21/10/2021
تمام معزز احباب سے گذارش ہے کہ نیچے 👇 دیئے گئے لنک کو اوپن کرکے ہمارے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو فالو کیجئے اور عمل کی نیت سے عام فھم دینی معلومات حاصل کیجئے
فھم دین (@Fahm_e_Deen020) | Twitter
The latest Tweets from فھم دین (). فھم دین پروگرام: عوام الناس میں دینی معلومات کی جستجواوردین کوسمجھ کرعمل کرنےکاشوق اجاگرکرنےکے کی ایک کاوش. Karachi, Pakistan
15/10/2021
فھم دین کوئز پروگرام: عوام الناس میں دینی معلومات کی جستجواوردین کوسمجھ کردین پرعمل کرنےکاشوق اجاگرکرنےکے لئےخودبھی فھم دین چینل سسکرائب کیجئےاور دوست،احباب اورمتعلقین کوبھی دعوت دیجئے
Telegram: Contact @Fahm_e_Deen
01/09/2021
💖~ایک طالب علم کی کہانی~💖
اگر آنسوں نکل آئیں تو مجھے ضرور دعاؤں میں یاد رکھنا👇
" کب تک ھم ۔۔۔۔ مدرسہ ۔۔۔ کالج۔۔۔ یونیورسٹی ۔۔۔ میں پڑے پڑے اپنی اور دوسروں کی زندگی ضائع کرتے رہیں گے"عنقریب مدارس دینیہ ۔۔۔۔ اور یونیورسٹیز۔۔۔۔ اور کالجز کھلنے والے ہیں، اور ہزاروں طلبہ مدارس ۔۔۔ یونیورسٹی ۔۔۔ کالج میں جانے والے ہیں، کاش کہ یہ طلبہ جانے سے پہلے یہ تحریر پڑھ لیں اور عمل کر لیں۔۔۔
ارمانوں کا خون
----------------------------------
آج صبح ہی سے گھر پر ایک خاص قسم کی ہلچل تھی،کوئی بھاگ رہا ہے ،کوئی دوڑ رہا ہے ،کوئی بازار میں سامان لینے جارہا ہے ـ ابّا آج صبح سویرے بغیر نہائے دھوئے کام پہ نکل گئے ، بڑی بہن کی پھرتی قابلِ دید تھی ، وہ امّی کے ساتھ مل کر ٹفن تیار کررہی تھی ،چھوٹی بہن ادھر سے ادھر کودتی جارہی تھی کہ بھیّا آج مدرسے کو جائیں گے، اتنے میں چھوٹے بھائی کی آواز آئی: امّاں! میں بھیّا کے لیے ناشتہ اور ضروری چیزیں لے آتا ہوں ـ
غرض یہ کہ گھر بھر میں عید کا سماں تھا اور ایک میں تھا جو گال پُھلائے ،شکنیں چڑھائے ،زمانے بھر سے بیزار بیٹھے تھے ،دل میں تو بار بار آرہا تھا کہ آج تو جی لگا کر کہہ ہی دیں: " مجھے مدرسہ وَدَرسہ نہیں جانا ،تم لوگ یہاں مزے کرتے ہو اور میں میلوں دور وہاں جھک ماری کرتا ہوں، بہت ہوگیا، اب کے میں کسی بھی حال میں مدرسہ نہیں جاؤں گا " دل ہی دل میں طرح طرح کے خیالات آتے اور جاتے رہے ،دماغ وسوسوں کا جال بُنتا اور پھر خود بہ خود ٹوٹ جاتا، قسمہا قسم کے ڈائیلاگز ذہن میں کُلبلاتے اور پھر بلّی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کا موقع آتا تو اپنی موت آپ مرجاتے ـ اسی سوچ بچار میں کوچ کا وقت ہوگیا اوپرے دل کے ساتھ دولقمے مارے اور اٹھ گیا، بے چاری امّی پکارتی رہی کہ بیٹا! سفر ہے کچھ تو کھالو ؛مگر یہاں گھر چھوڑنے کے غم کے ساتھ غصہ اِس پر بھی تھا کہ ابّا نے صرف دوہزار روپے کیوں دیے ؛لہذا اس غصے کا اظہار ضروری تھا، ابّا یہ سارا ماجرا دیکھ کر سمجھ گئے کہ اصل درد کہاں ہے !بغیر کھائے چپ چاپ اٹھے اور بیڈ روم سے اپنا کرتا اٹھالائے اور جیب میں جتنے پیسے تھے ریزگاری سمیت (تین سو روپے)سب نکال کر دے دیے ؛یہاں تک کہ آخر میں ایک روپیہ کا سکّہ نکل آیا وہ بھی دے دیا، خدا جانے !ذہن پر کس قسم کا بھوت سوار تھا کہ کچھ سوچے بِنا وہ ایک روپیہ بھی لے لیا، کن اَکھیوں سے دیکھاکہ گھر کے سبھی افراد کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گذری؛ مگر کسی نے کچھ کہا نہیں تو میں نے بھی اس خیال کو ایسے ہی جھٹک دیا جیسےبے وقت آئی ہوئی مکّھی اڑائی جاتی ہے
خیر! ابا تو ایک لقمہ بھی نہ کھاسکے تھے ،امّی نے بھی زبردستی دو لقمے ٹھونسے اور اٹھ گئیں، سب لوگ ہاتھ دھوکر مجھ کو رخصت کرنے کے لیے تیار ہوگئے چھوٹے بھائی نے -- جسے پچھلے مہینے فیس نہ بھرنے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا -- بیگ اٹھایا، امّی نے مسکراتے ہوئے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور ماتھا چوم کر بَلائیں لیں، ابّو نے سر پر ہاتھ پھیرا، کچھ نصیحتیں کیں، جس کا آخری جملہ یہ تھا:"بیٹا! محنت سے پڑھنا، وقت ضائع مت کرنا ،ہم بڑی مشقّتوں سے تمہیں پڑھا رہے ہیں" نہ جانے اس جملے میں کیا کسَک تھی کہ بے اختیار آنکھیں اوپر اٹھ گئیں اور دل کانپ کر رہ گیا ،ابّو کا چہرہ گو سپاٹ اور ہر قسم کے تأثرات سے خالی تھا؛ تاہم آنکھوں میں چھپا درد جھلک رہا تھا ؛بلکہ چھلکنے کو تھا، ہونٹوں پہ زخمی تبسّم تھا اور آنکھوں میں درد کے سائے لہراہے تھے ، امّی تو ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی رودی تھی، قبل اس کے کہ مجھ سنگ دل کی آنکھیں اپنا کام کرتیں دھیمی آواز سے سلام کرکے تیزی سے زینے اترگیا ـ
آج پہلی مرتبہ چھوٹا بھائی خاموش تھا میں نے چھیڑا تو اسے بھی آج ہی اُبَلنا تھا ،کہنے لگا: بس بھیّا! کیا بتائیں! آپ کے جانے کے بعد گھر کی کیا حالت ہوتی ہے! آپ کے جاتے ہی چھوٹی بہن پھوٹ پھوٹ کر رودیتی ہے، امّی بیڈ روم میں جاکر بستر پر اوندھے منہ گر جاتی ہیں، بڑی بہن بالکنی میں کھڑے کپڑوں کے بجائے آنسو سُکھارہی ہوتی ہے، ،ابّو ان سب کو چھوڑ کر پتہ نہیں کیوں ہمیشہ باتھ روم میں چلے جاتے ہیں، تمہارے جانے کے بعد اکثر گھر میں آٹھ آٹھ دن تک صرف کھچڑی پکتی ہے جسے سب گھر والے اَچار یا چٹنی کے ساتھ ملاکر کھالیتے ہیں، سب سے برا حال گھر پر امّی کا ہوتا ہے ،بسااوقات تین تین دن تک کچھ کھاتی نہیں ہے، ایک چپ سی لگ جاتی ہے، پورا پورا ہفتہ گذر جاتا ہے اور ہم لوگ امّی کے منہ سے ایک جملہ سننے کو ترس جاتے ہیں ،رات کو چپکے چپکے میں دیکھتا ہوں، امّی کروٹیں بدلتی رہتی ہیں،
تمہیں پتہ ہے ایک مرتبہ اچانک رات کو مری آنکھ کھلی ، کسی کے رونے کی آواز آرہی تھی ، دیکھا کہ امّی جان مصلّے پر بیٹھی دعا مانگ رہی ہیں، میں قریب ہی تھا ،ہچکیوں کے درمیان صرف اتنا سن پایا کہ اے اللہ! میرا معاذ.....
صبح جب میں نے ابّو کو قصہ سنایا تو ابّو کہنے لگے: بیٹا! تمہاری امّی تو بیسیوں مرتبہ رات کو اچانک اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا ؟ توروتی ہوئی بڑی بے بسی سے کہتی ہے: بس! یونہی اچانک خیال آگیا کہ میرے معصوم بچے نے کھایا بھی ہوگا یا نہیں! اسے کوئی ستاتا تو نہ ہوگا! وہ اگر بیمار ہوگیا تو میرے لختِ جگر کو کون دیکھے گا" اسی قسم کے جملے کہہ کہہ کر خود بھی روتی اور مجھے بھی رلاتی ہے اور جس رات یہ قصہ پیش آتا ہے پھر وہ رات میری اور تمہاری امّی کی مصلّے پر گذر جاتی ہے "ـ
چھوٹا بھائی اپنی رَو میں یہ سب سناتا جارہا تھا اور میں حیرت و تعجّب کے مارے بُت بنا اپنی جگہ کھڑا تھا چھوٹے بھائی نے کہا: بھیّا! جس دن ہم بہن بھائی رات کو کھاپی کر فارغ بیٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ تمہاری باتیں کرتے ہیں اور امّی کھل کر تمہارے بچپن کے قصے سناتی ہیں اور ہر مرتبہ ابّو اخیر میں اٹھتے ہوئے یہ کہتے ہیں: "تم لوگ دیکھنا ایک دن میرا بیٹا بہت بڑا عالم بنے گا" ـ
مجھ پر یکے بعد دیگرے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے جارہے تھے اور رفتہ رفتہ حیرت کی جگہ ندامت و شرمندگی لے رہی تھی ـ بلڈنگ کے نیچے کھڑے کھڑے ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ میرا جگری دوست خالد آدھمکا اور اپنے بے تکلّفانہ انداز میں کہنے لگا: "بس کیا یار! اتنی جلدی چل دیے، ابھی تو آئے تھے " میں مسکرا کے ٹال گیا تو اسے کچھ یاد آگیا ،کہنے لگا:یار! آج صبح غضب ہوگیا ،تمہارے ابّو صبح سویرے حاجی جنید کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے اور حاجی چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا کہ :"صبح صبح بھکاری قرض مانگنے آجاتا ہے، حیثیت نہیں ہے تو اپنے بیٹے کو نوکری پہ لگا ،کیوں حرام کا مدرسے میں ڈال رکھا ہے اور اس سے پہلے والے سال بھی تو بچے کے بہانے قرض لے گیا تھا وہ تو ابھی تک نہیں دیے ...اور پتہ نہیں حاجی کیا کیا بَکتا رہا ، اخیر میں کالر پکڑ کے اس نے ابّا کو ایک تھپّڑ مار دیا اور جیب سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر یہ کہتے ہوئے منہ پر ماری کہ :لے بھکاری! آئندہ ہفتے کسی بھی حال میں مجھے سب پیسے واپس چاہیے " ابّو نیچے گری ہوئی نوٹ اٹھاکر سر جھکائے آگے بڑھ گئے ،صبح کا وقت تھا ،سنّاٹا تھا ،یہ منظر میرے سوا کسی نے نہیں دیکھا ،مجھ سے برداشت نہ ہوسکا ،میں نے لپک کر پوچھا: چچا جان! آپ تو محلّے کے شریف اور عزّت دار آدمی ہیں، آخر اس کمینے حرامی بُڈّھے سے اتنا دَبنے کی کیا ضرورت ہے !یہ سب ذلّتیں کیوں برداشت کررہے ہیں! کیا ہم دوست لوگ مل کر اس بڈّھے کو ٹھکانے لگادے؟! ابّاجی کی آنکھ میں آنسو آگئے ،کہنے لگے: نہیں جی! اگر میں دو ہزار لے کر نہیں گیا تو میرا بیٹا مدرسے میں نہیں جاپائے گا اور میں اس کو پڑھا کر جنّت کمانا چاہتا ہوں دائمی جنّت کے لیے عارضی ذلّت برداشت کررہا ہوں "ـ
یہ قصہ سن کر میرا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں ،میری نظروں کے سامنے گھر سے نکلتے وقت پیسوں والا قصہ گھوم گیا ،میں اپنے آپ کی نظر میں ذلیل ہوگیا تھا ،چھوٹا بھائی مجھے دیکھ رہا تھا ؛مگر میں اس سے نظر ملانے کے قابل نہ تھا،مجھے زمین اپنے پیروں تلے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی ،خالد تو یہ حادثہ سنا کر چلا گیا اور چھوٹا بھائی بیگ اٹھاکر چپ چاپ آگے کو چل دیا ،میں بوجھل قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے ہولیا ـ
مسجد کے قریب ہی ناظرے کے بوڑھے استاد مل گئے ،انہوں نے بڑی شفقت کے ساتھ سر پر ہاتھ پھیرا ،دعائیں دیں اور کہا کہ :"بیٹا! محنت سے پڑھنا ،بڑی مدت کے بعد اس بستی سے کوئی عالم بنے گا، تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، تم ہماری پونجی ہو ،اپنے آپ کو ضائع مت کردینا" میں انہیں کیا جواب دیتا کہ اب تک کی زندگی تو ضائع ہی کیے جارہا تھا ـ
بستی سے نکلتے وقت اچانک کسی نے آواز دی ، رک جاؤ بیٹا! مڑ کر دیکھا تو بستی کے بوڑھے باباجی تھے ، بڑی مشکل سے چوراہے پہ بچھی چارپائی سے اٹھے ، لکڑی کے سہارے سہارے ٹیک لگاتے ہوئے آئے، قریب آکر محبت پاش نظروں سے دیکھا اور آبدیدہ ہوکرکہنے لگے:" تم مدرسہ جاتے ہو تو دل بڑا خوش ہوتا ہے ، بیٹا! ہم گنہگاروں کے لیے دعا کرنا ،اپنی زندگی میں تو کچھ نہ کرپائے اب تم جیسے بچوں کے سہارے جی رہے ہیں کہ جنت میں تم جاؤگے تو تمہارا دامن پکڑ کر پیچھے پیچھے ہولیں گے ،دیکھیو! اس دن اپنے گنہگار باباجی کو بھول مت جانا " بندہ سر جھکائے شرمندگی کے ساتھ ان کی گزارشات سنتا رہا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا ـ
اس کے بعد ہم آگے بڑھے، اسٹینشن پہنچے،ٹرین نکلنے کو تھی، میں جلدی سے لپک کر چڑھا ، بھائی نے باہر سے بیگ پھینکا اور ٹرین فرّاٹے بھرتی ہوئی تیزی سے دوڑنے لگی ، میں سامان وہیں دروازے پر چھوڑ کر کھڑا ہوگیا محبوب وطن کی گلیاں نگاہوں کے سامنے سے گذر رہی تھیں ، کبھی ابّو جی کا غمزدہ چہرہ سامنے آجاتا ، کبھی روتی ہوئی امّی یاد آجاتی ، کبھی چھوٹی بہن کا سراپا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا، کبھی چھوٹا بھائی ہاتھ لہراتا نظر آتا، کبھی شفقت فرماتے ہوئے مکتب کے استاد جی دکھائی دیتے اور کبھی بابا جی کی لجاجت بھری درخواست جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ،پھر پتہ نہیں اچانک مجھے کیا ہوا کہ میں دروازے پہ کھڑے کھڑے پھوٹ پھوٹ کر اتنا رویا کہ شاید وباید ہی کبھی زندگی میں اتنا رویا ہوں گا ـ یہ احساسِ زیاں کے آنسو تھے جو اب تک کی ضائع شدہ زندگی پر بہہ رہے تھے، یہ اپنوں کے ارمانوں کا خون تھا جو آنسو کی شکل میں جاری تھا ـ
پیارے طالب علم بھائیو! بے شک مذکورہ بالا سطریں تخیلاتی ہیں ؛ لیکن اگر گھر سے نکلتے وقت عبرت کی آنکھیں کھلی رکھی جائیں ، اپنے گِرد و پیش پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سارے مناظر کھلی آنکھوں دیکھے جاسکتے ہیں ، جب تم گھر سے نکلو تو ابّا کی زخمی مسکراہٹ کو غور سے دیکھا کرو، تمہیں ان میں کچھ اَن کہی کہانیاں نظر آئیں گی،کبھی غور کیا کہ امّی کے ہونٹ مسکراتے ہوئے کپکپا کیوں جاتے ہیں ! کبھی سوچا کہ بہن دروازے تک کیوں نہیں آتی ؛ اس لیے کہ کہیں اس کے آنسو دیکھ کر تمہارے حوصلے چھوٹ نہ جائے ،گھر کا ہر فرد لاکھ غموں کے باوجود خوشی خوشی تمہیں رخصت کرتا ہے ؛ صرف اس لیے کہ تمہاری ہمت نہ ٹوٹ جائے ؛ ورنہ کون بھائی بہن ہیں جو اپنے بھیّا کی جدائی پر نہ روئے !کون باپ ہے جو اپنے جگر کے ٹکڑے کی فرقت پر ہنس رہا ہو! اور دوستو! کونسی ماں ہے جو لب پر تبسّم سجائے اپنے پیارے بیٹے کی جدائی دیکھتی رہے بخدا! بخدا! بخدا! ان سب پر ہماری جدائی شاق ہے ،ابّو جی کو محلّے کے ذلیل آدمی سے گالیاں کھانے کا شوق نہیں چراتا ،وہ ہمارے لیے گالیاں سنتے ہیں، وہ صرف اور صرف ہمارے لیے پسینے میں ڈوب کر محنت کرتے ہیں ،مکتب کے استاد جی دوہزار کی تنخواہ پر برسوں سے ٹِکے ہوئے ہیں؛ صرف اس تمنّا میں کہ بستی کا کوئی بچہ میری نظروں کے سامنے عالم بن کر آجائے اور اس امانت کو سنبھال لیں ، باباجی سے پوری بستی ڈرتی ہے ؛ مگر وہ تمہارے سامنے صرف اس لیے جھکے ہوئے ہیں کہ ان کی جنّت کا سوال ہے !
