الدین نصیحہ

الدین نصیحہ

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from الدین نصیحہ, Education, Karachi.

10/06/2026

*مہنگائی کے اس دور میں...!!*
*سب سے سستی چیز؟*

امامِ مسجد، استادِ مدرسہ اور معلمِ قرآن کی مظلوم داستان:

تحریر: ابو عبیدہ
جامع مسجددارالتوحید، جامعۃ الأنور اسلام اباد

*تمہید...*
دنیا بدل رہی ہے، بازار بدل رہے ہیں، قیمتیں بدل رہی ہیں، مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی قیمت آج بھی وہی ہے جو برسوں پہلے تھی۔ آٹا، چاول، گھی، پٹرول، بجلی، گیس، کرایے، دوائیں، علاج، تعلیم، سفر، ہر چیز کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے، لیکن اگر کسی طبقے کی اجرت اور معاوضہ وقت کی رفتار کے ساتھ نہ بڑھ سکا تو وہ اکثر امامِ مسجد، مدرسے کا استاد اور قرآنِ کریم کا معلم ہے۔

یہ جملہ بظاہر طنز محسوس ہوتا ہے کہ:

"اتنی مہنگائی میں بھی تین چیزیں پرانی قیمت پر مل رہی ہیں: امامِ مسجد، مدرسے کا استاد اور قرآن کی تعلیم۔"
لیکن...
حقیقت میں یہ ایک تلخ سماجی حقیقت اور امت کے ایک اہم طبقے کی خاموش فریاد ہے۔

*محراب کا محافظ...!!*
فجر کی اذان سے لے کر عشاء کی نماز تک مسجد کا امام لوگوں کی دینی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ بچوں کو قرآن سکھاتا ہے، نکاح پڑھاتا ہے، جنازے پڑھاتا ہے، اختلافات میں صلح کراتا ہے، بیماری میں عیادت کرتا ہے، خوشی اور غمی میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اور امت کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے جوڑے رکھتا ہے۔
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس امام کے پیچھے سینکڑوں افراد نماز پڑھتے ہیں، اس کی اپنی معاشی مشکلات کا کسی کو احساس نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"
(سورۃ الزمر)
امامِ مسجد درحقیقت علمِ دین کا نمائندہ اور معاشرے کی روحانی زندگی کا نگہبان ہوتا ہے۔

*مدرسے کا استاد: معمارِ نسل...!!*
ہر قوم اپنے معماروں کو عزت دیتی ہے، لیکن امت کے اصل معمار وہ ہیں جو بچوں کے دلوں میں ایمان، تقویٰ، قرآن اور سنت کی محبت پیدا کرتے ہیں۔
مدرسے کا استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ کردار بناتا ہے، اخلاق سنوارتا ہے اور آنے والی نسلوں کی فکری حفاظت کرتا ہے۔
تاریخِ اسلام کا ہر عظیم عالم کسی نہ کسی استاد کی محنت کا نتیجہ تھا۔ اگر اساتذہ نہ ہوتے تو نہ محدثین پیدا ہوتے، نہ فقہاء، نہ مفسرین اور نہ ہی امت کا علمی سرمایہ وجود میں آتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔"
یہ قول اگرچہ سنداً ثابت نہیں، لیکن اس کا مفہوم اساتذہ کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔

*معلمِ قرآن: وارثِ انبیاء کی خدمت...!!*
قرآن سکھانے والا دراصل انبیاء علیہم السلام کے مشن کا امین ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
(صحیح بخاری)
سوچیے! جس شخص کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے "تم میں سب سے بہتر" کا اعلان فرمایا، اگر وہی معاشی تنگی اور ضرورتوں کی چکی میں پس رہا ہو تو یہ ہمارے اجتماعی رویوں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

*اسلاف کی روشن مثالیں...!!*
اسلامی تاریخ میں علماء اور معلمین کی قدر و منزلت کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔
عمر بن عبدالعزیز کے دور میں علماء اور معلمین کی کفالت کو ریاستی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کی خدمت کر سکیں۔
اسی طرح مسلمان حکمران مدارس، مساجد اور علمی مراکز کے لیے اوقاف قائم کرتے تھے، جن کی آمدنی سے اساتذہ اور ائمہ کی ضروریات پوری ہوتی تھیں۔

*ایک لمحۂ فکر...!!*
یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک مزدور، کاریگر یا ملازم کی تنخواہ بڑھانے کی بات ہو تو سب اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، لیکن امام، مؤذن، مدرس اور معلمِ قرآن کی بات آئے تو اکثر لوگ اسے "خدمتِ دین" کا نام دے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
یقیناً دین کی خدمت اخلاص سے ہوتی ہے، مگر اخلاص روٹی، علاج، بچوں کی تعلیم اور گھریلو ضروریات کا متبادل نہیں بن سکتا۔
شریعت نے بھی مزدور کی اجرت کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ»
"مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔"
(ابن ماجہ)
جب اسلام عام مزدور کے حق کی حفاظت کرتا ہے تو دین کی خدمت کرنے والوں کے حقوق کی حفاظت بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے۔
ہماری ذمہ داری
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مساجد آباد رہیں، مدارس علم کے چراغ روشن کرتے رہیں، اور قرآن کی تعلیم نسلوں تک منتقل ہوتی رہے، تو ہمیں ائمہ، اساتذہ اور معلمین کی عزت کے ساتھ ان کی معاشی ضروریات کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
یہ محض تنخواہ کا مسئلہ نہیں بلکہ دین کی خدمت کرنے والے طبقے کے وقار، اطمینان اور استحکام کا مسئلہ ہے۔

*آخری گزارش...!!*
آج جب مہنگائی نے ہر گھر کے بجٹ کو متاثر کر دیا ہے، تو ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو ہماری نمازوں کی امامت کرتے ہیں، ہمارے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں، اور دین کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔
بازاروں میں ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی، مگر *افسوس صد افسوس!*
محراب کے محافظ، علم کے معمار اور قرآن کے معلم آج بھی اکثر پرانی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔

*ابو عبیدہ کہتا ہے...!!*
جب مسجد کا امام اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فکر مند ہو، جب مدرسے کا استاد مہینے کے آخری دنوں میں قرض ڈھونڈ رہا ہو، اور جب قرآن کا معلم اپنی بنیادی ضروریات کے لیے دوسروں کا محتاج ہو، تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ اپنے محسنوں کو بھول رہا ہے۔
*میرے عزیزو!*
ہم نے محل بنانے والوں کی قدر کی، مگر دلوں کو آباد کرنے والوں کو فراموش کر دیا۔ ہم نے دنیا سکھانے والوں کو انعامات دیے، مگر آخرت کا راستہ دکھانے والوں کو محرومیوں کے حوالے کر دیا۔
*یاد رکھیے!*
اگر امام نہ ہو تو محراب ویران ہو جاتا ہے، اگر استاد نہ ہو تو مدارس سنسان ہو جاتے ہیں، اور اگر معلمِ قرآن نہ ہو تو نسلیں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔
*بھائیوں!*
دین کی خدمت کرنے والوں کو احسان نہیں، حق دیجیے۔ کیونکہ جو شخص آپ کے بچے کو قرآن سکھا رہا ہے، وہ دراصل آپ کی نسلوں کا ایمان بچا رہا ہے۔
*آئیے!*
ان ہاتھوں کو مضبوط کریں جو قرآن اٹھائے ہوئے ہیں، اور ان قدموں کا سہارا بنیں جو دین کی راہوں میں تھک چکے ہیں۔
*کیونکہ!*
قومیں اپنے علماء، ائمہ اور اساتذہ کی عزت سے زندہ رہتی ہیں، اور جب یہ طبقہ کمزور ہو جائے تو آنے والی نسلوں کے ایمان بھی کمزور ہونے لگتے ہیں۔
... *صدائےدل*....

10/06/2026

قال رسولُ اللهِ ﷺ لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ. (​صحيح الأدب المفرد، حدیث: 82)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کامل مؤمن نہیں ہے جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔

10/06/2026

آنجہانی امریکی صدر *"نکسن"* کا ایک مشیر تھا جس کا نام *رابرٹ کرین* تھا۔
-وہ پبلک لاء میں ڈاکٹریٹ رکھتے ہیں۔
-پھر بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی۔
-پھر وہ ہارورڈ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے صدر بنے۔
-صدر نکسن کے خارجہ امور کے مشیر اور امریکی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہے۔
-انہیں امریکہ کے بڑے سیاسی ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔
-اور امریکہ میں "مرکز برائے تہذیب و تجدید" کے بانی ہیں۔
وہ چھ زندہ زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔

*ایک دن امریکی صدر نکسن اسلام کے بارے میں پڑھنا چاہتے تھے، تو انہوں نے امریکی انٹیلیجنس کو حکم دیا کہ وہ اس موضوع پر تحقیق تیار کریں، اور انہوں نے واقعی ان کا حکم مانا، لیکن ان کی تحقیق کافی طویل تھی۔*
انہوں نے اپنے مشیر رابرٹ کرین سے کہا کہ تحقیق پڑھ کر اس کا خلاصہ پیش کریں۔
رابرٹ نے تحقیق پڑھی، اور پھر اس موضوع کو مزید سمجھنے کے لیے اسلامی سیمینارز اور لیکچرز میں شرکت کرنے لگے۔
*اور چند ہی دنوں میں رابرٹ کرین کے اسلام قبول کرنے کی خبر پورے امریکہ میں پھیل گئی!*

انہوں نے اپنا نام *فاروق عبدالحق* رکھ لیا۔
اسلام قبول کرنے کی وجہ کے بارے میں وہ کہتے ہیں: قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے، میں نے اسلام میں وہ تمام قوانین پائے جو میں نے پڑھے تھے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں 3 سال کی تعلیم کے دوران بھی میں نے ان کے قوانین میں لفظ *"انصاف"* ایک بار بھی نہیں پایا۔
لیکن یہ لفظ مجھے اسلام میں بار بار ملا۔

*انہوں نے 1981 میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام فاروق رکھا،* حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام پر، جو نبی کریم ﷺ کے بعد "امِ عدل" تھے۔

وہ کہتے ہیں:
ہم قانونی مکالمے میں تھے، اور ایک یہودی قانون کا پروفیسر بھی ہمارے ساتھ تھا۔ وہ بات کرنے لگا اور پھر اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرنے لگا۔ میں نے اسے خاموش کرانے کے لیے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں امریکی آئین میں قانونِ وراثت کتنا بڑا ہے؟
اس نے کہا: ہاں، آٹھ جلدوں سے زیادہ۔
میں نے کہا: اگر میں تمہارے سامنے قرآنِ مجید سے وراثت کا قانون صرف دس لائنوں میں پیش کروں، تو کیا تم مانو گے کہ اسلام سچا دین ہے؟
اس نے کہا: یہ ناممکن ہے۔
میں نے اسے قرآن کی وراثت کی آیات پیش کیں۔ وہ چند دن بعد میرے پاس آیا اور کہا: انسانی عقل تمام رشتہ داری کے تعلقات کو اس جامعیت کے ساتھ شمار نہیں کر سکتی کہ وہ کسی کو نہ بھولے، اور پھر اس عدل کے ساتھ وراثت تقسیم کرے کہ کسی پر ظلم نہ ہو۔ پھر وہ یہودی بھی مسلمان ہو گیا!
ڈاکٹر رابرٹ کرین یعنی *فاروق* ابھی زندہ ہیں، عمر 91 سال ہے۔

03/06/2026

* تصوف و سلوک کی حقیقت؛ ترکِ دنیا نہیں بلکہ اتباعِ سنت*

ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ جو شخص کسی گوشے میں بیٹھا ہر وقت اوراد و وظائف میں مشغول رہے، اسے صوفی، متقی اور ولی اللہ سمجھ لیا جاتا ہے اور جس کی زندگی؛ حقوق کی ادائیگی، معاملات کی صفائی، دیانت داری اور حسنِ معاشرت سے مزین ہو، اسے نیک سمجھنے میں بھی تردد کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر بازار میں تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ! (اے تاجروں کی جماعت)
لوگ آپ ﷺ کی بات سننے لگے اور انہوں نے آپ کی طرف اپنی گردنیں اور نگاہیں اونچی کرلیں، پھر آپ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللهَ وَ بَرَّ، ‏‏‏‏‏‏وَ صَدَقَ (ترمذی : 1210)
یعنی تاجر لوگ قیامت کے دن گنہگار اٹھائے جائیں گے سوائے اس کے جو اللہ سے ڈرے، نیک کام کرے اور سچ بولے۔ (مشکوة : 2799)
اس حدیث میں آپ ﷺ نے تین صفات بیان فرمائیں: ¹ تقویٰ، ² نیکی اور ³ سچائی، ان صفات سے متصف تاجر کو فاجروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا، گویا ایک تاجر بھی اللہ کا ولی، صوفی باصفا اور صاحبِ تقویٰ بندہ بن سکتا ہے۔
لیکن ہمارے معاشرے میں صوفی کا تصور عموماً یہ بن گیا ہے کہ وہ دنیا اور اہلِ دنیا سے کٹا ہوا ہو، ہر وقت خلوت میں بیٹھا رہے اور معاشی و معاشرتی ذمہ داریوں سے الگ ہوجائے، یہ تصور نہ قرآن و سنت کا ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔
اسی حقیقت کو ایک واقعہ مزید واضح کرتا ہے، تین صحابہ کرام (یعنی علی بن ابی طالب، عبد اللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھروں کی طرف آپ ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں آپ ﷺ کے معمولاتِ زندگی بتائے گئے تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا (فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا) تو وہ کہنے لگے کہ ہمارا رسول اللہ ﷺ سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کردی گئی ہیں، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں آج سے ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا، تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کروں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا گیا کہ :
أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.
یعنی کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ رب العالمین سے خشیت کرنے والا ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ تقوی والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں (رات میں) نماز بھی پڑھتا ہوں اور (رات میں) سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں (اس کے بعد آپ نے اصل حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی کہ یہ سب میرے طریقے ہیں یعنی عبادات، معاملات اور معاشرت کی انجام دہی کرنا اور) جس نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ (رواہ البخاری عن أنس بن مالك رضی اللہ عنه: 5063)
یہاں رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ حقیقی دینداری اور حقیقی تصوف؛ رہبانیت اور ترکِ دنیا کا نام نہیں ہے، بلکہ اعتدال کے ساتھ مکمل اتباعِ سنت کا نام ہے، عبادت کا بھی اہتمام ہو، معاملات بھی درست ہوں، معاشرت بھی عمدہ ہو اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہو، گویا صرف خَلوت ہی خلوت نہیں ہے، بلکہ جَلوت بھی ہے !
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ تصوف کی حقیقت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:
"تصوف کی ابتداء "إنَّما الأعمالُ بالنِّيّاتِ" (البخاری : 01) سے ہوتی ہے اور انتہاء "أنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأنَّكَ تَراهُ، فإنْ لَمْ تَكُنْ تَراهُ فإنَّه يَراكَ" (البخاری : 50) پر ہوتی ہے۔"
یعنی عمل کی ابتداء "اخلاصِ نیت" سے ہو اور پورے عمل میں "اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حضوری کا استحضار" رہے، یہی کیفیت نماز میں مطلوب ہے، ذکر میں بھی، روزے میں بھی، حج و زکوٰۃ میں بھی، تجارت و ملازمت میں بھی، نکاح و طلاق میں بھی اور زندگی کے تمام معاملات میں بھی۔
حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب دامت برکاتہم ایک موقع پر نہایت درد کے ساتھ فرمانے لگے کہ "غیروں نے ہمارے ہاں دینداری کا ایسا تصور بنادیا ہے کہ آدمی دنیا سے کٹ جائے، زندگی کے میدان سے نکل جائے اور گوشہ نشین ہوجائے تو اسے بڑا صوفی اور اللہ والا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سب سے بڑے اللہ والے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے، وہ "رُهبانٌ باللَّيل ، فُرسانٌ بالنهار" تھے (ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين، ص 110 الشاملة)
ایک جگہ یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں :
"رُهبانٌ باليل، لُيُوثٌ بالنهار" (حسن التنبه لما ورد في التشبه - ص 461، الشاملة)
"یعنی رات کو عبادت گزاروں کی طرح ہوتے اور دن کو شہسواروں اور شیروں کی مانند ہوتے تھے" ... یعنی راتوں کو عبادت کرتے تھے، (یہ خلوت ہے) دن میں تجارت بھی کرتے تھے، غزوہ و خدمات دینیہ بھی انجام دیتے تھے، خاندان کے حقوق بھی ادا کرتے تھے، معاشرے کی خدمت بھی کرتے تھے اور اخلاق و معاملات کا بہترین نمونہ بھی تھے (یہ جلوت ہے)
حقیقت یہ ہے کہ تصوف و سلوک؛ اخلاص، تقویٰ، احسان، صفائی معاملات، حسن معاشرت، صفائیِ باطن اور اتباعِ سنت کا مجموعہ ہے۔
اگر یہ حقیقت سمجھ میں آجائے تو دین کا ایک بڑا حصہ سمجھ میں آجاتا ہے، وہ عینک بھی اتر جاتی ہے جس کے ذریعے ہم صرف مخصوص ظاہری شکلوں کو دینداری اور ولایت کا معیار سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ اللہ کے مقبول بندے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے رب کی بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔
اصل صوفی وہ ہے جو سنت کا سچا متبع، حقوق کا ادا کرنے والا، معاملات میں دیانت دار، اخلاق میں پاکیزہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو، یہی تصوف ہے، یہی سلوک ہے اور یہی ولایت کا راستہ ہے۔

30/05/2026

قال رسولُ اللهِ ﷺ ما كَرِهْتَ أَن يَراهُ النّاسُ مِنكَ، فَلا تَفْعَلْهُ بِنَفْسِكَ إِذا خَلَوْتَ. (صحيح الجامع: 5659)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہیں کرتے ہوئے دیکھیں، تو اسے اس وقت بھی نہ کرو جب تم تنہا ہو۔

28/05/2026

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ. (​صحيح مسلم، حدیث: 2019)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔

21/05/2026

*سیرت النبی ﷺ اور مزدوروں کے حقوق*


بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور مزدوروں کے حقوق‘‘ اس حوالے سے دو تین اصولی باتیں عرض کروں گا۔

پہلی بات یہ کہ مزدور کسے کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں اشیا اور صلاحیتوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہمارا نظام چلتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، کوئی ضرورت کوئی بندہ پوری کرتا ہے، دوسری ضرورت کوئی اور پوری کرتا ہے۔ ایک آدمی کہے کہ میں گھر بھی خود بنا لوں گا، غلہ بھی خود اگا لوں گا، دروازے بھی خود بنا لوں گا، زمین سے پانی بھی خود نکال لوں گا، جانور بھی خود چرا لوں گا، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ ایک آدھ کام خود کرے گا اور باقی کاموں میں دوسروں کی خدمت لے گا۔ انسان کی فطرت ہے کہ کسی کام میں، جو یہ جانتا ہے، دوسروں کا تعاون کرے گا اور دوسروں سے اپنے کاموں میں تعاون حاصل کرے گا۔ مثلاً ایک آدمی بکریاں چراتا ہے تو بکریاں چرانے کے کام میں تعاون کرے گا اور باقی کاموں میں تعاون لے گا۔ کسی سے غلہ لے گا، کسی سے کپڑے لے گا وغیرہ۔ تبادلہ اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر ہمارا سارا نظام چلتا ہے۔ اگر سارے لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں کہ ہم اپنا اپنا کام کریں تو کتنے دن تک گزارا کر لیں گے، چوبیس گھنٹے بھی اس کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا کہ ہمارا سارا نظام اس پر ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ تبادلے اور تعاون کی دو صورتیں ہیں:
ایک ہے چیزوں کا تبادلہ، مثلاً دودھ دے دیا، غلہ لے لیا۔ پرانے زمانے میں دکانداری زیادہ تر گندم اور مونجی پر چلتی تھی کہ دکان پر مونجی دے آئے اور دال لے آئے، باجرہ دے آئے اور مولیاں لے آئے، گندم دے آئے اور گڑ لے آئے۔ اب بھی دور دراز دیہات میں یہ چلتا ہے۔ کوئی چیز دے کر دوسری چیز لینے کو تجارت کہتے ہیں، اسی طرح پیسے دے کر چیز لینا بھی تجارت ہے کیونکہ پیسے بھی کسی چیز کے نمائندے ہیں۔
دوسری صورت یہ کہ اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے اور میرے پاس اس کے عوض دینے کے لیے کوئی چیز یا پیسے نہیں ہیں تو میں کوئی خدمت و محنت کروں گا اور اس کے عوض میں وہ چیز لوں گا۔ یہ ہے مزدوری، جیسے گندم کی کٹائی کرتے ہیں اور معاوضہ میں گندم لیتے ہیں۔ اجرت پر کام کرنا مزدوری ہے اور ساری دنیا کا دارومدار اس پر ہے۔
دوسری بات یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سارے پیغمبر اپنے اپنے دور میں مزدور رہے ہیں۔ یہ حقیر پیشہ نہیں ہے، انبیاء کا پیشہ ہے۔ فرمایا، ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، کوئی پیغمبر ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ موسٰی علیہ السلام نے دس سال حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرائیں اور پھر وہاں سے رشتہ بھی مل گیا تھا۔ انہوں نے جو آٹھ یا دس سال خدمت کی اور بکریاں چرائیں، یہ مزدوری تھی۔ اس کا مطلب یہ کہ ہر پیغمبر نے مزدوری کی۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ بکریاں چرانا بہت مشکل کام ہے اور بندوں کو چلانا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ بھیڑیں چرانا آسان ہے کہ ایک بھیڑ کو جدھر لے جائیں باقی ساری اس کے پیچھے ہی آئیں گی، جبکہ بکریاں چر رہی ہوں تو ہر بکری علیحدہ رخ پر ہو گی۔ بیس بکریاں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے اور سو بھیڑیں سنبھالنا آسان ہے۔ اللہ تعالٰی پیغمبروں کو پہلے بکریوں کی ٹریننگ کراتے ہیں تاکہ بندوں کو صحیح سنبھال سکیں کیونکہ بندوں کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جب آپؐ نے یہ فرمایا کہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں تو ایک صحابی نے عرض کیا ’’وانت یارسول اللہ؟‘‘ یا رسول اللہ! آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں میں کئی سال مکہ میں فلاں قبیلے کے بکریاں چند پیسوں کے عوض چراتا رہا ہوں۔ گویا فرمایا یہ کوئی حقارت والا کام نہیں ہے، عزت والا کام ہے۔
حضورؐ نے پیغمبروں کا سردار ہو کر مزدوری کی اور حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ ہو کر مزدوری کرتے رہے ہیں۔ وہ زرہیں بناتے تھے اور زرہوں کی کمائی پر گھر کا خرچہ چلتا تھا، شاہی خزانے سے لینا ان کا حق تھا لیکن وہ اس سے نہیں لیتے تھے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ہم نے بطور خاص ان کو ایک ہنر سکھایا تھا ’’علمنٰہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم‘‘ ہم نے داؤدؑ کو زرہیں بنانا سکھایا تھا۔ زرہیں بنا کر بیچتے تھے اور گھر کا خرچہ چلاتے تھے۔ یعنی بنی اسرائیل کے بڑے خلیفہ حضرت داؤدؑ مزدوری کرتے رہے، جبکہ مسلمانوں کے بڑے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ جب خلیفہ بنے تو دوسرے دن کپڑوں کی گٹھری سر پر اٹھائی اور بیچنے بازار چل دیے۔ آپؓ پھیری لگایا کرتے تھے، کپڑا بنتے بھی تھے اور بیچتے بھی تھے۔ راستے میں حضرت عمرؓ ملے۔ پوچھا، حضرت! کدھر جا رہے ہیں؟ فرمایا کام پر جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا، آپ کام پر جائیں گے تو پیچھے مقدمے کون سنے گا؟ کسی ملک کا سفیر آجائے تو وہ کس سے ملے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا، اگر میں کام نہ کروں گا تو شام کو بچوں کو کیا کھلاؤں گا؟ حضرت عمرؓ نے کہا، میں اس کا حل نکالتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے بڑے بڑے صحابہؓ کو اکٹھا کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ اگر خلیفۃ المسلمین محنت و مزدوری کا کام کریں گے تو حکومت کے کام کون کرے گا اور اگر آپؓ حکومتی کاموں کے لیے یہاں بیٹھ جاتے ہیں تو وہ شام کو کھانا کہاں سے کھائیں گے؟ اس کا کوئی بندوبست ہونا چاہیے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت علیؓ نے مشورہ دیا کہ یہ جب ہمارا کام کریں گے، امت کا کام کریں گے، تو ہم امت کے خزانے بیت المال میں سے انہیں تنخواہ دے دیا کریں گے۔ اس کو ملازمت کہتے ہیں، اس سے حکمران کی تنخواہ طے ہو گئی۔

