JYM Official

JYM Official

Share

Founder and Head of this organization Shaikh Yousuf Madni (DB).

Jamia Yahya Al madani (Karachi, Pakistan)
Yahya Al-Madani University is a well-known institution in Karachi that is engaged in the religious service of Ulma and the people.

12/05/2026

حسد سے اجتناب کیجیئے۔۔۔۔!

#اخلاق
#اسلام

#نصیحت
#اصلاح
#دین

#محبت
#بھلائی
#انسانیت
#کردار
#قرآن
#حدیث





See less

12/05/2026

ایک انتہائی اہم اور بنیادی سول اور اسکی تفہیم
(اگلی پوسٹ بھی اسی سے منسلک ہے)




11/05/2026

درس قرآن (2)
20 اپریل 2026
حمدو ثنا
شکر بھی ہے ، دعابھی اور عبادت بھی

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ--بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۝
پناہ لیتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی اہمیت اور مقام
آج باقاعدہ سورۃ الفاتحہ کے ترجمے اور تفسیر کا آغاز ہو رہا ہے۔ گزشتہ مجلس میں اس سورت کے مختلف نام ذکر کیے گئے تھے، جن میں سے ایک نام "سورۃ الصلاۃ" بھی ہے۔ چونکہ یہ سورت ہر نماز اور ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے، اس لیے اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) نہ پڑھی، تو وہ نماز ناقص ہے اور مکمل نہیں ہوئی۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز ہی نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی۔ ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سورۃ الفاتحہ اس قدر اہم ہے کہ نماز کو مکمل کرنے کے لیے اس کا پڑھنا لازمی ہے۔

نمازی کی تین حالتیں اور حکمِ قراءت
یہاں یہ فقہی مسئلہ سمجھ لینا چاہیے کہ نمازی کی تین حالتیں ہوتی ہیں۔ پہلی حالت یہ ہے کہ وہ تنہا الگ سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، خواہ وہ فرض ہو یا نفل۔ دوسری حالت یہ ہے کہ وہ امام بن کر نماز پڑھا رہا ہو۔ اور تیسری حالت یہ ہے کہ وہ مقتدی ہو اور کسی امام کے پیچھے فرض یا نفل نماز ادا کر رہا ہو۔ پہلی دو صورتوں میں، یعنی اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہے یا امام بن کر نماز پڑھا رہا ہے، تو اس کے لیے سورۃ الفاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔

مقتدی کے لیے امام کی حیثیت
تیسری صورت، یعنی اگر کوئی شخص مقتدی بن کر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے، تو اس حوالے سے مستند احادیث میں وضاحت موجود ہے۔ مؤطا امام مالک کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے امام کے پیچھے نماز پڑھی، تو امام کی قراءت ہی اس کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور حدیث، جو کہ صحابہ کے آثار کی ایک مستند کتاب "شرح معانی الآثار" میں موجود ہے، کے مطابق جس شخص کا نماز میں کوئی امام ہو اور وہ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو، تو امام کا قراءت کرنا ہی مقتدی کا پڑھنا شمار ہوگا۔
دراصل جب نماز میں ایک امام مقرر کر دیا جاتا ہے، تو گویا ہم نے اللہ کے سامنے اپنا ایک نمائندہ مقرر کر لیا ہے۔ جس طرح کئی لوگ مل کر اپنی کوئی بات پیش کرنے کے لیے ایک نمائندہ چنتے ہیں اور اس کی بات سب کی بات سمجھی جاتی ہے، بالکل اسی طرح ہم نے اللہ کے سامنے اپنا ایک نمائندہ (امام) مقرر کر لیا ہے۔ اب یہ امام نماز میں جو سورۃ الفاتحہ یا دیگر سورتیں پڑھ رہا ہے، یہ ہم سب کی طرف سے اللہ کے حضور عرض کر رہا ہے۔ نماز میں تسبیحات اور دعائیں تو سب اپنی اپنی پڑھیں گے، لیکن قراءت صرف امام کرے گا، کیونکہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق امام ضامن (ذمہ دار) ہے۔

مقتدی کے لیے کیا پڑھنا لازمی ہے؟
مقتدی کے لیے امام کی قراءت تو کافی شمار ہوتی ہے، لیکن نماز کے دیگر ارکان میں تسبیحات اور دعائیں سب کو اپنی اپنی پڑھنی ہوں گی۔ احادیثِ مبارکہ میں ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے اور دین کے معاملے میں ہم اپنی عقل سے یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ جب قراءت امام کر رہا ہے، تو تسبیحات اور دعائیں بھی وہی پڑھ لے اور مقتدی کے لیے بس یہی کافی ہو جائے۔ شریعت کا حکم ایسا نہیں ہے؛ بلکہ ہر رکن کی تسبیحات، دعائیں اور التحیات ہر نمازی کو خود انفرادی طور پر پڑھنی ہوں گی۔البتہ قراءت کے معاملے میں صرف امام ہی پڑھے گا، کیونکہ وہ سب کا مقرر کردہ نمائندہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ "امام ضامن ہے"۔ یعنی امام اپنے پیچھے کھڑے تمام نمازیوں کی جانب سے قراءت کی ذمہ داری اٹھا لیتا ہے۔

