07/12/2025
آج کے دور میں لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’کششِ ثقل‘‘ کے مُکتشف آئزک نیوٹن (متوفی 1727ء) تھے — اور اس کی وجہ وہ مشہور کہانی ہے جس میں ایک سیب اُن کے سر پر گرتا ہے۔
یہ قصہ آج کے تعلیمی نصاب میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے تاریخ وہیں سے شروع ہوتی ہو، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ قدیم اور گہری ہے۔
مسلمان علما نے نیوٹن سے صدیوں پہلے کششِ ثقل کے تصور پر نہایت سائنسی اور دقیق انداز میں گفتگو کی تھی — ایسی زبان میں جو آج بھی پڑھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔
اِن ہی ممتاز علما میں سے ایک امام ابو القاسم ابن خرداذبہ (متوفی 280ھ / 893ء) تھے، جنہوں نے زمین اور ثقل کی کشش کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جو آج بھی قابلِ حیرت ہیں۔
اپنی کتاب کتاب المسالک و الممالک میں وہ لکھتے ہیں:
’’زمین کروی ہے، گیند کی مانند ہے، اور فلکی کرہ کے اندر ایسے رکھی گئی ہے جیسے انڈے کے اندر زردی۔
ہوا زمین کو چاروں طرف سے گھیرتی ہے اور اسے ہر سمت سے اپنی طرف کھینچتی ہے…
اور زمین اجسام کی بھاری چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔‘‘
یہ آج سے تقریباً ایک ہزار ایک سو ساٹھ سال پہلے کی بات ہے!
اور ابنِ خرداذبہ اکیلے نہیں تھے۔ اُن کے بعد بھی کئی مسلمان سائنس دان آئے جنہوں نے کششِ ثقل کے مظاہر کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا:
1 — ابو الریحان البیرونی (973–1048ء)
اپنی کتاب القانون المسعودی میں وہ لکھتے ہیں:
’’گرنے والی چیزیں زمین کے مرکز کی طرف کھینچی جاتی ہیں، اور کشش کی قوت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ گرتی ہوئی چیز زمین کے اس مرکز سے کتنی دور ہے۔‘‘
یہ بیان جدید نظریۂ ثقل کے اصولوں سے نہایت مماثلت رکھتا ہے۔
2 — الشریف الادریسی (1100–1165ء)
اپنی کتاب نُزهة المشتاق میں لکھتے ہیں:
’’زمین اجسام کی بھاری چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے، بالکل ایسے جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔‘‘
3 — ابو الفتح الخازنی (پیدائش 1115ء)
اپنی کتاب میزان الحکمة میں بیان کرتے ہیں:
’’بھاری جسم میں ایک اندرونی قوت ہوتی ہے جو ہمیشہ اسے عالم کے مرکز کی طرف حرکت دیتی ہے…
بھاری پن وہ قوت ہے جو جسم کو اس مرکزی نقطے کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘
یہ تمام تحریریں — جو نیوٹن سے صدیوں پہلے لکھی گئیں — اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تہذیب میں کششِ ثقل کا تصور اچھی طرح معروف تھا، اسے گہرائی سے سمجھا گیا تھا، اور نہایت اعلیٰ سائنسی زبان میں بیان کیا گیا تھا۔
نوٹ: یہ پوسٹ فیس بک پیج “Jewels of Hanbali Madhab” کی اصل تحریر سے ماخوذ اور مترجم شدہ ہے۔
01/03/2025