھیں کہ شیطان آپ کے دل کے راز نہیں جانتا، وہ صرف وسوسہ ڈالنے اور بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ آپ کے دل کا ہر حال جانتے ہیں، آپ کے ہر آنسو سے واقف ہیں، آپ کی ہر خاموش دعا سنتے ہیں، اور اس درد کو بھی جانتے ہیں جسے آپ شاید کسی انسان سے بیان نہ کر سکیں۔

اس لیے اپنے وسوسوں سے الجھنے کے بجائے اپنے رب سے بات کریں۔

یقین رکھیں، جو دل اللہ تعالیٰ سے مضبوطی سے جڑ جاتا ہے، شیطان اسے بے چین کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، مگر اللہ کی مدد، رحمت اور حفاظت ہر وسوسے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

Address

Karachi

Telephone

03462238504

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Malik1203 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Hafiz Malik1203:

Shortcuts

Share