*خود کشی کرنے والے کی بخشش ہوگی یا نہیں؟*
سوال
میری سترہ سالہ بہن نے پندرہ رمضان کو روزے کی حالت خود کشی کی ہے، کیا اس کی بخشش ہو گی؟
جواب
ہر انسان کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہے جس میں خیانت کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ،اس وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا) اسلام میں حرام ہے اور گناہ کبیرہ (بڑا گناہ) ہے، تاہم اگر کوئی شخص خودکشی کو حلال اور جائز سمجھ کر نہ کرے، بلکہ مصائب اور پریشانیوں کی وجہ سےخودکشی کرلے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، جس طرح دوسرے گناہ گار مسلمان اپنی سزا مکمل کرکے اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت سے جنت میں جائیں گے، اسی طرح خودکشی کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔
خودکشی کرنے والے کی سزا کے بارے میں مذکور ہےكہ ایسے شخص کو اسى طرح كى سزا دى جائےگى جس طرح اس نے اپنے آپ كو قتل كيا ہو گا، جیسے کہ حدیث شریف میں خود کشی کی مختلف صورتوں کو ذکر کرتے ہوئے مذکور ہے:
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔‘‘
حدیث کاحاصل یہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص جس چیز کے ذریعہ خود کشی کرے گا آخرت میں اس کو ہمیشہ کے لیے اسی چیز کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔ یہاں " ہمیشہ " سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کو حلال جان کر ارتکاب کریں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے ، یا پھر " ہمیشہ ہمیشہ " سے مراد یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے مدت دراز تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
لہذا اگر کوئی شخص خود کشی کو حلال اورجائزسمجھ کر کرتاہے تب تو ہمیشہ اس کی یہ سزا ہوگی، اور اگر کوئی شخص مذکورہ گناہ کوجائزسمجھ کر نہیں کرتا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے جب چاہیں معاف کرکے جنت میں داخل کردیں۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من تردى من جبل فقتل نفسه ; فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه ; فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ". متفق عليه
قال الطيبي رحمه الله: والظاهر أن المراد من هؤلاء الذين فعلوا ذلك مستحلين له وإن أريد منه العموم، فالمراد من الخلود والتأبيد المكث الطويل المشترك بين دوام الانقطاع له، واستمرار مديد ينقطع بعد حين بعيد لاستعمالهما في المعنيين، فيقال: وقف وقفا مخلدا مخلدا مؤبدا، وأدخل فلان حبس الأبد، والاشتراك والمجاز خلاف الأصل فيجب جعلهما للقدر المشترك بينهما للتوفيق بينه وبين ما ذكرنا من الدلائل."
(كتاب القصاص،6/ 2262،ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(من قتل نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره. ورجح الكمال قول الثاني بما في مسلم «أنه - عليه الصلاة والسلام - أتي برجل قتل نفسه فلم يصل عليه.
(قوله : به يفتى) لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين زيلعي (قوله: ورجح الكمال قول الثاني إلخ) أي قول أبي يوسف: إنه يغسل، ولا يصلى عليه إسماعيل عن خزانة الفتاوى. وفي القهستاني والكفاية وغيرهما عن الإمام السعدي: الأصح عندي أنهلا يصلى عليه لأنه لا توبة له. قال في البحر: فقد اختلف التصحيح، لكن تأيد الثاني بالحديث. اهـ.
أقول: قد يقال: لا دلالة في الحديث على ذلك لأنه ليس فيه سوى «أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يصل عليه» فالظاهر أنه امتنع زجرا لغيره عن مثل هذا الفعل كما امتنع عن الصلاة على المديون، ولا يلزم من ذلك عدم صلاة أحد عليه من الصحابة؛ إذ لا مساواة بين صلاته وصلاة غيره. قال تعالى {إن صلاتك سكن لهم} [التوبة: 103] ثم رأيت في شرح المنية بحثا كذلك، وأيضا فالتعليل بأنه لا توبة له مشكل على قواعد أهل السنة والجماعة لإطلاق النصوص في قبول توبة العاصي، بل التوبة من الكفر مقبولة قطعا وهو أعظم وزرا، ولعل المراد ما إذا تاب حالة اليأس كما إذا فعل بنفسهما لا يعيش معه عادة كجرح مزهق في ساعته وإلقاء في بحر أو نار فتاب، أما لو جرح نفسه، وبقي حيا أياما مثلا ثم تاب ومات فينبغي الجزم بقبول توبته ولو كان مستحلا لذلك الفعل؛ إذ التوبة من الكفر حينئذ مقبولة فضلا عن المعصية، بل تقدم الخلاف في قبول توبة العاصي حالة اليأس."
(باب صلاة الجنازة،2/ 211،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144309101174
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Cambridge Kids University
Your child deserves the best schooling experience. Build exactly the nation we need.
بہت سے لوگ اپنے ڈیٹا پرائیویسی کو لیکر اس خوف کی وجہ سے اپنا پرانا موبائل فون مارکیٹ میں بیچنے سے گھبراتے ہیں (خصوصاً خواتین ) کہ کہیں ان کے پرسنل ڈیٹا تک کوئی رسائی نہ حاصل کرلیں جو بالکل بجا ہے اور اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔
اس بات سے تو آپ سبہی واقف ہوں گے کہ موبائل سے ڈلیٹ شدہ ڈیٹا ریکور ہو جاتا ہے اور موبائل فارمیٹ کرنے کے باجود ڈیٹا ریکور ہونا ممکن ہے بہت سے ایسے میتھڈز اور طریقے ہیں جن سے ڈیڈ ڈیٹا تک ریکور کیا جاسکتا ہے
اگر کبھی آپ کو کسی وجہ سے اپنا موبائل بیچنا پڑے تو مندرجہ ذیل طریقہ کار سے اپنے ڈیٹا کو ہمیشہ کے لیے ان ایکسس ایبل بناتے ہوئے محفوظ طریقے سے موبائل مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں.
