Professor Imtiaz Malik

Professor Imtiaz Malik Since 1991, teaching Business Laws. Proudly continuing the legacy of my teacher late prof.Masood ul Hasan.

26/09/2026

“فیل والوں کی دنیا” کی قسط نمبر 3 بعد میں۔ :)

ابھی تو تقریباً بیس پچیس دن result آنے میں ہیں۔

اور حال یہ ہے کہ نہ پڑھائی ٹھیک طرح ہو رہی ہے۔۔۔
نہ interviews کی تیاری۔

بس یونہی اقبال کا ایک شعر یاد آ گیا،

“آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی”

اس شعر کے یقیناً بہت بڑے اور گہرے معنی ہیں۔

میرا مقصد اتنا بڑا نہیں۔ :)

میں تو صرف اپنے بھائی بہنوں، بیٹے بیٹیوں، نواسے نواسیوں کو اتنا یاد دلانا چاہتا ہوں،

جو بوئیں گے۔۔۔
وہی سامنے آئے گا۔

پھر رونا گانا مت۔ :)

اور بقول شاعر، میں زیادہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔۔۔

کہیں ہماری Generation Z کو برا نہ لگ جائے۔

ارے ایسی کی تیسی! :)

میں کسی generation کو نہیں مانتا۔

انسان، انسان ہے۔

پھر اس کی فطرت۔
اس کے حالات۔
اس کے معاملات۔
اور اس کی عادات۔

خیر۔۔۔
آج تو اردو امڈ امڈ کر آ رہی ہے۔ :)

تو میرے عزیز طلباء وطالبات،

شرافت کا تقاضا ہے کہ اب ٹھیک ٹھاک محنت کی جائے۔

Result?

جب آئے گا، تب دیکھیں گے۔

اس وقت جو ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ کریں۔

بغیر کسی لگی لپٹی کے،

سنجیدگی سے،
systematic
طریقے سے،
اور روزانہ کے واضح کام کے ساتھ پڑھتے ہوئے اکتوبر میں داخل ہونا ہے۔

Systematic
کا مطلب پہلے بتا چکا ہوں۔
اب گوگل کر لیں پلیز۔ :)

اور ایک target رکھیں،

یکم اکتوبر کو،
تیس ستمبر تک جو کچھ پڑھ چکے ہیں،
اس کا امتحان خود سے لینا ہے۔

بلکہ میرا دل تو کہتا ہے۔۔۔

روز ایک paper دے ہی دو۔ :)

پھر معلوم ہوگا کہ “پڑھ لیا ہے” اور “paper دے سکتا ہوں” میں کتنا فرق ہے۔

اور interview والے لڑکے لڑکیاں۔۔۔

آپ بھی تیاری شروع کریں۔

CV،
communication،
tests،
interview practice۔۔۔

سب ساتھ ساتھ۔

ورنہ خواتین و حضرات سے مستورات و حضرات۔۔۔
اور پھر انکل اور آنٹی بننے میں دیر نہیں لگتی۔ :)

ویسے یہ ہر آنے والی نسل بھی عجیب ہے۔

چار پانچ سال بڑے لڑکے لڑکی کو بھی “انکل” اور “آنٹی” کہہ دیتے ہیں۔

میرا تو دل کرتا ہے جواب میں تمہیں کہوں،

کہ تم لوگ بھی ان کے والدین کو نانا نانی کہنا شروع کر دو۔ :)

توبہ توبہ!

کیسے
senior-most teacher ہیں۔۔۔
بچوں کو کیا کیا سکھا رہے ہیں۔ :)

اچھا بھئی۔

“آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں۔۔۔”

میں چپ۔

اب اگر کوئی کنویں میں بھی گر رہا ہو تو۔۔۔

بولو مت۔ :)

“محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی”

لیکن جاتے جاتے صرف ایک اور بات،

رزلٹ کا انتظار،
تیاری روکنے کی وجہ نہیں ہونا چاہیے۔

جو آج کرنا ہے،
آج ہی کریں۔

پڑھنے بیٹھیں۔
تیاری شروع کریں۔

شاباش!

اللّٰہ حافظ۔

زندگی رہی تو کل پھر
' فیل والوں کی دنیا ' سے ملاقات ہوگی۔
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- OPTIONALITY
Reel -- whisper
Story -- Takeaway

23/09/2026

امتیاز سیریز — قسط نمبر 2

ہم ناکام ہو چکے ہیں۔

یعنی ہم فیل ہو گئے ہیں۔۔۔

یا فیل ہو سکتے ہیں۔

ہائے اللّٰہ سر!
ایسے تو نہ کہیں، ابھی result آنا ہے۔ :)

ارے معاف کر دو بھئی۔۔۔
میں زندگی بھر کی بات کر رہا ہوں۔

تو پھر یہ باتیں شاید صرف result کا انتظار کرنے والوں کے لیے نہیں رہیں۔

سب کے لیے ہیں۔

فائدہ البتہ اسی کو ہوگا جو ذرا آرام سے، کھلے ذہن کے ساتھ پڑھے۔۔۔
اور جہاں بات درست لگے وہاں ایمانداری سے اپنے اوپر apply بھی کرے۔

اچھا تو۔۔۔

ہم فیل ہو گئے۔

بار بار یہ جملہ جان بوجھ کر کہہ رہا ہوں۔

کیوں؟

تاکہ “فیل ہو گیا” کو ہم وہ غیر معمولی حیثیت دینا ہی چھوڑ دیں جو عام طور پر دے دیتے ہیں۔

کوئی فیل ہو جائے تو عجیب سی شرمندگی۔

کبھی احساسِ جرم۔

کبھی لوگوں سے نظریں چرانا۔

اور دوسری طرف کچھ لوگ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے فیل ہونے والے کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

پھر مزے کی بات دیکھیے۔۔۔

یہی شخص بعد میں کامیاب ہو جائے تو اسے مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے:

دیکھو!
یہ بھی کبھی فیل ہوا تھا۔ :)

بڑی معذرت کے ساتھ۔۔۔

میرے نزدیک یہ دونوں رویے بےمعنی ہیں۔

انسان کی عزت
اس کے پاس یا فیل ہونے سے بڑی ہونی چاہیے۔

Qualification
اہم ہے۔

کامیابی اہم ہے۔

ناکامی کبھی اس سے بھی اہم تجربہ بن سکتی ہے۔

لیکن انسان کی قدر ان سب سے الگ چیز ہے۔

یہ بات یہاں تک سمجھ آ گئی؟

چلیں، آگے بڑھتے ہیں۔

اب ایک ذرا مشکل بات۔

فیل ہونے والے کی دنیا بعض اوقات واقعی الگ محسوس ہوتی ہے۔

اس وقت اس کے سوال الگ ہوتے ہیں۔

خوف الگ۔

لوگوں کا سامنا الگ۔

گھر والوں کی توقعات الگ۔

اپنے آپ سے گفتگو الگ۔

اور پاس ہونے والے کی دنیا؟

وہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔

یہاں تک کہ ہم میں سے جو لوگ کبھی فیل ہوئے اور بعد میں کامیاب ہو گئے۔۔۔

ان میں سے بہت سے رفتہ رفتہ کامیاب لوگوں کی دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی ناکامیوں کا ذکر تو کرتے ہیں۔۔۔

لیکن شاید وہ کیفیت پوری طرح یاد نہیں رہتی
جو اس وقت اندر سے گزر رہی ہوتی تھی۔

بور ہو رہے ہو؟ :)

بور تو ہوگے۔

Reels
دیکھ لو۔

کامیاب لوگ بتا رہے ہوں گے کہ کامیاب کیسے ہوا جاتا ہے۔ :)

ضرور دیکھو۔

سیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا ہے۔

لیکن ایک بات یاد رکھنا،

جو آج کامیابی کی منزل پر کھڑا ہے،
ضروری نہیں کہ وہ اس لمحے تمہاری موجودہ کیفیت کو پوری طرح محسوس بھی کر سکے۔

ہو سکتا ہے کبھی وہ بھی اسی جگہ رہا ہو۔

مگر آج وہ وہاں نہیں ہے۔

تو پھر سر، ہم کیا کریں؟

اب آئے نا اصل بات پر۔ :)

پہلے اپنی موجودہ دنیا کو تسلیم کریں۔

اپنی “فیل والی دنیا” میں آئیں۔

شرمندگی کے بغیر۔

احساسِ کمتری کے بغیر۔

ڈرامے کے بغیر۔

یہاں سے دیکھیں:

اصل مسئلہ کیا ہے؟

کیا محسوس ہو رہا ہے؟

کیا بدلنا ہے؟

اور اگلا قدم کیا ہوگا؟

وہ اپنی دنیا میں مست۔۔۔

ہم اپنی دنیا میں۔ :)

Welcome to the world of those who failed.

ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ :)

فکر نہ کریں۔

یہ permanent address نہیں ہے۔

جاری ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں جہانوں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔

بلکہ بہت سے لوگ بعد میں سمجھتے ہیں۔۔۔

کہ جس ناکامی کو اس وقت صرف نقصان سمجھ رہے تھے،
اسی میں کہیں کوئی بھلائی بھی چھپی ہوئی تھی۔

بس اس وقت نظر نہیں آئی۔

زندگی رہی تو کل پھر ملاقات ہوگی۔

اللّٰہ حافظ۔
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- RECALIBRATION
Reel -- whisper
Story -- Takeaway

23/09/2026

Google it! :)

There was Ibn-e-Safi’s Imran Series...

and now, in 2026, here comes,

Imtiaz Malik’s “Imtiaz Series”. :)

Episode 1.

And please, someone keep saving these episodes too. :)

Every few days, I receive a DM that sounds something like this,

Sir, I used to be very good at studies.

But repeated failures have taken away all my confidence.

Now fear and anxiety seem to have taken its place.

Sir, please guide me.

One thing first.

I am not trying to be unnecessarily humble, but phrases like “kindly guide me”, “honoured teacher”, “Sir Jee” and similar expressions sometimes feel a little strange to me. :)

Perhaps it is my age.

Anyway...

what is the purpose of this “Imtiaz Series”?

A pattern keeps repeating.

A message comes.

If it makes sense, I reply.

What does “makes sense” mean?

Google it. :)

Sometimes I reply there and then.

Sometimes the question becomes a post.

And sometimes, if needed, we speak on the phone.

But one thing is usually common,

The conversation follows a certain sequence and method.

I, and many people on this page, have personally experienced that when this way of thinking and acting is followed sincerely, life becomes easier in many ways and, by the grace of Allah, success also comes.

So I thought...

why not write these ideas down, one episode at a time?

Perhaps an answer written for one student today may help someone else tomorrow.

Maybe even months or years later...

someone I have never met, and perhaps never will.

I may even make a video on this someday if I feel like it. :)

For now, we begin with writing.

Consider Episode 1 only an introduction.

The real discussion begins in the coming episodes.

InshaAllah, if Allah gives us time, we shall meet tomorrow with Episode 2.

Until then...

Allah Hafiz.

And those sitting for exams in February...

please start studying seriously.

Do not use “waiting for the result” or “the library AC is not working” as an excuse. :)

Shabash!

22/09/2026

گوگل کر لینا! :)

ابنِ صفی کی تھی عمران سیریز۔۔۔

اور اب سن 2026 میں پیشِ خدمت ہے,

امتیاز ملک کی “امتیاز سیریز” :)

قسط نمبر 1

اور براہِ مہربانی کوئی یہ اقساط محفوظ بھی کرتا رہے۔ :)

دراصل ہر چند روز بعد ایک DM آتا ہے,

سر، میں پڑھنے میں بہت اچھا تھا/تھی۔

لیکن پے در پے ناکامیوں نے سارا اعتماد ختم کر دیا ہے۔

اب اعتماد کی جگہ خوف اور anxiety نے لے لی ہے۔

سر، ذرا رہنمائی فرما دیں۔

ایک بات پہلے ہی عرض کر دوں,

خواہ مخواہ کی عاجزی نہیں دکھا رہا، لیکن یہ “رہنمائی فرما دیں”، “شرف بخشیں”، “سر جی”، “استادِ محترم” وغیرہ وغیرہ مجھے ذرا عجیب سا لگتا ہے۔ :)

شاید میری عمر دیکھ کر لکھتے ہوں۔

خیر۔۔۔

اس “امتیاز سیریز” کا مقصد کیا ہے؟

بات یہ ہے کہ ایک pattern بار بار سامنے آ رہا ہے۔

میسج آتا ہے۔

ڈھنگ کا ہو تو جواب دیتا ہوں۔

ڈھنگ کا کیا مطلب ہے؟

گوگل کریں۔ :)

پھر کسی کو وہیں جواب دے دیتا ہوں۔

کسی کے سوال سے پوسٹ بن جاتی ہے۔

اور کبھی ضرورت ہو تو فون پر بھی بات ہو جاتی ہے۔

لیکن ایک بات تقریباً مشترک رہتی ہے:

بات ایک خاص ترتیب اور طریقے سے آگے بڑھتی ہے۔

اور میں خود بھی، اور اس پیج پر موجود بہت سے لوگ بھی، ذاتی تجربے سے یہ جانتے ہیں کہ جب اس سوچ، طریقۂ کار اور طرزِ عمل کو سنجیدگی سے اختیار کیا گیا تو زندگی میں آسانیاں بھی پیدا ہوئیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے کامیابیاں بھی عطا فرمائیں۔

تو سوچا۔۔۔

کیوں نہ وہ تمام باتیں قسط وار یہاں لکھ دی جائیں؟

تاکہ آج کسی ایک طالب علم کے سوال کا جواب کل کسی اور کے بھی کام آ سکے۔

اور شاید چند مہینوں یا چند سال بعد کسی ایسے شخص کے بھی کام آ جائیں، جس سے ابھی ہماری ملاقات ہی نہیں ہوئی اور شاید وہ ہم سے مل بھی نہ سکے۔

ہو سکتا ہے دل چاہا تو کبھی اس موضوع پر ویڈیو بھی بنا دوں۔

فی الحال تحریر سے آغاز کرتے ہیں۔

قسط نمبر 1 بس تعارف سمجھیے۔

اصل باتیں اگلی اقساط میں۔

ان شاء اللّٰہ، اگر اللّٰہ تعالیٰ نے مہلت دی تو کل قسط نمبر 2 کے ساتھ ملاقات ہوگی۔

تب تک۔۔۔

اللّٰہ حافظ۔

اور جن کے فروری میں امتحان ہیں۔۔۔

ذرا سنجیدگی سے پڑھنے بیٹھیں۔

رزلٹ کا انتظار ہے یا library میں AC خراب ہے کا بہانہ نہ بنائیں۔ :)

شاباش!
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- RECOURSE
Reel -- whisper
Story -- Takeaway

21/09/2026

When pressure increases...

perhaps that is exactly when it is time to rise.

After failure, we usually see two paths.

Sit down.

Or find a new beginning from where we are.

Those of you who have ever dived into a swimming pool may understand this a little better.

Before the dive, you stand at the edge.

Water in front of you.

Depth in front of you.

And one small question inside,

Should I jump?

Then you do.

For a few moments, everything changes.

Sounds become dull.

There is that strange underwater noise.

Your breath is held.

The pressure feels different.

And the world above seems far away.

Failure can sometimes feel like that too.

You feel as if you are going down.

Confidence begins to shake.

And the heart asks,

Now what?

My dear students 💕..

you did not jump into the water to stay there. :)

You have to come up.

Move.

Find your direction.

And work your way towards the surface.

Then comes a moment...

your face breaks through the water.

And that first breath!

Only someone who has gone under and come back up can fully understand what that breath feels like.

Standing up after failure can feel much the same.

But remember one thing.

Everyone does not have to come out of the same water, at the same place, through the same route.

Some people change their path.

There is nothing wrong with that.

Changing direction is not always surrender.