ایک خاموش مکالمہ اور نمائندگی کا فلسفہ
ایک علمی مجلس میں کچھ لوگ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم اس مسئلے پر مناظرہ کرنا چاہتے ہیں کہ مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا کیوں ضروری نہیں؟ ان کا اعتراض یہ تھا کہ جب ہر نمازی اپنی نماز میں رکوع اور سجدہ خود کرتا ہے، اپنی تسبیحات خود پڑھتا ہے اور "اللہ اکبر" بھی خود کہتا ہے، تو پھر سورۃ الفاتحہ اسے خود کیوں نہیں پڑھنی چاہیے؟
امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کمالِ حکمت سے کام لیا اور فرمایا کہ "میں اکیلا ہوں اور تم لوگ بہت زیادہ ہو۔ میں ایک وقت میں اتنے سارے لوگوں سے کیسے بحث کر سکتا ہوں؟ بہتر یہ ہے کہ تم سب مل کر اپنا ایک نمائندہ مقرر کر لو، میں صرف اسی سے بات کروں گا"۔ لوگوں نے اس تجویز کو پسند کیا اور اپنے میں سے ایک صاحب کو نمائندہ بنا کر پیش کر دیا۔ امام صاحب نے پوچھا، "کیا یہ شخص جو بات کہے گا، وہ آپ سب کی طرف سے مانی جائے گی؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا، "جی ہاں! اس کی بات ہم سب کی بات ہے"۔
اس پر امام صاحب نے مسکرا کر فرمایا، "مناظرہ تو ختم ہو گیا۔ جو بات میں سمجھانا چاہتا تھا، وہ تو تم نے خود ہی کہہ دی۔ جس طرح تم نے اتنے بڑے مجمع کے لیے ایک نمائندہ چنا اور اس کی بات کو سب کی بات قرار دیا، بالکل اسی طرح نماز میں امام پوری جماعت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اللہ کے حضور وہ پوری جماعت کی طرف سے کلام کرتا ہے اور اس کا پڑھنا تمام مقتدیوں کا پڑھنا شمار ہوتا ہے۔ ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب اللہ کے سامنے اتنی بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوں، تو ہر ایک اپنی الگ راگنی بجانے کے بجائے ایک ہی آواز (امام) کے ذریعے ربِ کائنات سے ہم کلام ہو"۔

حمد خداوندِ قدوس
اللہ رب العزت نے انسان کو جس حال میں بھی رکھا ہے، اس کے پیچھے ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ جب انسان اپنے مفادات کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ خوشی سے سرشار ہوتا ہے، لیکن جب اسے کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ غم کی تصویر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے مخصوص انداز اور اس کی ضروریات کے مطابق پال رہا ہے۔ یہ صرف اسی کی ذات ہے جو تمام مخلوقات کی کفالت کر سکتی ہے، ورنہ کائنات میں ایسی ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کی غذائی اور دیگر ضروریات کا تصور کرنا بھی انسانی عقل سے بالاتر ہے۔
سورہ فاتحہ کی پہلی ہی آیت میں ہمیں "حمد" کا سبق دیا گیا ہے۔ جس اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ "رب" ہے، یعنی تمام جہانوں کو پالنے والا، وہی اصل معبود اور عبادت کے لائق ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ کائنات میں جہاں کہیں بھی، کسی بھی چیز کی تعریف کی جا رہی ہو، وہ درحقیقت اللہ ہی کی تعریف ہے۔ چاہے وہ کوئی خوبصورت عمارت ہو، کوئی دلکش نقشہ ہو یا کوئی انسان؛ جب ہم کسی شاہکار کی تعریف کرتے ہیں، تو اصل میں اس کے بنانے والے کی دانائی اور مہارت کی تحسین کر رہے ہوتے ہیں۔

کائنات کے ہر نقش میں چھپا ہوا راز
اس کائنات کا پورا کارخانہ، اس کے حیرت انگیز نقشے اور تمام مخلوقات اللہ ہی کی تخلیق ہیں۔ انسان نے اگر جہاز بنایا ہے، تو اس نے صرف اجزاء کو جوڑا ہے، اسے بنانے کے لیے مادہ، سمجھ بوجھ اور صلاحیت سب اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی اچھا منظر یا کوئی بہترین چیز نظر آئے، تو دل سے شکر کا جو جذبہ ابھرنا چاہیے، وہ صرف اللہ کی ذات کے لیے ہونا چاہیے۔
اگر انسان صرف اپنی ذات پر غور کرے، تو اسے ہر لمحہ اللہ کی بے شمار نعمتیں اپنی طرف متوجہ کرتی نظر آئیں گی۔ سب سے پہلی نعمت "وجود" ہے۔ اللہ نے ہمیں عدم سے زندگی بخشی اور پھر ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔ وہ چاہتا تو ہمیں کوئی جانور، پرندہ یا کیڑا مکوڑا بھی بنا سکتا تھا، لیکن یہ اس کا خاص کرم ہے کہ اس نے ہمیں بہترین صورت میں پیدا کیا۔ پھر اس نے ہمیں عقل، شعور اور تمام اعضاء سے نوازا اور ہر طرح کی معذوری سے محفوظ رکھا۔

اندھیروں سے ایمان کے نور تک کا سفر
دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو ہسپتالوں، شفا خانوں اور پاگل خانوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کو دیکھ کر اللہ کا شکر اور بھی واجب ہو جاتا ہے۔ لیکن ان سب نعمتوں سے بڑھ کر جو عظیم ترین نعمت ہے، وہ "ایمان" ہے۔ آج دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کر لیا ہے، وہ چاند تک پہنچ گئے ہیں اور زمین پر بیٹھ کر خلا کی باریکیوں کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن وہ ایمان کی دولت سے محروم ہیں۔ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس طبقے میں شامل نہیں کیا اور ہمیں ہدایت کے نور سے نوازا۔
اس کے علاوہ عزت، مال و دولت، اولاد، صحت اور عافیت جیسی ان گنت نعمتیں ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ سورہ فاتحہ کا پہلا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں شکر کی عادت ڈالے۔ شکر گزاری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے زندگی پرسکون اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔ ایک ہی حالت میں دو مختلف انسانوں کا ردِعمل ان کی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔

ہمیشہ مثبت زندگی گذاریں۔۔!
فرض کریں دو آدمی کاروبار کے لیے گئے اور شام کو دونوں خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ ایک سے پوچھا گیا تو اس نے شکایتوں کے دفتر کھول دیے کہ دن بہت برا تھا، مشقت ہوئی اور کچھ حاصل نہ ہوا۔ لیکن دوسرے نے کہا: "الحمدللہ! اللہ کا بڑا شکر ہے کہ آج کا دن بہت اچھا گزرا، اس نے مجھے بیسیوں ایسی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچائے رکھا جن کا مجھے علم بھی نہ تھا۔" یہ سوچ کا فرق ہی انسان کی زندگی کو یا تو جہنم بنا دیتا ہے یا شکر کی بدولت اسے جنت کا نمونہ بنا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حسبِ منشا کھانا دے دیا۔ گھر پہنچے تو خیریت سے پہنچ گئے۔ گھر میں آکر دیکھا تو خیریت والا ماحول ہے اور کوئی پریشانی نہیں ہے۔ صبح جس حالت میں گھر سے نکلا تھا، شام کو اسی حالت میں، اپنے ہی قدموں پر چلتے ہوئے واپس آیا ہوں۔ اپنے بچوں اور گھر والوں کو خوشی خوشی دیکھا اور زبان سے بے ساختہ نکلا: "الحمدللہ! اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اس نے یہ سانس بھی بحال رکھی ہوئی ہے، یہ جسم بھی دیا ہے، یہ صحت بھی دی ہے اور یہ عافیت بھی عطا فرمائی ہے۔" دراصل یہ انسان کے سوچنے کے مختلف زاویے ہیں۔
سورۃ الفاتحہ کی اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ زندگی کو مثبت بنائیں اور اسے مثبت انداز سے گزاریں۔ مثال کے طور پر ایک گلاس پانی کا آدھا بھرا ہوا ہے۔ ایک آدمی سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ آدھا گلاس خالی ہے، جبکہ دوسرا آدمی کہتا ہے کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ اگر آپ خالی حصے کو دیکھیں گے تو آپ کا نظریہ کچھ اور ہوگا، اور بھرے ہوئے حصے کو دیکھیں گے تو زاویہ نگاہ مختلف ہوگا۔ اللہ کی نعمتوں پر غور کریں۔ اسی لیے صوفیاء کرام کے ہاں باقاعدہ مراقبہ کروایا جاتا ہے، جسے "مراقبہ نعمائے الٰہیہ و تقصیراتِ نفس" کہا جاتا ہے؛ یعنی اللہ کی نعمتوں کی بارش کو دیکھو اور اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالو۔

شکر گزاری کا عملی تقاضا
اللہ تعالیٰ نے رات خیریت سے گزروائی، آرام کی نیند عطا فرمائی، کھانا بھی اچھا تھا اور بستر بھی نرم تھا، غرض سب کچھ میسر تھا، لیکن
اگر صبح فجر کے لیے آنکھ نہیں کھلی تو یہ کتنی بڑی ناشکری ہے۔ شکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو اللہ اس قدر راحت سے رات گزار رہا ہے، ہم اس کے حضور تہجد اور فجر کی نماز میں پہلے سے موجود ہوں۔ یہ شکر گزاری والی زندگی ہے۔ اور یہ ناشکری والی زندگی ہے کہ رات نعمتوں میں گزری اور فجر کی نماز قضا ہو گئی۔ یہ عذر پیش کرنا کہ "ہم اٹھ نہیں سکے"، درحقیقت ایک ناشکری ہے۔
لفظ "الحمد" شکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دعا بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ جو دعائیں مانگا کرتے تھے، ان میں ہمیں حمد کے الفاظ ملتے ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: "اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"۔ اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے تھے: "اے اللہ! آپ کی مکمل تعریف کرنا میرے بس میں نہیں، آپ کی ذات ویسی ہی ہے جیسی آپ نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔" معلوم ہوا کہ حمد ایک دعا بھی ہے۔ دنیاوی معاملات میں بھی جب کوئی کسی کی تعریف کرتا ہے تو اس کا مقصد عموماً کچھ مانگنا ہوتا ہے۔ جب آپ نے کسی کے سامنے اپنی کوئی ضرورت رکھنی ہو تو پہلے اس کی خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح جب بندہ اللہ کی تعریف کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی ضروریات مانگ رہا ہے۔

مانگنے کا بہترین سلیقہ
لہٰذا اگر بندہ صرف اللہ کی تعریف ہی کرتا چلا جائے، تو گویا وہ دعا میں مشغول ہے اور اسے اللہ کی طرف سے ضرور عطا کیا جائے گا۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ پس حمد کے اندر شکر بھی ہے، دعا بھی، اور تیسری اہم بات یہ ہے کہ حمد ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کو بے حد پسند ہے۔ یہ حمد کسی خاص موقع تک محدود نہیں، بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ بندہ جب لقمہ کھائے تو شکر ادا کرے اور "الحمدللہ" کہے، پانی پیے تو "الحمدللہ" کہے۔ بندے کو جو نعمت بھی مل رہی ہے، وہ اس پر "الحمدللہ" کہہ رہا ہے اور اللہ اس سے خوش ہو رہا ہے۔ گویا وہ نعمتوں سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے اور اسے اجر و ثواب بھی ملتا جا رہا ہے۔ یہ کس قدر آسان نسخہ ہے!
اللہ کی ہر حلال نعمت کو دل کھول کر استعمال کریں؛ اچھی گاڑی، اچھی سواری، اچھا لباس، اچھا کھانا، غرض ہر چیز سے فائدہ اٹھائیں، لیکن ساتھ ہی "الحمدللہ" بھی کہہ دیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص کھانا کھائے اور یہ دعا پڑھ لے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ"، تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، کھانا بھی کھایا اور گناہ بھی معاف کروا لیے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ" (سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور محض اپنے فضل سے رزق دیا، اس میں میری قوت و طاقت کا کوئی دخل نہیں)، تو نیا لباس پہننے پر اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

