جس قوم کا نظام غالب ہوتا ہے دنیا اسی کے گرد گھومتی ہے اج امریکہ کا نظام دنیا پر غالب ہے ساری دنیا کی نظریں امریکہ پر ہیں کہ نیا ورلڈ ارڈر کیا ہو گا اج اسلام کے نام پر بنے 58 ممالک اپنا نظام نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنا کوٸی pont of view نہیں رکھتے وہ ان طاقتوں کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں جن اپنے نظام ہیں جب مسلمانوں کا نظام دنیا پر غالب تھا تو دنیا ان کے گرد گھومتی تھی اج پھر اگر مسلمان اپنا نظام قاٸم لیتے ہیں تو دنیا اک بار پھر ان کے گرد گھومے گی ۔
The Capitalist System against humanity
Capital lead to creation of classes. We need to come out of these sectarian circles and understand t
we need to understand the dynamics of Capitalism which have engendered hunger, poverty, classes and political unrest in our society. We need to step ahead in the light of humanitarian Islamic teachings to get rid of Capitalism and solve our problems.
ملک چلانے کا جو funding source ہوتا ہےسوسائٹی میں results بھی ان ہی کے ایجنڈے پر اتے ہیں ہمارے ملک کا socio-economic architecture اور فنڈنگ IMF , World bank کی ہے اور معدنی وسائل پر MNCs قابض ہے اب چاہے ملک کو شریعت اور اسلام کے نام مولانا صاحب چلاٸیں یا انقلاب , روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگاٸیں ایجنڈا تو عالمی سرمایہ دار کا ہی ہو گا
وال سٹریٹ کا نیا ایجنڈا لے کر ٹرمپ ا رہا ہے اب ہماری مذھبی اور سیاسی جماعتوں کے امریکن گوبل پالیساں contextualise کی جاٸیں گی اسلام , ازادی , انقلاب کے نام پر نیے پروجیکیٹس لاٸچ ہوں گے
سرمایہ داری نظام CAPITALISM میں آفتیں غریب کے لیے تباہی اور امیروں کے لیے تجارت ہوتی ہیں
(مارکس)
ہماری عجیب اسلامی ریاست ہے کہ ملک میں امریکی سودی نظام نافذ کر کے پوری دنیا کیلیے جہاد فرض کر رکھا ہے کشمیر , فلسطین , عراق , شام , افغانستان وغیرہ لیکن عجیب logic ہے کہ ملک میں قاٸم کفر کے نظام کے لیے کوٸی جہاد نہیں بلکہ اس کو extension دٸیے جا رہے ہیں ۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تو یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کو کفر سے پاک کرو !!
ہمارے ملک کا جو معاشی ڈھانچہ design ہوا جہاں محنت کرنے والے کو کمی کمین اور ان کی محنت پر پلنے والوں کو خاندانی اور عزت دار کہا گیا یہی فارمولا عالمی نظام کا بھی رکھا گیا جہاں third world کے نام سے غریب ممالک کمی کمین اور ان کے وسائل اور محنت پر پلنے والے ممالک کو first world کہا گیا اسی global strategy کا نام neo- colonialism ہے
ہندو مت , بدھ مت , یہودیت , عیسائیت , کنفیوشیت , زرتشت نے تو قبول کر لیا ہے کہ معشیت اور سیاست یورپ کی ہو گی اور عبادات ہماری ! اج اسلام جو دین یعنی system کا تصور دیتا ہے کو چھوڑ کر وہی نظریہ قبول کر لیا جو باقی مذاھب کر چکے ہیں یہی تو مسلمانوں کا زوال ہے ۔
اگر آیڈم سمتھ کی دولت اقوام(کتاب) کی بنیاد پر سرمایہ داری نظام وجود میں آسکتا ہے...اگر کارل مارکس اور اینگلز کی داس کیپٹل(کتاب) اور مینوفیسٹو(کتاب) کی اساس پر سوشلزم وجود میں آسکتا ہے۔۔۔توالله کریم نےجو کتاب قرآن حکیم اپنےآخری پیغمبر ؐ پر نازل فرمائی اسکی اساس پر انسانیت کےلئے ایک ترقی یافتہ معاشرہ کیوں وجود میں نہیں آسکتا؟ حضرت شاہ عبدالخالق آزاد راۓ پوری مدظلہ
پاکستانی سیاست !
ملک میں پچھلے 76 سالوں سے امریکہ کا نظام قاٸم ہے ہماری سیاسی اور مذھبی جماعتیں امریکی نظام پر پل رہی ہیں اتنی استعداد capacity نہیں رکھتی کہ اپنا ازاد عادلانہ نظام بنا سکیں پھر امریکہ ہی کے خلاف نعرے لگا کر عوام کو بیوقوف بناتی ہیں اور ان سے ووٹ لیتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟
جاپان کے بنک کا interest rate یعنی سود صفر ہے تو کیا جاپان میں سودی نظام نہیں ہے ؟
عالمی نظام capitalism کی سیاسی اور معاشی پالیسیاں عالمی سطح پر implement ہوتی ہیں اور پاکستان عالمی نظام capitalism کی گماشتہ ریاست ہے ملکی سیاست کو سمجھنے کیلیے پہلے عالمی سیاست کو سمجھنا ضروری ہے وہی پالیسیاں مذھبی لبادے میں local level پر contextualise ہوتی ہیں۔
کیا سود بنک میں ہوتا ہے ؟
سود بنک میں نہیں ہوتا کیا جب ہم اپنے پیسے بنک میں رکھتے ہیں وہ بچے دے کر ڈبل ہو جاتے ہیں اصل میں سود سوسائٹی میں راٸج تقسیم , تبادلہ , صرف اور پیدائش دولت کے وضح کردہ اصولوں کے نتائج ہوتے ہیں جن کے زریعے سے کسان اور مزدور کی محنت ہڑپ کر کے بنک کے زریعہ سے ان کا پیسہ stakeholders میں تقسیم ہوتا ہے اور یہی مزدور اور کسان کا استحصال سوسائٹی میں بھوک اور غربت پیدا کرتا ہے اگر بنک زیرو سود پر بھی ہے پھر بھی سوسائٹی سودی ہے اج ہمارے colonial minded علماء نے سود کو صرف بنک کے ساتھ نتھی کر کے سوسائٹی کے سودی economic framework پر پردہ ڈال رہے ہیں جب تک پیدائش تقسیم تبادلہ اور صرف دولت کے اصول تبدیل نہیں ہوتے ہماری سوسائٹی سے سود کا خاتمہ ممکن نہیں سود کا خاتمہ ملک میں قاٸم economic framework کے خاتمے سے مشروط ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Address
Karachi
75400