ILM e QURAN

ILM e QURAN

Share

اصل دین اسلام جو قران میں محفوظ ہے ۔

25/05/2026

جی بلکل صحیح پات لگتی ہے یہ پھر بھی آپ احباب جنہوں نے قرآن سمجھ کے پڑھا ہے غور کیا ہے وہ اپنی رائے دیں جس کو پڑھنا ہی نہ آتا ہو وہ کیا کریں انکو تو میرے خیال سے کسی پڑھے لکھے کی مدد لینی ہوگی

14/05/2026
14/05/2026

ہمارے ہاں عید الاضحی کی تقریب پر جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان کے لیے قربانی کا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا۔
قُربِ اِلٰہی سے مراد فاصلہ اور مکان کے اعتبار سے خدا کے نزدیک ہونانہیں۔ اس لیے کہ خدا کسی خاص مقام پر نہیں جہاں سے قُرب اور بُعد ماپا جاسکے۔ انسان جس قدر اپنے اندر خدا کی صفات منعکس کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ "خدا سے قریب" ہوتا جاتا ہے۔ اور صفات ِخداوندی کا اپنے اندر منعکس کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان قوانین خداوندی کا اتباع کرے۔ چنانچہ سورۃ علق میں ہے لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ [96 :19] تو اس شخص کی بات نہ مان (جو گریز کی راہیں نکالتا ہے۔ بلکہ خدا کے قوانین کی) اطاعت کر اور اس طرح (خدا کے) قریب ہو جا۔ یعنی قوانین خداوندی کی اطاعت سے اپنے اندر صفاتِ خداوندی پیدا کئے جا۔ اسی کا نام انسانی ذات کی بیداری اور اس کا استحکام ہے۔ اسی کو قرب خداوندی کہتے ہیں جو ہر مومن کو حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے "مقربین بارگاہ خداوندی" کا کوئی الگ گروہ نہیں ہوتا، جس طرح "اولیاء الله" کا کوئی الگ گروہ نہیں ہوتا بلکہ ہر مومن ولی الله ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ قوانین خداوندی کا اتباع معاشرہ کے اندر رہتے ہوئے ایک نظام کے تابع ہوتا ہے۔ تجرد کی خانقاہوں میں یا ویسے ہی انفرادی طور پر نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی خدا کا قرب کسی اور "الٰہ" کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے 46 :28)۔ الٰہ، صرف ایک ہے اور وہ خدائے واحد ہے۔

30/04/2026

قرآن کریم نے جزا و سزا کے ضمن میں ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ اعمال خود اپنی جزا آپ ہوتے ہیں۔ عمل کے اندر ہی اس کا نتیجہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب آپ صبح کے وقت سیر کو جاتے ہیں اور دو تین میل چلتے ہیں، تو اس سے آپ کی طاقت تو صرف ہوتی ہے، لیکن اس کے بدلے آپ کو صحت اور توانائی ملتی ہے۔ یہ آپ کی محنت کا پھل ہے جو آپ کے عمل کا نتیجہ ہے، اور اسے ثواب کہتے ہیں۔

30/04/2026

قرآن مجید میں عَابِدٌ کا معنی محکوم [23: 47]، عَبَّدَ کے معنی محکوم بنانا [26: 22] اور عَبْدٌ کا معنی غلام [2: 178] بیان ہوا ہے، جو اس لفظ کے اندر فرمانبرداری کی ایک روشن تصویر پیش کرتا ہے۔ اس طرح تَعَبُّدٌ اور تَذَ لُّلٌ ہم معنی قرار پاتے ہیں، یعنی مکمل فرمانبرداری اور عاجزی، جو بندگی کی اساس ہے۔

29/04/2026

احباب سے گزارش ہے کہ پیج لائک کریں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کامیابی کا معیار عوام تک پہنچے

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi