02/10/2025
(محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان)
گورنمنٹ ڈگری سائنس و کامرس کالج لانڈھی کورنگی 6 ،کراچی
پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر خطیب اللہ خان کی ریٹائرمنٹ کی تقریب کا ایک اور پہلو
اس پُروقار تقریب کا ایک نمایاں پہلو عمائدین شہر کی بھرپور شرکت تھا۔ جس میں سب سے پہلے ذکر کرنا بجا ہوگا محترمہ قرۃالعین صاحبہ کا، جو سندھ اسمبلی کی معزز رکن اور کالج کی دیرینہ محسنہ ہیں۔ انہوں نے سندھ اسمبلی میں کالج کی شکستہ حال عمارت کی از سرِ نو تعمیر کے مقدمے کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا اور صوبائی وزیر تعلیم جناب سردار احمد شاہ کو بارہا اس کی یاد دہانی کروائی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخصیت ہیں جن کے باعث آج دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرتا، ان کے اس کارنامے کے اعتراف میں کالج کا نام محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے منسوب کیا جانا چاہیے. انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کالج کے نام کی تبدیلی کا مرحلہ طے نہیں ہو سکا، لیکن پُرعزم لہجے میں اعلان کیا کہ اب کی مرتبہ یہ مسئلہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد کی صورت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کا جائز مقام دلایا جا سکے۔
اس کے بعد ذکر ہو رانا وحید صاحب کا، جو آل پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر ہیں۔ وہ اپنے چند رفقا کے ہمراہ تقریب میں شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار بھی فرمایا۔ ان کی تنظیم کی طرف سے کالج کو تین سو سے زائد پھل دار پودے عطیہ کیے گئے۔ یہ نہ صرف کالج کے سبزہ و سایہ کا سبب ہیں بلکہ آنے والے دنوں میں صدقۂ جاریہ کی صورت اختیار کریں گے۔ رانا وحید صاحب نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کراچی کے کالجز کو پھل دار درختوں سے آراستہ کریں گے تاکہ لوگ فی سبیل اللہ لگے ہوئے پھل توڑ کر اپنی بھوک مٹا سکیں اور یوں جگہ جگہ بچھے دسترخوانوں کی ضرورت کم ہو، اور انسانی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
اسی طرح ایک اور اہم شخصیت جناب ندیم شیخ ایڈووکیٹ بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شریک ہوئے، جو جسٹس لائرز فورم کے سربراہ ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد تو محض پروفیسر ڈاکٹر خطیب اللہ خان کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں شرکت تھا، مگر انہوں نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نہ صرف آخر تک اپنی موجودگی برقرار رکھی بلکہ کالج کے احاطے میں قائم لا کالج کی فعالیت کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لا کالج کو بھی فعال کریں گے، قبضہ مافیا کی کوششوں کا تدارک کریں گے اور جس زمین پر پلاٹنگ کی بات کی جا رہی ہے وہاں ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کی جائے گی جو ڈھائی ہزار طلبہ کو اکاموڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مزید انسٹیٹیوٹ کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔ اس کے ساتھ کالج سے متصل گراؤنڈ، جو کالج ہی کی زمین ہے، اس کی واگزاری کے لیے بھی اربابِ اختیار سے بات چیت کی جائے گی تاکہ طلبا کو ان کا حق دلایا جا سکے اور کالج کی موجودہ عمارت کو بھی آراستہ کیا جا سکے۔
یوں یہ تقریب محض ایک الوداعی اجلاس نہ رہی بلکہ ایک ایسے عہد و پیمان کی صورت اختیار کر گئی جس میں کالج کے ماضی کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کے لیے عملی منصوبہ بندی اور جدوجہد کا عزم بھی شامل تھا۔