08/07/2026
بارش کا معجزہ اور نبی کریم ﷺ کی شانِ دعا
حضور نبی اکرم ﷺ کے مبارک زمانے میں ایک مرتبہ اہلِ مدینہ شدید قحط کا شکار ہوگئے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین خشک ہو چکی تھی، کھیت اجڑ رہے تھے، جانور ہلاک ہو رہے تھے اور لوگوں کی زندگی سخت مشکل میں پڑ چکی تھی۔
ایک جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! گھوڑے ہلاک ہوگئے، بکریاں مر رہی ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ ہمیں بارش عطا فرمائے۔"
یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فوراً اپنے مبارک ہاتھ دعا کے لیے اٹھا دیے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت آسمان بالکل صاف تھا، شیشے کی طرح، کہیں بادل کا نام و نشان نہ تھا۔ مگر جونہی رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی، ہوا چلنے لگی، بادل جمع ہونا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان بارش سے بھر گیا۔
ایسی موسلا دھار بارش ہوئی کہ لوگ بارش میں بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس گئے، اور یہ بارش مسلسل اگلے جمعہ تک جاری رہی۔
جب اگلا جمعہ آیا تو وہی شخص، یا کوئی دوسرا صحابی، دوبارہ کھڑا ہوا اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! اب تو گھروں کو نقصان پہنچ رہا ہے، راستے بند ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش رک جائے۔"
یہ سن کر نبی کریم ﷺ مسکرا دیے۔ پھر آپ ﷺ نے بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعا فرمائی:
"اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا"
اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اسی وقت مدینہ منورہ کے اوپر سے بادل ہٹ گئے اور چاروں طرف اس طرح پھیل گئے جیسے تاج سر کے گرد ہوتا ہے۔
یہ صرف بارش کا رک جانا نہیں تھا، بلکہ یہ نبوت کی روشن نشانیوں میں سے ایک عظیم معجزہ تھا۔
🌿 سبق:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے محبوب ﷺ کا مقام کتنا بلند ہے۔ آپ ﷺ کی دعا رحمت بھی بن کر برستی ہے اور حکمت کے ساتھ تھم بھی جاتی ہے۔ جب بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ سے مانگتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم