الدین نصیحہ

الدین نصیحہ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from الدین نصیحہ, Education, Karachi.

12/08/2026

🥀 _*امام مسجد کے حقوق*_ 🥀

*امام کو امام تسلیم کرنا*
جب مسجد انتظامیہ کسی شخص کو متفقہ طور پر امام مقرر کرے تو مقتدیوں پر لازم ہے کہ اسے امام مانیں اور بلاوجہ مخالفت یا اعتراض نہ کریں جب تک شریعت اجازت نہ دے

*امام کی غیبت و چغلی سے اجتناب*
امام کی غیبت بدگمانی اور چغلی سے پرہیز کیا جائے کیونکہ غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے
(سورۃ الحجرات:12)

*امام کی عزت و احترام*
امام کا ادب و احترام ضروری ہے کیونکہ نماز جماعت کے ساتھ امام کے ذریعے ادا کی جاتی ہے بے ادبی سے جماعت کی برکت ختم ہو جاتی ہے

*امام کی حوصلہ افزائی*
اگر امام کسی پریشانی یا مشکل میں ہوں تو اُن کی دلجوئی حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے تاکہ وہ دینی خدمت بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں

*امام کی معقول تنخواہ مقرر کرنا*
مسجد کمیٹی پر لازم ہے کہ امام کے لیے مناسب باعزت اور کفایت کرنے والی تنخواہ مقرر کرے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں

*امام کی ذاتی مالی خدمت (خیرخواہی)*
مقتدیوں کو چاہیے کہ امام سے ذاتی طور پر خیرخواہی کریں تحفے یا مالی تعاون کے ذریعے ان کی دلجوئی کریں

*خوشی و غمی میں امام کو یاد رکھنا*
امام کو صرف غمی کے موقع پر نہیں بلکہ خوشی (شادی عقیقہ ولیمہ) کے مواقع پر بھی شریک کیا جائے

*امام کی چھٹی میں نائب مقرر کرنا*
اگر امام صاحب کو آرام یا چھٹی درکار ہو تو کمیٹی خوش الحان نائب قاری مقرر کرے تاکہ مسجد کا نظام متاثر نہ ہو

*امام کی تاخیر پر بدگمانی نہ کرنا*
اگر کسی نماز میں امام تاخیر کر جائیں تو اُنہیں سست یا لاپرواہ نہ کہا جائے بلکہ حسنِ ظن رکھا جائے

*امام کے اہلِ خانہ کا خیال رکھنا*
امام صاحب کی فیملی کا خاص خیال رکھا جائے اُنہیں احساسِ محرومی یا تنہائی کا شکار نہ ہونے دیا جائے

*امام کے فیصلوں میں اعتماد اور تعاون*
دینی یا شرعی معاملات میں امام کے فیصلوں اور مشوروں پر اعتماد کیا جائے اور ان کے ساتھ تعاون کیا جائے

*امام کے علم سے استفادہ کرنا*
امام سے قرآن فقہ نماز طہارت اور عقائد کے مسائل سیکھنے کی کوشش کی جائے
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا
*العلماء ورثة الأنبياء*
علماء انبیاء کے وارث ہیں
(ابوداؤد)

*امام کی عزت بچوں کو سکھانا*
والدین اپنے بچوں کو امام کے احترام اور ان کی قدر کا عادی بنائیں تاکہ دین سے تعلق مضبوط ہو

*امام کی اصلاح ادب سے کرنا*
اگر امام سے کوئی غلطی ہو جائے تو برسرِعام تنقید نہ کی جائے بلکہ علیحدگی میں ادب و نرمی سے نصیحت کی جائے
*وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا*
(البقرۃ:83)

*امام کی صحت و آرام کا خیال رکھنا*
اگر امام بیمار ہوں یا کمزور محسوس کریں تو اُن کی عیادت دوا دارو اور آرام کا خیال رکھا جائے یہ دینی اخلاق کا تقاضا ہے

*مسجد و محلہ کے مشوروں میں امام کو شامل کرنا*
جب بھی مسجد یا دینی کاموں کے فیصلے ہوں تو امام کو ضرور مشورے میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ شرعی رہنمائی کے اہل ہیں

*امام کے لیے دعا کرنا*
امام کے لیے دل سے دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں اخلاص استقامت عزت اور علم میں برکت عطا فرمائے
*الدعاء لأخيك بظهر الغيب مستجاب*
(مسلم)

*امام کے لیے عزت و وقار کا ماحول قائم رکھنا*
مسجد میں امام کے لیے احترام کا ماحول ہونا چاہیے اُن سے بلند آواز میں بات نہ کی جائے نہ اُن کا مذاق اڑایا جائے
*لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ*
(الحجرات:2)

*اختتامی کلمات:*
امام مسجد دین کا نمائندہ امت کا معلم اور اللہ کے گھر کا محافظ ہوتا ہے جو امام کا احترام کرتا ہے وہ دراصل دینِ اسلام کا احترام کرتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ائمہ کے تمام حقوق پہچاننے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

26/07/2026

قال رسولُ اللهِ ﷺ سَبْعٌ يَجْرِي لِلْعَبْدِ أَجْرُهُنَّ، وَهُوَ فِي قَبْرِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ: مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا، أَوْ أَجْرَى نَهْرًا، أَوْ حَفَرَ بِئْرًا، أَوْ غَرَسَ نَخْلًا، أَوْ بَنَى مَسْجِدًا، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا، أَوْ تَرَكَ وَلَدًا يَسْتَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ.
(​صحيح الجامع: 3602)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات ایسے اعمال ہیں جن کا ثواب بندے کو اس کی وفات کے بعد بھی، جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے، مسلسل پہنچتا رہتا ہے: جس نے علم سکھایا، یا نہر جاری کی، یا کنواں کھدوایا، یا کھجور کا درخت لگایا، یا مسجد تعمیر کی، یا قرآنِ مجید (مصحف) ورثے میں چھوڑا، یا ایسی نیک اولاد چھوڑی جو اس کے انتقال کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی رہے۔

22/07/2026

*اہلِ قرآن سب سے بڑھ کر بے نیاز ہوتے ہیں۔*

بیان کیا گیا ہیکہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ نے آپ کو سلطنت عطا کی ہے، مجھے بھی اس میں سے کوئی عہدہ عطا کریں۔ سیدنا عمر نے پوچھا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟ اس نے نفی میں جواب دیا تو سیدنا عمر فاروق نے کہا: «إنا لا نُولّي من لا يقرأ القرآن» ”قرآن سے کورے شخص کو ہم کچھ نہیں دیتے۔“

