*تحریر: فیض الحسن*
*طاغوت کا مختصر تعارف* :
کچھ ایام سے سوشل میڈیا پر دیکھا جارہا ہے کہ طاغوت کے متعلق ایک ہنگامہ مچایا ہوا ہے ایک شو میں کسی موٹیویشنل سپیکر نے ٪95 عورتوں کو جاہل قرار دیا تھا۔اب شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ طاغوت کے بارے میں وہ جان کر عَالِم ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ارکانِ اسلام و فرائضِ اسلام کا علم ہر شخص پر لازم ہے۔ بہرحال میں اس بات کا تأثر دیے بغیر کہ کون جاہل ہے اور کون عالم ہے ۔ طاغوت کے متعلق ایک ناقص تحریر جس میں سلف و صالحین کے اقوال پیش کرکے معنیٔ طاغوت و مفہومِ طاغوت پیش کردوں گا۔
طاغوت کا لغوی معنی :
لفظِ طاغوت ، طغیان سے ماخوذ ہے اور طغیان کا معنی نافرمان ، سرکش ، ظالم ہے۔ (تفسیرِ کبیر , طبری ، بغوی وغیرہ)
اصطلاحی معنی :
امام جرجانی متوفی(816ھ) اپنی کتاب التعریفات میں لکھتے ہیں:
طغیان: مجاوزة الحد فى العصيان.
نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا طغیان کہلاتا ہے۔(التعریفات:183)
امام راغب اصفہانی متوفی(445ھ) اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں:
الطاغوت:عبارة عن كل متعبد و كل معبود من دون الله.
طاغوت عبارت ہے ہر وہ شخص جو اپنی عبادت کروائے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرے۔(مفردات قرآن:520)
طاغوت کے اصطلاحی مفہوم کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال :
امام فخر الدین رازی متوفی(606ھ) طاغوت کے متعلق لکھتے ہیں:
ذَكَرَ المُفَسِّرُونَ فِيهِ خَمْسَةَ أقْوالٍ:
الأوَّلُ: قالَ عُمَرُ ومُجاهِدٌ وقَتادَةُ: هو الشَّيْطانُ.
الثّانِي: قالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: الكاهِنُ.
الثّالِثُ: قالَ أبُو العالِيَةِ: هو السّاحِرُ.
الرّابِعُ: قالَ بَعْضُهم: الأصْنامُ.
الخامِسُ: أنَّهُ مَرَدَةُ الجِنِّ والإنْسِ وكُلُّ ما يَطْغى.
یعنی مفسرین نے طاغوت کے بارے میں پانچ اقوال بیان کیے ہیں:
(1) عمر و مجاہد و قتادہ فرماتے ہیں: کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
(2) سعید بن جبیر نے فرمایا: طاغوت سے مراد کاہن ہے۔
(3) ابو العالیہ نے فرمایا: کہ مراد جادو گر ہے۔
(4) بعض مفسرین نے کہا: بتوں کو پوجنے والے۔
(5) کہ طاغوت سے مراد نافرمان جن و انس ہیں اور ہر وہ شخص جو سرکشی کرے۔
امام طبری متوفی(310ھ) تفسیرِ طبری میں لکھتے ہیں:
قال أبو جعفر: والصواب من القول عندي في"الطاغوت"، أنه كل ذي طغيان على الله، فعبد من دونه، إما بقهر منه لمن عبده، وإما بطاعة ممن عبده له، وإنسانا كان ذلك المعبود، أو شيطانا، أو وثنا، أو صنما، أو كائنا ما كان من شيء.
"طاغوت" کے بارے میں میری نزدیک یہ قول درست ہے کہ اِس سے مراد ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے خلاف سرکشی کرے اور اُسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ پُوجا جارہا ہو اُسکی پوجا یاتو اسکے جبر و قہر کی وجہ سے کی جارہی ہو یا پوجنے والوں کی طرف سے اطاعت کے جذبہ کے تحت اس کی پوجا کی جارہی ہو۔یہ معبود خواہ کوئی انسان ، شیطان ، بُت ہو یا دنیا کی کوئی بھی چیز۔
امام بغوی متوفی(516ھ) تفسیرِ بغوی میں لکھتے ہیں:
﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ﴾ يَعْنِي الشَّيْطَانَ، وَقِيلَ: كُلُّ مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى فَهُوَ طَاغُوتٌ.
(پس جو انکار کرے طاغوت کا) یعنی شیطان کا اور کہا جاتا ہے: ہر وہ شخص جس کی عبادت کی جائے اللہ تعالیٰ کے سوا وہ طاغوت ہے۔
علامہ ابنِ جوزی متوفی(597ھ) تفسیرِ ابن جوزی میں لکھتے ہیں:
فَأمّا الطّاغُوتُ؛ فَهو اسْمٌ مَأْخُوذٌ مِنَ الطُّغْيانِ، وهو مُجاوَزَةُ الحَدِّ.
طاغوت اسم ہے جوکہ طغیان سے ماخوذ ہے اور طغیان حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں۔
بخاری کتاب التفسیر سورة النساء میں عمر بن خطاب فرماتے ہیں:
الجبت السحر و الطاغوت الشیطان.
جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
اسی میں سیدنا جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں:
کانت الطواغیت التی یتحاکمون الیھا فی جھینة واحد وفی اسلم واحد وفی کل حي واحد کھان ینزل علیھم الشیطان.
کہ طاغوت وہ ہوتے ہیں جن کے پاس لوگ فیصلے لیکر جاتے ہیں۔ جہینہ قبیلہ میں ایک طاغوت تھا۔اسلم قبیلے میں ایک طاغوت تھا۔اور اسی طرح ہر قبیلے میں ایک طاغوت ہوتا ہے۔ یہ طواعیت کاہن ہوتے ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں۔
حضرت پیر کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:
وہ شخص بھی طاغوت ہے جو کسی گمراہ مذہب ، غلط نظریہ اور مضر عمل کا بانی ہو اور کرتا دھرتا ہو۔(تفسیر ضیاء القرآن)
خلاصہ کلام :
زندگی کے کسی بھی میدان میں مخلوق کی بندگی کرنا کلمۂ توحید کے منافی ہے جبکہ اللہ تعالٰی کی توحید کا اقرار اور "طاغوت" کا انکار انبیاء اور رسل کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بنیادی مقصد ہے۔ جب تک طاغوت کا انکار نہ کیا جائے اس وقت تک نہ تو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان مکمل ہوتا ہے نہ کوئی عمل قبول ہوتا ہے اور نہ ہی انسان کی جان و مال محفوظ ہوسکتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُؕ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ.
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللہ نے ہدایت دیدی اور کسی پر گمراہی ثابت ہوگئی تو تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ (سورة النحل:36)
کفر بالطاغوت تمام پیغمبروں کی پہلی ذمہ داری تھی اور کوئی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَمَن یَكۡفُرۡ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَیُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ.
جو شخص طاغوت سے انکار کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تحقیق اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (سورة البقرة:256)
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے "لاالہ الااللہ"کا اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی پوجی جانے والی چیز کا انکار کیا اُس کا مال و خون حرام ہے اور اسکا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
(صحیح مسلم)
ضروری ہے کہ ایمان کا اظہار کرنے سے قبل طاغوت کا انکار کیا جائے۔ اگر طاغوت کا انکار کیے بغیر ہی ایمان کا اظہار کردیا گیا تو ایسا ایمان اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتا جب تک طاغوت کا انکار نہیں کیا جاتا اور شرک سے اجتناب نہیں کیا جاتا ایمان باللہ اور ایمان بالطاغوت دونوں کا کسی ایک آدمی کے دل میں اکٹھا ہونا ممکن نہیں خواہ ایسا ایک لمحہ کے لئے کیوں نہ ہو کیونکہ دونوں میں سے ایک پر ایمان دوسرے کی نفی کو مستلزم ہے۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے دل میں ایمان و کفر جمع نہیں ہوسکتے۔(سلسلہ الصحیحہ)۔
یہ مختصر سا تعارف تھا طاغوت کے بارے میں جوکہ درج ذیل ہے اور طاغوت بہت بڑا گناہ ہے۔ اور اسکی کئی اقسام بھی ہیں جوکہ اہل مفسرین نے اپنی کتب میں نقل کی ہیں ان تمام کا مختصر سی تحریر میں جمع کرنا ممکن نہیں۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ سے کہ وہ ہمیں طاغوت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
Quran o Hadith
Discover Quran & Hadith: wellsprings of wisdom. Join our journey in understanding these sacred texts.
Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi
74900