انبیاء بھی مزدوری کرتے رہے ہیں، خلفاء بھی مزدوری کرتے رہے ہیں اور ہندوستان کے مغل بادشاہوں میں بڑے بادشاہ اورنگزیب گزرے ہیں، پچاس سال انہوں نے حکومت کی ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، افغانستان، اور چین کا مغربی حصہ ان کے زیرنگیں تھا اور موبائل فون کے بغیر اس سارے علاقے پر اورنگزیب نے حکومت کی ہے کہ جہاں اطلاع ملے وہاں خود جانا پڑتا تھا۔ اگرچہ شاہی خزانہ تھا، مغلوں کے پاس بہت بڑی دولت تھی، لیکن اورنگزیب خود دو کام کرتے تھے، ایک قرآن پاک لکھتے تھے اور اس کا معاوضہ لیتے تھے۔ میں نے اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا نسخہ لندن کے میوزیم میں دیکھا ہے، بڑا خوبصورت لکھتے تھے۔ اور دوسرا کام یہ کرتے کہ ٹوپیاں بناتے تھے اور بیچتے تھے۔ میں نے یہ بتایا کہ مزدوری کوئی حقارت کا کام نہیں ہے، یہ نبیوں، بادشاہوں اور خلفاء کا کام ہے۔