وہ شخص وہاں سے لوٹا اور اس نے عہدہ لینے کی نیت سے قرآن سیکھنے میں خوب محنت کی۔ پھر جب اس نے قرآن سیکھ لیا تو سیدنا عمر کے پاس نہ آیا۔ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب کی اس شخص پر نظر پڑی تو پوچھا: کیوں بھئی! ہم سے دوری کیوں اختیار کرلی؟ اس نے جواب دیا: «لست ممن يهجر، ولكني تعلمت القرآن، فأغناني الله عن عمر وعن باب عمر» ”میں نے آپ کو چھوڑا نہیں، بلکہ میں نے جب قرآن سیکھ لیا تو اللہ نے مجھے عمر اور عمر کے دروازے دونوں سے ہی بے نیاز کردیا۔“

عمر فاروق نے پوچھا: کس آیت نے آپ کو مستغنی کردیا؟ اس شخص نے کہا: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق ٢-٣]

(الكشف والبيان للثعلبي - ط دار التفسير ٢٦/‏٥٦٥، المحرر الوجيز لابن عطية ٣٢٤/٥)

20/07/2026

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

ترجمۂ آیت:

﴿اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔﴾
(سورۃ البقرۃ: 286)

اگر کبھی آپ کو محسوس ہو کہ زندگی کی مشکلات نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، راستے بند ہوتے دکھائی دیتے ہیں، اور دل غموں سے بوجھل ہو جاتا ہے، تو اس مبارک آیت کو یاد کر لیجیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کبھی آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ ہر امتحان کے ساتھ صبر کی قوت، ہر مشکل کے ساتھ آسانی، اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی بھی اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ لہٰذا مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں، اللہ پر کامل بھروسا رکھیں، اس سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اور یقین رکھیں کہ اس کی رحمت ہر پریشانی سے بڑی ہے۔

تلاشِ حق میں 60 برس سرگردان رہا(سابق امریکی یہودی سینفورڈ پاس)یہ امریکہ کے ایک قدامت پسند یہودی خاندان میں پیدا ہونے وال...
16/07/2026

تلاشِ حق میں 60 برس سرگردان رہا
(سابق امریکی یہودی سینفورڈ پاس)

