Educational Resource Development Centre (ERDC)

Educational Resource Development Centre (ERDC) Unofficial page made by a fan of ERDC. To achieve this aim ERDC is developing textbooks and training teachers both in Govt. and private sectors since 2000.

Educational Resource Development Centre (ERDC) is a private organization developing textbooks and training teachers both in government and private sectors In this short period of time ERDC has trained over 7500 teachers all over the country and its publications have received presidential award for the best children’s literature from the Govt. of Pakistan. ERDC has worked with Federal and Provincial Govt., leading NGOs and other private institutions on the projects of material development and teachers’ education. ERDC has developed a number of books and publications for children and has introduced highly professional and qualitative trends in this area. We have prepared interactive textbooks, supplementary readers, workbooks, learning tools and teachers’ resource material. ERDC has been involved in the field of teachers’ education all over the country both in private and public sectors. Thousands of teachers have attended training workshops of ERDC. Workshops have been offered for teachers, school heads, administrators, coordinators, master trainers, parents, students and community leaders. ERDC has provided consultancy support to schools and educational institutions. Consultancy support involves complete institutional improvement plans and initiatives to give value and meaning to their efforts. ERDC has worked in the areas of school needs assessment, curriculum development, assessment tools development and teachers’ and management training.

11/12/2013

kindly join official page of ERDC

02/07/2013

join official page od ERDC
https://www.facebook.com/ErdcPK

ERDC envisages social excellence through making teachers, learners, parents and schools realize their meaning and achieve their full potential.

23/06/2013

It's my pleasure to see official page of ERDC:-

http://www.facebook.com/ErdcPK

ERDC envisages social excellence through making teachers, learners, parents and schools realize their meaning and achieve their full potential.

20/05/2012
If you are a teacher or a parent you will be able to relate. This is called "NO ANIMAL LEFT BEHIND" That's all I am goin...
23/04/2012

If you are a teacher or a parent you will be able to relate. This is called "NO ANIMAL LEFT BEHIND" That's all I am going to say ;)

01/12/2011

پہلے محرکات دیکھیں پھر فیصلہ کریں

ابتدائی سکول کی اُستانی نے ایک بچے سے نہایت ہی شفقت اور پیار کے ساتھ سوال پوچھا ؛ مُنے اگر میں تمہیں ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور بھی سیب دوں تو تمہارے پاس کل کتنے سیب ہو جائیں گے؟بچے نے اپنی انگلیوں پر گن کر اُستانی سے کہا: چار
اتنی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ پوچھے گئے سوال کا غلط جواب ملنے پر اُستانی کے چہرے پر ناگواری کے تأثرات کا ظاہر ہونا تو فطری عمل تھا ہی مگر وہ اپنے ناراضگی کے تأثرات کو بھی چھپائے بغیر نہ رہ سکی۔اس سیدھے سے سوال کا جواب تین سیب بنتا تھا جو کہ بچہ نہیں بتا پایا تھا۔
اُستانی نے یہ سوچ کر کہ شاید وہ اپنا سوال ٹھیک سے نہیں بتا پائی یا پھر وہ بچہ ٹھیک طرح سے اُسکا سوال نہیں سمجھ پایا، اُس نے اپنا سوال ایک بار پھر دہراتے ہوئے بچے سے پوچھا، مُنے میرا سوال غور سے سُنو، اگر میں تمہیں ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں، اس کے بعد ایک اور بھی سیب دوں تو کل ملا کرتُمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟
بچہ اُستانی کے چہرے پر ناگواری اور غصہ دیکھ چکا تھا، اور اب اُس کی خواہش تھی کہ کسی طرح اپنی اُستانی کے چہرے پر دوبارہ وہی مُسکراہٹ دیکھےجس میں رضا اور شفقت کا احساس ہو۔ بچے نے اس بار زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنی انگلیوں پر گننا شروع کیا۔ اس بار بچے نے پورے یقین اور بھروسے کے ساتھ کہا؛ ٹیچر- چار سیب۔
پہلے تو اُستانی کے چہرے پر غصے اور ناراضگی کے محض تأثرات ہی تھے مگر اس بار تو واقعی غصہ اور غضب دکھائی بھی دے رہا تھا۔ اُستانی نے سوچا کہ دو باتیں ہو سکتی ہیں؛ یا تو اُسکا شمار ناکام اور برے اساتذہ میں ہونا چاہیئے جو طلباء کو اپنا پیغام صحیح طریقے سے پہنچانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے یا پھر یہ بچہ انتہائی کند ذہن اور غبی ہے۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اُستانی نے سوچا کہ وہ کیوں نا اپنا سوال بچوں کے کسی اور پسندیدہ پھل کا نام لیکر کرے۔ اس بار اُستانی نے کہا؛ مُنے اگر میں تمہیں ایک سٹرابیری دوں، پھر ایک اور سٹرابیری دوں اور پھر ایک اور سٹرابیری دوں تو تمہارے پاس کل ملا کر کتنی سٹرابیری ہو جائیں گی؟بچے نے ایک بار اپنی انگلیوں پر گنتی کی اور جواب دیا؛ تین۔ اُستانی کے چہرے پر یہ سوچ کر ایک مُسکراہٹ آگئی کہ وہ جس محنت، توجہ اور مُحبت کے ساتھ بچوں کو پڑھاتی ہے وہ محنت ضائع نہیں جا رہی۔مگر اس کے ساتھ ہی ایک خیال یہ بھی آیا کہ وہ کیوں نا ایک بار پھر اپنا پہلے ولا سوال دوبارہ پوچھ لے۔مُنے کو سٹرابیری کا جواب صحیح دینے پر شاباش دیتے ہوئے اُس نے اپنا سوال دہرایا؛ مُنے اب اگر میں تم کو ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور سیب دوں تو کل ملا کر تمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟
مُنے نے ملنے والی شاباش اور اُستانی کے دوستانہ رویہ سے شہ پا کر قدرے پر جوش طریقہ سے جواب دیا؛ مِس، چار سیب ۔ اِس بار اُستانی سے برداشت نہ ہو سکا اور اُس نے غصے کو دباتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا، مجھے بتاؤ کس طرح سے یہ سیب چار بن جائیں گے؟ مُنے نے اُستانی کے درشت رویہ سے سہم کر ڈرتے ہوئے جواب دیا؛ مس ا ٓج صبح میری امی نے بھی مجھے ایک سیب دیا تھا جو میرے بستے میں پڑا ہے اور اب اگر آپ مجھے تین سیب دینا چاہتی ہیں تو اس طرح سے کل ملا کر میرے پاس چار سیب ہو جائیں گے۔
اس چھوٹے سے قصے میں بھی حکمت کی چند باتیں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ؛
ہمیں چاہیئے کہ کسی بھی معاملے میں اُس وقت تک کوئی حتمی رائے قائم نا کریں جب تک اُس معاملے کے پس منظر اور محرکات کے بارے میں نا جان لیں۔
اپنے خیالات، رویئے اور عقائد کو کم از کم اتنا لچکدار ضرور رکھیں کہ دوسروں کے نقطہ نظر کو قبول کر سکیں۔
دوسروں کے نقطہ نظر کو جان کر کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت غلطیوں کا امکان کم سے کم رہتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے فیصلوں میں دوسروں کے اعتقادات اور نظریات کو بھی جاننا شروع کر دیا تو فیصلے جادو کی حد تک صحیح ہونگے۔ آجکل کی نوجوان نسل کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے تو اور بھی ضروری ہے کہ اُن کے افکار کو جانا جائے جو اُن کے ناپختہ ذہنوں پر کسی منفی اثر کے باعث ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ بالا قصہ میں اُستانی بچے کے اپنے جواب پر اصرار کا سبب اُسی وقت ہی جان پائی جب اُس نے بچے سے یہ پوچھا کہ کس طرح یہ سیب تین نہیں چار ہو رہے ہیں۔ اگر آپ بھی کسی کو ایک مخصوص نقطہ نظر پر مُصر دیکھیں تو کوئی حرج نہیں کہ اُس سے پوچھ ہی لیں کہ وہ کیوں ایسی رائے یا اعتقاد پر یقین کیئے بیٹھا ہے۔ جان لینے کے بعد آپ کو معاملہ آگے بڑھانے میں آسانی رہے گی۔ بلکہ ہو سکے تو ایک بار خود اپنے آپ سے بھی یہ پوچھ لیا کریں کہ آپ کیوں کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کر رہے ہیں کہ وہ غلطی پر ہے؟ کہیں غلطی پر آپ ہی ناں ہوں

30/11/2011

"At the age of 24, I was a Bus Conductor" - Rajnikanth.... "I didn't even complete my University Education" - Bill Gates.... "I was the one who served in Hotels" - Oberoi.... "At my childhood days, I Stitched Shoes" - Abraham Lincoln.... "I worked in a Petrol Pump" - Dhirubhai Ambani.... "I used to serve Tea at a Shop to support my Football Training" - Lionel Messi..... Life is not about what u couldn't do so far, it’s about WHAT YOU STILL CAN...

Address

735, Block H, North Nazimabad
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Educational Resource Development Centre (ERDC) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Educational Resource Development Centre (ERDC):

Shortcuts

Share

Category