14/05/2026
ہمارے ہاں عید الاضحی کی تقریب پر جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان کے لیے قربانی کا لفظ قرآن کریم میں نہیں آیا۔
قُربِ اِلٰہی سے مراد فاصلہ اور مکان کے اعتبار سے خدا کے نزدیک ہونانہیں۔ اس لیے کہ خدا کسی خاص مقام پر نہیں جہاں سے قُرب اور بُعد ماپا جاسکے۔ انسان جس قدر اپنے اندر خدا کی صفات منعکس کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ "خدا سے قریب" ہوتا جاتا ہے۔ اور صفات ِخداوندی کا اپنے اندر منعکس کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان قوانین خداوندی کا اتباع کرے۔ چنانچہ سورۃ علق میں ہے لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ [96 :19] تو اس شخص کی بات نہ مان (جو گریز کی راہیں نکالتا ہے۔ بلکہ خدا کے قوانین کی) اطاعت کر اور اس طرح (خدا کے) قریب ہو جا۔ یعنی قوانین خداوندی کی اطاعت سے اپنے اندر صفاتِ خداوندی پیدا کئے جا۔ اسی کا نام انسانی ذات کی بیداری اور اس کا استحکام ہے۔ اسی کو قرب خداوندی کہتے ہیں جو ہر مومن کو حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے "مقربین بارگاہ خداوندی" کا کوئی الگ گروہ نہیں ہوتا، جس طرح "اولیاء الله" کا کوئی الگ گروہ نہیں ہوتا بلکہ ہر مومن ولی الله ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ قوانین خداوندی کا اتباع معاشرہ کے اندر رہتے ہوئے ایک نظام کے تابع ہوتا ہے۔ تجرد کی خانقاہوں میں یا ویسے ہی انفرادی طور پر نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی خدا کا قرب کسی اور "الٰہ" کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے 46 :28)۔ الٰہ، صرف ایک ہے اور وہ خدائے واحد ہے۔