سب سے پہلے مرحلے میں سمپلی فیکٹری ری سیٹ کریں
اس عمل سے فون کی ریم اور اسٹوریج تفصیلات مؤثر طریقے سے ڈیلیٹ ہو جائیں گی
اسکے بعد ڈیٹا اوور رائٹ کریں
فیکٹری ری سیٹ کرنے کے بعد پرانے ڈیٹا کے حصول کو مزید ناممکن بنانے کے لیے ڈیوائس کی اسٹوریج کو کسی قسم کے بیکار ڈیٹا سے اوور رائٹ کریں۔
بڑی بڑی فائلز جس سے موبائل کی میموری جلدی جلدی بھر جائیں سٹوریج فل کرکے پھر سے ریسٹور کیجئے اور یہ عمل کم سے کم تین چار بار دہرائیں مکمل تسلی کے لیے چاہیں تو اس سے بھی زیادہ بار دہرا سکتے ہیں
اس کے بعد پھر چاہیں کوئی کتنا بھی بڑا ڈیٹا ریکوری سافٹ ویئر ہوگا، وہ آپ کی پچھلی فضول کاپیاں ہی ریسٹور کرتا رہے گا جو آپ نے آخر میں بطور ڈمی ڈیٹا موبائل میں بھری تھی۔
آپ کے اصل ڈیٹا پر کئی ملٹی لیئرز ڈیٹا چڑھ چکا ہے جسے ریکور کرنا ناممکن ہے اب آپ کا ڈیٹا کلئیر ہے اپنا موبائل بے فکر ہو کر سیل کرسکتے ہیں ۔
*اللہ کی خاطر ۔۔۔۔*
جن لوگوں کے پاس پرانی گاڑیاں ہوتی ہیں وہ اپنی گاڑی میں بیٹری وائر رکھتے ہیں تاکہ اگر بیٹری کمزور پڑ جائے تو وہ کسی سے مدد لے کر گاڑی اسٹارٹ کر لیں۔
ایک صاحب نے بھی اپنی گاڑی میں اسی طرح سیاہ و سرخ، مائنس پلس، دو وائر رکھے ہوئے تھے۔ امارات میں ایک انڈین عالم دین احمد سراج صاحب کافی وقت یہاں رہ کر گئے ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب اس شخص سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہنے لگے کہ بیٹری تو ٹھیک ھے مگر میں نے احتیاطاً وائر رکھ لیا ھے کہ کہیں مجھے اس کی ضرورت نہ پڑ جائے۔
مولانا احمد سراج صاحب نے کہا، آپ کو ایک ترکیب نہ بتا دوں جس سے یہ وائر جب تک آپ کی گاڑی میں پڑا رھے گا، آپ کو ثواب ملتا رھے گا؟
پوچھا!
وہ کیا؟
مولانا نے جواب دیا، بجائے اس نیت کے کہ کبھی "آپ" کو ضرورت پڑ سکتی ھے یہ نیت کر لیں کہ ھو سکتا ھے کہ کسی "دوسرے" کو اس کی ضرورت پڑ جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ وائر تو آپ بھی استعمال کریں گے مگر کسی دوسرے کی مدد کی نیت کی وجہ سے آپ کے کھاتے میں ثواب اس وقت تک لکھا جاتا رھے گا جب تک یہ وائر آپ کی گاڑی میں موجود رھے گا۔
مدینہ طیبہ میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمرے میں روشن دان بنوایا۔ ایک دوسرے صحابی کے پوچھنے پر بتایا کہ تازہ ہوا اور روشنی کی خاطر بنوایا ھے۔ انہوں نے فرمایا، اگر نیت یہ کر لیں کہ یہاں سے آذان کی آواز آئے گی تو ثواب ملتا رھے گا۔ رہی تازہ ہوا اور روشنی، تو وہ تو ویسے بھی آتی رہیں گی۔
امارات کی ایک خاتون جواہرہ جنہوں نے ایک ٹرک ڈرائیور کی جان بچائی تھی جو حادثہ کے بعد آگ میں جل رہا تھا۔ جواہرہ کو چند گھنٹوں میں وہ شہرت ملی جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ اعزازات، انٹرویوز اور ویڈیو کلپس کا سلسلہ تا دیر جاری رہا۔ ان کا تعلق عجمان ریاست سے ھے۔ عجمان کے بادشاہ نے ان کو شرف ملاقات بھی بخشا۔
جواب میں جواہرہ نے کہا کہ انہوں نے یہ سب صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کہتیں کہ "یہ سب میں نے اللہ کی رضا کے لیے کیا "۔ انسانی ہمدردی والا مدعا تو اس سے بھی واضح ہو جاتا۔ یاد رھے کہ ٹرک ڈرائیور غیرمسلم تھا اور "اللہ کی خاطر" جیسے الفاظ سن کر وہ کم از کم ایک بار تو سوچنے پر مجبور ہوتا کہ مسلمان یہ سب کچھ اللہ، اپنے رب کی خاطر کیا / کرتے ہیں۔
جو بات سمجھنے کی ھے وہ یہ کہ ہم مسلمانوں سے بہت غیرمحسوس انداز میں ہمارا ربّ چھین لیا گیا ھے۔ وہ رب جس کی بدولت ہم سب کچھ ہیں مگر ہم اس کو کچھ بھی دیے نہیں سکتے ۔ بلکہ شاید دنیا کے سامنے اس کا نام لیتے بھی شرماتے ہیں کہ کہیں لوگ ہمیں دقیانوس نہ سمجھ لیں۔
کسی کھلاڑی، کسی فوجی، کسی مالدار، کسی آرٹسٹ، کسی سائنسدان، کسی مصور سے پوچھ کر دیکھ لیں، اس کی زبان پر یہی الفاظ ہوں گے کہ جو کچھ کارنامہ اس نے سرانجام دیا، اپنے وطن کے لیے، انسانیت کی خدمت کے لیے اور فلاں اور فلاں کے لیے دیا۔
جب کہ حقیقت یہ ھے کہ مسلمان تو ہر کام اللہ کی رضاجوئی کی خاطر کرتا ھے۔ اللہ تو ہمارا مرکزِمحبت ھے۔ وہ کہتا ھے "اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں"۔
اللہ نے خود اپنے نبی صلى الله عليه وآله وسلم سے فرمایا:
"اے نبی (صلی اللہ علیہ وآله و سلم) آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ھے۔
یہی حضور اكرم صلى الله عليه وآله وسلم کی وہ تربیت ھے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب رسول کے جملے کچھ اس طرح کے ہوتے تھے:
میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔
میں نے اسے اللہ کی خاطر معاف کیا
میں نے فلاں کی اللہ کی رضا کی خاطر مدد کی۔
میں صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے فلاں کام سے باز آگیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
کبھی کسی نے غور کیا کہ مسلمانوں کی زبانوں سے اس طرح کے فقرے کیوں کر غائب ہوگئے؟ اگر نہیں معلوم تو سن لیجیے کہ اس سے قبل جتنے بھی دوسرے نظریات اسلام کے مدمقابل لائے گئے وہ سب ایک ایک کر کے پسپا ہوگئے۔ اب بازی گروں نے مسلمانوں کے منہ میں "انسانیت سب سے بڑا مذہب" کا نعرہ ڈال دیا ھے.
اور وہ اسی میں خوش ھے کہ اسلام کو پسِ پشت ڈال کر فرعونِ وقت کے مذہب کا غیر محسوس پیروکار بن کر وہ طاغوتِ زمانہ کو خوش کر لے گا۔
ہر انسان جان لے کہ اگر اسے اللہ کی حاجت نہیں تو اللہ کو بھی اس کی حاجت نہیں۔ وہ تو ھے ہی بے نیاز۔
اسے کیا پڑی کہ بندوں کے پیچھے بھاگے جب کہ بندوں نے ایک دن بھاگ کر اسی کے قدموں میں پڑنا ھے!
