کچھ چیزیں اپنے آپ کواوربچوں کوسمجھائیں کہ اگرکسی نے آپ کوچھوڑدیا،زندگی سے نکال دیا،ملازمت سے برخواست کردیا،اسکول کالج سے جواب دیدیا توزندگی ختم نہیں ہوجاتی،راستے بند نہیں ہوجاتے،اس دنیاکواللہ نے بہت بڑابنایاہے،اپنی سوچ کوبڑاکریں،اپنے خ*ل سے باہرنکلیں،بہت سے راستے نظرآئیں گے اورپہلے سے بڑے راستہ ہوں گے،بس آپ نے اللہ پریقین اورکوشش جاری رکھنی ہے۔
Mufti Muhammad Awais
Teaching Islamic Jurisprudence , Karachi. Spreading the knowledge of Islam via social media. Answering to your questions.
حکومت کے ظالمانہ ٹیکسز،بجلی کی غیرمعمولی قیمت میں اضافہ اورغیرقانونی کنکشن کی بھرمارنے بجلی کے ریگرلربلز اداکرنے والوں کومشکل میں ڈال دیاہے،جہاں ریاست ظالم نظرآتی ہے تودوسری طرف غیرقانونی کنکشنز لگانے والے بھی کم ظالم نہیں،ان کی قیمت بھی قانونی صارفین کواداکرنی پڑتی ہے،اللہ ہم سب کوہدایت نصیب کرے۔امین
شیردل خاتون ام عمارہ رضی اللہ عنہا
اسلام کی آغوش میں ایسی شیردل اوربہادرخواتین نے جنم لیاہے،جن کے کارناموں کودن رات کی گردش نہیں مٹاسکتی اورجن کی بہادری کے واقعات کوتاریخ کبھی نہیں بھلاسکتی،ایسی خواتین جن کے سینوں میں پتھروں سے زیادہ مضبوط دل اورایمان تھا،ان کے دلوں میں ایساصبراوراستقامت کہ بڑی بڑی مصیبتوں کے پہاڑان کے صبرکے سامنےپاش پاش ہوجاتے تھے،ان شیردل خواتین میں سے ایک ام عمارہ رضی اللہ عنہابھی تھیں،جن کے بہادری کے قصے اسلامی تاریخ کے روشن باب ہیں،جن کوجب بھی پڑھتاہوں توایمان تازہ ہوجاتاہے،یہ جنگ احدہے،ام عمارہ رضی اللہ عنہااپنے شوہرحضرت عاصم اوراپنے دوبیٹوں حضرت عمارہ اورعبداللہ کےساتھ جنگ کے لئے موجود ہیں،جنگ نازک موڑ میں داخل ہوجاتی ہے،کچھ لمحات کے لئے اسلامی لشکرمیں افراتفری پھیل جاتی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چندصحابہ کرام رہ جاتے ہیں،عرب کے ایک مشہورشہ سوار ابن قمئہ کورسول اللہ پرحملہ کرنے کاموقع مل جاتاہے،یہ بدبخت حضورکی طرف لپکتاہے اورتلوارکاسخت وارکرتاہے،ام عمارہ تیزی کے ساتھ حرکت میں آتی ہے،وارکے رسول اللہ کے جسم تک پہنچنے سے پہلے اپنے کندھے کوحضورکے قریب کردیتی ہے،تلوارکاوارحضورصلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکااورام عمارہ کے کمرپربہت سخت قسم کازخم آتاہے،خون کافوارہ ابلنے لگتاہے،لیکن ان کواپنے جسم کی فکر نہیں،حضورکی فکرہے،ہمت کرکے اٹھتی ہیں،اس بدبخت پرشیرکی طرح حملہ کرتی ہے،روایات میں آتاہے کہ اتناتیزاورسخت جوابی وارکیاکہ ابن قمئہ اگردوزرہیں پہنیں نہیں رکھتا تودوٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا،جنگ عروج پرپہنچ جاتی ہے،ام عمارہ کاایک بیٹازخمی ہوجاتاہے،ام عمارہ کومعلوم ہوتاہےکہ خون بندنہیں ہورہا،فورااپناڈوپٹہ پھاڑکرزخم کوبھردیا اورکہابیٹے اس زخم سے پریشان نہ ہونا،یہ زخم ہمارے کام کاہے،اللہ کے سامنے پیش کرنے کاہے،اٹھواوراللہ کے راستہ میں قتال کرو،حضورکی زندگی خطرہ میں ہے،ہماری ذمہ داری میں اضافہ ہوچکاہے،ابھی کچھ دیرہی گزری تھی کہ وہی کافرجس نے آپ کے بیٹے کوزخمی کیاتھا سامنے آگیا،حضورنے فرمایا:ام عمارہ وہ رہاتمہارے بیٹے کوزخمی کرنےوالا،یہ کہنے کی دیرتھی کہ ام عمارہ کی تلوارحرکت میں آچکی ،اس کافرکے سنبھلنے سے پہلے ام عمارہ نے اس کی ٹانگوں پراتنازبردست قسم کاوارکیاکہ وہ پاؤں سے محروم ہوگیااورسرین کے بل بھاگنے کی کوشش کرنے لگا،حضور یہ منظردیکھ کرمسکرائے فرمایا:اللہ نے کیسی ام عمارہ کوجرات اورہمت دی ہے،یہی ام عمارہ ہیں جب ان کے بیٹے سے مسیلمہ کذاب نے کہاکہ کیاآپ گواہی دیتے ہیں کہ محمداللہ کے رسول ہیں ؟انہوں نے کہابالکل گواہی دیتاہوں،پھرکہنے لگاکیاگواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کے رسول ہوں؟انہوں نے فرمایا:میں بہرہ ہوں مجھے سنائی نہیں دیتا،اس نے ایک ہاٹھ کاٹ دیا،پھرکہاگواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کارسول ہوں؟انہوں نے فرمایا:مجھے سنائی نہیں دے رہا،اس نے دوسراہاتھ بھی کاٹ دیا،اس طرح کرتے کرتے ان کوشہیدکردیا،جب ام عمارہ کواس دردناک واقعہ کی اطلاع ملی،کہنے لگی الحمد للہ،شکرہے آج میرادودھ حلال ہوگیا،اس دن کے لئے میں نے اپنے بیٹے کودودھ پلایاتھا،جنگ احد میں ان کوتیرہ زخم آئے تھے،حضور نے ان کے لئے دعافرمائی تھی،وہ لوگوں کوکہتی تھی ،اس دعاکے بعد مجھے کسی چیزکی فکرنہیں،اللہ تعالی ان کی قبرکورحمتوں سے بھردے،اورہماری ماؤں بہنوں کوایساایمان اورجرات عطافرمائے۔امین۔۔۔۔مفتی اویس
الوداع پیارے دوست
وہ میرے ان بہت قریبی دوستوں میں سے تھا، جن سے ہربات کہی جاسکتی ہے،جن کاظاہراورباطن ایک جیساہوتاہے،جودل سے آپ سے محبت کرتے ہیں اورآنکھیں بندکرکے آپ پراعتمادکرتے ہیں،جومشکل میں آپ کے ساتھ ہوتے ہیں،جن سے گھنٹوں بات کی جاسکتی ہے،اللہ نے اس کوبہت ساری صلاحیتوں اورخوبیوں سے نوازاتھا،اس نے اپنے آپ کواللہ کے لئے وقف کردیاتھا،جس کے ساتھ بیٹھ کراللہ یاد آتاتھا،کئی گھنٹے ہم بیٹھ کر آخرت کی باتیں کرتے تھے،جب رات ہوتی تھی تووہ کانپنے لگتاتھا،تمام کام چھوڑکرکہتاتھا بس اللہ کاوقت ہوگیا ہے،قبر کی تیاری کاوقت ہوگیاہے،پھررات ہوتی تھی اوراللہ کے سامنے رونادھوناشروع ہوجاتاتھا،گھنٹوں سجدہ میں پڑے رہتاتھا،آنکھوں سے اتنے آنسونکلتے تھے کہ پوری جائے نمازگیلی ہوجاتی تھی،بہت لمبی لمبی دعائیں مانگتاتھا،اللہ کے علاوہ خوف اورڈر نام کی کوئی چیزاس میں نہیں تھی ،وہ جس علاقہ میں رہتاتھا سب دین کے دشمن تھے،وہ تن تنہاان سب کے درمیان اللہ کے صدائیں بلندکرتاہوادکھائی دیتاتھا،اس کوبہت زیادہ ڈرایاجاتا،جتناڈرایاجاتاوہ اپنے کام کومزیدبڑھادیتاتھا،وہ کہتاتھاان کومعلوم نہیں ہے جس چیزسے مجھے ڈراتے ہیں مجھےسب سے زیادہ وہ محبوب ہے،مجھے کہتاتھادعاکرو میں شہیدہوجاؤں،میں اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کردوں،مجھے یاد ہے جب وہ شدیدزخمی تھا،میں ملاقات کے لئے گیا،تکلیف کی شدت سے کراہ رہاتھا،آنکھیں بندتھی،گولیوں نے جسم کے اندرونی نظام کوبہت بری طرح متاثرکیاتھا،میں نے قریب جاکرسلام کیا،آنکھیں اس نے کھولی اورمسکرانے لگا،کہاشکرہے کہ آپ آگئے،مجھے یقین تھاکہ آپ آخری لمحات میں میرے ساتھ ہوگے،میں تکلیف میں ہوں لیکن میراضمیراوردل مطمئن ہے،کیونکہ میں نے ساری زندگی اللہ کے لئے لگائی ہے،،پھرکہنے لگا میراآخری وقت ہواچاہتاہے،بس چندلمحات میرے باقی ہیں، آپ سورۃ یاسین پڑھیں،میں نے شروع کی توکہنے لگاکہ وہ دیکھوسامنے سفیدلباس میں فرشتے آئے ہوئے ہیں،آپ کونظرآرہے ہیں،میں نے کہا:نہیں،کہنے لگاوہ دیکھوکتنی خوبصورت جگہ ہے،کتنی زبردست قسم کی خوشبوآرہی ہے،اللہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا،پھرکلمہ پڑھنے لگا،اپنی روح اللہ کے سپردکردی،واقعی میرے دوست آپ اللہ کے قریب تھے،مجھے پتہ تھاتوایک دن تو شہیدکردیاجائے گا،نیک لوگ زیادہ دن اس دنیامیں نہیں رہتے،یہ دنیااچھے لوگوں کی قدر نہیں کرتی،اللہ آپ سے راضی ہو۔۔۔۔۔۔مفتی ابوانس
تحریر:مفتی محمداویس
محبت کاویلینٹائن ڈے سے کوئی تعلق نہیں
14فروری کو محبت کے عنوان سے ایک دن منایاجاتاہے،جسے ویلینٹائن ڈے کہاجاتاہے، یہ محبت کے ساتھ ایک مذاق ہے،کیونکہ محبت توایک پاکیزہ انسانی جذبہ ہے،جس سے دوخاندان ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں،ایک مضبوط رشتے کے بندھن میں جڑتے ہیں،جس کی بنیاد صرف سچائی اورخلوص پرہوتی ہے،جس میں ہوس اورشیطانی خیالات کا دوردورتک کوئی تعلق نہیں ہوتا، جس میں ہرگزرتے دن اوروقت کے ساتھ اضافہ ہوتاہے،ایک دوسرے کے حقوق کواداکرنے کی کوشش ہوتی ہے،جس میں دلی سکون ہوتاہے،یہ صرف دوبندوں تک محدود نہیں ہوتا،اس سے خاندان،فیملی،سوسائٹی غرض ہرطبقہ کوفائدہ ہوتاہے،اس تعلق کی وجہ سے ایسامعاشرہ وجود میں آتاہے،جن کی آنکھوں میں حیا اوردل میں احترام کارشتہ ہوتاہے، جس میں ہمدردی ہوتی ہے،دوسرےکااحساس ہوتاہے،چھوٹے اوربڑے کی تمییزہوتی ہے،بات کرنے کاشائستہ طریقہ ہوتاہے،لیکن ہمارے معاشرہ میں محبت کے نام سے جودن منایاجاتاہے اس میں ہوس ہوتی ہے،نفسانی اورشیطانی جذبات کی تکمیل ہوتی ہے،حیاکاجنازہ ہوتاہے،بدکاری کوفروغ ملتاہے،نکاح جیسے مقدس رشتہ کی پامالی ہوتی ہے،یہ صرف وقتی تعلق ہوتاہے،ہرروز اس میں تبدیلی ہوتی ہے،ہرروزایک خاندان ٹوٹ رہاہوتاہے،ہرگزرتے دن کے ساتھ لوگوں میں بے چینی میں اضافہ ہوتاہے،ہروالد اپنی بچی کے حوالہ سے پریشان نظرآتاہے،یہ کیسا محبت کادن ہے جس میں اتنی خرابیاں ہیں،خداراسوچئے،اپنے بچوں اوربچیوں کومحبت کاصحیح معنی بتائیے،اپنے خاندان کی عزت کوبچائیے،اسلامی معاشرہ کی اقدارکوفروغ دیجئے،کہیں ایسانہ ہوکہ دنیابھی تباہ ہوجائے اورآخرت بھی ۔۔۔۔
اللہ نے تعالی نے کیسی کیسی نیک اور دین کے لئے قربانی دینے والی خواتین پیدا کی ہیں،ان کے حالات دیکھ کر ایمان تازہ ہوجاتاہے،ایسی ہی ایک خاتون ہے جو پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں،کراچی کے سب سے مشہور ہوسپٹل میں سرجری کرتی تھی،پوری فیملی ماڈرن گھرانہ سے تعلق رکھتی ہے،ادھالباس پہنناان کی فیملی میں عام سی بات ہے،ان کی فیملی پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے،اللہ نے ان کے دل کو پھیردیا،گھرمیں پردہ شروع کردیا،جاب سے استعفی دیدیا،اور اپنے آپ کو چاردیواری میں محصور کرلیا،بس یہ کرنے کی دیر تھی سارے گھر والے مخالف ہوگئے،والدین نے گاڑی چھین لی،بھائیوں نے مارپیٹ شروع کردی،گھرسے نکالنے کی دھمکیاں شروع کردی،مزید بات کرتے ہوئے کہنے لگی وہ سختی میں اضافہ کرتے چلے گئے،میں دین کے اور قریب آتی گئی،یہاں تک انہوں نے میری عبادات اور پردہ کی پابندی کو دیکھتے ہوئے مشہور کردیا کہ یہ نفسیاتی ہوگئی ہے،پاگل ہوچکی ہے،ایک دن زبردستی مجھے نفسیاتی ہوسپٹل میں داخل کردیاگیا،میں نے ہوسپٹل والوں کو اپنی تعلیم بتائی اور ان کے تمام سوالات کا جواب دیا تو بڑی مشکل سے مجھے وہاں سے آزادی ملی،میں بڑاحیران ہوا،میں نے کہا اب کیاارادہ ہے؟پہلے کی زندگی اختیار کرنے کادل نہیں کرتا؟کہنے لگی:مفتی صاحب آپ کو کیابتاوں جب میں سجدہ کرتی ہوں تو گھنٹوں سجدے میں پڑی رہتی ہوں،اٹھنے کودل نہیں کرتا،رکوع کرتی ہوں بس رکوع میں رہنے کادل کرتاہے،میں نے اللہ کو پالیاہے،مجھے یہ مارپیٹ دین سے نہیں روک سکتی،مجھے پتہ ہے میرے والدین ناسمجھ ہیں،میرے ساتھ زیادتی کرتے ہیں،میرے جسم پر مارپیٹ کے سینکڑوں نشانات ہیں،لیکن میں نے کبھی بھی جواب نہیں دیا،کیونکہ وہ میرے والدین ہیں،اللہ نے ان کے سامنے اف تک کہنے سے منع کیاہے،مجھے وہ اپنے تین سال کی مشقتوں سے بھرپور زندگی کے حالات سناتی گئی،میں حیران ہوتاگیاکہ کیا والدین دین کی وجہ سے اس طرح ظالم بھی ہوسکتے ہیں؟اس سے زیادہ اس خاتون کی دین سے وابستگی نے مجھے حیران کررہی تھی،مجھے کہنے لگی مفتی صاحب مجھے نصیحت کی ضرورت ہے،راہنمائی کی ضرورت ہے،میں نے کہاکہ تو بعد کی بات ہے آپ پہلے میرے لئے دعاکردیجئے مجھے بھی اللہ آپ جیساایمان دیدے،وہ مجھے جب بھی کسی مسئلہ میں راہنمائی کیلئے فون کرتی ہے میں کچھ گنجائش والی صورت بتانے کی کوشش کرتاہوں،وہ کہتی ہیں مجھے آپ اسلام کی آئیڈیل صورت بتائیں،گنجائش والی صورتیں نہیں بتایاکریں،میں دنیاکی حقیقت جان چکی ہوں،میری زندگی بہت مختصر رہ گئی ہے،میں سابقہ زندگی کی تلافی کرنا چاہتی ہوں،بس میں چاہتی ہوں گھر کی چاردیواری ہو،قران ہو اور اللہ اللہ کرتی رہوں۔۔۔بس یہ اللہ کی مخصوص بندیاں ہوتی ہیں جن کی دعاؤں سے یہ زمین قائم ہے،اللہ کے عذاب رکے ہوئے ہیں،اللہ ہم سب کو ایسا ایمان دیدے اور اپنے ساتھ ایسا تعلق نصیب کرے،امین۔۔۔۔مفتی اویس
رات کاایک بج رہاتھا،میں نیند کی گہرائیوں میں جاچکاتھا،موبائل بجنے لگا،میں والدہ کی زندگی میں رات کو بھی موبائل اپنے سرہانے رکھ کرسوتاتھا،کیونکہ ان کی طبعیت کسی بھی وقت بہت خراب ہوجاتی تھی،اس لئے سخت نیند کے باوجود میں سکرین پر نمبر ضرور دیکھتا کہ کہیں گھر سے فون نہ ارہاہو،میں نے سکرین پر دیکھا کہ ایک اجنبی نمبر سے کال آرہی تھی،میں نے ابتداء میں اسے ریسیونہیں کیا،لیکن جب گھنٹی مسلسل بجنے لگی تو میں نے موبائل اٹھالیا،جیسے ہی میں نے السلام علیکم کہا،اس نے جواب دینے کے ساتھ ہی اپنی بات کہنا شروع کردی،مفتی صاحب میں نے آپ کو رات میں تکلیف دی ہے،لیکن میں پریشان ہی بہت زیادہ ہوں،میری زندگی کے چند آخری سانسیں شاید باقی ہیں،میں اپنے آپ کو ختم کرنے لگاہوں،زہر کی ڈبیہ میں نے آج خریدی ہے،بس خودکشی کرنے سے پہلے آخری مرتبہ موبائل اٹھایا تاکہ زندگی کی کچھ مختصر کہانی لکھ دوں،لیکن آپ کے کسی میسیج کو پڑھا اور اتفاقااس پر آپ کا نمبر بھی لکھاتھا،میں نے سوچازندگی کی آخری بات آپ سے کرلوں اور مشورہ بھی لے لوں،وہ بولتاجارہاتھا،میری پریشانی میں اضافہ ہوتاچلاجارہاتھا،اگر میں اس کو سمجھانہیں سکا اور اللہ نہ کرے اس نے خود کشی کرلی تو کیاہوگا؟اور آخری کال بھی مجھے کی ہے تو کہیں اس کے فیملی کے لوگ میرے ہی زمہ نہ لگادیں،بہرحال میں نے اپنے اوپر کنٹرول کرتے ہوئے اصل وجہ معلوم کرناچاہی،معلوم ہواکہ وہ ٹرانس جینڈرہے،اور یہ بات انہیں ایک دوسال پہلے معلوم ہوئی ہے جب سینہ میں اٹھان پیداہوئی اور لڑکیوں والی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی تو مجھے کچھ احساس شروع ہوا،اس کے بعد میرے لئے زندگی تنگ ہوگئی،میں باہر نکلتا ہوں میرے دوست مجھے بہت تنگ کرتے ہیں،مجھے برے ناموں سے بلاتے ہیں،سب کے سامنے مجھے مسخرہ بنایاجاتاہے،اب میں زندگی سے بیزار ہوچکاہوں،میں اگر ٹرانس جینڈر ہوں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟کیامیں اللہ کی مخلوق نہیں؟اللہ نے مجھے ایسا کیوں پیداکیا؟حالانکہ میں نے تو حفظ بھی کیاہے،بی کام تک پڑھ بھی لیاہے،میں توبہت اچھی زندگی گزاررہاتھا،مجھے توان چیزوں کاپتہ بھی نہیں تھا،اب تو میری فیملی کے لوگ بھی میرے ساتھ اچھارویہ نہیں رکھتے،کیامیں خود کشی کرلوں؟کئی منٹ تک وہ باتیں کرتاچلاگیا،جب اس نے کچھ سانس لیا اور دل کادرد بیان کردیا تو میں نے کچھ اس کو سمجھایا،تسلی دی، اس کے ذھن میں اللہ نے بات ڈال دی،خود کشی کا فیصلہ اس نے موخرکردیا،بہت خوش ہوا میری تسلی پر،اللہ نے مجھے بڑے گناہ سے بچالیا،لیکن میں پوری رات سوچتارہایہ معاشرہ کتناظالم ہے!معاشرہ کی بدسلوکی اور برے رویہ کی وجہ سے کتنے لوگ حوصلہ کھوبیٹھتے ہیں،زندگی کو ختم کرلیتے ہیں،کسی کا مرد ،عورت اور تیسری قسم میں سے ہونااس میں انسان کاتو کوئی عمل دخل نہیں،یہ اللہ کے فیصلے ہیں،وہ بادشاہ اور مالک ہے جس کو جیسے چاہے بنادے،ہم اللہ کے فیصلوں کا کیسے مزاق بناتے ہیں؟کیااگراپ کی وجہ سے ایک انسان زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کررہاہے تواس کاذمہ دار کون ہوگا؟کیااللہ آپ سے سوال نہیں کریں گے؟ہمیں اپنے آپ کو بہت زیادہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے،مجھے بعض احباب میسیجز کرتے ہیں کہ بسااوقات آپ کے میسج میں بہت دکھ درد بھراہوتاہے،اپ کیوں پریشان ہیں؟کیاتکلیف ہے؟اب آپ ہی بتائیں جب روز اس طرح کے حالات لوگ مجھے سنائیں گے تو پریشانی تو ہوگی،تکلیف تو ہوگی،ذمہ داری کااحساس تو بڑھے گا۔۔۔۔۔۔مفتی اویس
2024 کاالیکشن ہوچکا اورنتائج بھی کافی حد تک آچکے،اس الیکشن میں مذھبی جماعتیں کہاں کھڑی ہیں؟قومی اورصوبائی سیٹیں کتنی حاصل کی؟پاکستان میں عمومی طورپرلوگوں میں مذھبی وابستگی پائی جاتی ہے،مذھب سےکسی نہ کسی درجہ میں تعلق ہے،علماء،مشائخ سے بڑی عقیدت ہے،مدارس اورخانقاہوں کاایک مکمل اوروسیع نیٹ ورک ہے، لیکن اس کے باوجود گنی چنی سیٹ پرہی کامیابی مل سکی،اس کی کیاوجوہات اوراسباب ہیں؟ اس بارے میں ہمیں سنجیدگی سےغورکرنے کی ضرورت ہے،ہرچیزکوسازش کے سپرد نہیں کرناچاہیے،حقائق کوبھی مدنظررکھناچاہیے اوران کی روشنی میں اپنی جماعتوں کوبہترکرناچاہیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
, Ahsanabad
Karachi