یہ امریکہ کے ایک قدامت پسند یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے سینفورڈ پاس (Sanford Pass)کی داستان ہے، جنہوں نے حق کی تلاش میں زندگی کی 60 بہاریں گزار دیں اور بالآخر بائبل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیش گوئیاں پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا اسلامی نام ابومجاہد رکھا۔ اپنی یہ داستان انہوں نے مشہور اسلامی دعوتی پلیٹ فارم Toward Eternity پر میزبان برادر فاتی (Fati)کو سنائی ہے۔ آپ انہی کی زبانی یہ روح پرور داستان سنیے۔
میں ایک قدامت پسند (Conservative) امریکی یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ بچپن ہی سے میری تربیت اس عقیدے پر ہوئی کہ "اے اسرائیل! سنو، ہمارا خدا ایک ہی ہے۔" ہمارے گھر میں یہودی شریعت کے مطابق حلال و حرام (Kosher Laws) کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی، سبت (Sabbath) کے دن تمام مذہبی احکام بجا لائے جاتے تھے اور خاندان کی پوری زندگی مذہبی روایات کے گرد گھومتی تھی۔ اس ماحول نے میرے دل میں ابتدا ہی سے توحید کا تصور راسخ کر دیا، اگرچہ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہی عقیدہ ایک دن مجھے اسلام تک پہنچا دے گا۔
بچپن کی بہت سی یادیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ ہم ہر جمعے کی شام عبادت کے لیے یہودی عبادت گاہ جاتے تھے۔ وہاں مذہبی نغمے پڑھے جاتے، دعائیں ہوتیں اور ربی (Rabbi) لوگوں کو وعظ کرتے۔ ان محفلوں میں سب سے زیادہ جو چیز میرے دل کو چھوتی تھی وہ ایک خدا پر ایمان کا اعلان تھا۔ بعد میں جب میں مسلمان ہوا تو مجھے محسوس ہوا کہ ہم درحقیقت اسی توحید کا اقرار کر رہے تھے جسے اسلام نے اپنی کامل صورت میں پیش کیا ہے۔
لیکن جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی، میرے دل میں سوالات بھی جنم لینے لگے۔ میں جب بائبل، تورات یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی سوال کرتا تو مجھے ہمیشہ یہی جواب دیا جاتا کہ "یہ ترجمے کی غلطی ہے، ان باتوں میں مت پڑو۔" میرے لیے یہ جواب کبھی تسلی بخش نہ تھا۔ میں صرف روایت پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ حقیقت جاننا چاہتا تھا۔
جب میری عمر تیرہ برس ہوئی تو یہودیت کی اہم مذہبی تقریب بار مٹزوا (Bar Mitzvah) کا وقت آیا، جسے ایک لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ اب شاید مجھے اپنے مذہب کی گہری تعلیمات سے روشناس کرایا جائے گا، مگر ہوا اس کے برعکس۔ مجھے ایک کمرے میں بٹھا کر ایک گراموفون چلا دیا گیا اور کہا گیا کہ ان الفاظ کو یاد کر لو تاکہ تقریب میں صحیح انداز سے پڑھ سکو۔ کسی نے ان الفاظ کے معانی نہیں سمجھائے، نہ ان کی روح سے آگاہ کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ محض ایک نمائشی رسم ہو جس کا مقصد لوگوں کو متاثر کرنا ہے، نہ کہ انسان کو خدا سے جوڑنا۔ اس دن میرے دل میں پہلی بار مذہبی ظواہر اور حقیقی روحانیت کے درمیان فرق کا احساس پیدا ہوا۔
اسی زمانے میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ میرے والدین نے تیرہویں سالگرہ پر مجھے دو تحفوں میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا۔ یا تو میں اپنے دوستوں کے لیے ایک بڑی تقریب منعقد کرتا، یا اسرائیل کا سفر کرتا۔ اس زمانے میں تقریباً ہر یہودی نوجوان کو اسرائیل بھیجا جاتا تھا تاکہ وہاں اس کی مذہبی اور سیاسی ذہن سازی (Brainwash) کی جا سکے۔ میں نے پارٹی کا انتخاب کیا۔ آج، جب میں برسوں بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھتا ہوں، تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اس سفر پر نہیں گیا، کیونکہ شاید میری سوچ بھی ہمیشہ کے لیے ایک خاص سانچے میں ڈھال دی جاتی۔
انہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے میرے اندر کی بے چینی کو کئی گنا بڑھا دیا۔ میں صرف چودہ برس کا تھا جب امریکی صدر جان ایف کینیڈی (John F. Kennedy) کو قتل کر دیا گیا۔ اس سانحے نے مجھے گہرے سوالات میں مبتلا کر دیا۔ میں سوچنے لگا کہ دنیا میں حقیقت کیا ہے؟ حکومتیں، میڈیا اور طاقت ور حلقے ہمیں جو کچھ بتاتے ہیں، کیا وہی مکمل سچ ہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب میرے اندر حق کی تلاش کی ایسی آگ بھڑکی جو اگلے کئی عشروں تک ٹھنڈی نہ ہو سکی۔
کالج پہنچنے کے بعد میری جستجو مزید تیز ہو گئی۔ میں نے صرف مذہب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، سماجی اور فکری نظام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ آخرکار میں نے کالج چھوڑ دیا، کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ ڈگری سے زیادہ مجھے حقیقت کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ ٹینیسی (Tennessee) کے ایک فارم پر گزارا، پھر مختلف شہروں میں گھومتا رہا، یہاں تک کہ ایک مسیحی خانقاہ (Monastery) جا پہنچا۔
وہاں میں نے عیسائیت اختیار کر لی۔ تین برس تک راہبوں کے ساتھ رہا، بائبل کا گہرا مطالعہ کیا، مذہبی لباس پہنا، صلیب اٹھائی اور عبادت و ریاضت میں وقت گزارا۔ مجھے یقین تھا کہ شاید اب میری روح کو سکون مل جائے گا، لیکن جتنا زیادہ میں بائبل کا مطالعہ کرتا گیا، اتنے ہی زیادہ سوالات پیدا ہوتے گئے۔ بعض مقامات پر مجھے ایسے تضادات دکھائی دیے جن کا کوئی واضح جواب نہ ملا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری روح اب بھی اسی پیاس میں مبتلا ہے جو برسوں پہلے میرے اندر پیدا ہوئی تھی۔ آخرکار میں نے وہ خانقاہ بھی چھوڑ دی۔
اس کے بعد میری ملاقات ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک استاد سے ہوئی جو مراقبہ (Meditation) کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مخصوص روحانی مشقوں کے ذریعے انسان کائنات کی الٰہی توانائی (Holy Energy) سے جڑ سکتا ہے۔ میں نے برسوں تک ان کے ساتھ مراقبے کیے، مختلف روحانی مشقیں آزمائیں اور مشرقی فلسفے کا مطالعہ کیا، مگر کچھ عرصے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہاں بھی وہ اطمینان موجود نہیں جس کی میں برسوں سے تلاش کر رہا تھا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں مختلف راستوں پر چل رہا ہوں لیکن منزل کہیں بھی نہیں۔ یہودیت، عیسائیت، خانقاہ، مراقبہ، فلسفہ، سیاست اور مختلف نظریات… سب کچھ آزمانے کے باوجود میرے دل کا خلا برقرار تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ساٹھ برس کی اس طویل جستجو کے بعد حق تعالیٰ مجھے ایسی جگہ لے جائے گا جہاں میرے تمام سوالوں کے جواب موجود ہوں گے، اور جہاں پہنچ کر مجھے محسوس ہوگا کہ زندگی بھر میں دراصل ایک ہی منزل کی تلاش میں تھا۔
