The Ideology of pakistan

The Ideology of pakistan

Share

Analyze the importance of implementation of Nizam-e-Khilafat, As it is very imporant to unite muslim ummah in order to prove a great and peaceful nation. A. W.).

The ideology of Pakistan stems from the instinct of the Muslim community of South Asia to maintain their individuality by resisting all attempts by the Hindu society to absorb it. Muslims of South Asia believe that Islam and Hinduism are not only two religions, but also two social orders that have given birth to two distinct cultures with no similarities. A deep study of the history of this land p

11/06/2012

The Ideology of pakistan Analyze the importance of implementation of Nizam-e-Khilafat, As it is very imporant to unite muslim ummah in order to prove a great and peaceful nation.

Photos 11/06/2012
Photos 11/06/2012

بلوچستان ۔امریکہ بھارت اور اسرائیل کا کھیل.... (آخری قسط)
------------------------------------------
کرنل (ر) محمد زمان
مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے بعد روس اور ہوشیار ہو گیا اور افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس نے بلوچستان میں تخریب کاروں کی مدد سے گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ بھارت چونکہ اکیلا پاکستان کے ساتھ نہیں نبٹ سکتا تھا‘ لہٰذا اس نے روس کی بھرپور مدد کی۔ 1978ءمیں روس کے افغانستان میں آنے اور بلوچستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں۔
1۔ روس کے پاس تین بندرگاہیں تھیں‘ مرمانسک (Marmansk) جو کہ شمال میں ہے‘ یہ سال میں برف کی وجہ سے 9 مہینے بند رہتی ہے۔ دوسری بندرگاہ ولاڈی واسٹک (Valadivostok) جو کہ برف کی وجہ سے سال کے چھ ماہ بند رہتی ہے۔ تیسری بندرگاہ یوکرائن میں تھی جو کہ بحرہ اسوہ (Bloksca) میں تھی‘ لیکن یہاں سے دنیا کے ساتھ تجارت کیلئے ترکی سے اجازت لینی پڑتی تھی۔
2۔ ولاڈی واسٹک سے ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے کیلئے روسی بحری جہازوں کو تقریباً 2500 کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح افریقہ کے مشرقی ساحل کے ملکوں کے ساتھ تجارت کیلئے بھی تقریباً 30,000 کلو میٹر سفر طے کرنا پڑتا تھا۔
3۔ مرمانسک کی بندرگاہ سے بھی ہندوستان اور افریقہ بہت دور تھا۔
4۔ یوکرین کی بندرگاہوں سے بھی ترکی کی اجازت سے ہندوستان کے ساتھ یا افریقہ کے ساتھ تجارت کیلئے ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کر کے اور نہر سویز اور بحر احمر میں سے گزر کر رآنا پڑتا تھا۔
5۔ افغانستان اور بلوچستان کے راستے سب سے چھوٹے تھے۔
مثلاً تاجکستان (جو اس وقت روس کا حصہ تھا) سے پاکستان وا خان کے راستے صرف 14 کلومیٹر ہے۔ بوروگل درہ (Boroghill Pass) چترال سے پشاور 100 کلومیٹر ہے اور پشاور سے کراچی تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔
-5 ب۔ تاجکستان کا دارالخلافہ دوشنبے (اس وقت روس کا حصہ تھا) سے کراچی 2720 کلومیٹر ہے۔
-6ج۔ کراچی سے ولادی¿ و اٹک (VVodivotou) 4500 کلومیٹر اور روستو (Rostov) 4200 کلومیٹر ہے۔ (یہ روس کی موجودہ سرحدوں سے فاصلہ ہے۔)
-7 1979ءمیں روس کیسپین (Caspian Sea) کا 6 ارب بیرل تیل افغانستان اور بلوچستان کے راستے دوسری دنیا یعنی ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا، افریقہ، انڈونیشیا، ملائشیا کو فروخت کر سکتا تھا۔
-6 روس نے پختونستان اور بلوچستان کی آزادی کےلئے وہاں کے دو بڑے لیڈروں کو روسی فوج میں آنریری میجر جنرل بنایا وہ جب بھی افغانستان جائے ان کی گاڑیوں پر دو ستارے (میجر جنرل) لگتے آگے پیچھے بکتر بند گاڑیاں اور اوپر ہیلی کاپٹر ان کی حفاظت کرتے۔ روس نے فرنٹیئر اور بلوچستان میں کچھ سیاسی پارٹیوں کو بھی فراخدلی سے رقم دی اور پاکستان سے علیحدگی کی تحریکیں چلائیں۔ روس کا مقصد فرنٹیئر اور بلوچستان کو افغانستان کے ساتھ ملا کر گرم پانیوں یعنی عرب تک پہنچانا چاہتا تھا اور پاکستان کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔
-7 جو بچے روس میں پڑھنے جاتے ہیں ان میں 99 فیصد روس کی انٹیلی جنس کے جی بی (KGB) کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ان کے دماغوں کو تبدیل کر کے اپنے ہی ملکوں کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ جب وہ پڑھے لکھے بچے پاکستان آئے تو ان کو پاکستان ہی کے خلاف استعمال کیا۔
مثال کے طور پر نواب خیر بخش مری کا بیٹا بلاج مری (Balach Mari) ماسکو سے الیکٹرانک انجینئر کی ڈگری لے کر پاکستان آیا اور روس کا ایجنٹ بن کے آیا۔ بلاچ کے روس اور ہندوستان سے تعلقات ہیں۔ اور اب وہ بی ایل اے (BLA) یعنی بلوچستان لبریشن آرمی کا سربراہ ہے۔ مری قبائل کولہو اور کاہان کے درمیان پہاڑی سلسلوں میں رہتے ہیں۔ روس کے جانے کے بعد اب ہندوستانی را اور امریکی سی آئی اے مری نوجوانوں کو فوجی اور نفسیاتی تربیت دے رہی ہے۔ ان کے ذہن میں یہ باتیں ڈالی جاتی ہیں۔
ا۔ بلوچوں کو پاکستان سے آزادی کا حق ہے۔
ب۔ گریٹر بلوچستان (Greater Balochistan) جس میں ایران، پاکستان اور افغانستان کے بلوچوں پر مشتمل ایک علیحدہ بلوچ ریاست کا قیام۔
ج۔ تخریب کاری کے ذریعے لوگوں سے سیاسی حمایت حاصل کرنا۔
د۔ پنجاب کی بلوچستان کے لوگوں پر ظلم و ستم کی کہانیاں۔
ر۔ میڈیا کے لوگوں کو درست بنانے کے طریقے۔
-8 اس وقت بھی روس اور امریکہ کی سرد جنگ سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے کیونکہ روس کی آمدنی زیادہ تر اس کی تیل اور گیس کی برآمد سے ہوتی ہے۔ جو وہ مختلف پائپ لائنوں کے ذریعے یورپ کو سپلائی کرتا ہے۔ اسلئے پاکستان کے بلوچستان کے علاقے میں اگر امریکہ کا اثرورسوخ ہو گیا تو کیسپین سمندر (Caspian Sea) کے 6 ارب بیرل تیل پر امریکہ کی دسترس ہو گی اور روسی آمدنی میں کمی ہو گی۔ لہٰذا روس بھارت کے ساتھ مل کر بلوچستان میں اب بھی بدامنی کا ذمہ دار ہے۔ تاکہ امریکہ تیل کی سپلائی نہ کر سکے۔
-9 روس اور امریکہ کے درمیان اس وقت مقابلہ 7.5 ارب ڈالر کی تیل اور گیس کی پائپ لائن ہے جو کہ ترکمانستان سے براستہ افغانستان ملتان اور فاضلکہ (ہندوستان) تک 1640 کلومیٹر لمبی ہو گی۔ امریکہ وسطی ایشیائی ممالک کے تیل اور گیس کے ذخائر پر کنٹرول چاہتا ہے اور روس امریکہ کے اثرورسوخ اور کنٹرول کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ بھارت دونوں کی سازشوں میں وچولے کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو نقصان ہو۔ اب امریکہ اور روس کے ہاتھیوں کی لڑائی میں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔

Photos 11/06/2012

Can Our Blind Politicization & Government Listen To Her...?

Photos 09/06/2012

امریکہ کی افسوسناک صورتحال ۔۔۔!
طیبہ ضیاء
امریکہ میں جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکے اور چوریوں کے واقعات تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بیروزگاری اور مالی بحران کی وجہ سے دن دہاڑے چوریاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ اندر باہر سے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ جرائم پیشہ افراد گھروں سے نقدی، زیورات اور الیکٹرانک اشیاءچوری کر کے فوری طور پر آن لائن فروخت کر دیتے ہیں تا کہ پولیس کی پہنچ سے آزاد رہیں اور یہاں کی پولیس ”بھی“ چوریاں بازیاب کرانے میں اکثر ناکام رہتی ہے۔ پاکستانیوں کے گھروں میں بھی چوری کے کئی واقعات سُن رہے ہیں۔ ایک سکیورٹی گارڈ نے خبردار کیا کہ تم لوگ زیورات بنک میں رکھا کرو۔ جرائم پیشہ افراد کو علم ہے کہ دیسی خواتین سونا پہننے کی شوقین ہیں لہٰذا انڈین اور پاکستانیوں کے گھروں میں چوری کے واقعات میں اضافہ کی بڑی وجہ سونا ہے، دوسری وجہ کیش ہے، اس ملک میں بھی خاص طور پر نیویارک میں ٹیکس چوروں کی خاصی تعداد آباد ہے جو کیش پر بزنس کرتی ہے اور بینکوں کی بجائے گھروں میں چھپا کر رکھتی ہے۔ چور بھیدی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چور ایک خاص قسم کے آلہ کی مدد سے گھروں میں زیورات کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ کچھ تو بیروزگاری کا سبب ہے اور کچھ مذہبی تعصب ہے۔ ایک پاکستانی نے بتایا کہ اس کے گھر سے نہ صرف زیورات اور نقدی غائب ہوئی بلکہ شیلف میں رکھے قرآن پاک اور اسلامی کتب کے اوراق بھی زمین پر پھٹے پڑے تھے، تسبیحوں کے دھاگے بھی توڑ دئیے گئے، پورے کمرے میں دانے بکھرے ہوئے تھے۔ پولیس سے جب اس جنونیت کا سبب جاننا چاہا تو اس نے اس فعل کو تعصب قرار دینے سے انکار کر دیا اور اسلامی کتب کے اوراق پھاڑنے کی وجہ یہ بتائی کہ کچھ لوگ مذہبی کتابوں میں کیش چھپاتے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ چور سب سے پہلے ماسٹر بیڈ روم میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں کی ہر چیز کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں لیکن آلہ موجود ہو تو جہاں سونا رکھا ہے سب سے پہلے اس جگہ کی تلاشی لیتے ہیں۔ ایک اور پاکستانی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے زیورات کا باکس باتھ روم میں نہانے والے ٹب کی ایک خفیہ ٹائل کے نیچے چھپا کر رکھتی تھی مگر چور آئے اور اس آلہ کی مدد سے انہوں نے وہاں سے بھی زیور نکال لیا۔ امریکہ سے باہر ڈاکے ڈالنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں۔ جنگجو دہشت گردوں کو مارنے والے اپنے ملک میں ایک معمولی چوری بھی بازیاب کرانے میں ناکام ہیں۔ امریکہ میں بھی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور اگر اس ملک میں بھی یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو لوگ محنت مزدوری سے باغی ہو جائیں گے اور پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بھی جرائم پیشہ بن جائے گا۔ اس ملک میں ہائی سکول تک کی تعلیم مفت ہے مگر کالج کی تعلیم بے حد مہنگی ہے اور جب مہنگی ڈگری حاصل کرکے بھی با عزت روزگار نہ مل سکے تو امیر ترین ملک کے لوگ بھی چور اور ڈاکو بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ صدر اوباما بھی معیشت کو کاندھا دینے میں ناکام رہے۔ پاکستان کو نیٹو سپلائی کی اربوں ڈالروں کی اُجرت دینے والا امریکہ پہلے اپنے لوگوں کو مزدوری مہیا کرے۔ پاکستان کو امداد دینے والا چوہدری پہلے اپنے ملک کے مہذب بھکاریوں کو تو روزگار مہیا کرے۔ وائٹ ہاﺅس نے صدر اوباما اور ان کی فیملی کے اثاثہ جات جاری کئے، جس کے مطابق مشعل اوباما کے اثاثہ جات کی مالیت 8.3 ملین ڈالرز ہیں مشعل اوباما کے مشترکہ اثاثے 12 ملین ڈالرز ہیں۔ امریکہ کا صدر ٹیکس بھی ادا کرتا ہے اور کرپٹ بھی نہیں مگر اس کا شمار بھی امریکہ کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے لہٰذا غریب اور بیروزگار عوام کے مسائل کو ان کی جگہ پر بیٹھ کر محسوس نہیں کر سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیلانے کے منصوبے رکھنے والا پہلے اپنی گلیوں کے چوروں کی خبر لے۔ پُرامن شہری اندرون و بیرون دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں اس بار دہشت گردی کے خلاف جنگ کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں رہی۔2004ءالیکشن اسی بنیاد پر لڑا گیا لیکن امریکی معیشت کی نازک صورتحال نے عوام کی سوچ بدل دی ہے۔ معیشت جب ایک بار زوال کا شکار ہو جائے تو اس کا بحران سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے بالخصوص دوسرے ممالک کو دبانے اور ان پر تسلط قائم رکھنے کی پالیسی ملکوں کو کنگال کر دیتی ہے۔ صدر اوباما معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ناﺅ ڈوبنے پر آئے تو ہمسفر لہریں ہی دھوکہ دیتی ہیں۔ صدر اوباما وار آن ٹیرر اور اکانومی کے مسائل سے نکل نہیں پائے تھے کہ ہم جنس پرستوں میں شادیوں کی حمایت گلے پڑ گئی۔ ہم جنس مردوں کی شادی کی حمایت نے صدر اوباما کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ نائب صدر جوبائیڈن قوم سے معافی مانگ چکے ہیں کہ ان کی حکومت نے یہ حمایت عوام کے جذبات کے پیش نظر کی تھی مگر ان کی معافی مسترد کر دی گئی ہے۔ امریکہ کا مذہبی اور متعصب طبقہ خاص طور پر ری بپلکن پارٹی کو اوباما کی مخالفت کا ایک اور جواز ہاتھ لگ گیا ہے۔ ایک پول سروے کے مطابق امریکہ کی اکثریت اوباما کے ”گے میرج“ بیان کو ایک سیاسی فیصلہ سمجھتی ہے مگر اس غیر اخلاقی فعل کی حمایت سے جہاں امریکہ کا مذہبی طبقہ نالاں ہے، وہاں امریکہ کے مسلمان بھی صدر اوباما سے بدظن ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ 2012 کے الیکشن پر منفی اثرات مرتب کر ے گا۔ ’گے میرج‘ اور ’ابارشن‘ جیسے متنازعہ ایشوز انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اوباما متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کیتھولک مذہب کے ماننے والے ہیں، اس کے باوجود بعض حلقے انہیں مسلمان سمجھتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق چھ میں سے ایک امریکی شہری اوباما کو مسلمان سمجھتا ہے جبکہ کیتھولک عقیدت مندوں کی اکثریت اوباما کی حمایت کرتی ہے۔ صدر اوباما وار آن ٹیرر کا حامی نہ تھا مگر میاں نواز شریف کی طرح وہ بھی سیاسی حالات کا رخ دیکھ کر راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور جب مجبوریاں کمزوریاں بن جائیں توعوام بددل ہی نہیں بدظن بھی ہو جاتے ہیں

