Crescent's Ideals Come To Read & Success

Crescent's Ideals  Come To Read & Success

Share

learn how to lead

20/03/2024
30/12/2020

آپ کیا فرماتے ہیں؟

*تعلیمی ادارے بند کرنے کی حقیقت*

طلبہ اور معاشرے پر اس کے تباہ کن اثرات

تحریر: زاھد اختر بلوچ

1 ۔ ڈبلیو ایچ او(WHO) کی رپورٹ کے مطابق 12سال سے کم عمر بچوں میں کروانا وائرس کے چانسز تقریبا ٪0 ہیں۔
2 ۔بچوں کے عالمی ادارہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پانچ سال تک کے بچوں کو ماسک کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
3 ۔ اقوام متحدہ کی ہدایات کے مطابق اگر لاک ڈاؤن کرنا ضروری ھو تو بھی تعلیمی ادارے کھلے رہنے چائیے ۔
4 ۔ امریکہ میں اس وقت کرونا کیسسز کی تعداد پاکستان سے 600 گناہ زیادہ ہے لیکن تعلیمی ادارے کھلے ھوئے ہیں۔ فن لینڈ میں کرونا کے دوران ایک دن کیلئے بھی تعلیمی ادارے بند نہیں ھوئے۔
5 ۔ جس دن دوبارہ اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس دن پاکستان میں کروانا کے کل کیسسز کی تعداد 2547 تھی جبکہ اسی دن یو کے(UK) میں 15450 کیسسز رپورٹ ہوئے لیکن وھاں لاک ڈاؤن کے باوجود تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔
6 ۔ وزراء تعلیم کانفرنس میں وزراء نے تسلیم کیا کہ سب سے ذیادہ SOPs پر تعلیمی ادارے عمل کر رہے ہیں تو پھر صرف اسکول ہی کیوں بند کیے گئے؟
7۔ جب پارکس ، بازار، مارکیٹس، دفاتر سب کھلے ہیں کیا کرونا صرف تعلیمی اداروں میں آتا ھے، کیا یہ سارے افراد ان جگہوں پر جانے کے بعد (خدا نا خواستہ) کرونا سے متاثر ہو کر بچوں کو متاثر نہیں کریں گے؟
8 ۔ وزراء تعلیم کانفرس میں چاروں صوبوں نے ڈیٹا کی بنیاد پر تعلیمی ادارے بند کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی پھر کس کے اشارے پر اسکول بند ھوئے؟
9۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے جلسہ پورے ملک میں جاری ہیں لیکن بند صرف اسکول کیے گئے ہیں۔
10 ۔ اس وقت تک بلوچستان میں کرونا کیسز کی تعداد 16882 ھے کیا ان میں کوئی ایک بھی اسکول گوئنگ طالب علم ھے؟ بلوچستان کی 165 کرونا کی وجہ سے اموات میں کوئی ایک بھی اسکول کا طالب علم ھے؟
جب اعداد شمار اس کے بر عکس ہیں تو صرف تعلیمی اداروں کو کیوں ہدف بنایا گیا ھے؟
11۔ مارچ میں اسکول بند کرنے کی وجہ سے بلوچستان کے 300 اسکول بند ھوئے ،کرایہ کے مد میں صرف کوئٹہ شہر میں اس وقت اسکولز 24 کروڑ 50 لاکھ کے مقروض ہیں، اساتذہ نان شبینہ کے محتاج ھوئے، حکومت نے ایک روپیہ کا بھی کسی ادارے یا استاد سے تعاون نہیں کیا تو اب حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ تعلیمی ادارے کیوں برداشت کریں؟
12۔ اس وقت 15 دن کے اندر سرد علاقوں کے اسکول معمول کے مطابق بند ھونے تھے۔ آخر ان اداروں کو امتحانات لینے سے روک کر طلبہ کا سال کیوں ضائع کیا گیا؟
13۔ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی ادارے آخری آپشن کے طور پہ بند کیے گئے ہیں۔۔ یہاں پہلا آپشن تعلیمی ادارے ہیں اور پوری دنیا میں کوئی ایک ملک کی مثال ھے جس نے تمام شعبہ جات کو کھلا رکھ کر صرف تعلیم کے شعبہ کو بند کر کے کرونا پہ قابو پایا ھو؟
14۔ حکومت نے ایس او پیز میں300 افراد کی اجتماعات کی خود اجازت دی ھے پھر صرف 30 طلبہ کے کلاس سے کرونا کیسے پھیلے گا؟

یہ وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بند کرنا اداروں کے علاوہ معاشرہ، والدین اور بچوں کیلئے تباہ کن ھے۔ اس بے وقت اور بلا وجہ تعلیم دشمن اقدام کی طرف فوری توجہ حکومت وقت کا اولین فرض ہے کہ وہ ہر سطح پہ کی جانے والی مذمت اور مزاحمت پر کان دھرے اور تعلیمی نظام کو تباہی سے بچائے۔

22/11/2020



*ہمارا تعلیمی نظام*
آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا
اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں
اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔
دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دیے گئے
اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے
اور وہ " اخلاقیات " اور " آداب " ہیں۔

حضرت علیؓ نے فرمایا:

"جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں"۔

مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔
بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔
ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔
یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز...

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے...

اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے...

آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔

جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے..
کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔

جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں...

صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں

جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے،

ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔

آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے

اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں..

بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں،

اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں...

خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں...

بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں....

جن کے بچے فیل ہو جاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو "کوڑھ مغز" اور "کند ذہن" کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔

آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا...
سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟

ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں،

جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے
قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔

ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے

وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟

اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی "سائنس دان" نامی چیز نظر نہیں آئے گی....

کیونکہ بدقسمتی سے سائنس "سیکھنے" کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی "رٹّا" لگواتے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں...
اس "گلے سڑے" اور "بوسیدہ" نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں،
بچوں کو "طوطا" بنانے کے بجائے "قابل" بنانے کے بارے میں سوچیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Crescent Group Of Public Schools Campus 3 Baldia Townbkarachi
Karachi
000006