Quran wa Sunnah Academy

Quran wa Sunnah Academy Quran wa Sunnah Academy

رمضان المبارک20211442
13/04/2021

رمضان المبارک
2021
1442

05/06/2019

تمام احباب کو
عیدالفطر مبارک

20 روزہ دورہ قرآن چھٹا دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن چھٹا دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

20 روزہ دورہ قرآن پانچواں دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن پانچواں دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

20 روزہ دورہ قرآن چوتھا دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن چوتھا دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

20 روزہ دورہ قرآن تیسرا دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن تیسرا دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

20 روزہ دورہ قرآن دوسرا دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن دوسرا دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

20 روزہ دورہ قرآن پہلا دناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے
10/05/2019

20 روزہ دورہ قرآن پہلا دن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہرمضان المبارک 201920 روزہ دورہ قرآناسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈالاوسلو ، ناروے(درس / لیکچر ر...
10/05/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
رمضان المبارک 2019
20 روزہ دورہ قرآن
اسلامک کلچرل سنٹر بیورنڈال
اوسلو ، ناروے
(درس / لیکچر روزانہ بعد نماز عصر 18:30 لائیو شئیر کیا جاتا ہے ۔ )

26/11/2017
26/11/2017

ریشِ بچہ کے کاٹنے اور چھوٹا کرنے کاحکم

س

ڈاڑهی کے بچہ کا کاٹنا یا چھوٹا کرنا کیسا ہے؟

ج

ریشِ بچہ(داڑھی کا بچہ یعنی نچلے ہونٹ کے نیچے اور ٹھوڑی کے اوپر اگنے والے بال) داڑھی کا حصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بالوں کا رکھنا ثابت ہے۔ لہذا ان کا کاٹنا یا چھوٹا کرنا جائز نہیں.
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء بنوری ٹاؤن

26/10/2017

Pakistan

سوال # 151926

آج کل ایک حدیث بہت گردش میں ہے کہ اگر کسی کا رشتہ دار فوت ہو جائے تو میت کا حق ہے کہ دفنانے کے بعد اتنی دیر تک قبر پر بیٹھا جائے جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے گوشت تقسیم نہ کر دیا جائے ۔ برائے کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ حدیث کتنی صحیح ہے ۔ شکریہ۔

Published on: Jun 15, 2017

جواب # 151926

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 1007-975/N=9/1438

فقہاء نے فرمایا: مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس ( کم از کم) اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور قرآن پاک پڑھنا چاہیے، جیسے: میت کے سرہانے سور بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھنی چاہیے۔ اور اس کا ثبوت درج ذیل احادیث سے ہے:

(۱): حضرت عثمان روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے اور فرماتے: اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالی سے اس کے لیے (منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں )ثبات قدمی کا سوال کرو؛ کیوں کہ اب اس سے سوال کیا جائے گا (سنن ابو داود بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۲۶، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔

(۲) :حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کر مت رکھو اور جلد از جلد اسے اس کی قبر تک پہنچاوٴ اور (دفن کے بعد) اس کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتیں (شروع سے ھم المفلحونتک) اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں (آمن الرسول سے آخر تک) پڑھی جائیں اور بیہقی نے فرمایا: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ ( شعب الایمان ، بہ حوالہ: مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔

(۳): حضرت عمرو بن العاص نے سکرات کی حالت میں اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ آگ، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا ، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرو کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے تاکہ تمہاری وجہ سے مجھے انس رہے اور میں جان سکوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دے رہا ہوں؟ (مسلم شریف، بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔

عن عثمان قال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمر قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة“، رواہ البیھقي فیٴ شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاصقال لابنہ وھو في سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبري قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربي؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)، ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Address

Karachi
75850

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran wa Sunnah Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Quran wa Sunnah Academy:

Shortcuts

Share