Sometimes it is wisdom.

Just do not turn the previous failure into regret.

Learn from it.

And walk your new path wholeheartedly.

Especially remember that you changed your path after an experience of failure.

Carry that experience with you.

Not as a burden...

but as a lesson.

And for those who are still passing through a difficult phase:

Do not spend all your time asking,

Why did I go down?

Also ask,

How do I come back up?

Failure is not the final station.

Whatever the pressure...

do not stop working your way upwards.

Still unsure?

Ask those who almost sank and then surfaced again.

Breathing returns.

Vision clears.

And perhaps...

that first breath feels more precious than ever before.

Stay courageous.

And make a determined, calculated and organised effort to rise again.

Shabash!
Good night
💤
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- BUOYANCY
Reel -- دباؤ نیچے لے جائے
Story -- go under.learn.rise

21/09/2026

جب دباؤ بڑھے۔۔۔
تو شاید یہی ابھرنے کا وقت ہوتا ہے۔

ناکامی کے بعد بظاہر دو راستے ہوتے ہیں،

یا بیٹھ جائیں۔

یا پھر وہیں سے کسی نئی شروعات کا راستہ نکالیں۔

تم میں سے جس نے کبھی swimming pool میں dive کیا ہو، وہ شاید میری بات ذرا جلد سمجھ جائے۔

Dive
سے پہلے کنارے پر کھڑے ہوتے ہیں۔

پانی سامنے۔
گہرائی سامنے۔

اور دل میں ایک چھوٹا سا سوال،

کودوں؟

پھر آدمی کود جاتا ہے۔

پانی کے اندر چند لمحوں کے لیے سب بدل جاتا ہے۔

آوازیں مدھم۔
پانی کا ایک عجیب سا شور۔
سانس رکا ہوا۔
دباؤ الگ۔

اور اوپر کی دنیا جیسے کچھ دیر کے لیے دور ہو گئی ہو۔

ناکامی بھی کبھی کبھی ایسی ہی ہوتی ہے۔

آدمی کو لگتا ہے کہ وہ نیچے جا رہا ہے۔

اعتماد ڈگمگاتا ہے۔

اور دل پوچھتا ہے،

اب؟

پیارے بابا لوگ۔۔۔

پانی کے اندر رہنے کے لیے تو کودے ہی نہیں تھے۔ :)

اوپر آنا ہے۔

ہاتھ پاؤں چلائیں۔
اپنی سمت دیکھیں۔
اور اوپر کی طرف بڑھیں۔

پھر ایک لمحہ آتا ہے۔۔۔

چہرہ سطح سے باہر نکلتا ہے۔

اور وہ پہلی سانس!

اس پہلی سانس کا احساس شاید وہی جانتا ہے جو کبھی پانی کے اندر جا کر پھر ابھرا ہو۔

ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

لیکن ایک بات یاد رکھیں،

ہر شخص کو اسی پانی سے،
اسی جگہ سے،
اسی راستے سے باہر آنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ راستہ بدل لیتے ہیں۔

اور اس میں کوئی برائی نہیں۔

راستہ بدلنا ہمیشہ ہار ماننا نہیں ہوتا۔

کبھی یہ سمجھ داری بھی ہوتی ہے۔

بس پچھلی ناکامی کو پچھتاوا نہ بنائیں۔

اس سے سیکھیں۔

اور نئے راستے پر پورے دل سے چلیں۔

خاص طور پر یہ نہ بھولیں کہ آپ نے راستہ ناکامی کے بعد بدلا ہے۔

اس تجربے کو ساتھ لے کر چلیں،
بوجھ بنا کر نہیں۔۔۔
سبق بنا کر۔

اور جو لوگ ابھی کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔۔۔

ان کے لیے صرف اتنا،

ہر وقت صرف یہ مت سوچیں کہ میں نیچے کیوں گیا۔

یہ بھی سوچیں،

اب اوپر کیسے آنا ہے؟

ناکامی آخری اسٹیشن نہیں۔

دباؤ جتنا بھی ہو۔۔۔

اوپر آنے کی کوشش بند نہ کریں۔

یقین نہیں آتا؟

پوچھیں ان لوگوں سے
جو ڈوبتے ڈوبتے پھر ابھرے ہیں۔

سانس پھر بحال ہوگی۔

نظر پھر صاف ہوگی۔

اور شاید۔۔۔

وہ پہلی سانس پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی لگے گی۔

ہمت رکھیں۔

اور ابھرنے کی منظم اور بھرپور کوشش کریں۔

شاباش!
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- BUOYANCY
Reel -- whisper
Story -- Takeaway

20/09/2026

اب Sunday کہاں، سر؟
تمہاری مرضی۔۔۔
ورنہ every day is Sunday. :)
کام ہو تو دن کا نام اہم نہیں رہتا۔

19/09/2026

Suppose someone says,

There is no need to thank me.

And you actually stop thanking them?

Really? :)

To me, good manners do not mean that gratitude should disappear.

Sometimes, pause and think,

How many people may have given you their time, energy, comfort, care or attention to help you reach where you are today?

You may not even remember all of them.

But now you are old enough to understand.

Find out.

Remember.

And learn to express gratitude.

This is not only about saying “thank you”.

It is about appreciation, respect and character.

Perhaps we have made the meaning of good manners too narrow.

A soft voice and polite words are not enough.

Good manners also include gratitude.

Recognising what others have done for us.

Respecting their place in our lives.

And taking responsibility for our own behaviour.

Now, my students, look at yourselves for a moment.

When a paper repeatedly goes wrong, a result does not come, an interview does not work out, or some other difficulty keeps returning, we usually look for technical reasons:

Preparation was weak.

Technique was poor.

Communication was not good enough.

Confidence was affected by anxiety.

All of these may be true.

But sometimes examine your behaviour too.

How do you speak to people?

How do you treat those who once helped you?

Does your attitude remain the same after your need is over?

Can you admit a mistake, or do you always look for a justification?

I am not saying that one moral weakness directly causes one failure.

I am only saying this,

If we analyse every problem in life, why should we leave our own character out of the analysis?

And now a word for those who are seniors, elders or in positions of responsibility.

At home, in a family, in an institution or anywhere else.

If someone repeatedly behaves disrespectfully, and you know it is wrong, you advise them, yet the same behaviour continues or becomes worse...

perhaps advice alone is no longer enough.

Ask yourself,

Has my lack of action allowed this behaviour to become normal?

Perhaps the other person has learned,

There will be anger.

There will be advice.

And then everything will return to normal.

So why should they change?

Being senior does not mean solving every problem.

But it does mean calling wrong behaviour wrong.

Do not humiliate the person.

Identify the behaviour.

Do not react with anger.

Set a clear boundary.

Do not be strict one day and ignore everything the next.

Be consistent, while continuing to show them your love and respect.

And use what is actually within your control when dealing with their misbehaviour,

Your response.

Your attention.

Your support.

Your cooperation.

And your decision about what behaviour you will allow to become normal.

Not being able to leave someone does not mean accepting everything they do.

Sometimes one simple sentence is enough,

I am not leaving you.

But I cannot support this behaviour.

And sometimes they may also need to be reminded,

If there is love and respect in our relationship, should that not also be reflected in the way you speak and behave with others.

Perhaps this is something we need to understand at every level,

Individual.

Family.

Institution.

Society.

When wrong behaviour repeatedly has no consequence, first it becomes normal...

and then it becomes a habit.

The post started with “thank you”.

Where did it reach?

Our character.

Our self-accountability.

And, if we are senior to someone, our responsibility.

We can examine others later.

Let us look at ourselves first.

May Allah help us recognise our behaviour, correct our mistakes, and learn good character from the beautiful example of our beloved Prophet Muhammad ﷺ.

Ameen.

If life permits, we shall meet again.

Allah Hafiz.

