The Direction Islamic Academy

The Direction Islamic Academy

Share

My school

12/07/2021
17/09/2020
07/09/2020

بچوں میں ڈپریشن۔۔۔ایک جائزہ
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ڈپریشن کا شکار صرف بالغ افراد ہی ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم سن اور نوعمر بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن کا شکار بچوں کی ایک کثیر تعداد صرف اس وجہ سے علاج سے محروم رہ جاتی ہے کہ ان کے والدین یا سرپرستوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے۔
**والدین، اساتذہ اور ایسے تمام افراد جن پر بچوں کی ذمہ داری ہے، ان کے لیے بچوں میں ڈپریشن کی علامات، وجوہات اور علاج کے بارے میں بنیادی معلومات کا ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ بچوں میں ڈپریشن کی بروقت تشخیص اور علاج ہو سکے۔

علامات؛ Symptoms
کم سن اور نو عمر بچوں میں ڈپریشن کی مندرجہ ذیل بنیادی علامات ہو سکتی ہیں۔
# چڑچڑا پن۔ (Irritability)
# غصہ۔ (Anger)
# سرکش رویہ۔ (Defiant Attitude)
# پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں عدم دلچسپی۔ (Declining Performance)
# جسمانی علامات (سر درد اور پیٹ میں درد کی شکایت)۔ (Physical Complaints)

** یاد رہے۔۔۔۔۔بچوں میں ڈپریشن کی علامات بڑوں سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ بڑوں میں ڈپریشن کی حالت میں اداسی کا غلبہ دیکھنے میں آتا ہے جبکہ بچے میں آپ پہلے سے زیادہ توانائی محسوس کر سکتے ہیں جسے وہ منفی طور پر استعمال کرتا ہے. (مار کٹائی والی کھیلیں، کھلونے اور چیزیں توڑنا، ساتھی بچوں کو ہراساں کرنا وغیرہ)**
ڈپریشن کے دوران بچے اس بات پر اسرار کر سکتے ہیں کہ وہ بالکل تندرست ہیں۔ اس طرح بہت سے والدین بچوں کے غصے اور چڑچڑے پن کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اسے سختی سے اور بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں. اگر کسی بچے میں مندرجہ بالا علامات مسلسل دو ہفتے سے زیادہ رہیں تو یہ ڈپریشن کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اکثر لوگ خیال کرتے ہیں کہ بچوں پر کوئی معاشی اور سماجی دباؤ اور ذمہ داریاں نہیں ہوتیں اس لیے بچوں کو ڈپریشن نہیں ہو سکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خوشگوار ماحول میں رہنے والے بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

وجوہات؛ (Causes)
ڈپریشن کسی قسم کی کمزوری کی علامت نہیں ہے، کوئی بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہے تو ہو سکتا ہے آپ اس کے ذمہ دار نہ ہوں۔ تناؤ زدہ گھریلو ماحول، والدین میں علیحدگی، اساتذہ اور ہم جماعتوں کا رویہ بھی اس کے اہم اسباب میں سے ہیں تاہم اس کے درجنوں مزید اسباب بھی ہو سکتے ہیں، جینیاتی عوامل بھی ان اسباب میں سے ایک ہیں۔

دماغی کیمیکلز اور ہارمونز کا غیر متوازن ہونا؛
نیورو ٹرانسمیٹرز (Neurotransmitters) اور ہارمونز (Hormones) دماغی سرگرمیوں میں بنیادی کردار کے حامل ہیں۔ جذبات (Emotions)
اور رویے (Behavior) میں توازن کےلیے ان دو میں توازن ضروری ہے۔ ان میں عدم توازن ڈپریشن کے امکانات جو وسیع تر کر دیتا ہے۔

خاندانی روایت؛ (Family History)
جن گھرانوں میں مندرجہ بالا عوارض کی روایت موجود ہے ان گھرانوں کے بچوں میں ڈپریشن کا خدشہ نسبتاً عام بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
غیر معمولی واقعہ، حادثہ یا صدمہ؛ (Trauma)
اچانک غیر معمولی حالات مثلاً گھر کی تبدیلی، اچانک معاشی تنگدستی، والدین میں علیحدگی یا جنسی ہراسگی بھی بچوں میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہونے کے اسباب ہو سکتےہیں۔