Photos 09/06/2012

تاریخ: 2010/03/10
مآخذ: جنگ
حسینہ واجدکاانکشاف:

لندن میں پاکستان توڑنے کے منصوبہ کو حتمی شکل دی گئی

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ روز ڈھاکہ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان کے خلاف پاکستان توڑنے کی سازش کا اگرتلہ کیس سچ پر مبنی تھا۔


اس بات کا انکشاف انہوں نے7 مارچ 1971ء کو پاکستان سے علیحدگی اور آزاد بنگلہ دیش کے متعلق شیخ مجیب الرحمان کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 22 اپریل 1969ء کورہائی کے بعد شیخ مجیب لندن چلے گئے تھے جہاں پاکستان سے علیحدگی کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں پاکستان توڑنے کے منصوبہ کو حتمی شکل دی گئی اس میں مہاجرین کی پناہ، مکتی باہنی کے جنگجوؤں کو تربیتی سہولتوں کی فراہمی اور پاکستان کی فوج سے جنگ شروع کرنے کی تاریخ تک کی تفصیلات طے کی گئیں۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کہا کہ میں اس وقت اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کو چائے پیش کر رہی تھی اور تمام منصوبہ بندی میرے علم میں تھی۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق پاکستان سے علیحدگی کی سازش کے الزام میں شیخ مجیب الرحمان کے ہمراہ 34 مزید لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

Photos 09/06/2012

The employees of SexPress Tribune hail their god Lucifer by making the devil horn sign. Our hypothesis that The Express Tribune is the illegitimate child of Satan is proving step by step.
First the illuminati symbolism of Lakson group of companies, the owner of Express Tribune.
Then the promotion of homosexuality.
Then showing Israel as innocent and propagating that Pakistan should make diplomatic ties with Israel.
and Now this! Is there anyone still blind who cannot see all the illuminati agenda going on in Pakistan?

Photos 09/06/2012

بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے افغان وبھارت سرگرم


کوئٹہ ( نمائندہ جنگ) پاکستان میں افغانستان اور بھارت کی کھلی دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن حکومت پاکستان کا رویہ معذرت خواہانہ ہے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سفارت خانہ کے علاوہ 9قونصل خانے ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں قندھار میں دو قونصل خانے ہیں ان میں ایک لشکرگاہ ایئرپورٹ کے قریب ہے جہاں دہشتگردوں کو تربیت دی جارہی ہے، قندھار کے قونصل خانہ کے چند افسر پاکستان کے بڑے کرنسی نوٹ خریدتے نظر آتے ہیں، ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ افغان حکومت کی خفیہ ایجنسی خاد اور بھارتی ایجنسی را نے 6مشن قائم کیے ہیں جن کا سربراہ ایک میجر جنرل ہے جو را کی کاوٴنٹر انٹیلی جنس ونگ دہلی کا سربراہ تھا ،یہ مشن پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں پاکستان سے نوجوانوں کو اس بہانے افغانستان بھیجا جاتاہے کہ وہ امریکا کے خلاف جہاد میں حصہ لیں ،لیکن انہیں جن لوگوں سے رابطے کا کہا جاتا ہے وہ طالبان کے روپ میں را اور خادکے افسران ہوتے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ان سادہ لوح افراد کو اپنے کیمپوں میں لے جاتے ہیں جہاں ان کو تربیت فراہم کی جاتی ہے اور مجاہد رہنماوٴں کی جعلی تقریریں سنائی جاتی ہیں جن میں یہی پیغام دیاجاتا ہے کہ عالم اسلام کی تباہی کا ذمہ دار پاکستان ہے اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جہاد جائز ہے ،ذرائع کے مطابق ان نوجوانوں کو برین واشنگ کے بعد پھر پاکستان بھیج دیاجاتا ہے،اس وقت پاکستان بالخصوص بلوچستان کے موجودہ حالات کی ذمہ دار را اور خاد ہے جو صوبے میں ہونیوالے واقعات کی مانیٹرنگ کرکے اپنے سربراہوں کو اس سے مکمل آگاہ کرتے ہیں ،بلوچستان میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے بھارت اور دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاک افغان بارڈر کے غیر معروف راستوں سے گولہ بارود ‘ دالبندین ‘ نوشکی اور چمن کے علاوہ دیگر علاقوں سے بلوچستان پہنچا رہی ہیں ،یہ اسلحہ صوبے میں بدامنی کے واقعات میں استعمال کیا جارہا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں بھارتی ‘ اسرائیلی اور امریکی اسلحے کے استعمال ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں،بلوچستان میں 8سے زائد غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے واضح اشارے ملے ہیں، گرفتار ہونے والے افراد بھی دوران تفتیش بلوچستان میں بدامنی کے واقعات میں غیر ملکی ہاتھوں کے ملوث ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں جس کی روشنی میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے بڑے پیمانے پر تحقیقات کررہے ہیں اور چند روز قبل کوئٹہ اور سبی سے اس حوالے سے اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔علاوہ ازیں ایف سی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض نام نہاد تنظیمیں بیرونی اشاروں پر صوبے میں بدامنی پھیلانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں کامیابی نہ ملنے پر بوکھلا گئی ہیں،ناکامی چھپانے کیلئے یہ بہانہ کیا جاتاہے کہ بلوچستان میں آپریشن ہورہا ہے جو بالکل بے بنیاد اور جھوٹ ہے، ترجمان نے ایک مرتبہ پھر تردید کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں کہیں بھی آپریشن نہیں ہورہا اس قسم کے جھوٹ سے معصوم اور امن پسند عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا ،ان شرپسندوں کو چاہیے کہ ہتھیار گھر پر رکھ کر حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اپنائیں اور اچھے شہریوں کی طرح صوبے کی ترقی میں حصہ لیں