منقول
*آیات منجیات*
یہ آیات منجیات کے عنوان سے مشہور ھیں
انکی فضیلت میں کعب احبار رح فرماتے ہیں کہ جب میں ان آیات کو پڑھ لیتا ھوں تو کچھ پرواہ نہیں کرتا اگرچہ آسمان زمین پر گر پڑے تب بھی میں اللہ رب العزت کے حکم سے نجات پا جاؤں گا ایک جگہ آیا ھے کہ جو کوئی ان آیات کو ھمیشہ پڑھے گا اگر اس پر احد کے پہاڑ کے برابر آفت آ پڑے تو بھی اللہ اسکی برکت سے اسے اٹھا دے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے صبح شام ان آیات کو اپنا وظیفہ بنایا وہ دنیا کی تمام آفات سے امن میں رھا دشمنوں کے مکر سے اللہ کی امان میں پہنچا
1۔۔قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَىٰنَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
(سورہ توبہ 51)
2۔۔وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ- وَاِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
(یونس 107)
3۔۔وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ
(ھود 6)
4۔۔وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَاِیَّاكُمْ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
(سورہ عنکبوت)
5۔۔مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَاۚ وَمَا یُمْسِكْۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۔
(فاطر 2)
6۔۔وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ
(الزمر 38)
7۔۔اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب دامت برکاتہم العالیہ۔۔نے بھی رائے ونڈ اجتماع (2023)میں اسکی فضیلت سنائی
*حضرت انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص گانا سنے گا*
تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا___
ہر شخص اس دھوکے میں مبتلا ہو کر گناہ کر رہا ہے کہ بعد میں توبہ کر لوں گا _
حالانکہ بعض اوقات گناہوں کی نحوست کی وجہ سے توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی!
کیا یہ عقلمندی ہے کہ یہ سوچ کر زہر کھایا جائے کہ جب اثر کرنے لگے گا تو تریاق پی لوں گا؟
_آہ .... آج اگر کان میں ذرہ سا درد ہوجاۓ تو اچھے اچھوں کی چینخیں نکل آتی ہیں فوراً ڈاکٹر کے پاس دوڑتے ہیں پر قیامت والے دن کیا کرینگے قیامت کا درد دنیا کے درد سے کٸی گنا انتہائی زیادہ ہوگا... کیا آپ کے نازک کان یہ برداشت کر پاٸیں گے....
🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
🌷 *آج کا کیلینڈر*
🥀 *8* *جمادی الاولی 1445ھ*
🌸 *8* *مگھر* *2080* *ب*
🪷 *23* *نومبر* *2023*
*بروز جمعرات*
🌾 *رسول اللہﷺنے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کونصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا:*
*علیک بحسن الخلق وطول الصمت.*
*یعنی: تم ا چھااخلاق اور لمبی خاموشی کو لازم پکڑلوکیونکہ یہ دونوں عمل کرنے کے اعتبار سے زبان پر بہت آسان ہیں لیکن ترازو میں سب سے بھاری ۔اللہ تعالیٰ کو بہت پسند او ر انسان کے کردار کی خوبصورتی ہیں۔*
( *البزار البحر الزخار:۷۰۰۱،ابویعلی ۳۲۹۸، طبرانی اوسط ۷۱۰۳،الصحیحۃ:۱۹۳۸)*
🍁 *اسلامک معلومات عامہ*
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
*جھوٹ اور غیبت کے گناہ سے خلاصی اور معافی کا طریقہ*
یاد رکھئے کہ کہ ہر گناہ سے توبہ کرنے کا طریقہ الگ ہے۔ اگر جھوٹ بولا ہے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ سے استغفار کرلو۔ اور اگر غیبت کی ہو تو اس کے لیے صرف استغفار کافی نہیں بلکہ جس کی غیبت کی ہے اس سے بھی معافی چاہو ، مگر معافی چاہنے میں اس کی ضرورت نہیں کہ اس سے یوں کہو کہ میں نے تیری فلاں فلاں غیبت کی ہے اور تجھے یوں برا بھلا کہا ہے کیونکہ اس تفصیل سے خواہ مخواہ اس کو تکلیف پہنچانا ہے۔ ممکن ہے کہ اب تک اس کو اس غیبت کی اطلاع بھی نہ ہوئی ہو تو تم خود کہہ کر اس کا دل کیوں دُکھاتے ہو بلکہ اجمالاً معافی چاہ لو کہ میرا کہا سنا معاف کردو ۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کے سامنے تم نے غیبت کی تھی ، ان کے سامنے اس کی مدح و ثنا ( یعنی تعریف بھی) کرلو اور پہلی بات کا غلط ہونا ظاہر کردو ، اور اگر وہ بات غلط نہ ہو سچی ہو تو یوں کہہ دو کہ بھائی میری اس بات پر اعتماد کرکے تم فلاں شخص سے بدگمان نہ ہونا کیونکہ مجھے خود اس بات پر اعتماد نہیں رہا (یہ توریہ ہوگا کیونکہ سچی بات پر بھی قطعی اعتماد اور یقین وحی کے بغیر نہیں ہو سکتا بلکہ سچی بات بھی ظنی ہوگی) اور اگر وہ شخص مرگیا ہو جس کی غیبت کی تھی تو اب اس غیبت کے معاف کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے لیے دعا و استغفار کرتے رہو یہاں تک کہ دل گواہی دیدے کہ اب وہ تم سے راضی ہو گیا ہو گا۔
( احکام صحافت و ذرائع ابلاغ
*خواب کی حقیقت اوراس کے احکام*
از:مفتی تنظیم عالم قاسمی، استاذ حدیث دارالعلوم سبیل السلام، حیدرآباد
انسان کبھی نیند کی حالت میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو بیداری اورجاگنے کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ عرف عام میں اس کو خواب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خلاصة التفاسیر میں ہے کہ خواب میں روح جسم سے نکل کر عالم علوی اور عالم سفلی میں سیرکرتی ہے جو جاگنے میں نہیں دیکھ سکتی وہ دیکھتی ہے۔ اسے حِسِّ روحانی کہنا چاہیے، حس جسمانی صرف حاضر پر حاوی ہوسکتی ہے اور حِس روحانی حاضر وغائب دونوں کا ادراک و احساس کرتی ہے، اس لئے خواب میں ایسے احوال وکیفیات مشاہدہ میںآ تی ہیں جن سے خود خواب دیکھنے والے کو بڑی حیرت ہوتی ہے، کبھی مسرت انگیز اورکبھی خوفناک تصویریں ذہن میں ابھرتی ہیں اور بیداری کے ساتھ ہی یہ تمام کہانی یکلخت مٹ جاتی ہے۔ قرآن کے متعدد مقامات میں مختلف نوعیتوں سے خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اوراحادیث میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کا وجود حق ہے۔ انبیاء کرام کے علاوہ دیگر افراد کا خواب اگرچہ حجت شرعی نہیں تاہم یہ فیضان الوہیت اور برکات نبوت سے ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اس سے مراد علم نبوت ہے یعنی رویاء صالحہ علم نبوت کے اجزاء اور حصوں میں سے ایک جزو حصہ ہے۔ (صحیح بخاری ومسلم) غور کیاجائے تو اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور بہتر خواب کی فضیلت و منقبت بیان فرمائی ہے اوراسے نبوت کا پرتو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: پہلی قسم نفس کا خیال ہے، یعنی انسان دن بھر جن امور میں مشغول رہتا ہے اوراس کے دل ودماغ پرجو باتیں چھائی رہتی ہیں وہی رات میں بصورت خواب مشکّل ہوکر نظر آتی ہیں، مثلاً ایک شخص اپنے پیشہ ور روزگار میں مصروف رہتا ہے اور اس کا ذہن وخیال ان ہی باتوں کی فکر اور ادھیڑ بن میں لگا رہتا ہے جو اس کے پیشہ ور روزگار سے متعلق ہیں تو خواب میں اس کو وہی چیزیں نظر آتی ہیں، یا ایک شخص اپنے محبوب کے خیال میں مگن رہتا ہے اوراس کے ذہن پر ہروقت اسی محبوب کا سایہ رہتا ہے تو اس کے خواب کی دنیا پر بھی وہی محبوب چھایا رہتا ہے۔ غرض کہ عالمِ بیداری میں جس شخص کے ذہن وخیال پر جو چیز زیادہ چھائی رہتی ہے، وہی اس کو خواب میں نظر آتی ہے۔ اس طرح کے خواب کا کوئی اعتبار نہیں۔