جب بائبل نے محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچایا:
یوں زندگی کی چھ دہائیاں گزر گئیں۔ میں نے یہودیت، عیسائیت، مراقبہ، فلسفہ اور دنیا کے مختلف نظریات کا مطالعہ کیا، لیکن دل کا خلا باقی رہا۔ بظاہر میرے پاس ایک اچھی زندگی تھی۔ میں شادی کر چکا تھا، دو بچوں کا باپ تھا اور کارپوریٹ امریکہ (Corporate America) میں ملازمت کر رہا تھا، مگر اندر کہیں ایک بے چینی مسلسل موجود تھی۔ مجھے یقین تھا کہ سچ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے، مگر ابھی تک میری نگاہ اس تک نہیں پہنچی تھی۔
پھر ایک دن میری زندگی کا سب سے اہم موڑ آیا۔
میرے بیٹے نے مجھے فون کیا۔ اس نے کہا:
"ابو! میں نے پوری زندگی آپ کو سچائی کی تلاش میں بھٹکتے دیکھا ہے۔ آپ ہمیشہ خبروں کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن اگر آپ واقعی حق تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ایک مرتبہ بائبل کو نئے زاویے سے پڑھیں۔ وہاں چند ایسی پیش گوئیاں موجود ہیں جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ہیں۔"
اس کی بات میرے لیے حیران کن تھی۔ میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ بائبل میں حضرت محمد ﷺ کا ذکر موجود ہو سکتا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی کہ اگر واقعی یہی سچ ہے تو وہ میرے لیے اس کے دروازے کھول دے۔
جب میں نے دوبارہ بائبل کا مطالعہ شروع کیا تو عجیب کیفیت پیدا ہو گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہی الفاظ، جنہیں میں برسوں سے پڑھتا آیا تھا، اچانک نئی روشنی میں میرے سامنے آ گئے ہوں۔ ایسا لگتا تھا جیسے تحریر کاغذ پر نہیں بلکہ میرے دل پر لکھی جا رہی ہو۔
سب سے پہلے میری نظر کتابِ استثنا (Deuteronomy 18:18) کی اس آیت پر پڑی:
"میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا، اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا، اور وہی کچھ کہے گا جس کا میں اسے حکم دوں گا۔"
میں دیر تک اس آیت پر غور کرتا رہا۔ "ان کے بھائیوں میں سے"… یہ بنی اسرائیل نہیں بلکہ بنی اسماعیل تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند نبی صرف حضرت محمد ﷺ تھے۔ یہ پہلی بار تھا کہ میرے سامنے ایک بالکل مختلف تصویر ابھر رہی تھی۔
پھر میں نے انجیلِ یوحنا (John 16:13) پڑھی، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جب وہ سچائی کا روح آئے گا تو وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا بلکہ جو کچھ سنے گا وہی بیان کرے گا۔"
یہ الفاظ پڑھ کر میرے ذہن میں فوراً وحیِ الٰہی کا تصور آیا۔ قرآن مجید بھی تو یہی کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ وہی بیان کرتے ہیں جو وحی کی جاتی ہے۔
اس کے بعد میں کتابِ استثنا (Deuteronomy 33:2) تک پہنچا:
"خداوند سینا سے آیا، سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا۔"
میں نے اس کی جغرافیائی تحقیق شروع کی۔ معلوم ہوا کہ سینا (Sinai) حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وابستہ ہے، سعیر (Seir) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سرزمین ہے، جبکہ فاران (Paran) مکہ مکرمہ کا قدیم نام ہے، جہاں حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے۔
یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔
میرے سامنے ایک ایک کر کے تمام کڑیاں جڑنے لگیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کا پیغام دراصل ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں، اور حضرت محمد ﷺ اس سلسلے کی آخری اور مکمل کڑی ہیں۔
یہ احساس میرے لیے انتہائی غیر معمولی تھا، کیونکہ اگر کوئی مجھ سے چند ماہ پہلے بھی کہتا کہ میں ایک دن مسلمان ہو جاؤں گا تو شاید میں ہنس دیتا۔ اسلام میرے ذہن میں کبھی ایک ممکنہ راستہ ہی نہیں تھا، لیکن اب دل کسی اور حقیقت کی گواہی دے رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے برسوں سے آہستہ آہستہ اسی مقام تک لا رہا تھا۔ یہودیت نے مجھے توحید سکھائی، عیسائیت نے انبیائے کرام سے محبت دی، مختلف روحانی تجربات نے مجھے مادیت سے بے زار کیا، اور اب اسلام ان تمام بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ایک مکمل تصویر میں بدل رہا تھا۔
مجھے اپنے چودہ برس کی عمر کے وہ تمام سوالات یاد آنے لگے جو صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد میرے دل میں پیدا ہوئے تھے۔ میں نے پوری زندگی دنیا کے سیاسی واقعات، جنگوں، میڈیا اور طاقت ور حلقوں کے کردار کا تجزیہ کیا تھا۔ خصوصاً 9/11 کے بعد بھی میں اپنے دوستوں سے یہی کہتا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے، اس کا بڑا حصہ حقیقت سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔
میرے دوست حیران ہوتے اور پوچھتے:
"آخر تم مسلمانوں کی وکالت کیوں کرتے ہو؟"
میں اس وقت مسلمان نہیں تھا، مگر شاید میرا ضمیر سچائی کی خوشبو پہچاننے لگا تھا۔
آخرکار وہ لمحہ آ گیا جب میرے اندر کوئی شک باقی نہ رہا۔
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک ایسے راستے پر آ پہنچا ہوں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی پارکنگ لاٹ (Parking Lot) میں داخل ہوتے وقت یکطرفہ راستہ (One-way Street) ہوتا ہے اور وہاں تنبیہ لکھی ہوتی ہے کہ اگر واپس مڑے تو ٹائر پھٹ جائیں گے۔
میں نے دل میں کہا:
"میں نے عمر بھر جس سچائی کی دعا مانگی تھی، اللہ نے آج مجھے وہ عطا کر دی ہے۔ اب اگر میں نے اس سے منہ موڑا تو نقصان میرا اپنا ہوگا۔"
یہ کوئی آواز نہیں تھی، نہ کوئی خواب، نہ کوئی معجزہ۔ یہ دل کا ایسا یقین تھا جس نے میری پوری شخصیت بدل دی۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ساٹھ برس کی طویل مسافت مکمل ہو چکی ہو۔ زندگی کے تمام منتشر سوالات ایک نقطے پر آ کر جمع ہو گئے تھے، اور پہلی مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ انسان اس وقت تک بے چین رہتا ہے جب تک اپنے رب کو نہ پا لے۔
جب میرے دل کو یقین ہو گیا کہ اسلام ہی حق ہے تو پھر میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل نہ رہا۔ میں نے کلمۂ شہادت (Shahada) پڑھ لیا۔ وہ لمحہ میری پوری زندگی کا سب سے عظیم لمحہ تھا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں لے لیا ہو۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی بھر کا بوجھ یکایک میرے کندھوں سے اتر گیا ہے۔ دل ایک عجیب سرور سے بھر گیا تھا، سینہ یوں کھل گیا جیسے کسی بند کمرے کی تمام کھڑکیاں ایک ساتھ کھل جائیں۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن وہ غم کے نہیں بلکہ شکر اور سکون کے آنسو تھے۔
مجھے بتایا گیا کہ اسلام قبول کرنے والے کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس وقت مجھے واقعی محسوس ہوا کہ میں ایک نئی زندگی لے کر اٹھا ہوں۔ یوں لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے میری برسوں کی آوارہ گردی، میری غلطیوں اور میری مسلسل جستجو کو قبول فرما لیا ہو۔
بعد میں جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ابتدا ہی سے میری رہنمائی فرما رہا تھا۔ میں خود کو مختلف راستوں کا مسافر سمجھتا رہا، لیکن حقیقت میں وہی رب مجھے منزل کی طرف لے جا رہا تھا۔
قبولِ اسلام کے بعد آزمائشیں بھی آئیں۔
میرے خاندان کے بعض افراد نے مجھ سے تقریباً تعلق ختم کر لیا۔ کچھ لوگ صرف رسمی تعلق رکھتے ہیں لیکن اسلام کا ذکر آتے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ کچھ نے مجھے دیوانہ سمجھا، جبکہ چند دوست ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔ البتہ ایسے دوست بھی تھے جنہوں نے اختلاف کے باوجود دوستی برقرار رکھی۔
مجھے اس رویے پر کبھی حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ سچائی ہمیشہ قیمت مانگتی ہے۔ اگر پوری زندگی حق کی تلاش میں گزاری ہے تو پھر اس کی خاطر کچھ تعلقات قربان کرنا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔
البتہ ایک چیز ضرور سیکھی کہ انسان جب اللہ کے لیے کچھ چھوڑتا ہے تو اللہ اسے اس سے کہیں بہتر عطا فرماتا ہے۔
قبولِ اسلام کے بعد میری ایک دعا بہت عرصے تک جاری رہی۔ میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی نیک اور صالح بیوی مانگتا تھا جو دنیا پرستی (Materialism) سے دور ہو اور دین کو زندگی کا مقصد سمجھے۔
چند برس بعد کمیونٹی کے کچھ مسلمانوں نے ایک خاتون سے میرا تعارف کرایا۔ جب وہ میرے گھر آئیں تو میں انہیں گھر دکھانے لگا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا:
"آپ کو مجھے یہ سب دکھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں دنیا کی محبت میں مبتلا انسان نہیں ہوں۔"
میں حیران رہ گیا۔
یہی الفاظ تو میں برسوں سے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے کہتا آیا تھا۔ اسی لمحے میرے دل میں یقین آ گیا کہ یہی وہ خاتون ہیں جنہیں اللہ نے میری دعا کے جواب میں میرے لیے منتخب کیا ہے۔
بعد میں ہماری شادی ہو گئی۔ اگرچہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، لیکن میں آج بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری دعا لفظ بہ لفظ قبول فرمائی۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی میری زندگی میں دو ایسے واقعات پیش آئے جنہیں میں آج اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت سمجھتا ہوں۔
پہلا واقعہ 1971ء کا ہے۔ میں اوہائیو (Ohio Turnpike) میں ہچ ہائیکنگ (Hitchhiking) کر رہا تھا۔ ایک اجنبی نے مجھے گاڑی میں بٹھایا۔ کافی دیر بعد جب میں اترنے لگا تو اس نے اچانک گاڑی تیز کر دی جبکہ میرا ہاتھ دروازے کے ہینڈل میں پھنسا ہوا تھا۔ گاڑی تقریباً پچھتر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔
اچانک میرا ہاتھ چھوٹ گیا اور میں سڑک پر جا گرا۔
اسی لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے نور کا ایک حصار میرے گرد قائم ہو گیا ہو اور کوئی کہہ رہا ہو:
"ابھی نہیں… ابھی نہیں…"
میں معمولی زخمی ہوا، لیکن میری ایک ہڈی بھی نہ ٹوٹی۔ آج مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی دن میری جان اس لیے بچائی تھی کہ ایک دن مجھے اسلام کی نعمت عطا کرنی تھی۔
دوسرا واقعہ فلوریڈا (Florida) میں پیش آیا۔ میں ایک بارہ منزلہ عمارت کی چھت پر معائنہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک سمندری پرندہ (Seagull) مجھ پر جھپٹا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا اور تقریباً عمارت سے نیچے گرنے ہی والا تھا۔
اسی لمحے مجھے اپنی پشت پر ایک مضبوط ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا، جس نے مجھے واپس عمارت کی طرف دھکیل دیا۔ میں آج بھی پورے یقین سے کہتا ہوں کہ وہاں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے گرنے سے بچا لیا۔
ان واقعات کو میں پہلے محض خوش قسمتی سمجھتا تھا، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ رب تعالیٰ برسوں پہلے سے میری حفاظت فرما رہا تھا۔
جب مجھ سے موجودہ اسرائیل اور صیہونیت (Zionism) کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو میں یہی کہتا ہوں کہ تمام یہودی ایک جیسے نہیں ہیں۔ بہت سے قدامت پسند مذہبی یہودی (Ultra-Orthodox Jews) خود صیہونیت کے مخالف ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی (Genocide) کو جائز سمجھتے ہیں۔
میری نظر میں اصل مسئلہ یہودیت نہیں بلکہ سیاسی صیہونیت ہے، جس کا خواب ایک وسیع تر اسرائیل (Greater Israel) کا قیام ہے۔ افسوس یہ ہے کہ طاقت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔
میرا ایمان ہے کہ ظلم ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی ہوتی ہے، لیکن حق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
اگر آج مجھے پوری دنیا سے صرف ایک منٹ گفتگو کرنے کا موقع ملے تو میں صرف اتنا کہوں گا:
"آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں، ایک لمحے کے لیے خاموش ہو کر اپنے دل سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ وہ کون ہے جو اس وقت آپ کے دل کو دھڑکا رہا ہے؟"
وہی ایک اللہ عبادت کے لائق ہے۔
اور حضرت محمد ﷺ اسی اللہ کے آخری رسول ہیں، جن کی بشارت پہلے انبیائے کرام اپنی کتابوں میں دے چکے تھے۔
میں لوگوں سے کہوں گا کہ میڈیا کے پروپیگنڈے سے ہٹ کر خود اسلام کا مطالعہ کریں۔ قرآن کو خود پڑھیں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو خود جانیں، کیونکہ سچائی دوسروں کی رائے سے نہیں بلکہ اپنی جستجو سے ملتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال حق کی تلاش میں گزار دئیے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس طویل سفر کا حاصل کیا ہے تو میرا جواب صرف ایک ہوگا:
"انسان کا دل اس وقت تک بے قرار رہتا ہے جب تک وہ اپنے خالق کو نہ پا لے اور جب وہ اللہ کو پا لیتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ برسوں کی مسافت طے کرنے کے بعد آخرکار اپنے حقیقی گھر واپس آ گیا ہے۔"
(اقتباس: روشنی کے مسافر ۔

Assalamu alaikum brothers and sisters, in today’s video we will loo...

15/07/2026

امام مالک بن دیناررحمہ اللہ دعاء کرتے تھے:
‏اے الله! نیک لوگوں کو بھی تو نے ہی نیک بنایا تھا بس ہماری بھی اصلاح کردے تاکہ ہم بھی نیک بن جائے۔

11/07/2026

*نوبل پرائز... وحی الٰہی کے سائے میں*...............................................
*قسط 10: ذروں کے مخفی جوڑے*
کیمبرج یونیورسٹی کا دالان تھا...سال 1928ء کی ایک سرد رات تھی...وہاں ایک چھبیس سالہ نوجوان بیٹھا تھا...وہ بہت دبلا پتلا تھا...وہ گھنٹوں تنہا بیٹھا رہتا تھا...لوگ اسے کھویا کھویا سمجھتے تھے...دنیا جنگ اور ظلم کی آگ میں جل رہی تھی...برطانیہ کی سیاست میں ہلچل تھی...مگر اس نوجوان کی زندگی بالکل الگ تھی۔
اس کی دلچسپی صرف ایک سوال میں تھی...ایک ایسا سوال جو پاگل کر دینے والا تھا..."کائنات کا یہ مادہ آخر اکیلا کیوں ہے؟"..."روشنی کے بطن سے جنم لینے والا ذرہ تنہا کیوں چلتا ہے؟"...اس نے کئی سال اندھیرے میں ریسرچ کی...ریاضی کی نامعلوم گہرائیوں میں غوطے لگائے...بالآخر اس نے کاغذ پر ایک لائن لکھی...اس ایک لائن نے فزکس کی دنیا کے ہوش اڑا دیے...اس نوجوان کا نام پال ڈیرک (Paul Dirac) تھا...اس انوکھی ریسرچ نے اسے نوبل پرائز دلا دیا...اسے سال 1933ء کا فزکس نوبل پرائز ملا۔
اس نے کائنات کا مخفی انجن ڈھونڈ نکالا تھا...سائنسدان اسے پیئر پروڈکشن (Pair Production)کہتے ہیں...اس نے بتایا کہ مادہ اکیلا نہیں ہے...ہم جس چیز کو دیکھتے اور چھوتے ہیں... کائنات میں اس کی ایک ضد موجود ہے... ضدِ مادہ ذرے کو اینیمیٹر(Antimatter) کہتے ہیں...کائنات کا یہ آخری قانون ہے...جب بھی مادہ بنتا ہے، وہ تنہا پیدا نہیں ہو سکتا...وہ جب بھی آئے گا، ہمیشہ جوڑے کی شکل میں آئے گا...اگر ایک الیکٹران جنم لے گا، تو ساتھ ہی پوزیٹران بھی بنے گا...یعنی تخلیق کا بنیادی ترین ذرہ بھی جوڑا ہے...کائنات کا ذرہ ذرہ... جوڑا جوڑا ہے۔
یہ جوڑا دراصل کائنات کا پاور ہاؤس ہے...جب یہ الٹ ذرے آپس میں ٹکراتے ہیں... تو خالص انرجی بنتی ہے...اگر یہ جوڑا نہ ہوتا تو کائنات ایک سیکنڈ نہ چلتی...نہ ستارے بنتے... نہ زمین پر زندگی ہوتی...سائنسدان آج حیران ہیں کہ یہ باریک انجن کس نے بنایا؟...گورے نے یہ حقیقت 1933ء میں مانی...اربوں ڈالر کی لیبارٹریاں بنائیں۔
مگر اب ذرا چودہ سو سال پیچھے چلیے!...عرب کے تپتے ریگزاروں کو دیکھیے!...وہاں نہ کوئی فزکس تھی... نہ کوئی لیبارٹری تھی...مگر وہاں ایک ڈنکا بج رہا تھا...وہ قرآن عظیم الشان کی عظمت کا ڈنکا تھا...۔سورۃ الذاریات کی آیت 49 پکار رہی تھی...[وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ] (اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں)...[لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ] (تاکہ تم نصیحت حاصل کرو)...ذرا اس جملے کی علمی گہرائی دیکھیے!...تب کا انسان کیا جانتا تھا...وہ صرف جانداروں کے جوڑے جانتا تھا...وہ پودوں کے نر اور مادہ سے واقف تھا...اگر یہ کتاب کسی انسان کی ہوتی...تو وہ ذکر صرف جانداروں تک رکھتا...مگر متکلم کون ہے؟...متکلم کائنات کا اصل خالق ہے...اس لیے فرمایا "کُلِّ شَيْءٍ"...یعنی کائنات کی ہر ہر چیز!...خواہ آسمان کا کوئی ستارہ ہو...خواہ زمین کا کوئی بے جان پتھر ہو...یا ایٹم کا وہ باریک ذرہ ہو...جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی...ہر چیز کا ایک جوڑا لازمی ہے...نوبل پرائز نے جو جوڑا 1933ء میں ڈھونڈا...قرآن عظیم الشان چودہ سو سال پہلے اس پر مہر لگا چکا تھا۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی...اب قرآن عظیم الشان کا اگلا شاہکار دیکھیے...سورہ یٰس کی آیت 36 سامنے رکھیے...خالق فرماتا ہے...[سُبْحَانَ الَّـذِىْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّـهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِـمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ] (وہ ذات پاک ہے... جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں کوجوڑوں کی شکل میں بنایا،...اور خود ان انسانوں میں سے بھی... اور ان چیزوں میں سے بھی جنہیں وہ نہیں جانتے)۔
ذرا اس آخری ٹکڑے پر غور کیجیے!..."اور وہ چیزیں جنہیں یہ جانتے تک نہیں!"...چودہ سو سال پہلے کے انسان کو کیا معلوم تھا؟...اسے کیا خبر تھی کہ ہسپتالوں کی مشینوں میں ایٹمی جوڑے نکلیں گے؟...انہیں کیا معلوم تھا کہ باریک دنیا میں بھی جوڑے ہوتے ہیں؟...مگر کلامِ الٰہی کی عظمت دیکھیے...قرآن عظیم الشان نے پہلے ہی پردہ اٹھا دیا تھا...غیب کا پردہ اٹھا دیا تھا...صاف بتا دیا تھا...ایسی چیزوں کے بھی جوڑے ہیں...جن کا علم انسان کے پاس تب موجود نہیں تھا...مگر مستقبل کی سائنس انہیں دریافت کر لے گی۔
عوام پوچھے گی ہم اسے روز کہاں دیکھتے ہیں؟...ہم اسے ہسپتالوں میں دیکھتے ہیں...کینسر کی مشین میں دیکھتے ہیں...مریض جب پیٹ (PET) اسکین کرواتا ہے...اسے ایک خاص انجکشن لگایا جاتا ہے...اس دوا سے باریک الٹ ذرے نکلتے ہیں...جسم کے اندر سے نکلتے ہیں...وہ الٹ ذرے کینسر کی رسولی کو پکڑتے ہیں...لاکھوں مریض روز یہ تماشا دیکھتے ہیں...ہسپتالوں میں دیکھتے ہیں...ان کے اپنے جسم کے اندر الٹ ذروں کا جوڑا کام کر رہا ہے...آج ہسپتال کی مشین نے یہ رزلٹ دکھا دیا...آج نوبل ریسرچ نے یہ کیس حل کر دیا...وہ کائنات کے مخفی جوڑے ہی تھے...جن سے پرانا انسان بالکل بے خبر تھا۔
اللہ اکبر!...عقل دنگ ہے...انسان دنگ ہے...سر سجدے میں ہے...یہ ہے قرآن عظیم الشان!...یہ ہے لازوال الہامی کتاب...اس کا ایک ایک لفظ چٹان کی طرح مضبوط ہے...دنیا کے نظریات بدل جاتے ہیں...سائنس کی تھیوریاں پٹ جاتی ہیں...انسان کی ریسرچ بوڑھی ہو جاتی ہے...مگر قرآن عظیم الشان کا مینوئل سچا تھا...چودہ سو سال پہلے بھی سچا تھا...یہ آج بھی سچا ہے...یہ قیامت تک کائنات کا سب سے بڑا سچ رہے گا...گورا لیبارٹری میں بوڑھا ہو گیا...مگر کلامِ الٰہی آج بھی جوان ہے...نوبل پرائز گواہ ہے کہ قرآنِ عظیم الشان سچا ہے...یہ صرف عقیدہ نہیں ہے...یہ کائنات کی حقیقت ہے...قرآن عظیم الشان ہی کائنات کا آخری سچ ہے۔.............................................