Photos 09/06/2012

بی ایل اے کے تخلیق کنندہ روسی جاسوسوں سے موجودہ حالات پر گفتگو
وہ ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا: KGBکے حقیقی جاسوسوں سے پاکستان پر گفتگو

اُس نے اِس زور کا قہقہہ لگایا کہ اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگ پڑا اور ہنستے ہنستے اسکو اچھو لگ گیا جبکہ اسکے ساتھی کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
"فرنٹ لائن اتحادی؟ کونسی احمقوں کی جنت میں رہتے ہو تم؟ امریکہ کو پاکستان کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور کم از کم پاکستان جیسے بیوقوف اتحادی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر وہ دانا شخص جو امریکی پالیسی کو پڑھتا ہے وہ اس بات کو خوب جان سکتا ہے کہ اب امریکہ کو پاکستان کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ا گر اس خطے میں کوئی حقیقی معنوں میں امریکہ کا اتحادی ہو سکتا ہے تو وہ ہے ایران ! لیکن تبدیل شدہ حکومت کے ساتھ۔ ایک بار وہ ایران کے ساتھ نبٹ لیں ۔ ۔ ۔ پھر دیکھنا وہ تم لوگوں کے ساتھ کیا حشر کرتے ہیں۔امریکہ کے لیے بلوچستان کے علاوہ تمام کا تمام پاکستان بے فائدہ ہے"

یہ قہقہہ لگانے والا شخص سابقہ KGBکا جاسوس تھا جس نے بلوچستان میں BLAنامی تنظیم کھڑی کی تھی جبکہ اسکا ساتھی BLAکے آرکیٹیکٹس میں سے ایک تھا۔ انکے کوڈ نام "شاشا اور مشا" فرض کر لیں۔ یہ دونوں ریٹائرڈ آفیسرز ماسکو کی ایک ہی گلی میں رہتے ہیں اور انکی واحد مصروفیت ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر واڈکا شراب پینا ہے۔

"ہم لوگوں نے جب افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو ہمکو افغانستان سے کچھھ لینا دینا نہیں تھا ۔ ہمارا مقصد تو بلوچستان میں سے ہوتے ہوئے گوادر کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا تھا تاکہ ہم وسطی ایشیا کی دولت کو کیش کروا سکیں۔اسی مقصد کے لیے ہم نے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور یہی امریکہ کا بھی مقصد ہے۔"

شراب کے نشے میں دھت ان افسران کو لائن پر لانا مشکل کام تھا لیکن باتیں وہ ہوش میں کر رہے تھے۔ شاشا ماضی کی یادوں میں کھو کر بولا

