25/08/2026
*طلبہ اور فضلا قریب قریب آجائیں اور غور سے پڑھیں۔*
نَعَمْ؛ إِنَّ الْمَدْرَسَةَ كَانَتْ تَكْذِبُ عَلَيْهِ!
ہاں! واقعی مدرسہ اس سے جھوٹ بولتا تھا۔
ذٰلِكَ لِأَنَّ سِلَاحَهُ مِنْ طِرَازٍ قَدِيمٍ لَمْ يَعُدْ يَصْلُحُ الْيَوْمَ فِي مَعْرَكَةِ الْحَيَاةِ !
یہ اس لیے کہ اس کا ہتھیار پرانے زمانے کا تھا، جو آج زندگی کی جنگ میں کارآمد نہیں رہا۔
وَلَقَدْ خَدَعَتْهُ الْمَدْرَسَةُ وَكَذَبَتْ عَلَيْهِ، وَصَوَّرَتْ لَهُ الْحَيَاةَ عَلَى غَيْرِ حَقِيقَتِهَا.
مدرسہ نے اسے دھوکا دیا، اس سے جھوٹ بولا، اور زندگی کی حقیقت اس کے سامنے صحیح صورت میں پیش نہیں کی۔
قَالَتْ لَهُ الْمَدْرَسَةُ: الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ؛ الْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وَأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ. فَرَأَى أَنَّ الْمَالَ فِي الْحَيَاةِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَالْعِلْمُ لَا يُنَالُ إِلَّا بِالْمَالِ،
مدرسہ نے اس سے کہا تھا: علم مال سے بہتر ہے؛ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔ مگر اس نے دیکھا کہ زندگی میں مال علم سے زیادہ فائدہ مند ہے، اور علم بھی مال کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔
فَلَوْ أَنَّ شَابًّا كَانَ أَذْكَى النَّاسِ وَأَنْبَهَ النَّاسِ، وَكَانَ مُفْلِسًا لَا يَمْلِكُ أُجُورَ الْمَدْرَسَةِ وَأَثْمَانَ الْكُتُبِ وَالثِّيَابِ، لَمَا قُبِلَ فِي جَامِعَةٍ وَلَا حَصَلَ عِلْمًا. وَالْعِلْمُ لَا يُثْمِرُ إِلَّا بِالْمَالِ،
*اگر کوئی نوجوان سب سے زیادہ ذہین اور سمجھدار ہو، لیکن اس کے پاس اسکول کی فیس، کتابوں اور کپڑوں کے اخراجات نہ ہوں، تو نہ وہ کسی جامعہ میں داخلہ پا سکتا ہے اور نہ علم حاصل کر سکتا ہے۔ اور علم بھی مال کے بغیر فائدہ نہیں دیتا۔*
فَلَوْ أَنَّ أَعْلَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ كَانَ مُفْلِسًا، يُفَكِّرُ فِي خُبْزِهِ مِنْ أَيْنَ يَأْتِي بِهِ وَبَيْتِهِ كَيْفَ يَسْتَأْجِرُهُ، لَمَا بَقِيَ لَهُ عَقْلٌ يُفَكِّرُ وَذَكَاءٌ يُنْتِجُ.
*اگر دنیا کا سب سے بڑا عالم بھی مفلس ہو، اور ہر وقت یہی سوچتا رہے کہ روٹی کہاں سے آئے گی اور گھر کا کرایہ کیسے دے گا، تو اس کے پاس نہ سوچنے کی طاقت باقی رہے گی اور نہ اس کی ذہانت کوئی نتیجہ دے سکے گی۔*
وَرَأَى أَنَّ أَصْحَابَ الْأَمْوَالِ الْجَاهِلِينَ تُبِيحُ لَهُمُ الْحَيَاةُ أَجْمَلَ مَا تَمْلِكُ مِنْ مُتَعٍ وَلَذَائِذَ وَمَجْدٍ وَجَاهٍ، وَالْعُلَمَاءُ الْفُقَرَاءُ مَحْرُومُونَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.
اور اس نے دیکھا کہ مالدار جاہل لوگوں کے لیے زندگی اپنی بہترین خوشیاں، لذتیں، عزت اور شان و شوکت کھول دیتی ہے، جبکہ غریب علماء ہر چیز سے محروم رہتے ہیں۔
نَعَمْ؛ إِنَّ الْمَدْرَسَةَ كَانَتْ تَكْذِبُ عَلَيْهِ!
ہاں! واقعی اسکول اس سے جھوٹ بولتا تھا۔
(من حديث النفس،ص: 15
علي الطنطاوي)