09/07/2026

*نوبل پرائز... وحی الٰہی کے سائے میں*...............................................
*قسط 8:کھال کا اعتراف*
ایک چمڑا تھا...جسم پر تنی ایک کھال!...انسان اسے دیکھتا تھا...وہ اسے صرف غلاف سمجھتا تھا...ایک سادہ سا پردہ!...ایک بے جان سا مادہ!...صدیوں تک یہی سوچ رہی...کہ درد دماغ محسوس کرتا ہے...کھال کا اس میں کوئی کام نہیں...انسان اصل سچ سے بے خبر تھا...وہ نہیں جانتا تھا...کہ اس چمڑے کے نیچے...تاروں کا ایک جال بچھایا گیا ہے...سگنل دینے والے خفیہ بٹن!...انسان اس نادیدہ نظام سے ناواقف تھا۔
لیکن پھر بیسویں صدی نے آنکھیں کھولیں...میڈیکل سائنس کی دنیا بدلی...خلیوں کے اندر جھانکا گیا...مغرب نے اس کھال کے نیچے...تاروں کا وہ جال ڈھونڈنا شروع کیا...اس محنت پر نوبل پرائزز کی برسات ہوئی!...تب سال 1944ء آیا...طب کا نوبل انعام دو سائنسدانوں کو ملا...جوزف ارلینگر (Joseph Erlanger)!...اور هربرٹ گاسر (Herbert Gasser)!...انہوں نے ثابت کیا کہ جلد سے دماغ تک...کرنٹ لے جانے والی تاریں الگ الگ ہیں!...درد کی تار بالکل الگ ہے!...چھونے کی تار بالکل الگ ہے!
پھر اس ریسرچ پر کام مزید آگے بڑھا...سائنسدان ان تاروں کے آخری سرے تک پہنچے...تب سال 2021ء کا وقت آیا...طب کا نوبل انعام پھر بانٹا گیا...دو اور امریکی سائنسدان سٹیج پر آئے...ڈیوڈ جولیئس (David Julius)!...اور آرڈیم پٹاپوشین (Ardem Patapoutian)!...انہوں نے خلیوں کی آخری گہرائی ناپی...انہوں نے دنیا کو چونکا دیا...انہوں نے وہ خاص ریسیپٹرز (Receptors) ڈھونڈ نکالے...جو کھال کے اندر فٹ ہیں!...باریک سنسرز کا ایک پورا نظام!...جب کوئی گرم چیز چھوتی ہے...یا کوئی سوئی چبھتی ہے...تو یہ سنسرز جاگ اٹھتے ہیں...یہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں...درد کا سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں!...سائنس نے مانا کہ اگر جلد جل جائے...تو درد کا یہ احساس ختم ہو جاتا ہے!...مغرب نے فخر سے تالیاں بجائیں...کہ جلد کے درد کا یہ مائیکروسکوپک سچ...صرف ہماری ماڈرن میڈیکل نے دریافت کیا ہے۔
اب ذرا ان تمام نوبل انعامات کو ایک لڑی میں پرو کر دیکھیے...مغرب نے کھال کے درد پر دو الگ الگ صدیوں میں اعزاز بانٹے...سال 1944ء آیا...جوزف ارلینگر اور ہربرٹ گاسر کو نوبل پرائز ملا...انہوں نے درد لے جانے والی اعصاب کی تاریں دریافت کیں!...پھر سال 2021ء آیا...ڈیوڈ جولیئس اور آرڈیم پٹاپوشین کو نوبل پرائز ملا...انہوں نے ان تاروں کے آگے لگے سنسرز دریافت کیے!...مغرب نے بے دریغ پیسہ بہایا...اسی سال تک اپنی نسلیں کھپائیں...تب جا کر وہ اس آخری سرحد تک پہنچے...جہاں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ درد کا اصل مرکز دماغ نہیں، بلکہ یہ کھال ہے!
یہ وہ مقام تھا جہاں دنیا مغرب کے سائنسی رعب میں آ گئی...لوگ اس سائنسی چکا چوند کے گرویدہ...ہر کوئی اسے اکیسویں صدی کا کمال سمجھا...لیکن اب سچ دیکھیے!...اصل حقیقت میں اتریے...تاریخ کے صفحات پلٹیے...چودہ سو سال پیچھے چلیے...عرب کا وہ تپتا صحرا...جہاں نہ کوئی نیورولوجی تھی...نہ کوئی مائیکروسکوپ تھا...وہاں رحمتِ مجسم، ہادیِ برحق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما تھے...ان پر کائنات کے خالق کا کلام نازل ہوا...قرآنِ عظیم الشان کی سورہ نساء کھولیے...آیت نمبر 56 دیکھیے...خالقِ کائنات منکرینِ حق کے عذاب کا ذکر کرتا ہے...وہ ایک ہی جملے میں ان تمام نوبل پرائزز کی ریسرچ سمیٹ کر فرماتا ہے:{كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ} (جب بھی ان کی جلدیں گل جائیں گی، ہم انہیں دوسری جلدوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا درد چکھتے رہیں)...سبحان اللہ!
دنیا اس وقت دنگ رہ گئی جب قرآنِ عظیم الشان کے ان الفاظ پر غور ہوا...قرآنِ عظیم الشان نے یہ نہیں کہا کہ ہم ان کا دماغ بدلیں گے...قرآنِ عظیم الشان نے کہا ہم ان کی "جلد" بدلیں گے!...کیوں؟...کیونکہ درد کا اصل سنسر...اس کھال کے اندر فٹ ہے!...جب کھال جل کر کوئلہ بن جائے گی...تو درد محسوس ہونا بند ہو جائے گا!...عذاب کا احساس برقرار رکھنے کے لیے...نئی جلد کا آنا لازمی ہے!...جس مائیکروسکوپک حقیقت کو کڑیاں جوڑ کر سمجھنے میں...مغرب کو اسی سال لگے...دو بار نوبل پرائز دینے پڑے...وہ ابدی سچ چودہ سو سال پہلے...ایک جملے میں لکھ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا تھا!...کیا یہ سب کچھ اتفاق ہو سکتا ہے؟...ہرگز نہیں!
میڈیکل سائنس کا غرور دیکھیے!...انسان جس خوردبینی سچ پر ناز کر رہا تھا...وہ تو صدیوں پہلے طے ہو چکا تھا...مغرب نے پانی کی طرح پیسہ بہا کر...جب حیاتیاتی خلیوں کا آخری پردہ ہٹایا...تو وہاں پہلے سے ایک الہامی مہر لگی ہوئی تھی...ان سائنسدانوں نے اپنے گلے میں نوبل میڈل تو سجا لیے...مگر کاش وہ جان سکتے!...ان کا یہ اسی سال کا سائنسی سفر اور درد کے یہ سنسرز...اجدادِ بشر کے خالق کے حضور ایک خاموش سجدہ کر رہے ہیں!....................................