"ہم نے BLA اس لیے قائم کی تھی کہ ہمکو افغان جنگ میں پاکستان کی تیز ترین اور اثر اندازجنگجویانہ صلاھیتوں نے حیران و پریشان کردیاتھا۔ تب ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو اسکا جواب اُسی کی حکمت عملی کی صورت میں دینا ہے۔ چونکہ ہمارا ٹارگٹ بلوچستان ہی تھا تو ہم نے اسی میں پاکستان کے لیے دلدل پیدا کرنے کی کوشش کی۔"

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے افغانستان سے جانے کے بعد تو BLA کا باب بھی بند ہو گیا تھا پھر اچانک ہی کہاں سے یہ تنظیم نمودار ہو گئی؟ تو"مشا" مسکرا کر بولا

"ممکنہ طور پر پینٹا گان، کریملن کی مدد سے اس تنظیم کو دوبارا متحرک کر چکا ہے۔ RAW انکی اپنے زمینی آدمیوں سے مدد کر رہئ ہے۔ روس نے اس میں بالاچ مری کو قائل کرنے میں لازمی مدد دی ہوگی۔ پاکستان میں جاری مسائل میں امریکہ کا اپنا مفاد ہے ۔ ۔ ۔ ۔بھارت کا اپنا مداف ہے ۔۔ ۔ ۔اور روس کا اپنا مفاد۔ حتی کہ اس میں افغانستان کا بھی مفاد ہے اور ایران کا بھی۔۔ تم لوگ اس وقت بہت سے ممالک میں سینڈوچ بن چکے ہو"

ہم لوگ ایک دوسرے کا حیرانی سے منہ دیکھ رہے تھے ۔اسی استعجاب میں سوال کیا کہ امریکہ کا اس ٹینشن پیدا کرنے میں کیا مفاد ہے؟ روس اپنے دشمن ملک امریکہ کی کیوں مدد کر رہا ہے؟۔
"روس تب تک امریکہ کی مدد کرتا رہے گا اور اس لیے کر رہا ہے کہ اس وقت ان دونوں کے مفادات ایک ہیں۔امریکہ کی خواہش ہے کہ وسطی ایشیا کے ممالک کے لا محدود توانائی کے ذخائر ، جو اس وقت روس کے dependentہیں وہ اسکی اکانومی کے کام آئیں۔ اور اس مقصد کے لیے سب سے مختصر راستہ گوادر کا ہے۔ اس لیے امریکہ ایسے کسی بھی قسم کے معاہدے کی مخالفت کرتا ہے ، ظاہری نہ سہی ڈھکے چھپے میں ضرور
روس کا مفاد یہ ہے کہ پاکستان ، افغانستان کے ساتھ اور وسطی ایشائی ممالک کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہ کر سکے کہ انکے انرجی رسورسز روس کی مناپلی سے نہ نکل جائیں۔
چناچہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی حد تک تو دونوں ممالک اکھتے ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔لیکن آگے پھر سے اختلافات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ چین کو بھی روکنا چاہتا ہے جو اس خطے میں اپنا اثر رسوخ بڑھاتا جا رہا ہے"

"اگر پاکستان میں امن ہو گیا تو سب کچھھ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پاکستان اس وقت سبھی کی نظروں میں چبھھ رہا ہے۔ وہ لوگ بلوچستان کو الگ کر کے رہیں گے"

تو پھر بھارت اور افغانستان کا کیا کامِ ہمارے منہ سے نکلا؟
" بھارت کیسے پاکستان کا کوئی فائدہ برداشت کر سکتا ہے۔ جب تمام کی تمام کا انرجی کوریڈور پاکستان بن رہا ہے تو لامحالہ پاکستان کی اس تمام خطے پر اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔ اس لیے بھارت پاکستان کو کسی قسم کا چانس دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ اور رہی بات افغانستان کی تو۔ ۔۔۔۔۔ پورا افغانستان تو نہیں اس میں موجود کچھھ طاقت ور گروپ پاکستان سے نفرت ضرور کرتے ہیں۔وہ پاکستان سے کسی نہ کسی بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں" یہ کہتے ہوئے سابق KGBآپریٹو کے چہرے پر ذو معنی مسکراہت آ گئی۔