ماحولیاتی عوامل؛ (Envoironmental Factors)
دماغی صحت پر ماحولیاتی عوامل گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول غیر صحت مندانہ، تناؤ اور عدم برداشت پر مبنی، غیر یقینی اور ابتر ہو تو بچوں میں ڈپریشن کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ سکول میں اساتذہ یا ساتھی طلباء کا رویہ جارحانہ اور متشدد ہونا بھی ڈپریشن کے بڑے اسباب میں سے ہے۔

تشخیص؛ (Diagnosis)

اگر آپ کو خدشہ ہو کہ آپ کے بچے میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو فوراً کسی مستند ماہر امراضِ اطفال (Paediatrician) سے رجوع کریں۔
بچے میں ڈپریشن کی تشخیص کے لیے پانچ یا اس سے زیادہ علامات کا مسلسل دوہفتوں تک رہنا ضروری ہے. ان علامات میں؛ "رویے میں چڑچڑا پن " اور "ایسی سرگرمیاں جن سے بچہ پہلے لطف اندوز ہوا کرتا تھا ان میں عدم دلچسپی" لازمی طور پر شامل ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل علامات میں سے کم سے کم تین علامات کا ہونا ضروری ہے؛
# نیند میں کمی یا زیادتی۔
# بھوک کا نہ لگنا اور وزن میں کمی۔
# سُستی اور کمزوری۔
# تھکاوٹ اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی۔
# قوتِ فیصلہ اور خود اعتمادی کا کم ہو جانا۔
# احساسِ جرم اور کم مائیگی کا احساس نمایاں ہونا۔
# موت یا خودکشی کے خیالات.
زیادہ تر جسمانی علامات اور کمزوریوں پرجو کہ بچے کے ڈپریشن کے اسباب کو بڑھاوا دینے والی ہیں، ڈاکٹر دواؤں کی مدد سے قابو پا لیتے ہیں۔ والدین کی عدم موجودگی میں ڈاکٹر کی طرف سے دماغی صحت کے حوالے سے گفتگو بھی ایک مثبت پیش رفت کا آغاز ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سب کرنے کے باوجود بھی بہتری کے آثار نظر نہ آئیں تو ماہرِ نفسیات اور ماہرِ دماغی امراض سے رجوع کرنا چاہئے.

***یاد رہے۔۔۔بچے سے بہت زیادہ سوالات کرنے کی بجائے اس کے رویے اور معمولات میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کریں تاکہ معالج کی بہتر معاونت ہو سکے***
غیر طبی طریقہ ہائے علاج:
Cognative-Behavioral Therapy (CBT)
غیر طبی طریقہ ہائے علاج میں CBT سب سے مستند مانا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں مریض کے فہم و ادراک کو مثبت رخ دیا جاتا ہے اور منفی سوچوں اور خیالات کی جگہ مثبت اور صحت مندانہ خیالات کو پروان چڑھانے میں مدد کی جاتی ہے. CBT مختلف قسم کو خوف و خدشات اور خاص طرح کے ناپسندیدہ رویوں پر قابو پانے کے لیے بھی بہت مددگار ہے۔

رہن سہن میں مثبت تبدیلیاں؛ (Lifestyle Changes)
کم شدت کے معمولی ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے رہن سہن میں مثبت تبدیلیاں بھی کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ بچوں کو پیار اور احساسِ تحفظ کے ساتھ ساتھ بھر پور جسمانی سرگرمیوں کی بدولت ڈپریشن کی کم شدت والی حالت سے باآسانی نکالا جا سکتا ہے۔
*** آپ اپنے بچوں کو ڈپریشن سے ہر صورت بچا تو نہیں سکتے لیکن ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کو مثبت رُخ ضرور دے سکتے ہیں۔ جذباتی لگاؤ (Emotional Bond)، پیار اور احساسِ تحفظ بچے کے لیے آکسیجن کی طرح ضروری ہیں اور یہ بچوں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں یہ "آکسیجن" وافر مقدار میں فراہم کی جائے***

تحریر۔۔۔عمر قدیر اعوان

06/06/2020

آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات بہت زیادہ مشہور ہوئی ہے کہ جب انگریز آکسفورڈ اور کیمبریج یونیورسٹیز بنا رہے تھے اس وقت ہمارے حکمران تاج محل بنارہے تھے.
٭٭٭٭٭٭٭٭
"مسلم حکمران اور پروپیگنڈا "
چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے.
میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے۔
اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں۔
تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کرتا ہوں کہ
ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اس کو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئیں، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نہ تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت ، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں. دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت اس قدر مضبوط کہ وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں.
معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر - عالمگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا.
در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں.
سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا
اور کہتا ہے کہ
ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں.
فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے.
تاج محل کے چاروں مینار
صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ
زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں.
مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں.
پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے.
اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ
اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ
اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کرائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا.
عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion ) سے بھرپور ہے.
یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے.
یہ فیصلہ کرنے کے لئے
حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے.
پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں.
اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں.
انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا.
جب کہ تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا.
آج تاج محل کو جدید مشینری اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے.
'ٹائل موزیک' فن ہے ، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے.
یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے.
ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے.
یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے .
تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں.
ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں.
مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی. کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟
یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے. شیخ احمد سرہندی رح ہوں یا جھانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کے لئے تھی.
مزید بھی میں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا،
اسلئے کہ
میرے ان "عظیم" صاحبان علم کو کسی مسلمان یا لوکل مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے.
ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کس مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے.
وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے:
"ہر گاوں میں ایک سکول ماسٹر ہوتا تھا ، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے.
ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا.
ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. "
اس نے اپنی ایک اور کتاب
A Case For India میں لکھا کہ
مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں.
میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے "بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے".
اورنگزیب عالمگیر رح کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا' جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا۔
اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے.
میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ
ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا.
جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے.
اس نے لکھا
" تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا.
1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے." مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے.
انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیر رح کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا.
عالمگیر رح نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں.
سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے.
اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں.
سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ"، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا" اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری" لکھی.
یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے.
یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں.
اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا.
عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے.
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں. ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں. آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں 7یا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے.
ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ
ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا.
پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا.
اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی.
ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی. یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں.
لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہیں تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا.
مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئیے کہ
ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ
ان ادوار میں مشین کا وجود نہ ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے.
لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے۔
آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہ جائیں گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو
یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں.
لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے.
تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا.
"آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا بہا کے لے گیا.

(بشکریہ از پاسبان علم و ادب 155)

14/03/2020

والدین متوجہ ہوں
کم فیس والے تعلیمی ادارے جیسے تیسے کم آمدنی والے متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ کم تنخواہوں میں کام کرنے والے اساتذہ قابل ستائش ہیں۔ یہ اسکول اور اساتذہ ہمیشہ اپنی بساط سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ متوسط اور غریب طبقے میں تعلیم دینے کے عمل کو جاری و ساری رکھنا آسان کام نہیں۔
موجودہ صورتحال میں تین ماہ کے لیے اسکولوں کی چھٹیاں ان کم فیس والے اسکولوں کی بقا کا مسئلہ بن گئی ہیں۔

اساتذہ کی تنخواہوں کے وقت پر جاری نہ ہونے پر یقیناً وہ کسی دوسرے کام کی جانب منتقل ہوجائیں گے ۔

کرائے کی عدم ادائیگی پر اسکول کی عمارت بطور اسکول نہ رہنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں

اسکول منتظمین کا تعلیم کے شعبے کو خیرباد کہ کر کسی دوسرے شعبے کو اختیار کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر کم آمدنی والے والدین کے بچوں کی تعلیم پر پڑے گا جو کم فیسوں میں اپنے بچوں کی تعلیم کسی نہ کسی طرح جاری رکھے ہوئے ہیں

یہ مسائل ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتے جو ہر اسکول کو سٹی اور بیکن ہاؤس اسکول سمجھتے ہیں۔ جو متوسط اور غریب طبقے کی تعلیمی مشکلات سے ناواقف ہیں اور زیادہ فیس والے اسکولوں کا اطلاق کم فیس والے اسکولوں پر کرتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اس بات سے آگاہ ہوں۔ اور اپنے بچوں کے لیے موجود تعلیمی انتظام کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اگر والدین ہر ماہ وقت مقررہ پر ماہانہ فیس ذمہ داری سے جمع کراتے رہیں تو اس بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
اور اگر والدین چند ناعاقبت اندیش لوگوں کے نعروں اور فیس بک کی پوسٹوں سے متاثر ہو کر ماہانہ فیس ادا نہ کرنا اپنا حق سمجھ لیں تو دراصل ان کا یہ عمل ایسا ہی ہے کہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔
زاہد علی مغل

Photos from The Direction Islamic Academy's post 27/01/2020
Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


School
Karachi
75230