دوسری قسم ڈراؤنا خواب ہے، یہ خواب اصل میں شیطانی اثرات کا پرتو ہوتا ہے۔ شیطان چوں کہ ازل سے بنی آدم کا دشمن ہے اور وہ جس طرح عالم بیداری میں انسان کو گمراہ کرنے اور پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح نیند کی حالت میں بھی وہ انسان کو چین نہیں لینے دیتا۔ چنانچہ وہ انسان کو خواب میں پریشان کرنے اورڈرانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے۔ کبھی تو وہ کسی ڈراؤنی شکل وصورت میں نظر آتا ہے جس سے خواب دیکھنے والا انتہائی خوفزدہ ہوجاتا ہے، کبھی اس طرح کے خواب دکھلاتا ہے جس میں سونے والے کو اپنی زندگی جاتی نظر آتی ہے جیسے وہ دیکھتا ہے کہ میرا سر قلم ہوگیا وغیرہ وغیرہ اسی طرح خواب میں اح**ام کا ہونا کہ جو موجب غسل ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی وجہ سے نماز فوت یا قضا ہوجاتی ہے اسی شیطانی اثرات کا کرشمہ ہوتا ہے۔ پہلی قسم کی طرح یہ بھی بے اعتبار اور ناقابل تعبیر ہوتی ہے۔ اسی طرح کے ڈراؤنے اور برے خواب سے حفاظت کے لیے حدیث میں اس دعا کی ہدایت دی گئی ہے۔ اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضبِہ وَعَذَابِہ وَمِنْ شَرِّ عِبَادِہ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیاطِیْنَ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنَ․ (ابوداؤد وترمذی) ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کلمات تامات کے ذریعہ خود اس کے غضب اور عذاب سے اوراس کے بندوں کے شر سے اور شیطانی وساوس و اثرات سے اوراس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں اور مجھے ستائیں“۔
خواب کی تیسری قسم وہ ہے جس کو منجانب اللہ بشارت کہا گیا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے خواب میں بشارت دیتا ہے اوراس کے قلب کے آئینہ میں بطورِ اشارات وعلامات ان چیزوں کو مشکل کرکے دکھاتا ہے جو آئندہ وقوع پذیر ہونے والی ہوتی ہے یا جن کا تعلق موٴمن کی روحانی وقلبی بالیدگی وطمانیت سے ہوتا ہے وہ بندہ خوش ہو اور طلب حق میں تروتازگی محسوس کرے، نیز حق تعالیٰ سے حسن اعتقاد اور امید آوری رکھے، خواب کی یہی وہ قسم ہے جو لائق اعتبار اور قابل تعبیر ہے اورجس کی فضیلت و تعریف حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
(مظاہرحق جدید)
اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور خوشخبری ہوتی ہے کہ وہ بندہ خوش ہو اور اس کا وہ خواب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے حسن سلوک اورامید آوری کا باعث اور شکر خداوندی میں اضافہ کا موجب بنے اور برا خواب شیطانی اثرات کا عکاس ہوتاہے یعنی برے خواب سے انسان فطری طور پر پریشان اور غمگین ہوتا ہے جس سے شیطان بڑا خوش ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ جو شخص برا اور ناپسندیدہ خواب دیکھے اس کو چاہیے کہ بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور اپنی اس کروٹ کو تبدیل کردے جس پر وہ خواب دیکھنے کے وقت سورہا تھا۔
(مشکوٰة:۳۹۴)
دوسری حدیث میں ہے کہ جب کوئی اس طرح کا خواب دیکھے تو اس طرف توجہ نہ دے اور نہ اس کو کسی دشمن یا دوست کے پاس بیان کرے، اللہ کی پناہ مانگنے اور تین بار تھتکارنے سے انشاء اللہ وہ اس برے خواب کے مضر اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ایساخواب کسی دشمن یا دوست کے سامنے بیان نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ سننے والا خواب کی ظاہری حالت کے پیش نظر جب خراب تعبیر دے گاتواس کی وجہ سے فاسد وہم میں مبتلا ہونا لازم آئے گا۔ دل ودماغ میں مختلف قسم کے اندیشے، وسوسے اور مختلف اوہام وخیالات پیدا ہوں گے جن سے وہ شخص پریشان ہوگا اور خواہ مخواہ اس کا سکون و چین متاثر ہوگا، اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ سننے والے شخص نے جس خراب تعبیر کی نشاندہی کی ہے وہ واقع ہوجائے۔ اس لیے کہ خواب کے وقوع پذیر ہونے میں خواب کو ایک خاص تاثیر حاصل ہے کہ خواب سننے والا جو تعبیر دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ویسا ہی وقوع پذیر ہوجاتا ہے، چنانچہ ابورزین عقیلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی علی رجل طائر مالم یحدث بہا فاذا حدث بہا وقعت
(مشکوٰة: ۳۹۶) ”
خواب کو جب تک بیان نہ کیا جائے وہ پرندہ کے پاؤں پر ہوتاہے اورجب اس کو کسی کے سامنے بیان کردیا جاتا ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے“ ․․․ علی رجل طائر یعنی پرندہ کے پاؤں پر ہونا دراصل عربی کا ایک محاورہ ہے جو اہل عرب کسی ایسے معاملہ اور کسی ایسی چیز کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جن کو قرار وثبات نہ ہو، مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس طرح پرندہ عام طورپر کسی ایک جگہ ٹھہرا نہیں رہتا بلکہ اڑتا اورحرکت کرتا رہتا ہے اور جو چیز اس کے پیروں پرہوتی ہے وہ بھی کسی ایک جگہ قرار نہیں پاتی بلکہ ادنیٰ سی حرکت سے گرپڑتی ہے۔ اسی طرح یہ معاملہ اور یہ چیز بھی کسی ایک جگہ پر قائم و ثابت نہیں رہتی لہٰذا فرمایاگیا ہے کہ خواب کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ جب تک اس کو کسی کے سامنے بیان نہیں کیاجاتا اور اس کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا جاتا ہے اس وقت تک اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ وہ واقع ہوتا ہے لیکن جب اس کو کسی کے سامنے بیان کردیا جاتا ہے اور جوں ہی اس کی تعبیر دی جاتی ہے وہ اسی تعبیر کے مطابق واقع ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی کے سامنے اس طرح کے خواب کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے خواب میں اگرچہ ناخوشگوار باتوں کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا تاہم اسے بھی کسی جاہل، دشمن اورنااہل کے پاس بیان نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ اس کے غلط تعبیر بتانے کے سبب خواب کا رخ بدل سکتا ہے، البتہ اہل علم، تعبیر خواب کے ماہر اور دانا دوستوں سے بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
برصغیر کے مایہٴ ناز محدث حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح نے اچھے اور بہتر خواب کی درج ذیل ۹ صورتیں بیان کی ہیں:
(۱) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا۔
(۲) جنت یا جہنم کو خواب میں دیکھنا
۔
(۳) نیک بندوں اور انبیائے کرام علیہم السلام کو خواب میں دیکھنا۔
(۴) مقاماتِ متبرکہ جیسے بیت اللہ کو خواب میں دیکھنا۔
(۵) آئندہ پیش آنے والے واقعات کو خواب میں دیکھنا، پھر وہ واقعہ ویسا ہی رونما ہو جیسا اس نے دیکھا ہے مثلاً دیکھا کہ ایک حاملہ کو لڑکا پیداہوا پھر واقعی لڑکا پیدا ہو۔
(۶) گذشتہ واقعات کو واقعی طور پر خواب میں دیکھنا مثلاً دیکھا کہ کسی کا انتقال ہوگیا پھر انتقال کی خبر آئی۔
(۷) کوئی ایسا خواب دیکھنا جو کوتاہی پر آگاہ کرے مثلاً خواب دیکھا کہ کتا اس کو کاٹ رہا ہے۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ غصیلا ہے،اپنا غصہ کم کرے۔
(۸) انوار اور ستھرے کھانوں کو خواب میں دیکھنا مثلاً دودھ، شہد اور گھی کا پینا۔
(۹) ملائکہ کو خواب میں دیکھنا۔
(حجة اللہ البالغہ:۲/۲۵۳)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أصدق الروٴیا بالأسحار (ترمذی) یعنی رات کے آخری حصے کا خواب زیادہ سچا ہوتاہے کیونکہ پچھلا پہر عام طور پر دل ودماغ کے سکون کا وقت ہوتا ہے، اس وقت نہ صرف یہ کہ خاطر جمعی حاصل رہتی ہے بلکہ وہ نزول ملائکہ، سعادت اور قبولیت دعا کا بھی وقت ہے۔ اس لیے اس وقت کا دیکھا ہوا خواب زیادہ سچا ہوتاہے تاہم کسی خواب کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ خواب سچا ہے اور اس کا وقوع یقینی ہے۔ اس لیے کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے محض ایک رہنمائی ہوتی ہے کوئی حجت شرعی نہیں۔ خواب میں دیکھی ہوئی چیز جب واقع ہوجائے تواس کے متعلق یقین ہوجائے گا کہ خواب سچا تھا، لیکن یاد رہے کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے خواب میں دیکھا تو وہ خواب سچا اور صحیح ہوگا، اس میں جھوٹ یا دھوکہ کاکوئی شائبہ نہیں، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے درحقیقت مجھ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔
(مشکوٰة:۳۹۴)
غلط خواب کا تعلق شیطان سے ہوتا ہے یہ اسی کی کارستانی ہے کہ مختلف غلط اور جھوٹے خیالات و اوہام دل ودماغ میں پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تصویر وشباہت پر شیطان حاوی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جس نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا درحقیقت اس نے آپ کا ہی مشاہدہ کیا ہے اور یہ خواب دیکھنے والے کے تقویٰ، بزرگی اور قربت الٰہی کی دلیل ہے کہ اس کے کسی عمل سے خوش ہوکر اللہ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کا دیدار کرایا ہے۔ البتہ اہل تحقیق اور اصحاب نظر نے اس میں کلام کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا کب معتبر ہوگا۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حلیہ اور صورت احادیث میں بیان کی گئی ہے اسی صورت کیساتھ اگر دیکھا جائے تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ گویا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھاہے۔ اسی وجہ سے منقول ہے کہ حضرت محمد بن سیرین جو تعبیر فن کے امام تھے، ان کے پاس اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے سے متعلق اپنا خواب بیان کرتا تو آپ ان سے دیکھے ہوئے حلیہ اور شکل و صورت کے بارے میں سوال کرتے اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان نہ کرپاتا تو اس سے کہتے کہ بھاگ جاؤ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں نہیں دیکھا ہے۔
اس بارے میں شارحِ مسلم حضرت امام نووی رح کی رائے یہ ہے کہ جس شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اس نے بہر صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا خواہ اس نے اس مخصوص صورت و حلیہ میں دیکھا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں منقول ہے یا کسی اور شکل و شباہت میں دیکھاہو کیوں کہ شکل وشباہت کا مختلف ہونا ذات کے مختلف ہونے کو ضروری قرار نہیں دیتا۔ علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ شکل وشباہت میں اختلاف و تفاوت کا تعلق خواب دیکھنے والے کے ایمان کے کمال ونقصان سے بھی ہوسکتا ہے یعنی جس شخص نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی شکل وصورت میں دیکھا۔ یہ اس کے ایمان کامل اور عقیدے کے صالح ہونے کی علامت قرار پائے گا اورجس شخص نے اس کے برخلاف دیکھا یہ اس کے ایمان کی کمزوری اور عقیدے کے فساد کی علامت قرار پائے گی۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا دیکھا، ایک شخص نے جوان دیکھا، ایک شخص نے رضامند دیکھا، ایک شخص نے خفگی کے عالم میں دیکھا، ایک شخص نے روتے ہوئے دیکھا، ایک شخص نے شاد وخوش دیکھا اور ایک شخص نے ناخوش دیکھا تو یہ ساری حالتیں خواب دیکھنے والے کے ایمانی احوال کے فرق و تفاوت پر مبنی ہوں گی کہ جو شخص جس درجہ کے ایمان کا حامل ہوگا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی درجہ کی مثالی صورت میں دیکھے گا۔اس اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا گویا اپنے احوال ایمانی کو پہچاننے کا معیار ہے۔ لہٰذا یہ چیز سالکین طریقت کے لیے ایک مفید ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے باطن کی حالت کو پہچان کر اس کی اصلاح کریں۔
(مظاہر حق جدید ۵/۳۱۷)
اس حدیث کے تحت اہل تحقیق نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس شخص پر وہ احکام عائد ہوں جو واقعتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار و صحبت کی صورت میں ہوتے ہیں یعنی نہ تو ایسے شخص کو صحابی کہا جائے گا اور نہ اس چیز پر عمل کرنا اس کے لیے ضروری ہوگا جس کو اس نے اپنے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔ بہرحال اس انسان کی خوش نصیبی کا کیا کہنا جس نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کم سے کم خواب میں ہی دیدار کیا ہو۔ یہ اس کے لیے عظیم نعمت اور بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔ اسی طرح دوسرے اچھے اور بہتر خواب کا دیکھنا بھی خوش آئند بات ہے اسے اللہ کی طرف سے اچھی خبر سمجھنا چاہیے جو انسان کے دل ودماغ کو فطری طور پر خوش کردیتی ہے۔
---------------------------------