کامیابی اور نیکیوں کا آسان نسخہ
غرض حمد، اللہ کی رضا اور نیکیوں کا خزانہ سمیٹنے کا بہت ہی آسان اور سستا نسخہ ہے۔ یہ سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت کا پیغام تھا۔ اس کا بنیادی سبق یہی ہے کہ ہمیں ہمہ وقت حمد کی رٹ لگانی ہے اور ہر حال میں "الحمدللہ" کہنا ہے۔ جو بندہ "الحمدللہ" کہنے کی عادت بنا لے، آپ سمجھ لیں کہ وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن گیا؛ اس کی دنیا بھی کامیاب ہے اور آخرت بھی۔

ربوبیت: کمال تک پہنچانا
الحمدللہ کے بعد اگلا لفظ جو ہم سورۃ الفاتحہ میں تلاوت کرتے ہیں، وہ "رَبِّ الْعَالَمِينَ" ہے۔ عربی زبان میں 'رب' کا مفہوم بہت وسعت اور گہرائی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب صرف پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ کسی چیز کو اس کی ابتدا سے لے کر اس کی انتہا اور کمال تک بتدریج پہنچانا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ صرف خالق ہی نہیں، بلکہ وہ ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھنے والا، پالنے والا اور ہماری بہترین پرورش کرنے والا ہے۔ دنیا میں ماں باپ بھی بچوں کی پرورش کرتے ہیں، لیکن ان کی پرورش اور رب کی پرورش میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
والدین کی محبت اور پرورش کی ایک حد ہوتی ہے، وہ ظاہری اسباب اور وسائل کے پابند ہوتے ہیں، لیکن اللہ کی ربوبیت کسی ظاہری سبب کی محتاج نہیں۔ وہ اندھیروں میں بھی پالتا ہے اور اجالوں میں بھی۔ ماں کے پیٹ میں جہاں کوئی اور نہیں پہنچ سکتا، وہاں بھی وہ رب ہی ہے جو ضرورت کے مطابق رزق پہنچا رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ وہ صرف انسانوں کا رب نہیں، بلکہ "العالمین" یعنی تمام جہانوں کا رب ہے۔ فرشتے ہوں، جنات ہوں، چرند پرند ہوں، یا سمندر کی تاریک گہرائیوں میں چھپی ہوئی مخلوق، ہر ایک کی ضروریات پوری کرنا اسی رب العالمین کے ذمے ہے۔
جب بندہ یہ سچے دل سے اقرار کرتا ہے کہ "میرا رب تمام جہانوں کو پالنے والا ہے"، تو اس کے دل سے دنیا کا خوف اور رزق کی بے جا پریشانی ختم ہو جانی چاہیے۔ اسے یہ کامل یقین ہو جاتا ہے کہ جس رب نے مجھے عدم سے وجود بخشا ہے، وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑے
گا۔ یہ عقیدہ انسان کو غیر معمولی ذہنی سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے۔

صفتِ رحمت
اس کے بعد اگلی دو مبارک صفات بیان ہوئیں: "الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ"۔ بظاہر یہ دونوں الفاظ "رحم" سے نکلے ہیں، لیکن ان کے مفہوم میں ایک خاص فرق اور لطیف گہرائی موجود ہے۔
رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت بہت وسیع اور جوش مارنے والی ہو۔ اللہ کی یہ صفت خاص طور پر اس دنیا کے لیے ہے، جہاں اس کی رحمت ہر ایک کو یکساں مل رہی ہے۔ چاہے کوئی اس کا ماننے والا ہو یا نہ ماننے والا، کوئی فرماں بردار ہو یا سرکش نافرمان؛ وہ سب کو رزق دے رہا ہے، سب کو ہوا، پانی اور دھوپ جیسی نعمتیں فراہم کر رہا ہے۔ یہ سب اس کی رحمانیت کا صدقہ ہے۔ لیکن "رحیم" کے اندر رحمت کا تسلسل اور دوام پایا جاتا ہے، اور یہ صفت خاص طور پر آخرت کے لیے اور صرف ایمان والوں کے لیے ہے۔

رحمتِ الٰہی کے دو مختلف رنگ
قیامت کے دن جب ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہوگا، تو وہاں اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمانیت کی بجائے اس کی رحیمیت کام آئے گی۔ اس کٹھن دن میں رحمت صرف ان خوش نصیبوں کو ملے گی جنہوں نے دنیا میں ایمان اور نیک اعمال والی زندگی گزاری ہوگی۔ دنیا میں تو نافرمان بھی رب کی نعمتوں کے مزے اڑا رہا ہے، لیکن آخرت میں اللہ کی وہ خاص رحمت (رحیمیت) صرف اس کے اپنے فرماں بردار بندوں کے لیے مخصوص ہوگی۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ایسا بنائیں کہ اللہ کی دونوں رحمتوں کے حق دار ٹھہریں۔

حقیقی بادشاہت اور احتساب کا دن
اس کے فوراً بعد انسان کو ایک بہت بڑی حقیقت اور احتساب کی طرف متوجہ کیا گیا ہے: "مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ" (بدلے کے دن کا مالک)۔ یہ ایک جملہ انسان کو دنیا کی غفلت سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔ مسلسل رحمتوں کا تذکرہ سن کر کہیں انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اب مجھے کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور میں جو چاہوں کرتا پھروں۔ ایسا ہرگز نہیں، بلکہ اسے سختی سے یاد دلایا گیا کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے، جب ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی بادشاہت، اقتدار اور حتمی فیصلہ صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
اس فانی دنیا میں تو انسان کو تھوڑا بہت اختیار مل جاتا ہے، کچھ لوگ بادشاہ بن بیٹھتے ہیں، کچھ حکمران کہلاتے ہیں، لیکن قیامت کے دن یہ سب ظاہری اور عارضی اختیارات ریت کی دیوار کی طرح گر جائیں گے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ اس دن پکارا جائے گا: "لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ" (آج کس کی بادشاہت ہے؟)، اور پھر جواب بھی وہی رب دے گا: "لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ" (صرف ایک غالب اللہ کی)۔ جب بندہ ہر روز اپنی نماز میں یہ شعور کے ساتھ پڑھتا ہے کہ "تو ہی بدلے کے دن کا مالک ہے"، تو اس کے اندر خود احتسابی کا ایک مضبوط احساس بیدار ہوتا ہے۔
یہی وہ احساس ہے جو اسے تنہائی میں بھی گناہوں سے روکتا ہے اور نیکیوں کی طرف ابھارتا ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ میری کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات، میرا کوئی پوشیدہ عمل اس مالک سے چھپا ہوا نہیں ہے اور مجھے ہر حال میں اس کے دربار میں پیش ہونا ہے۔ سورۃ الفاتحہ کا یہ ابتدائی حصہ دراصل اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت اور اس کی جلالت و عظمت کا خوبصورت بیان ہے۔ جب انسان ان عظیم صفات کو دل کی گہرائیوں سے سمجھ کر پڑھے گا، تو اس کا دل خود بخود اللہ کی سچی محبت اور اس کے خوف سے بھر جائے گا، اور حقیقت میں یہی سچی بندگی کی اساس ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔




#قرآن
#اسلام

#حمد
#شکر
#عبادت
#دعا
#نماز
#ایمان
#اصلاح
#نصیحت





11/05/2026

ایک فکر انگیز درس




#حدیث
#اسلام

#دین

#علم
#سنت

#اصلاح
#نصیحت






11/05/2026

خیر خواہی کا جذبہ ایک بہترین صفت ہے

#خیرخواہی
#اخلاق
#اسلام

#نصیحت
#اصلاح
#دین

#محبت
#بھلائی
#انسانیت
#کردار
#قرآن
#حدیث





11/05/2026

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending stars—they help me earn money to keep making content that you love. Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

11/05/2026

وراثت میں عورت کا حصہ کم کیوں؟


#اسلام
#عورت

#وراثت

#قرآن
#شریعت
#عدل
#انصاف
#خواتین

#دین






10/05/2026

جمعہ بیان
8 مئی 2026

رزق میں برکت کے اسباب اور حکمتِ عملی
شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مدنی حفظہ اللہ

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ۔۔۔۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔
وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى۔
گزشتہ مجالس میں رزق میں برکت کا موضوع زیرِ بحث تھا، اور آج بھی اسی موضوع پر گفتگو کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اب تک یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ ایک چیز 'رزق' ہے اور دوسری چیز 'رزق میں برکت' ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رزق انسان اور دیگر تمام مخلوقات کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ رزق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قبضے اور اس کے کامل اختیار میں ہے۔
یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ ہر انسان کا رزق اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی لکھا جا چکا ہے، اور دانے دانے پر اس کے نام کی مہر لگائی جا چکی ہے۔ یہ بھی یقینی ہے کہ جو رزق انسان کے لیے مقدر ہو چکا ہے، وہ اسے ہر صورت مل کر رہے گا۔ اپنا مقدر شدہ رزق پانے سے پہلے وہ اس دنیا سے رخصت نہیں ہو سکتا، اور اس کے منہ میں جانے والا کوئی نوالہ اس سے چھین نہیں سکتا۔ یہ تمام باتیں یقینی اور طے شدہ ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کو رزق سے، اور رزق کو کچھ اعمال سے وابستہ کر دیا ہے۔ اگر انسان ان باتوں کا خیال رکھے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت عطا فرما دیں گے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا، تو ضروری نہیں کہ رزق میں برکت بھی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ رزق تو موجود ہو، لیکن اس میں برکت نہ ہو۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ عرض کی گئی تھی کہ نماز کا اہتمام کیا جائے، اور دوسری چیز اللہ کا تقویٰ ہے۔