کیا BLA بلوچ عوام کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے؟
"صرف BLA ہی کام نہیں کر رہی ان کھلاڑیوں کے ہاتھ بلکہ اس کے علاوہ پونم ۔۔۔۔ اور بلوچ اتحاد بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ BLAاس وقت کئی ممالک کے تحت کام کر رہی ہے اور ہر ملک اس سے اپنے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہ رہا ہے۔ اور اس وقت حقیقی طور پر BLA کی کمانڈ نوجونوں کے ہاتھ نہیں بلکہ سرداروں کے ہاتھ میں ہے اور بلوچستان کے سرداروں سے انکی عوام کے فائدے کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے۔ یہ سردار پیسوں کی خاطر اپنی عوام کو دریا برد کر سکتے ہیں انہوں ھے بلوچوں کا کیا فائدہ کرنا"۔ اس کے بعد مشا نے اپنے ہاتھ میں موجود ایک فائل میں سے بلوچ سرداروں کی وطن فروشی کی تفصیل سنانا شروع کر دی

موجودہ حالات کا کیا انجام ہو گا؟
میرے نزدیک اگر پاکستان نے انکے خلاف کوئی سخت ایکشن نہ لیا تو اسکا نتیجہ بالاخر پاکستان کی تقسیم ہو گا۔شاشا نے کہا
مشا نے اضافہ کیا کہ ابھی تک میں نے پاکستانی حکومت کی طرف سے کوئی قابل ذکر کام نہیں دیکھا کہ وہ حالات دکا درست سے ادراک کر رہی ہو۔

رفرض کریں کہ پاکستان آپ سے مدد مانگتا ہے تو آپ پاکستان کو کیا مشورہ دو گے/؟
" اسکا سادہ سا حل ہے۔ بلوچستان کو ہمیشہ اسکے سرداروں نے پیسا ہے۔ اس کے سردار معمولی پیسوں کے عوض اپنا وطن بیچ دیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں تعلیم یافتہ بلوچ نوجووانوں کے ان سرداروں اور سرداری سسٹم کے خلاف تیار کیا جائے۔ دوسرے مرحلے میں وہاں ترقیاتی کام کیے جائیں اور بلوچ نوجوانوں کے لیے روزگار کا انتظام کیا جائے
اگلے مرحلے میں جب یہ جدو جہد مضبوط ہو جائے توپاکستان سرکاری طور پر سرداری سسٹم ختم کر دے۔ ۔
آخری مرحلہ میں باغیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے"

اس پر مشا نے اضافہ کیا کہ بلوچستان کے سردار جس قدر زیادہ وطن فروش ہیں اس کے عوام اسی قدر زیادہ بیوقوفانہ محب وطن ہیں۔ ضرورت صرف ان محب وطن طاقتوں کو منظم کرنے کی ہے۔ باقی کا سارا کام یہ لوگ خود کر لیں گے

Photos 09/06/2012

2012ء کے ابتدائی 155 دنوں میں 154 امریکی فوجیوں نے خود کشی کی، یہ تعداد افغانستان آپریشن میں ہلاک ہونیوالے فوجیوں کی تعداد سے 50 فیصد زیادہ ہے۔

امریکی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ اوسطاً روزانہ ایک امریکی فوجی خود کشی کرتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پنیٹا گون کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ سال 2012ء کے ابتدائی 155 دنوں میں سرگرم دستوں کے 154 فوجیوں نے خود کشیاں کیں۔ یہ تعداد افغانستان آپریشن میں مارے جانیوالے فوجیوں کی تعداد سے 50 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران فوجی جوانوں کی جانب سے خود کشیوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافے کا سبب عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائی پر امریکی فوج میں بڑھتا ہوا اختلاف رائے ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان کے علاوہ جنسی زیادتی، نشے کے استعمال اور گھریلو تشدد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے زیر نظر عرصہ میں 130 فوجیوں نے خود کشیاں کی تھیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Malir
Karachi
75120