تیسری بات یہ کہ مزدور کا حق کیا ہے؟ مزدور کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ جو کچھ طے کیا ہے اس کو بروقت دیا جائے۔ بلاوجہ ٹال مٹول کرنا اس پر ظلم ہے، جبکہ پیسے لے کر کام پورا نہ کرنا یہ اُس کی طرف سے ظلم ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے ’’اعطوا الاجیر اجرہ قبل ان یجف عرقہ‘‘ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو، اس کو پھیرے نہ لگواؤ۔
چوتھی بات یہ کہ آپؐ نے ہدایت دی کہ مزدور سے کام لو لیکن اس پر سختی، ظلم اور زیادتی نہ کرو۔ اس زمانے میں مزدور زیادہ تر غلام ہوتے تھے۔ جبکہ مزدور بھی ماتحت سمجھے جاتے ہیں ’’تحت ایدیکم‘‘۔ حضرت ابومسعود انصاریؓ کہتے ہیں، ایک دفعہ میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی کہ کچھ دیر وہ بے پرواہ ہو گئی، اس کی بے پرواہی سے بھیڑیا آیا اور ایک بکری لے گیا۔ میں دیکھ رہا تھا، میں لونڈی کے پاس گیا اور غصے میں اسے زور سے تھپڑ مارا اور کہا بے پرواہ بیٹھی ہوئی ہو، بھیڑیا بکری لے گیا ہے۔ جب زور سے تھپڑ مارا تو پیچھے سے آواز آئی، ابو مسعود! اس کو تھپڑ مارنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم سے طاقتور بھی کوئی ہے جو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ کہنے والے رسول اللہؐ تھے۔ نیچے والے پر ظلم کرتے ہوئے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میرے اوپر بھی کوئی ہے۔ ذرا غور کریں کہ انہوں نے تھپڑ کس کو مارا تھا؟ نوکرانی کو اور بے قصور بھی نہیں مارا بلکہ غلطی کرنے پر مارا تھا، پھر بھی حضورؐ ناراض ہوئے کہ کیوں مارا ہے۔ حضورؐ نے جب ڈانٹا تو ابومسعودؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی اس غلطی کے کفارے میں اس لونڈی کو آزاد کیا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا، اگر تم اس کو آزاد نہ کرتے تو ’’للفحتک النار‘‘ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس تھپڑ کا صلہ یہی تھا کہ تم اسے آزاد کر دو۔ ایک تھپڑ جو کہ جرم کرنے پر مارا، اس پر یہ وعید فرمائی، ہمارے ہاں ماتحتوں کے ساتھ نہ معلوم کیا کیا ہوتا ہے۔
حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ جیسے کپڑے خود پہنتے تھے ویسے ہی نوکروں کو پہناتے تھے۔ ایک دن ایک آدمی نے حضرت ابوذر غفاریؓ سے کہا آپ نے جو اتنا قیمتی لباس پہنا ہوا ہے ویسا ہی اپنے غلام اور نوکر کو پہنا رکھا ہے، اس کو کوئی ہلکی پھلکی چادر کافی تھی۔ فرمایا، نہیں بھئی! میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ تمہارے ماتحت ہیں ’’اطعموھم مما تطعمون والبسوھم مما تلبسون‘‘ جو خود کھاتے ہو ان کو بھی وہی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو بھی وہی پہناؤ اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر کام نہ ڈالو، جتنا کر سکتے ہیں ان سے اتنا کام لو، اور اگر زیادہ کام اس کے ذمہ لگا دیا ہے اور تمہیں اندازہ ہے کہ یہ اکیلے نہیں کر سکے گا تو ’’اعینوھم‘‘ اس کے ساتھ مل کر کام کرو۔

یہ میں نے چند اصول بتائے ہیں جن کا خلاصہ یہ کہ مزدوری انبیاء کا کام ہے، کوئی حقیر پیشہ نہیں ہے، عزت والا پیشہ ہے۔ مزدور کے ساتھ جو کچھ طے ہو اس کو ٹال مٹول کیے بغیر دیا جائے، ان پر ظلم نہ کیا جائے، ان کو کھانے، پینے، پہننے میں شریک کیا جائے، اور اگر کام ان کی صلاحیت سے زیادہ ہو تو ان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے ،کام میں ان کی معاونت کی جائے

