Hero's Of Pakistan

Hero's Of Pakistan Informations about National Hero's

12/09/2026
Rawalpindi, 12 September, 2025;Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of the Army Staff & Chief of Defence For...
12/09/2026

Rawalpindi, 12 September, 2025;

Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of the Army Staff & Chief of Defence Forces, Admiral Naveed Ashraf, NI, NI (M), T Bt, Chief of the Naval Staff, Air Chief Marshal Zaheer Ahmed Baber Sidhu, NI (M), HJ, Chief of the Air Staff, General Syed Aamer Raza, NI (M), S Bt, Commander National Strategic Command on behalf of the Armed Forces of Pakistan, solemnly commemorate the 61st martyrdom anniversary of Major Raja Aziz Bhatti Shaheed, Nishan-e-Haider and pay rich tribute to his exceptional courage, leadership and supreme sacrifice.

During the 1965 War, Major Aziz Bhatti Shaheed defended the Burki sector near Lahore with extraordinary valour, holding his ground against relentless enemy assaults for five days and nights. His resolute leadership and indomitable spirit halted the enemy’s advance and became an enduring symbol of courage, duty and sacrifice. His legacy lives on as an inspiration to the nation and generations of Pakistan’s defenders.

Major Aziz Bhatti Shaheed’s selfless devotion to duty, unwavering courage and supreme sacrifice remain an enduring inspiration for generations. The Armed Forces of Pakistan reaffirm their steadfast resolve to defend the country’s sovereignty and security with the same courage, determination and spirit of sacrifice that he embodied.

06/09/2026

میجر عزیز بھٹی اگر شہید نہ ہوتے تو آرمی چیف بننا لگ بھگ طے تھا لیکن اس جوان نے چند سو فوجیوں کے ساتھ لاہور شہر کو ہزاروں بھارتی فوجیوں سے بچایا اور یہ کارنامہ اتنا بڑا تھا کہ اسے ایک کے بجائے دو نشان حیدر ملنے چاہئے، کیونکہ عزیز بھٹی اٌس زمانے کا جین زی نوجوان تھا جو ہانگ کونگ میں 1928 میں پیدا ہوا، انکے والد وہاں کی پولیس میں تاج برطانیہ کے ملازم تھے اور اسی وجہ سے انہیں اُردو پنجابی کے بجائے مقامی چینی اور انگریزی زبان میں خاصی مہارت حاصل تھی اور جب دوسری جنگ عظیم میں جاپان ہانگ کانگ پہنچا تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ واپس گجرات اگئے اور اسی دوران پاکستان بھی بن گیا۔
عزیز بھٹی نے پہلے رائل پاکستان نیوی میں بطور سپاہی شمولی تختیار کی اور 1948 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے پہلے کورس میں منتخب ہو گئے اور جب 1950 میں پاس آؤٹ ہوئے تو نہ صرف اعلی کارکردگی پر" سووڈ آف آنر " جیتی بلکہ تعلیمی صلاحیتوں میں نارمن گولڈ میڈل بھی جیتا اور یہ دونوں اعزاز ایک ہی شخص کے لیے جیتنا لگ بھگ ناممکن مانا جاتا ہے اور پھر سٹاف کالج کوئٹہ میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی، جو طے کرتی ہیں کہ عزیز بھٹی جنرل کے عہدے تک لازمی جائے گا اور انہیں ہانگ کونگ کی چینی ، انگریزی اور جرمن زبانوں میں خاصا عبور تھا اور کہاں جاتا ہے انگریزی ادب سے لگاؤ بھی شاندار تھا۔
جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی 17 پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمانڈ کررہے تھے اور مشن بھارتی فوج کو برکی سیکٹر میں بی آر بی نہر عبور کرنے سے روکنا تھا تاکہ پاکستان کے دل لاہور کو محفوظ رکھا جاسکے اور اسکے میجر عزیز بھٹی کی کمانڈ میں لگ بھگ 150 جوان اور پوری پنجاب رجمنٹ کے ملا کر بھی 700 جوان تھے اور انکے مدمقابل بھارتی فوج ساتویں انفنٹری ڈویژن جس میں لگ بھگ 12000 اہلکاروں کے ساتھ حملہ آور تھی جس میں 4500 فوجی فرنٹ محاذ پر حملہ آور بھی تھے۔
اتنے کم وسائل اور فوجی طاقت کے باوجود میجر عزیز بھٹی نے بھارتی افواج کو نہر پار نہ کرنے دی اور خود پہلے مورچے پر دن رات بندوقوں اور ٹینکوں کے گولوں کے زیر سایہ ڈٹے رہے اور جب 11 ستمبر کو افسران نے آرام کی ہدایت دی تو عزیز بھٹی نے انکار کردیا اور اگلے دن مسلسل چھ دن اور چھ راتیں جاگتے ہوئے محاذ پر دشمن کے ٹینک کے گولے کا نشانہ بنے اور شہادت پائی تو حکومت پاکستان نے 1965 جنگ کا پہلا نشان حیدر میجر عزیز بھٹی کو دیا اور انہیں انکے آبائی گاؤں لڈیاں، گجرات میں سپردِ خاک کیا گیا لیکن انکا کارنامہ آج بھی فوجی لائبریریوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ کیسے انہوں نے ایک ریجمنٹ کے سہارے پوری ڈویژن کو روکا اور لاہور کی حفاظت کی اور دلچسپ طور پر انکے خاندان میں سے میجر شبیر شریف نے 1971 کی جنگ میں نشان حیدر کا اعزاز پایا اور پھر اسی کے بھائی راحیل شریف نے پاکستان فوج کے بطور آرمی چیف سربراہی کی۔۔۔
اگر دیکھا جائے تو میجر عزیز بھٹی نے لاہور شہر کا یقینی بھارتی قبضہ سرحدی گاؤں برکی سے آگے بڑھنے نہیں دیا اور لاہور شہر کو محفوظ رکھ کر جمخانہ کلب لاہور میں ناشتے کے خواب کو حقیقت بننے سے روکا۔
میرے خیال میں اگر یہ جنگ نہ ہوتی یا عزیز بھٹی شہید نہ ہوتے تو جنرل کے عہدے تک انکی ترقی یقینی تھی اور عین ممکن تھا وہ آدمی چیف بھی بنتے، کیونکہ انکا فوجی کیریئر نہایت شاندار چل رہا تھا۔

