01/08/2024
السلام علیکم
اکثر گھروں میں جب لوگ صبح سو کر اٹھتے ہیں تو چپ چاپ دوسرے گھر والوں کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سلام کہنے کی عادت ہی نہیں ہوتی۔ السلام علیکم کہنا دوسرے کو دعا دینا ہی تو ہے کہ تم پر سلامتی ہو۔
عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ سلام تو کسی اجنبی سے ملاقات ہونے پر اسے کہا جاتا ہے اور آپس میں اپنے گھر والے جن کے ساتھ زیادہ وقت بیت رہا ہوتا ہے انہیں سلام کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔۔ حالانکہ سب سے زیادہ سلام کہنے کی ضرورت تو اپنے قریبی افراد کو ہی ہوتی ہے ان میں والدین ہیں بھائی بہن ہیں بیوی بچے ہیں ملازمین ہیں ان سب کی خیریت اور سلامتی ہم دل میں تو چاہ رہے ہوتے ہیں لیکن سامنے آ کر سلام کہنے سے جھجک جاتے ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "افشو السلام" سلام کو عام کرو آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہو۔۔ جب ہم کسی کو کال کریں یا ملاقات کریں تو سب سے پہلے سلام کہیں اس کے بعد بات شروع کریں۔
سلام کہنا کسی بھی اجنبی سے بات شروع کرنے کا ایک نہایت موثر طریقہ ہے۔ صحابہ کرام آپس میں کثرت سے سلام کہا کرتے تھے۔
سلام کہتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی بھی درست ہونی چاہیئے یہ نہ ہو کہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم کہتے رہیں اور دعا کی جگہ دوسروں کو بدعا دیتے رہیں۔
سلام کہنے کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی سکھانی چاہیئے تاکہ بڑے ہو کر اس میں پختگی آ سکے لیکن یہ عادت تب ہی پختہ ہو سکے گی جب گھر کے بڑے اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔
حدیث مبارکہ میں سلام میں پہل کرنے والے کو زیادہ اجر ملنے کی نوید سنائی گئی ہے۔ ہمارے سامنے بچہ ہو بڑا ہو ملازم ہو افسر ہو خواہ معاشرے کے کسی بھی چھوٹے بڑے طبقے سے تعلق رکھنے والا بندہ ہو ہمیشہ سلام میں پہل کرنی چاہیئے اس سے دل میں تکبر بھی نہیں آتا۔