ماہنامہ دارالعلوم ، شمارہ 2، جلد: 92 ، صفرالمظفر 1429 ہجری مطابق فروری 2008ء
*خواب سے متعلق احکام*
مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا ہے کہ خواب کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: ۱) واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کا خواب شرعاً حجت نہیں ہے، یعنی خواب کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی خواب اور اس کی تعبیر پر عمل کرنا یا اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا شرعاً ضروری ہے۔
ہر خواب سچا اور بامعنیٰ نہیں ہوتا، بلکہ خوابوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
الف) بیداری کی حالت میں انسان جو صورتیں دیکھتا ہے یا دن بھر جو کچھ سوچتا ہے، وہی صورتیں اور خیالات اسے خواب میں (شکل کی صورت میں) نظر آتی ہیں۔ ان خوابوں کو "حدیث النفس" اور "انسانی خیالات" کہا جاتا ہے۔
ب) کبھی شیطان انسان کے ذہن میں خوشی یا غم کی کچھ صورتیں اور واقعات ڈالتا ہے، جو کہ "شیطانی خیالات" کہلاتی ہیں۔ خواب کی مذکورہ دونوں قسمیں بے معنیٰ ہیں، لہذا ان کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہیے۔
ج) تیسری قسم کے وہ خواب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور سچے اور بامعنیٰ ہوتے ہیں، یہ "الہامات" کہلاتے ہیں اور اسی قسم کو حدیث میں نبوت کا جزء قراردیا گیا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "مؤمن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے چھیالیسواں جز ہے"۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6988) لیکن یہ خواب بھی کوئی دلیل شرعی نہیں ہے۔
نوٹ: یہ بات بھی قرآن و حدیث سے ثابت اور تجربات سے معلوم ہے کہ سچے خواب بعض اوقات فاسق فاجر بلکہ کافر کو بھی آسکتے ہیں، سورہ یوسف ہی میں حضرت یوسف علیہ السلام کے جیل کے دو ساتھیوں کے خواب اور ان کا سچا ہونا، اسی طرح بادشاہِ مصر کا خواب اور اس کا سچا ہونا قرآن میں مذکور ہے۔۔۔۔ بہرحال سچے خواب عام اُمت کے لیے حسبِ تصریحِ حدیث ایک بشارت یا تنبیہ سے زائد کوئی مقام نہیں رکھتے، نہ خود اس کے لیے کسی معاملہ میں حجت ہیں نہ دوسروں کے لیے، بعض نا واقف لوگ ایسے خواب دیکھ کر طرح طرح کے وساوس میں مبتلا ہوجاتے ہیں، کوئی ان کو اپنی ولایت کی علامت سمجھنے لگتا ہے، کوئی ان سے حاصل ہونے والی باتوں کو شرعی احکام کا درجہ دینے لگتا ہے یہ سب چیزیں بے بنیاد ہیں، خصوصاً جبکہ یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ سچے خوابوں میں بھی بکثرت نفسانی یا شیطانی یا دونوں قسم کے تصورات کی آمیزش کا احتمال ہے۔ (معارف القرآن: (29/5، ط: إدارة المعارف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 6988)
عن أبي هريرة رضي الله عنه،: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة».
صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 6995)
عن أبي قتادة، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الرؤيا الصالحة من الله، والحلم من الشيطان، فمن رأى شيئا يكرهه فلينفث عن شماله ثلاثا وليتعوذ من الشيطان، فإنها لا تضره وإن الشيطان لا يتراءى بي»۔
صحيح مسلم: (رقم الحدیث: 2263)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المسلم تكذب، وأصدقكم رؤيا أصدقكم حديثا، ورؤيا المسلم جزء من خمس وأربعين جزءا من النبوة، والرؤيا ثلاثة: فرؤيا الصالحة بشرى من الله، ورؤيا تحزين من الشيطان، ورؤيا مما يحدث المرء نفسه، فإن رأى أحدكم ما يكره فليقم فليصل، ولا يحدث بها الناس " قال: «وأحب القيد وأكره الغل والقيد ثبات في الدين» فلا أدري هو في الحديث أم قاله ابن سيرين ".
سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 2280)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الرؤيا ثلاث، فرؤيا حق، ورؤيا يحدث بها الرجل نفسه، ورؤيا تحزين من الشيطان فمن رأى ما يكره فليقم فليصل.
معارف القرآن از مفتی محمد شفیعؒ: (18/5، ط: مکتبة معارف القرآن)
والله تعالىٰ أعلم بالصواب
دارالافتاء الإخلاص،کراچی
---------------- - - - - - - - - - -
------------------------------------
*خواب کے بارے میں زیادہ غور کرنا چاہئے یا صرف اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا چاہئے؟*
سوال:
خواب کے بارے میں زیادہ غور کرنا چاہئے یا صرف اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا چاہئے؟ خواب سے متعلق جاننے کے لیے چار پانچ کتابوں کے لیے نام بتائیں۔
جواب نمبر: 60423
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1020-1020/M=11/1436-U
خواب کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، ہرخواب لائق تعبیر نہیں ہوتا، نیز خواب حجت شرعیہ بھی نہیں ہے، خواب کی حیثیت ”کشف“ یا ”اندازہ“ سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، اور آج کل جیسے ہم لوگوں کے حالات ہیں کہ نہ اکل حلال کا اہتمام ہے نہ گناہوں سے بچنے کی فکر ہے، نہ اتباعِ سنت کا خیال ہے، ا ن حالات میں خواب کا غلط ہونا اور شیطان کی طرف سے ہونا مستبعد نہیں، پس خواب کے بارے میں زیادہ غور کرنا اور ہرخواب کی تعبیر جاننے کے درپے ہونا فضول ہے، اگر خواب اچھا ہو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مزید اعمال صالحہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اگر خواب برا ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور شیطان سے پناہ مانگنی چاہیے اور اعمال کی درستگی کی فکر کرنی چاہیے، بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں ہے: ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ا ور برا شیطان کی جانب سے، پس جب کوئی شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو اسے صرف اس شخص سے بیان کرے جس سے محبت واعتقاد ہو اور جب مکروہ وناپسندیدہ خواب دیکھے تو حق تعالیٰ سے اس خواب کے شر اور شیطان کے فتنہ سے پناہ مانگے اور اسے چاہیے کہ تین بار تھتکار دے اور ایسا خواب کسی سے بیان نہ کرے، اس حالت میں برا خواب اس کو کوئی ضرر نہ دے گا“۔ (متفق علیہ) خواب اور اس کی تعبیر سے متعلق سب سے جامع اور مستند کتاب مشہور معبّر علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کی ”کامل التعبیر “ ہے اس کا اردو ترجمہ ”بنام ”تعبیر الروٴیا کلاں“ مختلف کتب خانوں پر دستیاب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
__________________________________________
*اُمتی کا خواب شرعاً حجت نہیں*
سوال :
محترم مفتی صاحب !
