AzmatulQuran online Qirat Academy

AzmatulQuran online Qirat Academy

Share

مثالی تعلیم وتربیت

12/07/2025
10/07/2025

حفظ قرآن کے لیے بہترین وقت

حفظ قرآن کے لیے وقت کا درست انتخاب بہت ضروری ہے۔ شور و غل، پریشانی یا ذہنی دباؤ کے وقت حفظ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا وقت چنیں جب دل و دماغ پرسکون ہوں اور ماحول میں خاموشی ہو۔

تجربہ بتاتا ہے کہ نمازِ فجر سے پہلے اور بعد کا وقت حفظ کے لیے سب سے مفید ہوتا ہے، کیونکہ نیند پوری ہونے کے بعد ذہن تروتازہ ہوتا ہے اور ماحول بھی پر سکون ہوتا ہے۔

مشہور علماء کی رائے:
خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں: حفظ کے لیے سب سے بہترین وقت تہجد کا ہے۔
ابن الجماعہؒ کہتے ہیں: حفظ کے لیے تہجد، تحقیق کے لیے صبح، کتابت کے لیے دوپہر، اور مطالعہ کے لیے رات کا وقت موزوں ہے۔
اسماعیل بن ابی اویسؒ فرماتے ہیں: حفظ کرنا ہو تو سو کر تہجد میں اٹھو، چراغ جلا کر پڑھو، یہ وقت بہت برکت والا ہوتا ہے۔
امام حماد بن زیدؒ سے پوچھا گیا کہ حفظ کے لیے سب سے معاون چیز کیا ہے؟ فرمایا: پریشانی سے نجات!

لہٰذا اگر کوئی شخص فجر یا تہجد کے وقت اٹھ کر دعا بھی کرے اور حفظ بھی کرے، تو اللہ کی مدد سے دونوں چیزوں میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

11/12/2023

LEARN HOLLY QURAN ONLINE!!
ADMISSION OPEN One-to-One Online Class
1- Register
2- Take trial classes
3- Start full course
JOIN NOW! With Our Well Qualified Tutors.. What's app on this link for more information and contact on whatsapp +923361121136
Both Male & Female Teachers are Available

14/04/2023

ایرانی قاری یونس شاہ مراد کو عالمی سطح پر 2023ع کا سب سے خوبصورت تلاوت کرنے والا قاری قرار دیا گیا۔ سعودی عرب میں ہونیوالے مقابلے میں اسکو آٹھ لاکھ ڈالر کا انعام دیا گیا۔
قاری یونس شاہ مراد کا تلاوت کیا گیا سورہ آل عمران کا آخری رکوع آپ بھی سنیں ❤️
اسکی آواز کو آوازوں میں نایاب ہیرے جیسی آواز قرار دیا گیا۔ اسکی آواز اور ادائیگی دونوں لاجواب ہیں اللہ اکبر 🌹

11/04/2023

اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’خود کو روک لینا، بند کر لینا، کسی کی طرف اس قدر توجہ کرنا کہ چہرہ بھی اُس سے نہ ہٹے‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
ابن منظور، لسان العرب، 9 : 255

جبکہ اصطلاح شرع میں اس سے مراد ہے انسان کا علائقِ دنیا سے کٹ کر خاص مدت کے لئے عبادت کی نیت سے مسجد میں اس لئے ٹھہرنا تاکہ خلوت گزیں ہو کر اﷲ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کر سکے۔

پچھلی اُمَّتوں میں بھی اعتکا ف کی عبادت موجود تھی۔ چنانچہ پارہ اوّل سُوْرَۃُ الْبَقْرَہکی آیت نمبر 125 میں اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عالی شان ہے:

وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)

ترجَمۂ کَنزُالْاِیمَان:اورہم نے تا کید فرمائی ابراہیم واسمٰعیل کو کہ میر ا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتِکاف والوں اور رُکوع و سجود والوں کیلئے ۔

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں :
1.واجب 2.مسنون 3.نفل

واجب اعتکاف : نذر اور منت کا اعتکاف واجب ہے ، خواہ نذر کسی شرط پر موقوف ہو یا نہ ہو۔

مسنون اعتکاف:رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔

نفلی اعتکاف:اس کے لیے کسی خاص وقت کی تعیین نہیں ہے، آدمی جس وقت بھی مسجد میں داخل ہو اور اعتکاف کی نیت کرلے تو جتنی دیر مسجد میں رہے گا اسے اعتکاف کا ثواب حاصل ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (4 / 298)

رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف بیٹھنا مسنون ہے۔ حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے:

اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ

’’حضور نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔‘‘

ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب فی المعتکف يلزم مکانًا من المسجد، 2: 373، رقم: 1773

اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارِوایت فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رَمَضانُ المبارَک کے آخری عشرہ (یعنی آخری دس دن) کا اِعتکاف فرمایا کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو وفاتِ(ظاہری) عطا فرمائی۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ازواجِ مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔ (بُخاری ج۱ص۶۶۴حدیث۲۰۲۶)

حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’وہ (یعنی معتکف) گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنیوالے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔‘‘
ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب فی ثواب الاعتکاف، 2: 376، رقم: 1781

جو شخص الله کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، الله تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔‘‘

طبرانی، المعجم الاوسط، 7: 221، رقم: 7326
بيهقی، شعب الإیمان، 3: 425، رقم: 3965
هيثمی، مجمع الزوائد، 8: 192

اعتکاف بیٹھنے کی شرائط درج ذیل ہیں:

مسلمان ہونا۔
اعتکاف کی نیت کرنا۔
حدث اکبر (یعنی جنابت) اور حیض و نفاس سے پاک ہونا۔
عاقل ہونا۔
مسجد میں اعتکاف کرنا۔
اعتکاف واجب (نذر) کے لئے روزہ بھی شرط ہے۔


سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ اعتکاف کسے کہتے ہیں؟
جواب: رمضان المبارک کے آخری دس روز کا مسنون اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر محلہ کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو آخرت میں سب سے مواخذہ ہوگا اور اگر ایک آدمی نے بھی اعتکاف کرلیا تو سب آخرت کے مواخذہ سے بری ہو جائیں گے۔ یعنی بعض لوگوں کے اعتکاف کر لینے سے سب کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔

#اعتکاف

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Karachi
2848