The Man Behind the Voice of "Dil Dil Pakistan" 🇵🇰Many people know Junaid Jamshed as the unforgettable voice behind "Dil ...
09/08/2026

The Man Behind the Voice of "Dil Dil Pakistan" 🇵🇰
Many people know Junaid Jamshed as the unforgettable voice behind "Dil Dil Pakistan"—the iconic patriotic anthem that became one of Pakistan's most beloved songs and is often regarded as the country's unofficial second national anthem.

Fewer know about the remarkable legacy of his father, Air Commodore Jamshed Akbar Khan.
A distinguished officer of the Pakistan Air Force, he proudly served the nation during the 1965 and 1971 Indo-Pak wars. Later, he represented Pakistan abroad as Military Attaché in Moscow, reflecting the trust placed in his leadership and professionalism.
Known for his discipline, patriotism, and love of sports, Air Commodore Jamshed Akbar Khan left behind a legacy of service and values that undoubtedly inspired his family. While Junaid Jamshed gave Pakistan a timeless anthem, the foundations of patriotism and dedication were already deeply rooted in the home in which he was raised.

A salute to both father and son—one who served Pakistan in uniform, and the other who inspired generations through his voice.

پاکستان کی مسلح افواج نے میجر طفیل محمد شہید کی 68ویں یوم شہادت، نشان حیدر کی یاد میں ان کی غیر معمولی جرات، فرض شناسی ا...
09/08/2026

پاکستان کی مسلح افواج نے میجر طفیل محمد شہید کی 68ویں یوم شہادت، نشان حیدر کی یاد میں ان کی غیر معمولی جرات، فرض شناسی اور عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔

Pakistan’s Armed Forces commemorated the 68th martyrdom anniversary of Major Tufail Muhammad Shaheed, Nishan-e-Haider, paying tribute to his extraordinary courage, devotion to duty and supreme sacrifice.

1943 ممبئی کی ایک تاریخی تصویر… 🇵🇰یہ وہ لمحہ تھا جب قائدِاعظم محمد علی جناحؒ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی، مگر مسلم لی...
09/08/2026

1943 ممبئی کی ایک تاریخی تصویر… 🇵🇰

یہ وہ لمحہ تھا جب قائدِاعظم محمد علی جناحؒ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی، مگر مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سپاہ سالار امداد اللہ خان نے بروقت آگے بڑھ کر حملہ ناکام بنا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ امداد اللہ خان نے فوراً قائدِاعظم کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر انہیں محفوظ رکھنے کے لیے ڈٹ گئے۔

یہ صرف ایک تصویر نہیں، وفاداری، جرأت اور قائد سے محبت کی ایک زندہ داستان ہے۔

جنہوں نے قائد کی حفاظت کے لیے اپنا سینہ پیش کیا، تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ 🇵🇰

#قائداعظم #1943 #پاکستان

02/08/2026

آخری الفاظ:
21 سالہ کیپٹن الیاس نے جرات، بہادری اور وطن سے بے مثال محبت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ پاک–افغان سرحد پر رات کے اندھیرے میں دشمن پر کاری ضرب لگاتے ہوئے، کئی حملہ آوروں کو واصلِ جہنم کیا۔ لیکن جب خود گولی کھا کر زمین پر گرے تو آخری سانسوں میں لبوں پر صرف یہی الفاظ تھے:
“سرحد محفوظ ہے۔۔۔ کوئی پیچھے نہ ہٹے۔۔۔ پاکستان زندہ باد!”
یہ الفاظ ہمیشہ گونجتے رہیں گے، کیونکہ شہید کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ابدی زندگی پاتا ہے۔ سلام ہے اس پاک دھرتی کے اس شیر دل بیٹے پر جس نے اپنے خون سے وفا کی داستان لکھ دی۔ 🇵🇰

02/08/2026

والد برگیڈیر شہید بیٹا میجر شہید الله پاک شہادت قبُول فرماے اور پھر کمینے کہتے ہیں افسر شہید نہیں ہوتے بس سپاہی شہید کراتے ہیں اُنہیں بتا دیں دُکھ سپاہی کہ شہید ہونے پربھی اُتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ ایک افسر کہ شہید ہونے پر ہوتا ہے الله پاک تمام شہیدوں کہ درجات بلند فرماے آمین

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hero's Of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share