Instagram: .imtiazmalik
Feed — PROPRIETY
Reel — جو بار بار سہہ لیا جائے۔۔۔
Story — شکریہ چھوٹا۔۔۔
کردار بڑا

19/09/2026

کسی نے آپ سے کہہ دیا،

شکریہ کی ضرورت نہیں۔

اور آپ نے واقعی شکریہ ادا کرنا ہی چھوڑ دیا؟

واہ! :)

میرے نزدیک ادب کا مطلب یہ نہیں کہ احساسِ تشکر بھی ختم ہو جائے۔

کبھی رک کر سوچیے،

آج آپ جہاں ہیں، وہاں پہنچنے میں کتنے لوگوں نے اپنا وقت، طاقت، سہولت، محبت یا توجہ آپ پر صرف کی ہوگی۔

ممکن ہے آپ کو سب یاد بھی نہ ہو۔

لیکن اب تو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

معلوم کریں۔
یاد کریں۔
اور شکریہ ادا کرنا سیکھیں۔

بات صرف “شکریہ” کہنے کی نہیں۔

یہ احسان شناسی، احترام اور تربیت کی بات ہے۔

شاید ہم نے “باادب” ہونے کا مطلب بہت محدود کر دیا ہے۔

صرف نرم آواز اور مہذب الفاظ کافی نہیں۔

ادب میں شکر بھی ہے۔
احسان شناسی بھی۔
دوسرے کے مقام کا خیال بھی۔
اور اپنے رویے کی ذمہ داری قبول کرنا بھی۔

عزیز طلباء وطالبات ذرا اپنی طرف دیکھیں۔

جب کوئی پیپر بار بار خراب ہو، رزلٹ نہ آئے، انٹرویو نہ نکلے یا زندگی میں کوئی اور مشکل مسلسل سامنے آئے تو ہم عموماً فنی وجوہ ڈھونڈتے ہیں،

تیاری کم تھی۔
تکنیک درست نہیں تھی۔
کمیونیکیشن کمزور تھی۔
آخر میں اضطرابی کیفیت کی وجہ سے اعتماد نہیں تھا۔
وغیرہ وغیرہ

یہ سب درست ہو سکتا ہے۔

لیکن کبھی اپنے رویے کا بھی جائزہ لے لیجیے۔

ہم دوسروں سے کیسے بات کرتے ہیں؟

جن لوگوں نے ہمارے لیے کچھ کیا، ان کے ساتھ ہمارا رویہ وقت گزرنے کے ساتھ کیسا ہے؟

کیا ہمارا رویہ
ضرورت کے وقت محاورتاً پاؤں میں بیٹھ جانے اور ضرورت گزر جانے کے بعد آنکھیں سر پر رکھنے
جیسا ہے؟

اپنی غلطی مان لیتے ہیں یا ہر بات کا جواز تلاش کرتے ہیں؟

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کسی ایک اخلاقی کمزوری کو کسی ایک ناکامی کی وجہ قرار دے دیں۔

صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اگر زندگی کے ہر مسئلے کا تجزیہ کر رہے ہیں تو اپنے کردار کو تجزیے سے باہر کیوں رکھیں؟

اور اب ایک بات بڑوں سے۔

گھر میں ہوں، خاندان میں، ادارے میں یا کسی اور جگہ۔

اگر آپ کے سامنے کوئی شخص بار بار بےادبی یا بداخلاقی کر رہا ہے، آپ اسے غلط بھی سمجھتے ہیں، سمجھاتے بھی ہیں۔۔۔

لیکن وہی رویہ جاری ہے، بلکہ بڑھ رہا ہے۔۔۔

تو شاید اب صرف سمجھانا کافی نہیں۔

کبھی غور کریں،

کہیں آپ کی بےعملی نے اس بداخلاقی کو ایک معمول کا رویہ تو نہیں بنا دیا؟

ممکن ہے سامنے والے کو یہ یقین ہو گیا ہو کہ

غصہ ہوگا۔
سمجھایا جائے گا۔
پھر سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔

تو وہ بدلے کیوں؟

بڑے ہونے کا مطلب ہر مسئلہ حل کر دینا نہیں۔

لیکن غلط کو غلط کہنا ضرور ہے۔

شخص کی تذلیل نہیں۔
لیکن نامناسب رویے کی واضح نشان دہی ضروری ہے ۔

غصہ نہیں۔
لیکن واضح حد بتانا ضروری ہے ۔

ایک دن سختی اور دوسرے دن مکمل چشم پوشی نہیں۔

مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے احترام اور محبت کا احساس دلانا ضروری ہے ۔

اور جو کچھ آپ کے اختیار میں ہے، اسے استعمال کرنا بھی،

اپنا ردعمل،
اپنی توجہ،
اپنی سہولت،
اپنا تعاون،
اور یہ فیصلہ کہ آپ کس رویے کو معمول بننے دیں گے اور کس کو نہیں۔

کسی کو چھوڑ نہ سکنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر رویے کو قبول کرنا بھی ضروری ہے۔

کبھی بہت سادہ الفاظ کافی ہوتے ہیں،

میں تمہارا ساتھ چھوڑ نہیں رہا،
لیکن اس رویے کا ساتھ بھی نہیں دے سکتا۔

کیا تم میری محبت، احترام اور عزت کا خیال نہیں رکھتے ۔

شاید ہمیں فرد سے لے کر خاندان، ادارے اور معاشرے تک یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

کسی کا غلط رویہ اگر بار بار بےنتیجہ رہے تو پہلے معمول بنتا ہے۔۔۔

اور پھر عادت کا حصہ۔

بات شکریے سے شروع ہوئی تھی۔

پہنچی کہاں؟

اپنے اخلاق تک۔
اپنے احتساب تک۔
اور اگر ہم کسی کے بڑے ہیں تو اپنی ذمہ داری تک۔

دوسروں کا حساب بعد میں۔

پہلے ذرا اپنا حساب دیکھیں۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے رویوں کو پہچاننے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے اخلاق سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی۔

رب سوہنڑے دے حوالے۔

رب راکھا!
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- PROPRIETY
Reel -- whisper
Story -- Takeaway

18/09/2026

What happens when your heart is somewhere else, but your work is somewhere else?

Sir, what do you mean?

You may be preparing for interviews.

Or perhaps you have already started studying for the next papers.

But somewhere inside, one thought keeps running,

What if the previous papers do not clear?

Sir, but that is a reality too.

Maybe.

But I do not want to argue today about what is reality and what is not.

I strongly believe that my thinking is, to a large extent, within my control.

And perhaps you may not like what I am going to say next,

Read the rest of the post if you want.

Otherwise, scroll on. :)

Yesterday I wrote that whenever we look at what we are gaining, we should also ask what we are giving up for it.

Sir, but what about that “heart somewhere else” point?

Not today.

For now, just remember this,

Whatever you are doing,
do it with your whole heart.

Whatever is going to happen,
we will deal with it when it comes.

Otherwise, the problem is not only that you remain worried.

The bigger problem is that the work you are doing today may not reach the standard you are actually capable of.

Think about that.

Then decide.

I recently heard about a highly competitive recruitment process at a hospital in a developed country.

Thousands applied.

Only a limited number reached the interview stage.

And only a few were finally selected.

The exact numbers are not the real lesson.

The real lesson is this,

Competition is serious.

So ask yourself,

What level of preparation do I need?

What level of focus?

What level of communication?

What level of professional skill?

Qualification alone is not enough.

Wanting something is not enough.

And simply hoping that “something will work out” is not enough either.

My dear students,

please stay connected with reality.

Not everything that shines on social media shows you the full picture.

You often see the success.

You do not always see the preparation, patience, effort and time behind it.

Talk to your parents.

Talk to your teachers.

Listen.

Think.

And then make decisions according to your own situation, your own abilities and your own destination.

Perhaps that old saying has a lesson for us too,

Do not lose your own way while trying to walk like someone else.

Know your path.

Build your way.

And whatever you are doing...

do it with your whole heart.

If life permits, we shall meet again tomorrow.

May Allah grant us sound judgement.

Ameen.

Allah Hafiz.
Instagram: .imtiazmalik
Feed -- ALIGNMENT
Reel -- دل کہیں اور
Story -- Takeaway

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Imtiaz Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category