ایک مسئلہ کا جواب مطلوب ہے ۔
وہ یہ کہ ایک طرف تو ایک شخص قرآن و حدیث میں کھلے طور پر تحریف کررہا ہو اور گمراہ کن باتیں کہہ رہا ہو اور دوسری طرف اس شخص کے بارے میں کوئی یہ کہے کہ خواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حمایت و تائید کررہے ہیں تو ایسے خواب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا اس خواب کو قبول کرکے اس شخص کی غیر شرعی اور قرآن و حدیث میں انحراف والی باتوں سے سمجھوتہ کر لیا جائے یا پھر اس خواب کو نظر انداز کیا جائے ؟
نیز یہ بھی بتائیں کہ اسلام میں خواب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(المستفتی : محمد حمدان، مالیگاؤں)
----------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :
آپ کا سوال اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ فی زماننا خواب کے معاملے میں عوام تو عوام بعض خواص بھی غلط فہمی کا شکار ہیں، اور اسے بڑی اہمیت دے رہے ہیں، یہاں تک کہ بعض معاملات میں خوابوں کو بنیاد بناکر حق اور باطل مقبولیت اور مردودیت کے فیصلے بھی کردیئے جاتے ہیں، لہٰذا ایسے حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ خواب کی شرعی حیثیت کو سمجھا اور سمجھایا جائے، تاکہ لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
حضرت مولانا مفتی یوسف صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ فتاوی "آپ کے مسائل اور ان کا حل" سے خواب سے متعلق کچھ تفصیلات من وعن نقل کی جاتی ہیں، جو امید ہے کہ مسئلہ ھذا میں تسلی و تشفی کا باعث ہوں گی۔
خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت تو برحق ہے، لیکن اس خواب سے کسی حکمِ شرعی کو ثابت کرنا صحیح نہیں، کیونکہ خواب میں آدمی کے حواس معطل ہوتے ہیں، اس حالت میں اس کے ضبط پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے صحیح طور پر ضبط کیا ہے یا نہیں؟ علاوہ ازیں شریعت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے سے پہلے مکمل ہوچکی تھی، اب اس میں کمی بیشی اور ترمیم و تنسیخ کی گنجائش نہیں، چنانچہ تمام اہل علم اس پر متفق ہیں کہ خواب حجتِ شرعی نہیں، اگر خواب میں کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سنا تو میزانِ شریعت میں تولا جائے گا، اگر قواعدِ شرعیہ کے موافق ہو تو دیکھنے والے کی سلامتی و استقامت کی دلیل ہے، ورنہ اس کے نقص و غلطی کی علامت ہے۔
خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بڑی برکت و سعادت کی بات ہے، لیکن یہ دیکھنے والے کی عنداللہ مقبولیت و محبوبیت کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس کا مدار بیداری میں اتباعِ سنت پر ہے۔ بالفرض ایک شخص کو روزآنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہو، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تارک ہو اور وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو تو ایسا شخص مردود ہے۔ اور ایک شخص نہایت نیک اور صالح متبعِ سنت ہے، مگر اسے کبھی زیارت نہیں ہوئی، وہ عنداللہ مقبول ہے۔ خواب تو خواب ہے، بیداری میں جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی دولت سے محروم رہے وہ مردود ہوئے، اور اس زمانے میں بھی جن حضرات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں ہوئی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نصیب ہوئی وہ مقبول ہوئے۔ (آپ کے مسائل اور انکا حل، 1/119 مکتبہ جبریل)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص قرآن و حدیث میں کھُلے طور پر تحریف کررہا ہو اور گمراہ کن باتیں بیان کررہا ہو اور دوسری طرف اس شخص کے بارے میں کوئی یہ کہے کہ خواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حمایت و تائید کررہے ہیں تو بلاشبہ ایسا خواب نظرانداز بلکہ پہلی فرصت میں رد کردیئے جانے کا زیادہ مستحق ہے۔
اخیر میں حضرت لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہی چند جملے نقل کرکے اپنا قلم روکتا ہوں تاکہ اس طرح کا خواب بیان کرنے والوں کی شرعی حیثیت بھی واضح ہوجائے۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا جھوٹا دعویٰ کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء ہے، اور یہ کسی شخص کی شقاوت و بدبختی کے لئے کافی ہے، اگر کسی کو واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تب بھی بلاضرورت اس کا اظہار مناسب نہیں"۔
(حوالہ بالا)
واستشکل اثباتہ بأن رؤیا غیر الأنبیاء لا یبنی علیھا حکم شرعي‘‘ (رد المحتار : ۱/۲۵۷ ، باب الأذان )
فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
18 جمادی الاول 1440
_____________________
_____________________
*خواب اور اسکی تعبیر*
*مولانا عابد جمشید*
انسان کبھی نیند کی حالت میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو بیداری اورجاگنے کی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ عرف عام میں اس کو خواب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قرآن کے متعدد مقامات میں خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اوراحادیث میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کا وجود حق ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ دیگر افراد کا خواب اگرچہ حجت شرعی نہیں تاہم یہ فیضان الوہیت اور برکات نبوت سے ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: پہلی قسم نفس کا خیال ہے، یعنی انسان دن بھر جن امور میں مشغول رہتا ہے اوراس کے دل ودماغ پرجو باتیں چھائی رہتی ہیں وہی رات میں بصورت خواب نظر آتی ہیں، مثلاً ایک شخص اپنے پیشہ ور روزگار میں مصروف رہتا ہے اور اس کا ذہن وخیال ان ہی باتوں کی فکر اور ادھیڑ بن میں لگا رہتا ہے جو اس کے پیشہ ور روزگار سے متعلق ہیں تو خواب میں اس کو وہی چیزیں نظر آتی ہیں۔ ایسے خوابوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
دوسری قسم ڈراؤنا خواب ہے، یہ خواب اصل میں شیطانی اثرات کا پرتو ہوتا ہے۔ شیطان چوں کہ ازل سے بنی آدم کا دشمن ہے اور وہ جس طرح عالم بیداری میں انسان کو گمراہ کرنے اور پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح نیند کی حالت میں بھی وہ انسان کو چین نہیں لینے دیتا۔ کبھی تو وہ کسی ڈراؤنی شکل وصورت میں نظر آتا ہے جس سے خواب دیکھنے والا انتہائی خوفزدہ ہوجاتا ہے، کبھی اس طرح کے خواب دکھلاتا ہے جس میں سونے والے کو اپنی زندگی جاتی نظر آتی ہے جیسے وہ دیکھتا ہے کہ میرا سر قلم ہوگیا وغیرہ۔ اسی طرح خواب میں اح**ام کا ہونا کہ جو موجب غسل ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی وجہ سے نماز فوت یا قضا ہوجاتی ہے انہی شیطانی اثرات کا کرشمہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے ڈراؤنے اور برے خوابوں سے حفاظت کے لیے حدیث میں اس دعا کی ہدایت دی گئی ہے۔
اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہ وَعَذَابِہ وَمِنْ شَرِّ عِبَادِہ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْن
(ابوداود وترمذی]
’’میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے تمام کلمات کے ذریعہ خود اس کے غضب اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانی وساوس و اثرات سے اوراس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں اور مجھے ستائیں’ ‘۔ جن لوگوں کو ایسے خواب آئیں انہیں چاہیے کہ رزق حلال کا اہتمام کریں اور سوتے وقت مسنون دعائوں کا اہتمام کریں۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ جو شخص برا اور ناپسندیدہ خواب دیکھے اس کو چاہیے کہ بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور اپنی اس کروٹ کو تبدیل کردے جس پر وہ خواب دیکھنے کے وقت سورہا تھا۔ [مشکوۃ]
خواب کی تیسری قسم وہ ہے جس کو منجانب اللہ بشارت کہا گیا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اسے خواب میں بشارت دیتا ہے اوراس کے قلب کے آئینہ میں بطورِ اشارات وعلامات ان چیزوں کو مشکل کرکے دکھاتا ہے جو آئندہ وقوع پذیر ہونے والی ہوتی ہیں یا جن کا تعلق مؤمن کی روحانی وقلبی بالیدگی وطمانیت سے ہوتا ہے تاکہ وہ بندہ خوش ہواور اللہ تعالی سے حسن اعتقاد رکھے، خواب کی یہی وہ قسم ہے جو اصل میں لائق اعتبار اور قابل تعبیر ہے اور جس کی فضیلت و تعریف حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
برصغیر کے مایہ ناز محدث حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں اچھے اور بہتر خواب کی درج ذیل نو صورتیں بیان کی ہیں:
[1] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا۔
[2] جنت یا جہنم کو خواب میں دیکھنا۔
[3]نیک بندوں اور انبیائے کرام علیہم السلام کو خواب میں دیکھنا۔
[4] مقاماتِ متبرکہ جیسے بیت اللہ کو خواب میں دیکھنا۔
[5] آئندہ پیش آنے والے واقعات کو خواب میں دیکھنا، پھر وہ واقعہ ویسا ہی رونما ہو جیسا اس نے دیکھا ہے مثلاً دیکھا کہ ایک حاملہ کو لڑکا پیداہوا پھر واقعی لڑکا پیدا ہو۔
[6] گذشتہ واقعات کو واقعی طور پر خواب میں دیکھنا مثلاً دیکھا کہ کسی کا انتقال ہوگیا پھر بیدار ہونے کے بعد اس کے انتقال کی خبر آگئی۔
[7] کوئی ایسا خواب دیکھنا جو کوتاہی پر آگاہ کرے مثلاً خواب دیکھا کہ کتا اس کو کاٹ رہا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ غصیلا ہے،اپنا غصہ کم کرے۔
[8] پاک اورصاف ستھرے کھانوں کو خواب میں دیکھنا مثلاً دودھ، شہد اور گھی وغیرہ۔
[9] فرشتوں کو خواب میں دیکھنا۔
آخر میں اپنے قارئین اور قاریات سے گذارش ہے کہ خوابوں کی تعبیر دریافت کرنے کے سلسلے میں درج ذیل امور کا خیال رکھیں:
برے اور ڈرائونے خواب کسی کو نہ بتائیں۔
اچھے خواب کو صرف کسی عالم دین اور تعبیر کے ماہر کے سامنے ذکر کریں
__________________________________________
*خواب اور اس کی تعبیر کے احکام*
سوال
مجھے مختلف قسم کے خواب آتے ہیں، کچھ برے کچھ اچھے، اور کچھ تو یاد بھی نہیں رہتے، ہر خواب کے بارے میں الگ الگ سے سوال کر کے آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنا صحیح نہیں ہے، مجھے آپ کوئی ایسی مستند کتاب جِس میں خوابوں کی تعبیر ہو بتا دیں؛ تا کہ میں خود ہی پڑھ کر تعبیر جان سکوں!
جواب
اچھا خواب نظر آئے تو کسی سمجھ دار اور تعبیر کے فن میں مہارت رکھنے والے سے اس کا ذکر کیا جائے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک اس (خواب یا اس کی تعبیر ) کو بیان نہ کیا جائے، جب خواب دیکھنے والا (یا کوئی مؤمن ) اس (خواب یا اس کی تعبیر) کو بیان کردے تو خواب واقع ہوجاتا ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میری دانست میں آپ ﷺ نے یوں بھی فرمایا: خواب کسی عاقل و سمجھ دار یا محبت رکھنے والے کے سامنے ہی بیان کرو‘‘۔(ترمذی)
اور اگر کوئی شخص برا یا ڈراؤنا خواب دیکھے تو جیسے ہی آنکھ کھلے بائیں طرف تھتکار کر "أَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هذِهِ الرُّؤْیَا" پڑھ لینا چاہیے، اور یہ خواب کسی سے بیان نہیں کرنا چاہیے، یہ شیطان کی طرف سے شرارت ہوتی ہے، جس کا مقصد انسان کو پریشان کرنا ہوتاہے ۔ (مسلم)
تعبیر کی کتاب سے اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ خواب کی تعبیر میں خواب دیکھنے والے کی شخصیت، مزاج ،احوال اور موسم نیز دیگر بہت سے امور کا دخل ہوتا ہے، لہذا محض کتاب دیکھنے سے خواب کی صحیح تعبیر معلوم نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ محض کتاب دیکھ کر کوئی مریض اپنے مرض کے لیے دوا متعین نہیں کرتا، کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، اسی طرح خواب کی تعبیر کے لیے کسی ماہر معبر سے رجوع کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144104200864
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Hussaini Chowrangi
Karachi
75120
Opening Hours
| Monday | 07:30 - 12:45 |
| Tuesday | 07:30 - 12:45 |
| Wednesday | 07:30 - 12:45 |
| Thursday | 07:30 - 12:45 |
| Friday | 07:30 - 12:00 |