10/05/2026

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللّٰه مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ. (صحیح مسلم، حدیث 1563)

​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات عطا فرمائے، تو اسے چاہیے کہ وہ (اپنے) کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔

05/05/2026

قال رسول الله ﷺ دِينارٌ أَنْفَقْتَهُ في سَبيلِ اللهِ، وَدِينارٌ أَنْفَقْتَهُ في رَقَبَةٍ، وَدِينارٌ تَصَدَّقْتَ به على مِسْكِينٍ، وَدِينارٌ أَنْفَقْتَهُ على أَهْلِكَ؛ أَعْظَمُها أَجْرًا الذي أَنْفَقْتَهُ على أَهْلِكَ.​ (صحیح مسلم: 995)

​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ​ایک دینار وہ ہے جو تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی گردن (غلام) کو آزاد کرانے میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جو تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا؛ ان سب میں سے ثواب کے لحاظ سے وہ دینار سب سے بڑا ہے جو تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا۔

02/05/2026

.♻️‫ پہلے *ماں کی نظریں* بتا دیتی تھی کہ *غلطی* کر رہے ہیں اور *سزا* ملے گی پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *ماں موم (Mom)* بن گئیں اتنی موم ہو گئی کہ *اچھے برے کا فرق بتانے کے لیے سختی کرنا بھول گئیں*۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے شام ہوتے ہی *ابو* کے آنے کا *انتظار* ہوتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی اور ابو *ڈیڈ(Dad*) بن گے اور *جنریشن گیپ* کے نام پہ یہ رشتہ ہی ڈیڈ(Dead) ہو گیا۔۔۔!!!‬

‫پہلے *پھوپھو* کے آنے پہ *بہترین بستر, بہترین برتن* نکالے جاتے تھے بتایا جاتا تھا یہ *ابو کی بہن* ہیں تو یہ گھر ان کا بھی ہے پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور پتہ چلا *پھوپھو فساد اور فتنہ ہے*۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے *تعلیم* حاصل کی جاتی تھی جو عموماً نظر آتی تھی پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *ڈگریاں* لینے لگے پر *تعلیم کہیں گم ہو گئی*۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے *محلہ* کے لوگوں میں *آنا جانا* تھا روز حثیت کے مطابق *کھانا, پھل* ایک دوسرے کو دیئے جاتے تھے پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور پڑوسی *بھوک سے خودکشی* کرنے لگے *بچے بیچنے لگے*۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے *عید اور دیگر تہوار ماں باپ اور خاندان* میں گزرتے تھے پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور عید تہوار *دوستوں, بازاروں* میں گزارنے لگے۔۔۔!!!‬

♻️‫ *پہلے شادی بیاہ کے معاملات خاندان کے بڑے طے کرتے تھے* پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *پسند کی شادی* کے لئے گھر سے بھاگنے لگے۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے *شادی شدہ بیٹی* کو *صبر اور خدمت* کی تلقین کی جاتی تھی پھر‬ ‫ہم نے ترقی کر لی اور *برانڈڈ سوٹ اور سمارٹ فون* افورڈ نہ کرنے والے *شوہر سے علیحدگی* ہو سکتی ہے۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے *شوہر سے جھگڑا کرنے والی بیوی* رات کو شوہر کی واپسی تک *جھگڑا* بھول چکی ہوتی تھی پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی خبریں واٹسیپ گروپوں* میں شیئر ہونے لگی اور *جھگڑے طول پکڑتےگئے*۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے شادی سے پہلے *منگیتر* سے ملنا غلط تھا پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *انڈرسٹینڈنگ* کے لیے بات ہونے لگی۔۔۔!!!‬

♻️‫ پہلے گھر میں بھی *پردہ* کرنا *سکھایا* جاتا تھا پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور سب *کزنز* ہو گئے ....!!!‬

♻️‫ پہلےپردے کے لیے *چادریں اور برقعے* ہوتے تھے پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور *پردہ نظروں میں آگیا* ۔۔۔!!!‬

♻️ ‫پہلے *بزرگ * گھر کی *رونق* ہوتے تھے پھر ہم نے *ترقی* کر لی اور وہ *بوجھ* بن گئے۔۔۔!!!!‬

♻️‫ *اور پھر ہوا یوں کہ ہم نے ترقی کر لی*۔۔۔!!!‬

❣️‫ *اپنا اور اپنے اردگرد لوگوں کا خیال رکھیں جزاک اللّہ خیر کثیرا‬*

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi
75000