دوستو! آؤ! گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ کسی کی جنّت کا سامان کرسکیں! کیا ہمارے پاس ایک سجدہ بھی ایسا ہے جس میں خدا کے سوا کسی کا خیال نہ آیا ہو! جو ماں ہمارے لیے بیسیوں مرتبہ اٹھ کر روتی ہے کیا ہم نے پورے سال میں کبھی ایک مرتبہ بھی اس پیاری امّاں کے لیے ہاتھ اٹھائے! ہم کیسے سنگ دل بیٹے ہیں! ماں کے نام پر تو ساری دنیا کا دل پگھل جاتا ہے مگر ہم اپنی خواہشوں میں ایسے مدہوش ہیں کہ ماں تک کی قربانیوں کا ہمیں احساس نہیں! کیا ایک موبائل کی اتنی وقعت ہے کہ اس کے پیچھے اتنے سارے لوگوں کی قربانیاں ضائع کردی جائیں! کیا ہماری بیہودہ گپ شپ اتنی قیمتی ہے کہ ہم کسی کے ارمانوں کا خون کردیں! کیا مدرسے کے عارضی دوستوں کی اتنی قدر ہے کہ ان کے لیے پڑھائی چھوڑ کر اپنوں کی تمناؤں کا جہاں اجاڑ کر رکھ دیں!
کب تک بے مقصد زندگی جئیں گے ! کب تک مدرسے میں پڑے پڑے اپنی اور دوسروں کی زندگی ضائع کریں گے!
یاد رکھو دوستو! آج اگر ہم کسی کے ارمان کا خون کرتے ہیں تو کل کو ہمارے عزیز بھی ہمارے ارمانوں کا خون کریں گے، آج اگر ہم کسی کی قربانیاں رائیگاں کیے بیٹھے ہیں تو کل کو ہماری قربانیاں بھی رائیگاں جائیں گی!
پیارے بھائیو! اُس ابّو کا واسطہ جو ہمارے لیے ذلّتیں جھیل گیا؛ اُس امّاں کا واسطہ جس کا کوئی پَل ہماری یاد کے بغیر نہیں گذرتا ؛مکتب کے اُس شفیق استاد کا واسطہ جن کی دعائیں ہمارے نام کے بغیر پوری نہیں ہوتیں اپنی زندگی پر غور کرو خدارا!وقتی لذّت کے لیے دائمی ذلّت کا سودا نہ کرو ـ
دوستو! آؤ! آج میں اور آپ مل کر ارادہ کرتے ہیں کہ: اب کے مدرسے کی زندگی کچھ الگ زندگی ہوگی، اب کے شب و روز مقاصد کے ساتھ گز ریں گے ،اب محفلوں میں اور لغویات میں وقت ضائع نہ ہوگا، اب کے اساتذہ کے احترام میں ذرّہ برابر کمی نہ ہوگی، اب کے ایسی محنت ہوگی کہ دوسروں کو ترس آجائے گا ،اِس مدرسے میں ہم اپنے اللہ کی محبت لینے کے لیے آئیں گے ،اب کے رات کو اٹھ کر روٹھے ہوئے پیارے اللہ سے معافی مانگیں گے، اب کے نافرمانی والی زندگی کے بجائے اطاعت والی زندگی گزاریں گے
ان شاء اللہ تعالیٰ!!!🥺🥺 اس میسیج کو طلبہ کے گروپ اور قریبی دوست کے پاس ضرور بھیجے 🥺
?🌿🌿🌿ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو سکتی ہے...