رزق میں برکت کا آسان ترین نسخہ
قرآن و حدیث میں ایک تیسری بات بھی بیان کی گئی ہے، جو نہایت آسان ہے۔ یہ کوئی مشکل وظیفہ، پیچیدہ عمل یا مشقت والا کام نہیں ہے، اور وہ ہے 'استغفار'۔ درحقیقت، استغفار انسان کی رزق سے ہٹ کر ایک اہم ذاتی ضرورت بھی ہے؛ کیونکہ اس کائنات میں انسان کا سب سے بڑا دشمن کوئی ہے تو وہ 'گناہ' ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان کا کوئی اور دشمن نہیں ہو سکتا۔
شیطان بھی اسی لیے دشمن ہے کہ وہ انسان کو گناہوں پر اکساتا ہے، لیکن وہ انسان کو اکسا کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے، جب کہ گناہ انسان خود اپنے ارادے سے کرتا ہے۔ شیطان قیامت کے دن صاف کہہ دے گا کہ "فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم" (مجھے ملامت نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو)۔ اس سے پہلے وہ واضح کرے گا کہ "وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ" (میرا تم پر کوئی زور یا زبردستی نہیں تھی)، "إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي" (میں نے تو محض تمہیں ایک راستہ دکھایا تھا اور تم نے میری بات مان لی)۔ لہٰذا شیطان کہے گا کہ مجھے برا بھلا مت کہو بلکہ خود کو کوسو۔
ثابت ہوا کہ انسان گناہ خود کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اتنی قوتِ ارادی، سوچ اور سمجھ عطا کی ہے کہ وہ گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ تقویٰ دراصل اسی کا نام ہے کہ انسان اپنی قوتِ ارادی کو استعمال کرتے ہوئے اور اللہ کے ڈر کو سامنے رکھ کر گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے۔ لیکن اگر بشری کمزوری کے باعث گناہ سرزد ہو جائے، تو پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فوراً استغفار کر لو۔
روحانی زہر اور اس کا تریاق
یہ کتنا آسان عمل ہے! خدانخواستہ اگر کوئی مادی زہر انسان کے اندر چلا جائے تو زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس زہر کے اثر کو جسم سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ گناہ بھی بالکل اسی طرح ایک روحانی زہر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس روحانی زہر کی صفائی کا ایک انتہائی آسان راستہ بتا دیا ہے کہ تم استغفار کر لو۔
مگر یہ استغفار وہ ہونا چاہیے جو دل کی گہرائی سے نکلے، جس میں ندامت کے جذبات شامل ہوں اور جو پشیمانی کے آنسوؤں کے ساتھ کیا جائے۔ جب آپ گناہ کے بعد استغفار کرتے ہیں یا روزانہ توبہ و استغفار کا معمول بنا لیتے ہیں، تو یہ گناہ ہاتھ کے ہاتھ صاف ہو جاتے ہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ جو شخص تین مرتبہ یہ استغفار پڑھ لے: "أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، تو سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتے ہیں۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اتنے بڑے گناہ محض سچی توبہ سے مٹ جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ استغفار دل کی گہرائی کے ساتھ ہو، انسان کو واقعی احساس ہو کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی اور جرم ہوا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہو۔
رزق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
اگر انسان کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتے ہیں۔ لیکن یہ معافی دل کی گہرائی اور سچی ندامت کے ساتھ ہونی چاہیے، کہ انسان اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے بڑے سے بڑے جرم اور خطا کا اقرار کرے اور سچے دل سے توبہ کرے۔ اس استغفار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آخرت سنورنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی میں بھی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ درحقیقت دنیا میں ہمارے رزق کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہمارے گناہ ہوتے ہیں، جسے ہم عموماً سمجھ نہیں پاتے۔ ہم بظاہر نیک اعمال تو کر رہے ہوتے ہیں، لیکن گناہوں والی زندگی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں گناہوں کو اس قدر شامل کر لیتا ہے کہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ میں نمازیں، تہجد، وظائف اور دعائیں تو بہت کرتا ہوں مگر فلاں کام نہیں ہو رہا یا نوکری نہیں مل رہی۔
وظائف بے اثر کیوں ہو جاتے ہیں؟
یاد رکھیں، وظائف کی مثال ایک ایسی گاڑی کی طرح ہے جو اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو، لیکن گناہوں کی وجہ سے سامنے سے ایک اور رکاوٹ آ کر راستہ بند کر دیتی ہے۔ جب راستہ ہی بند ہو جائے تو وظائف کی گاڑی کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟ اللہ کی نافرمانی کے ساتھ کوئی بھی وظیفہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ آج ہمارے معاشرے میں گناہوں کا ایک منظم ماحول بن چکا ہے اور ہر جگہ آزادانہ، من پسند اور خواہش پرستی پر مبنی زندگی کو رواج دیا جا رہا ہے۔ شیطان کے پیروکار ہر دور میں موجود رہے ہیں، مگر آج گناہ کو جس قدر خوشنما، منظم اور آسان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، شاید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انسان مسجد سے قدم باہر نکالتا ہے تو گناہوں کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں، اور درحقیقت یہی مواقع انسان سے اس کا رزق چھین رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اب یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ استغفار کے تریاق سے گناہوں کے اس زہر کا توڑ کیا جائے، تاکہ جو رزق ہماری خطاؤں کی وجہ سے ہم سے دور ہو گیا تھا، وہ دوبارہ ہمارے قریب آ سکے۔
ہر مسئلے کا ایک ہی قرآنی حل
کتابوں میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مشہور واقعہ درج ہے کہ ان کے پاس مختلف لوگ اپنے مسائل لے کر آئے۔ ایک نے اولاد نہ ہونے کی شکایت کی، دوسرے نے کاروبار میں نقصان کا رونا رویا اور تیسرے نے قحط سالی اور بارش نہ ہونے کا ذکر کیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان سب کو ایک ہی نصیحت فرمائی کہ استغفار کرو۔ جب کسی نے حیرت سے پوچھا کہ سب کے مسائل الگ تھے مگر آپ کا جواب ایک ہی کیوں؟ تو آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے۔ آپ نے قرآنی آیت تلاوت فرمائی: "فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا"۔ اگر استغفار کرو گے تو اللہ گناہ بھی معاف کریں گے اور اس کے بدلے میں موسلادھار بارش برسائیں گے، مال اور اولاد میں برکت دیں گے، اور تمہارے لیے باغات اور نہریں پیدا فرمائیں گے۔