08/07/2026

*نوبل پرائز... وحی الٰہی کے سائے میں*...............................................
*قسط 9: ایک ننھی مکھی*
وہ سال 1973 تھا...سائنس کی دنیا میں ایک بڑا ایکسپلوژن ہوا...آسٹریا کا ایک مایہ ناز سائنسدان تھا...نام تھا، کارل وان فریش (Karl von Frisch)...اس نے دنیا کے سامنے ایک عجیب ریسرچ رکھی...یہ اسٹڈی کس پر تھی؟...شہد کی مکھیوں پر۔
اس نے ایک حیرت انگیز فیکٹ ثابت کیا...مکھیوں کا ایک باقاعدہ کمیونیکیشن سسٹم ہوتا ہے...وہ آپس میں باتیں کرتی ہیں...وہ ایک دوسرے کو لوکیشن بتاتی ہیں...جب ایک مکھی کو شہد کا پتہ چلتا ہے...وہ چھتے میں واپس آتی ہے...وہ وہاں ناچنا شروع کرتی ہے...سائنسدانوں نے اسے ویگل ڈانس (Waggle Dance) کا نام دیا...وہ انگریزی کے آٹھ کے ہندسے کی طرح گھومتی ہے...اس ناچ میں ایک پورا کیلکولیشن ہوتا ہے...سورج کا اور ڈائریکشن کا حساب...رفتار سے ڈسٹنس کا پتہ چلتا ہے...زاویے سے سمت معلوم ہوتی ہے...باقی مکھیاں یہ پرفارمنس دیکھتی ہیں...اور وہ بغیر کسی میپ کے پھولوں تک پہنچ جاتی ہے۔
دنیا حیران رہ گئی...ایک ملی میٹر کے دماغ میں اتنی بڑی فزکس؟...اتنی پیچیدہ جیومیٹری؟...سائنس جھک گئی...کارل وان فریش (Karl von Frisch) کو اس اچیومنٹ پر نوبل پرائز دے دیا گیا...پوری دنیا نے تالیاں بجائیں...میڈیا نے ہیڈ لائنز لگائیں...انسان نے مکھی کا سیکرٹ پا لیا۔
لیکن ٹھہریے!...ہم چودہ سو سال پیچھے چلتے ہیں...عرب کا تپتا ہوا صحرا ہے...ایک کتاب نازل ہوتی ہے...نام ہے، قرآنِ عظیم الشان...اس کتاب میں ایک سورت ہے...سورہ النحل...النحل کا مطلب ہے، شہد کی مکھی...آیت نمبر 68 اور69 پڑھیے...اللہ تعالیٰ فرماتا ہے...[وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ] (اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں بات ڈال دی)...[أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا] (کہ پہاڑوں میں اپنے گھر بنا)...[وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ] ( اور درختوں پر اور ان جگہوں پر جو چھپر باندھتے ہیں لوگ)۔
پھر اگلا جملہ پڑھیے...وہ جملہ جو کائنات کی سب سے بڑی ریلیٹی ہے...اللہ نے فرمایا...[ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ] (پھر ہر قسم کے پھلوں سے خوراک حاصل کر)...[فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا] (اور اپنے رب کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چل)۔سبحان اللہ!
قرآن عظیم الشان نے چودہ سو سال پہلے لفظ استعمال کیا، "سبل ربک ذللا"...یعنی اپنے رب کے بتائے ہوئے وہ راستے جو اس کے لیے بالکل آسان اور مسخر کر دیے گئے...سائنس نے 1973 میں اس پر فائنل اسٹیمپ لگائی...کہ مکھی راستوں کا پورا نیویگیشن سسٹم دماغ میں لے کر اڑتی ہے...وہ سورج کی مدد سے راستہ ڈھونڈتی ہے...اور قرآن عظیم الشان نے چودہ سو سال پہلے یہ انفارمیشن دے دی تھی...کہ مکھی اپنے رب کے سکھائے راستوں پر چلتی ہے۔
سائنس نے بتایا... کہ شہد کی مکھیوں کی پوری سلطنت عورتوں یعنی مونث (Females) کے ہاتھ میں ہوتی ہے... چھتے کی سربراہ ملکہ مکھی (Queen Bee) ہوتی ہے... اور صبح سویرے چھتے سے باہر نکل کر... میلوں دور جا کر... پھولوں کا رس چوسنے والی... راستے ڈھونڈنے والی... اور شہد بنانے والی تمام کی تمام مکھیاں کارکن مکھیاں (Worker Bees) ہوتی ہیں... اور یہ سب کی سب مادہ یعنی مونث ہوتی ہیں...مذکر مکھیاں (Drones) پھولوں سے رس چوس ہی نہیں سکتیں... ان کا کام صرف چھتے میں بیٹھنا ہوتا ہے۔
اب ذرا دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے!... چودہ سو سال پہلے... جب دنیا کی کسی لیبارٹری کا وجود نہیں تھا... جب انسان مکھی کے دماغ کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا... اس دور میں قرآنِ عظیم الشان نے مکھی کو حکم دینے کے لیے مذکر کے الفاظ استعمال نہیں کیے... بلکہ واضح طور پر مونث کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے فرمایا... [ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا]... یعنی (اے مادہ مکھی!) تو ہر قسم کے پھلوں سے خوراک حاصل کر... اور اپنے رب کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چل !
قرآنِ عظیم الشان نے چودہ سو سال پہلے لفظ استعمال کیا، "سبل ربک ذللا"...یعنی اپنے رب کے بتائے ہوئے وہ راستے جو اس کے لیے بالکل آسان اور مسخر کر دیے گئے...سائنس نے 1973 میں اس پر فائنل اسٹیمپ لگائی...کہ مکھی راستوں کا پورا نیویگیشن سسٹم دماغ میں لے کر اڑتی ہے...وہ سورج کی مدد سے راستہ ڈھونڈتی ہے...اور قرآنِ عظیم الشان نے چودہ سو سال پہلے یہ انفارمیشن دے دی تھی...کہ مکھی اپنے رب کے سکھائے راستوں پر چلتی ہے۔
یہ ہے قرآنِ عظیم الشان کی ابدی عظمت...یہ ہے اس لاریب کتاب کا معجزہ...سائنس آج جہاں پہنچ کر تھک جاتی ہے...قرآنِ عظیم الشان کا سفر وہاں سے شروع ہوتا ہے...انسانی عقل صدیوں کی خاک چھان کر جس سچ تک پہنچتی ہے...وہ سچ قرآنِ عظیم الشان کے ایک ایک لفظ میں پہلے سے جگمگا رہا ہوتا ہے...گورے نے تو مائیکروسکوپ آج بنائی...لیبارٹریز آج قائم کیں...مگر چودہ سو سال پہلے امیّ نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والا ایک ایک لفظ کائنات کا حتمی سچ بن گیا...یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی...یہ صرف اور صرف کائنات کے مالک کا کلام ہے۔
جس ریسرچ پر گورا نوبل پرائز لے گیا...وہ ڈیٹا ہمارے پاس صدیوں سے موجود تھا...لیکن افسوس!...ہزار بار افسوس!...ہم نے قرآنِ عظیم الشان کی عظمت کو صرف طاقچوں کی زینت بنایا...ہم نے اسے صرف ثواب کے لیے پڑھا...ہم نے اس کے آفاقی پیغامات پر غور نہیں کیا...ہم نے کائنات کو مسخر کرنا چھوڑ دیا...ہم نے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو بھلا دیا...اور دنیا آج انھی سچائیوں کو دریافت کر کے نوبل پرائز اٹھا رہی ہے۔
یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا تازیانہ ہے...یہ ایک بہت بڑا سوچنے کا مقام ہے...کاش ہم جاگ جائیں...کاش ہم دوبارہ قرآنِ عظیم الشان کے سچے غواص بن جائیں۔

Address

Karachi
75000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الدین نصیحہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category