01/09/2021
کَلَہ بہ رازے ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( بارہ سال قبل لکھا گیا کالم جو *سوات آپریشن* کے بعد شائع ہوا تھا ۔۔۔ مگر آج بھی بالکل تر و تازہ لگتا ہے )
یہ ڈیڑھ سال پہلے کا قصہ ہے۔ غیروں کی جنگ کے اٹھتے شعلوں نے جنت نشان وادی سوات کا دامن جھلسا دیا تھا ۔ خاک وخون اور بارود وبو سے تنگ سوات وبونیر کے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑکر نچلے علاقوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور کر دیے گۓ تھے۔ چونکہ ان کو اپنا گھر بار چھوڑنے کے لیے فقط چند منٹوں کی مہلت دی گئی تھی اس لیے یہ لاکھوں افراد بالکل تہی دست، تن کے دو کپڑوں میں گھروں سے نکلے تھے۔ یہ بے سروسامان قافلے شیرگڑھ، مردان، صوابی، چارسدہ اور پشاور وغیرہ میں کھلے آسمان تلے، سڑکوں کے کنارے آکر حیران وپریشان اور بے یارومددگار تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اہلیانِ وطن کو جو مصیبت کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کا درد بانٹنے اور ان کو سنبھالا دینے پورے ملک سے جوق درجوق ان علاقوں تک پہنچے۔ ہم بھی ان دنوں شیرگڑھ ( مردان ) کے دارالعلوم کی دیوار سے متصل “ کاکاخیل ریلیف کیمپ“ کے نام سے ایک خیمہ بستی لگا کر متاثرین کو سنبھالنے میں شب وروز مشغول تھے۔ طلبہ کی چھٹیاں کرادی تھیں اور سارے طلبہ ذوق شوق سے متاثرین سوات کی خدمت پوری دلجمعی سے کررہے تھے۔
انہیں دنوں کی بات ہے کہ رات کے پچھلے پہر میں خیمہ بستی کی حفاظت پر مامور ساتھیوں کا جائزہ لینے دارالعلوم سے نکلا۔ خیمہ بستی میں قطار اندر قطار لگے خیموں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اچانک ایک انتہائی غمگین آواز نے میرے قدم روک لیے۔ کوئی بڑے درد بھرے لہجے میں پشتو زبان میں اشعار پڑھ رہا تھا.... پاک اور معصوم لہجہ بتارہا تھا کہ کوئی چھوٹی سی بچی ہے جو کوئ گیت گا رہی تھی۔ درد میں ڈوبی آواز کے ہر شعر کے آخر میں آتا تھا: ”کلہ بہ رازے؟“ ( تم کب آؤ گے ؟)
مجھے دیکھتے ہی خیمہ کے باہر چارپائی پر لیٹا ایک ادھیڑ عمر شخص اُٹھ کر میرے پاس آیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا “ مولوی صاحب ! میری بیٹی گل سانگہ ہے “ ۔رات کو دیر تک خود بھی جاگتی ہے اور ہمیں بھی جگاتی ہے۔
فضل شکور نامی اس شخص کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی کسی بستی سے تھا، مگر اس کا خاندان گزشتہ تیس سال سے سوات میں آباد تھا۔
میں فضل شکور کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دو ہی بچے ہیں۔ سترہ اٹھارہ سال کا فضل سبحان اور اس سے کافی چھوٹی گل سانگہ۔ گل سانگہ کی پیدائش پر اس کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی اور یہ ننھی پری اپنی چچی کی گود میں منتقل ہوگئی۔ یہ بچی غیرمعمولی ذہانت اور شعر وشاعری کے لیے غیرمعمولی موزوں طبیعت لے کر پیدا ہوئی تھی۔ سیکڑوں لوک اشعار ( جن کو پشتو میں ٹَپے کہتے ہیں) اس کو یاد تھے۔ اللہ کی شان تھی کہ دونوں بہن بھائیوں میں غیرمعمولی محبت تھی۔ بقول فضل شکور اس کا بیٹا اپنی بہن پر جان چھڑکتا تھا۔ اس نے اپنی چچی سے زیادہ اپنی بہن کو خود پالا تھا۔ سارا دن اس کو لیے لیے پھرتا اور اس کی فرمائشیں پوری کرتا ۔ فضل شکور اپنی محنت مزدوری کے سلسلے میں اکثر گھر سے دور ہوتا تھا۔ گل سانگہ اپنے بھائی کو ”لالہ“ کہتی تھی۔ اب جب بھی رات ہوتی تو یہ لالہ کو یاد کرنے بیٹھ جاتی۔ خود بھی روتی اور باپ کو بھی رلاتی۔
میں نے پوچھا آخر لالہ کہاں ہے اور اس نے گل سانگہ کو اتنی تکلیف میں کیوں رکھا ہوا ہے؟
: فضل شکور اپنا منہ میرے کان کے پاس لاکر رازدارانہ لہجے میں بولا:
“ ھغہ بَرہ تلے دے“ (وہ اوپر افغانستان گیا ہوا ہے۔)
کہنے لگا میرا گھرانہ مجاہدین کا گھرانہ ہے۔ میرے والد نے روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ خود میں بھی روسیوں کے خلاف بہت سے محاذوں پر لڑا ہوں۔ اپنی ٹانگ میں پڑی راڈ دکھاتے ہوئے فضل شکور کا سر فخر سے بلند اور لہجہ جذبات سے پُر ہو گیا ۔ جب میرا اکلوتا بیٹا جوان ہوا تو میں نے کہا: ”بچے ! جب تیرے ملک پر ایک کافر نے حملہ کیا تو ہم گھر نہیں بیٹھے تھے ، آج تو پچاس ملکوں کے کافر اکٹھے ہوکر تیرے ملک پر حملہ آور ہوئے ہیں تو کیسے سوات کے مرغزاروں اور چشموں میں بے فکر و بے غم رہ سکتا ہے؟“
لالہ گھر سے کیا نکلا گل سانگہ کی نیند اُڑگئی۔ لالہ لالہ کہتی گھر بھر میں تلاش کرتی۔ والد کہتا تھا ہم اس کو بتانا نہیں چاہتے تھے کہ لالہ کہاں گیا ہے کہ آخر بچی ہے ، ادھر اُدھر کہتی پھرے گی۔ آخر جب گل سانگہ نے بہت حشر اُٹھایا تو باپ نے اتنا بتایا:
“ بیٹا! تمہارے گھر تمہارے وطن میں کافر گھس آئے ہیں لالہ ان کو نکالنے گیا ہے۔“
اب یہ روز انتظار کرتی ہے کہ لالہ آج آئے گا اور آج آئے گا۔“
فضل شکور کی باتیں سن کر میں بہت دل گرفتہ اور مغموم وہاں سے اُٹھ کر دارالعلوم آگیا۔ اگلا دن راشن تقسیم کرنے کا تھا۔ اسٹور سے راشن تقسیم ہورہا تھا۔ میں دفتر میں کراچی سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی اور اسٹور کا نگران پوچھ رہا تھا:
”استاد جی ! ایک بچی ہے اپنے بڑے بھائی کا حصہ بھی مانگ رہی ہے، دے دوں؟“
میں نے کہا:
”نہیں ! اس سے کہو کہ بھائی کو بھیجو۔“
کہنے لگا: ”وہ کہتی ہے کہ میرا بھائی
کافروں کو نکالنے گیا ہوا ہے۔ جلد آجائے گا۔“
میرے دماغ میں چھپاکا ہوا اور اچانک گل سانگہ کا قصہ یاد آگیا۔
میں نے نگران سے کہا: ”دے دو اس کو بھائی کا حصہ۔“ اور یوں لگا کسی نے چٹکی بھر ریت میری آنکھوں میں ڈال دی ہو۔
اس سے اگلے دن مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب نے مجھے کہا کہ کپڑوں کا بڑا اسٹاک جمع ہوگیا ہے، کوشش کریں آج سارے کپڑے تقسیم ہوجائیں۔ چنانچہ کپڑوں کی تقسیم کے لیے متعین ساتھیوں کے ساتھ خود بھی کھڑا ہوگیا۔ ایک ایک کرکے لوگ آرہے تھے اور اپنی ضرورت کے کپڑے لے کر جارہے تھے۔ ایک شوخ سی بچی آئی تو ساتھی نے اس کو اس کی عمر کے مطابق دو جوڑے دے دیے۔ وہ مڑکر جانے کے بجائے بڑے تحکمانہ لہجے میں بولی :
”لالہ برخہ ھم راکہ“ (لالہ کا حصہ بھی دے دو۔)
ساتھی نے کہا: ”لالہ کو بھیجو خود لے جائے گا۔“
وہ بولی: ”ھغہ نشتہ خو ڈیر زر بہ راشی“ (وہ یہاں نہیں ہے مگر بہت جلد آجائے گا۔)
میرے دل ودماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔ میں سمجھ گیا کہ یہ وہی بھائ کی جدائ کا دکھ جھیلتی گل سانگہ ہے۔ میں نے
ساتھی کا ہاتھ دبا کر کہا کہ دو مردانہ جوڑے اس بچی کو دے دو۔
جب وہ لالہ کے جوڑے لے کر جانے لگی تو میں نے اس کو
آواز دے دی:
” گل سانگے !!! “
(پشتو میں یونہی پکارا جاتا ہے۔)
وہ آئی اور اپنی ذہانت سے بھرپور آنکھیں گاڑ کر پوچھنے لگی:
“زما نوم تاتہ چا خولے دے ؟ “
(میرا نام تم کو کس نے بتایا ہے؟)
“ مجھے کوئی جواب نہ سوجھا تو بے اختیار کہہ دیا : ” لالہ نے "
" اچھا ؟!!! تم لالہ کو جانتے ہو ؟؟؟ دوست ہے تمہارا ؟؟
اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کی حیرت سمٹ آئ
میرے پاس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
اب وہ بڑے اشتیاق سے بولی :
“ ٹیلی پُن کوی تاتہ " (تمہیں فون کرتا ہے لالہ؟)
میں نے بے چارگی سے پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
”سہ وئی کلہ بہ رازی ؟ “ (کیا کہتا ہے کب آئے گا؟)
میں نے کہا : ”ڈیر زر“ (بہت جلد)
یہ سن کر اس کی چمکدار آنکھوں کی چمک میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ۔ اپنے ہاتھ میں موجود مردانہ جوڑوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی:
”زکہ خو دا سامان ورتہ جمع کوم“ (جبھی تو اس کے لیے یہ سامان جمع کررہی ہوں۔)
اس دن شام کو میں پھر خیمہ بستی گیا تو فضل شکور اپنے خیمے کے باہر کھڑا نظر آیا۔ کہنے لگا: ”آئیں! آپ کو ایک چیز دکھاﺅں۔“ خیمے کا پردہ اُٹھایا تو ایک کونے میں مردانہ جوڑے، صابن ، تولیہ ، مردانہ چپل وغیرہ بڑے سلیقے سے ایک پھلوں کی خالی پیٹی میں رکھے ہوئے تھے ۔ فضل شکور کی آواز بھیگ گئی۔ کہنے لگا: ”یہ لالہ کا سامان ہے جو پگلی گل سانگہ نے جمع کررکھا ہے۔ مجال ہے جو کسی کو ہاتھ لگانے دے ۔ مجھے لگا میرا دم گھٹ جائے گا میں فوراً خیمے سے باہر آگیا۔