گویا اللہ تعالیٰ نے دنیاوی خوشحالی، کامیابی اور رزق کی کشادگی کو سچے استغفار اور گناہوں کی معافی میں رکھ دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ استغفار کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیا جائے۔ ہم دنیاوی کامیابیوں کے لیے تو تگ و دو کرتے ہیں لیکن محض پانچ دس منٹ نکال کر دل کی گہرائی سے استغفار نہیں کرتے۔ جس طرح کپڑے پر لگی ظاہری گندگی اور دھبے پانی اور کیمیکل کے ذریعے مشین میں دھل جاتے ہیں، بالکل اسی طرح سچا استغفار انسان کی روحانی صفائی کرتا ہے اور گناہوں کی وہ میل کچیل دھو ڈالتا ہے جو ہمارے رزق میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہوتی ہے۔
رزق میں بے برکتی کی اصل وجہ اور سکونِ قلب کا راز
یہ تو وہ اہم باتیں اور نیک اعمال تھے جن کی افادیت میں کوئی شک نہیں اور یہی اصل بنیاد ہیں، لیکن اس کے بعد عملی مشق اور پریکٹیکل کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ آپ نے وظائف بھی کیے، استغفار بھی کر رہے ہیں، نمازوں کی پابندی اور تقوے کا اہتمام بھی ہے، لیکن ان سب کے ساتھ ایک کام اور بھی کرنا ہے اور وہ ہے قناعت۔ رزق میں برکت اس لیے ختم ہو جاتی ہے کیونکہ سب سے پہلے قناعت رخصت ہوتی ہے۔ رزق میں برکت کا اصل مفہوم کیا ہے؟ اس حوالے سے حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ رزق میں برکت یہ ہے کہ آپ کی ساری ضروریات پوری ہو جائیں، عزت بھی حاصل ہو، دل کا سکون میسر ہو اور کوئی بڑی پریشانی نہ ہو۔ ہلکی پھلکی پریشانیاں تو زندگی کا حصہ ہیں اور وہ تو رہیں گی، مکمل بے فکری تو صرف جنت میں ہی ممکن ہے، لیکن کوئی ایسی پریشانی آپ پر مسلط نہ ہو جو آپ کا چین اور سکون ہی چھین لے، یہی رزق میں برکت ہے۔
حضرت نے اسی ضمن میں ایک واقعہ سنایا کہ ایک کمپنی کا نوجوان جنرل مینیجر میرے پاس آیا اور رونے لگا کہ حضرت میری تنخواہ 70 ہزار روپے ہے (جو کہ اس وقت کے لحاظ سے شاید آج کے پندرہ بیس لاکھ کے برابر ہوں) لیکن وہ پوری نہیں پڑتی۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ تم رو نہیں رہے، درحقیقت تمہیں رلایا جا رہا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہاری تنخواہ تو 70 ہزار ہے لیکن تمہارے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ جب خرچے آمدنی سے بڑھ جائیں تو اگر تنخواہ سات لاکھ بھی ہو جائے تب بھی وہ پوری نہیں پڑے گی کیونکہ اخراجات پہلے ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ ذہنیت یہ بن چکی ہوتی ہے کہ تنخواہ آتے ہی فلاں فلاں خرچے پورے کرنے ہیں، جس کی فہرست پہلے سے تیار ہوتی ہے۔
حرصِ دنیا کا سراب اور کامیابی کا حقیقی معیار: کیا ہم دھوکے میں ہیں؟
پیسے اور مال کا اصول یہ ہے کہ جیسے ہی یہ انسان کے ہاتھ یا جیب میں آتا ہے، یہ اپنے ساتھ نئی ضروریات لے آتا ہے۔ اب یہ انسان کا کمال اور دانشمندی ہے کہ وہ ان ضروریات کو کس طرح مینج کرتا ہے اور ان کا ایسا بہترین انتظام کرتا ہے کہ زائد ضروریات ایک طرف ہو جائیں اور اصل ضروریات دوسری طرف رہیں۔ ایک آدمی کا گزارہ دس ہزار کی تنخواہ میں بھی ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے خرچے محدود ہیں، جبکہ دوسرے کا ستر ہزار میں بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے اخراجات اس کی آمدنی سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اس کی اصل وجہ قناعت کا ہونا یا نہ ہونا ہے؛ پہلے شخص کو قناعت حاصل ہے جبکہ دوسرے کو نہیں۔ پہلے شخص کا گزارہ دو یا چار جوڑوں اور آٹھ دس لاکھ کی گاڑی میں بھی بخوشی ہو رہا ہے، جبکہ دوسرے کا بیس چالیس جوڑوں اور کروڑوں کی گاڑی میں بھی گزارہ نہیں ہوتا کیونکہ خواہشات کی ایک طویل فہرست اس کے سامنے ہوتی ہے۔
لہٰذا، اگر ہم نے اپنے رزق کے اندر برکت لانی ہے تو اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم اپنے اندر قناعت والی زندگی پیدا کریں۔ آج کے اس مادیت پرستی کے دور کا ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان کی ضروریات لامحدود ہوتی جا رہی ہیں۔ ہمارے اردگرد ایک ایسا ماحول، ایسی پیشکشیں اور ایسی دل لبھانے والی چیزیں موجود ہیں جنہوں نے انسان کی چھپی ہوئی ضروریات کو بھی ابھار کر باہر کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو چیزیں کبھی محض سہولیات شمار ہوتی تھیں وہ اب ضروریات بن چکی ہیں، اور تعیشات بھی سہولیات کے زمرے میں آ گئے ہیں۔ اب انسان کے لیے یہ فیصلہ کرنا اور یہ فرق کرنا کہ کون سی چیز واقعی میری ضرورت ہے اور کون سی نہیں، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ قرآن و حدیث میں ہمیں جو قناعت کی تعلیم دی گئی ہے ہم اس کا مطالعہ کریں اور ان عظیم لوگوں کے حالات پڑھیں جنہوں نے قناعت اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگیاں بسر کیں، اور جنہوں نے اس فانی دنیا کے بجائے آخرت کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنایا۔
اسی حوالے سے جلیل القدر صحابی حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ ہے کہ وہ ایک علاقے کے گورنر تھے، جب مالِ غنیمت حاصل ہوا تو ان کے حصے میں بھی وافر مقدار میں مال آیا۔ جب وہ گھر تشریف لائے تو انتہائی پریشان تھے۔ ان کی اہلیہ نے یہ دیکھ کر پوچھا کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہو گئے ہیں، آج کیا بات ہے؟ عام طور پر اگر ہماری تنخواہ ڈیڑھ گنا ہو جائے تو ہم خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں، وہ ہمارے لیے عید کا دن ہوتا ہے، مگر یہاں تو اتنا بڑا مال حاصل ہوا لیکن چہرے پر فکر، غم اور ٹینشن کے آثار نمایاں ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آگے ایک سخت گھاٹی آنے والی ہے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اس حساب کی گھاٹی یعنی قیامت کے دن، جو انسان جتنا ہلکا ہوگا، وہ اتنی ہی جلدی اسے پار کر لے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس مال کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور اسی وجہ سے پریشان ہوں۔ ان کی اہلیہ بھی چونکہ انہی کی نیک سیرت تربیت یافتہ تھیں، فوراً کہنے لگیں کہ اس کا تو بہت ہی آسان حل ہے۔ یہ جتنا بھی مال آیا ہے، آپ اسے ابھی باہر جا کر اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیں، یوں آپ بھی ہلکے ہو جائیں گے اور میں بھی ہلکی ہو جاؤں گی۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا طریقہ بتایا ہے، چنانچہ انہوں نے وہ سب کا سب مال خرچ کر دیا اور اس بوجھ سے ہلکے اور فارغ ہو گئے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے سامنے زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد ہونا چاہیے۔ آج تو میڈیا، ذرائع ابلاغ اور ہمارے اردگرد کے ماحول نے ہمارے لیے اس دنیا ہی کو سب کچھ بنا دیا ہے۔ آج کامیابی کا معیار یہ بن چکا ہے کہ جس کے پاس اچھی ملازمت ہے وہ کامیاب ہے، جس کی تعلیم اچھی ہے وہ کامیاب ہے، جس کے پاس کوئی بڑی ڈگری ہے وہ کامیاب ہے، یا جو امریکن نیشنل ہے وہ کامیاب ہے۔ بس، کامیابی کو انہی دنیاوی چیزوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ کتنے دن کی زندگی ہے؟ آپ روز سنتے اور روز دیکھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ایک شعر کا مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص صبح اپنے گھر بار میں صحیح سلامتی کے ساتھ گزارتا ہے اور اسے دعائیں بھی دی جاتی ہیں، جیسے عرب میں رواج تھا کہ صبح کے وقت "صباح الخیر" یعنی آپ کی صبح خیر کے ساتھ ہو، کہا جاتا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ موت انسان کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔ انسان کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ آج صبح یہاں ہوں تو شام قبر میں گزرے گی، یا شام یہاں ہوں تو صبح قبر میں ہوگی۔
اس مختصر سی زندگی کے لیے اتنی سخت محنت کی جا رہی ہے! اسلام میں محنت کرنے سے ہرگز منع نہیں کیا گیا، لیکن محض اس دنیاوی رزق کے لیے اتنی اندھا دھند دوڑ دھوپ درست نہیں۔ ہم نے یہ اصول بنا لیا ہے اور ہمارے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہو چکی ہے کہ رزق کا تعلق صرف محنت سے ہے۔ بے شک رزق کا تعلق محنت سے ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی محنت؟ وہ محنت جو سلیقے اور طریقے والی ہو۔ دنیا میں جب بھی کوئی کام سلیقے اور درست طریقے سے کیا جاتا ہے، تو اس کا صحیح نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اور اگر وہی کام بے ڈھنگے پن اور غلط طریقے سے کیا جائے تو اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ آج ہم محنت تو کر رہے ہیں، لیکن وہ بے ڈھنگے پن والی محنت ہے۔ ہم اس قدر مادیت میں کھو چکے ہیں کہ حلال اور حرام کا فرق بالکل مٹتا جا رہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ جو درہم اسے حاصل ہوا ہے، وہ حلال کا ہے یا حرام کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اگر انسان براہِ راست حرام میں ملوث نہ بھی ہو، تب بھی حرام کا غبار اس تک ضرور پہنچے گا اور اس کے اثرات اس پر ضرور پڑیں گے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ پرفتن زمانہ آ چکا ہے اور ہمیں اپنے رزق کے ذرائع اور زندگی کے حقیقی مقاصد پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
رزق کی بے لگام دوڑ اور غبارِ حرام: کیا ہم ہلاکت کے دہانے پر کھڑے ہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے مادی دور میں ہم نے محنت کے مفہوم کو صرف جسمانی مشقت اور دنیاوی دوڑ دھوپ تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ برکت کا تعلق نیت اور حلال و حرام کی تمیز سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فتنے سے ڈرایا تھا، وہ آج ہمارے سامنے مجسم ہو کر کھڑا ہے۔ آج مال کمانے کی ہوس میں یہ تمیز مٹ چکی ہے کہ سامنے والا لقمہ کسی کا حق مار کر حاصل کیا گیا ہے یا محنتِ شاقہ سے۔ جب معاشرے میں حرام کا غبار اڑنے لگے تو اس کے اثرات صرف گناہ گار تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری فضا کو مکدر کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس وسائل کی ریل پیل تو ہے، مگر وہ سکون اور اطمینان مفقود ہے جو کبھی ٹوٹے پھوٹے گھروں میں رہنے والوں کا مقدر ہوا کرتا تھا۔
اس سنگین صورتحال کا حل صرف اور صرف اس میں ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا رخ دوبارہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کی طرف موڑیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے، جہاں ہمیں صرف ایک امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔ کامیابی کا معیار مال و دولت یا بلند و بالا مکانات نہیں، بلکہ وہ تقویٰ اور پاکیزہ رزق ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دے۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات کو درست نہ کیا اور اسی طرح مادیت کے پیچھے بھاگتے رہے، تو یاد رکھیے کہ یہ دنیا ہمیں کبھی آسودگی نہیں دے پائے گی، کیونکہ انسانی خواہشات کی تسکین اس فانی جہان میں ممکن ہی نہیں۔
آخر میں ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے رزق کو پاک کریں گے، چاہے وہ مقدار میں تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ برکت ہمیشہ مقدار میں نہیں، بلکہ معیار اور اللہ کی رضا میں چھپی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قناعت جیسی عظیم دولت سے مالا مال فرمائے، ہمیں دنیا کے فتنوں سے بچائے اور آخرت کی اس کڑی گھاٹی کو پار کرنے کے لیے ابھی سے زادِ راہ جمع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک کر کے اللہ کی محبت سے منور کر لیں، تاکہ جب اس کی بارگاہ میں پیش ہوں تو ہمارا دامن دنیا کے غبار سے نہیں بلکہ نیک اعمال کی خوشبو سے مہک رہا ہو۔

#رزق
#برکت

#اسلام

#دین
#قرآن
#حدیث


#کامیابی
#اصلاح
#نصیحت
#تقویٰ
#استغفار
#دعا



Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Karachi