خیمہ بستی کے سارے افراد گویا ہمارا خاندان بن گیا تھا۔ دو بچیوں کی شادی اسی مہینے سوات میں ہونے تھی مگر اچانک فوجی آپریشن نے سارا پروگرام درہم برہم کردیا تھا۔ اب ان کے ماں باپ پریشان تھے کہ جوان لڑکیوں کو کب تک کھلے آسمان تلے خیموں میں بٹھائیں گے؟ ہم نے دونوں کو خیمہ بستی سے ہی پیا دیس رخصت کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ پورے ملک سے دوستوں نے ان شادیوں میں دل کی گہرائیوں سے حصہ لیا۔ میانوالی سے ڈاکٹر عبداللہ صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ جو خود بھی بہت معروف ڈاکٹر ہیں، نے دلہنوں کے لیے کئی کئی جوڑے اور شادی کا دوسرا سامان بھجوا دیا۔ میں نے گل سانحہ کو بہلانے کے لیے اس میں سے ایک بہت ہی خوبصورت جوڑا اس کے لیے علیحدہ کردیا اور ڈاکٹر صاحب سے اس تصرف کی اجازت لے لی۔ فضل شکور کو بلاکر جوڑا اور دیگر سامان حوالے کیا کہ گل سانگہ کو دے دو شاید کچھ بہل جائے۔ وہ سامان لے کر چلا گیا، مگر تھوڑی دیر بعد گل سانگہ سمیت آتا دکھائی دیا۔ گل سانگہ کے چہرے پر خوشی کا کوئی اثر نہ تھا بلکہ قدرے برہم تیز تیز قدموں سے چلتی آرہی تھی۔
”ولے سانگے بچے ؟"
" (کیوں سانگے بچے ؟) میں نے پوچھا۔
وہ اپنے اسی تحکمانہ لہجے میں بولی: ” لالہ برخہ ؟“
(لالہ کا حصہ کہاں ہے؟)
اپنی کوتاہی پر شدید پشیمانی ہوئی۔ کوئی چیز موجود نہ تھی، اسی وقت بازار بندہ دوڑایا اور لالہ کا حصہ منگوایا ۔ تب جاکر گل سانگہ مطمئن ہوئی۔
دن گزرتے گئے ۔ آتے جاتے، پانی لے جاتے ہوئے، کبھی کھانے کی قطار میں، کبھی اسٹور کے آگے صابن لیتے ہوئے اور کبھی چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے گل سانگہ نظر آجاتی۔ مجھے دیکھتے ہی ایک ہی سوال کرتی: ”لالہ ٹیلی پُن خو نہ اوکڑے“ (لالہ نے فون تو نہیں کیا؟) میں بھی اپنی طرف سے جو دل میں آتا لالہ کی طرف سے فرضی پیغام رسانی کرتا رہتا کہ لالہ کہہ رہا تھا کہ گل سانگہ سے کہو روٹی خوب کھایا کرے۔ لالہ کہہ رہا تھا کہ سانگہ سے کہو مجھے یاد نہ کیا کرے، ورنہ ناراض ہوجاﺅں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور ہر پیغام پر گل سانگہ یوں ایمان لاتی گویا اب اس نے دل وجان سے اس پیغام پر عمل کرنا ہے۔
آخر خزاں کی رت رخصت ہونے کو آئی۔ سوات کے راستے کھل گئے۔ ایک ایک خیمہ اٹھنا اور سامان ٹرکوں پر لدنا شروع ہوا۔ ایک دن فضل شکور کا خیمہ بھی سمٹ گیا اور اس نے واپسی کی تیاری کرلی۔ ٹرک پر سامان لادکر اس نے گل سانگہ کو سب سے اوپر بٹھایا ہوا تھا۔ میں بھی انہیں رخصت کرنے آیا تو اوپر سے گل سانگہ کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا تو وہ لپٹے ہوئے خیمے پر اونچی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے وہی شوخ جوڑا پہنا ہوا تھا جو خیمہ بستی کی شادیوں میں شرکت کے لیے سلوایا گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر اپنے ہاتھ کو موبائل فون کے انداز میں کان کی طرف لے جاکر کہنے لگی:
”لالہ ٹیلی پُن اوکی نو زما سلام ورتہ وایا۔“ (اگر لالہ کا فون آجائے تو میرا سلام کہنا)
رخصت کے بول میرے حلق میں پھنس گئے اور آنکھوں میں مرچیں گھلنے لگی۔ آج وہ بڑی خوش لگ رہی تھی اور ٹرک کے اوپر ”کلہ بہ رازے، کلہ بہ رازے“ (تم کب آﺅگے، تم کب آﺅگے؟) والا گیت گارہی تھی۔
ڈبڈباتی آنکھوں سے اس کو رخصت کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ لالہ! تجھے کیاپتا تو نے اپنی ننھی بہن کو کس آزمائش میں ڈال رکھا ہے؟ خدا جانے تو افغانستان کی کس چوٹی پر داد شجاعت دے رہا ہوگا اور یہ ننھی جان کس سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ افغانوں کی ہمت اور بہادری کو سات سلام جو اس صدی میں تیسری مرتبہ سپر پاور کے دانت کھٹے کررہے ہیں۔ پہلے برطانیہ، پھر روس اور اب پورا عالم کفر۔ اللہ اللہ.... اسلام کا معجزہ اور افغانوں کی قوت ایمانی اور جذبہ حریت وآزادی۔
کراچی آکر حسبِ معمول پڑھنے پڑھانے کی مشغولیت شروع ہوگئی۔ گزشتہ روز موبائل کی گھنٹی بجی۔ نامعلوم نمبر تھا اور عموماً نامعلوم نمبر نہیں اٹھاپاتا۔ اس دن خدا جانے کیوں کیا دل میں آیا کہ فون وصول کرلیا۔ دوسری طرف فضل شکور تھا۔ کہنے لگا میں فضل شکور ہوں سوات سے۔ کافی ماہ بیت چکے تھے اس لیے فوراً یاد نہیں آیا تو کہنے لگا.... گل سانگہ کا والد ۔۔
حال احوال پوچھا تو رندھی ہوئی آواز میں بولا:
”مولانا صاحب! گل سانگہ مرگئی“
کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ اچانک کیسے ؟؟ “
ایسا لگا کسی نے اچانک پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔ کہنے لگا: چند روز قبل اس کے بھائی کی شہادت کی خبر آئی۔ ہلمند میں کفر کی آندھی سے لڑتے ہوئے اس مرد مجاہد نے زندگی کی بازی تو ہاردی ۔۔۔ میں نے بے ساختہ کہا “ جان ہار دی مگر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیت گیا۔
“ فزتَ بربِ الکعبہ
خاندان میں مشورہ ہوا کہ گل سانگہ کو بتا دیا جائے تاکہ وہ انتظار اور پیہم انتظار کی جاں گسل کیفیت سے باہر آجائے ۔ کسی کو کیا پتا تھا کہ دیوانی بھائی کے پیچھے چل دے گی۔ چنانچہ چچا اور چچی نے گل سانگہ کو بٹھایا اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ لالہ نے کافروں سے خوب لڑائی کی او بہت سے کافروں کو جہنم رسید کیا مگر بالآخر وہ شہید ہوگیا اور اس سے جنت میں ملاقات ہوگی۔
اس دن گل سانگہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر اور مچل مچل کر روئی کہ گاؤں بھر کو رلا دیا۔ شاید ہی اس دن گاؤں کے کسی فرد نے فرط غم سے کھانا کھایا ہو۔ ہر کوئی گل سانگہ کی کیفیت کو دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتا تھا۔ اسی شام گلہ سانگہ نے ایک عجیب کام کیا.... اٹھی اور لالہ کے لیے جمع کردہ تمام سامان اٹھالائی اور پھر ایک ایک چیز گھر سے
نیچے بہتے دریا میں پھینکے لگی اور ساتھ ساتھ رو رو کر کہتی جاتی تھی :
“ لالہ تا دروغ ولے وے؟“
(لالہ تم جھوٹ کیوں بولتے رہے؟ نہیں آنا تھا تو مجھے کیوں جھوٹ کہتے رہے کہ جلد آؤں گا)
سارا سامان دریا کی نذر کرکے گل سانگہ گم سم واپس آگئی۔ کھانا پینا بالکل بند کردیا۔ سب گھر والے سوسو جتن کرتے رہے مگر مجال ہے کہ اس نے ایک لقمہ حلق سے نیچے جانے دیا ہو۔ رات کو نہ جانے کیا ہوا کہ گرم بستر سے نکل کر ٹھنڈے یخ برآمدے میں آبیٹھی یخ بستہ ہواؤں اور نقطہ انجماد سے نیچے پارہ میں خدا جانے یہ ننھی روح گھنٹوں کیا کھوجتی رہی؟ اچانک فضل شکور کی آنکھ کھلی تو گل سانگہ بستر پر نہیں تھی۔ وہ پریشان باہر آیا تو اس کو برآمدے میں بیٹھا پایا۔
کہتا ہے میں نے پوچھا: ”سانگے بچے ولے؟“ (کیوں بیٹا؟)
تو پوچھنے لگی: ”بابا! لالہ بہ اوس ھِس کلہ نہ رازی؟؟“ (بابا! لالہ اب کبھی نہیں آئے گا؟؟)
فضل شکور کا دل کٹ کر رہ گیا۔ کہنے لگا: میں اس کو اٹھاکر اندر لانے لگا تو محسوس ہوا کہ اس کا بدن بخار سے بری طرح تپ رہا تھا۔ تیز بخار کی وجہ سے اس کے جسم سے آگ نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ صبح ڈاکٹر کو دکھایا تو پتا چلا اس کو ڈبل نمونہ ہوگیا تھا۔ ساتھ ہی خون کی الٹیاں بھی شروع ہوگئیں۔ گل سانگہ کی جان بچانے کے لیے فضل شکور نے اپنی چاروں بکریاں اسی دن اونے پونے داموں بیچ دیں۔ سوات کے دیہاتی ہسپتال میں گل سانگہ کی چارپائی سے لگے باپ کو اچانک نیم بے ہوش گل سانگہ کے ہونٹ پھڑپھڑاتے محسوس ہوئے۔ اس نے کان ہونٹوں سے لگائے تو نیند میں گل سانگہ گنگنارہی تھی:
”کلہ بہ رازے، کلہ بہ رازے؟“ (تم کب آﺅ گے، تم کب آؤ گے؟)
اسی رات دو بجے گل سانگہ اس دنیا سے منہ موڑ کر اپنے بہادر اور سرفروش بھائی کی طرف چل پڑی۔ اب دونوں شاید جنت کے باغوں میں ایک دوسرے کے آگے پیچھے دوڑ رہے ہوں گے۔
گل سانگہ مر گئی ۔ سوات کی ایک بوس اور برف پوش پہاڑی چوٹی کے دامن میں گل سانگہ کی قبر بن گئی۔ اس کا والد سمجھ رہا ہے کہ گل سانگہ کو سردی لگ گئی تھی ، مگر یہ کیسی سردی تھی جو ہلمند سے اس کے شہید بھائی کی شہادت کی خبر آنے کے فقط دو دن بعد لگی تھی۔
سوات کے اس سرسبز وشاداب قبرستان میں جہاں گل سانگہ کی قبر تازہ تازہ بنی ہے ، شاید میں کبھی نہ جا سکوں ۔۔آخر گل سانگہ کو کوئ کس طرح بتا پاۓ گا کہ وہ اس دنیا سے جاتے وقت لالہ کی جس غلط بیانی پر بلاوجہ ناراض تھی .... وہ وعدہ تو لالہ نے کبھی کیا ہی نہیں تھا ۔۔ لالہ نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ جلد آجائے گا ۔ یہ بات جس نے بلا ارادہ مجبوراً بنائی تھی وہ گل سانگہ کے سامنے شرمسار ہے۔
تحریر : سید عدنان کاکاخیل
06/07/2021
جامعہ کے تمام اہم اعلانات ،اصلاحی پوسٹ اور اصلاحی بیانات سننے کےلئے ہمارا Bip چینل جوائن کریں 👇👇👇
BiP