Muhammad Kashif online quran tutor

Muhammad Kashif online quran tutor

Share

Assalamualaikum I am online quran tutor

05/06/2024
14/04/2024

*ایرانی کے حملے سے نتن یاہو کو کئی نقد فوائد حاصل ہوئے۔ باقی دیرپا نتائج بھی اسرائیل کے حق میں جائیں گے۔*
1.... نتن یاہو ملعون کی حکومت گرنے والی تھی۔ اب اسے دوام حاصل ہوگیا۔
2.... ساری دنیا کی نظر غزہ کے مظالم سے ہٹ گئی۔ اب سب کی زبان پہ یہی جعلی قضیہ ہے۔ اس سے فایدہ اٹھا کر دجال مزید قتل عام کرے گا۔
3.... اسرائیل کی دیرینہ پالیسی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے ہر طرف سے خطرہ ہے۔ اس لئے وہ دفاع کے نام پہ امریکا سمیت مغربی ممالک سے بھاری امداد وصولتا رہتا ہے۔ اب اس حملے نے اس کی اس پالیسی کے خاکے میں بھرپور طریقے سے رنگ بھر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے ہنگامی طور پہ 2 ارب ڈالر کی امداد منظور کرلی۔

*وہی ہوا جو کہا تھا، دنیا کی نظر ایرانی حملے پر۔ دجال نے غزہ کے نصیرات کیمپ میں بچے کھچے انسانوں کا صفایا شروع کردیا۔ طیاروں سے بمباری، ڈرون اٹیک، ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ اور توپ خانے سے گولہ باری شروع۔ سب کی نظر ایرانی حملے پہ۔ حتی کہ غزہ کو بھرپور کوریج دینے والے الجزیرہ میں بھی اس حوالے سے خاموشی۔*

14/04/2024

صبح نماز کے بعد سے اب تک تقریباً ڈھائی گھنٹے مشرق وسطی کی تازہ پیشرفت پہ میڈیا کو کھنگالنے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ اسرائیل پر ایرانی حملہ ایک کامیاب ڈرامہ ہے، جسے عقل سے پیدل لوگوں کو مزید چ بنانے کیلئے عرصے تک استعمال کیا جاتا رہے گا اور یہ ایران کو مسلم ہیرو بنانے کی طاغوتی پالیسی کا حصہ ہے۔ رات کی یہ کارروائی فیس سیونگ کا محض ایک ڈرامہ اس لئے ہے۔ کیونکہ:
1- یہ پرانے ڈرون طیارے ایرانی سرزمین سے لانچ کیے گئے، جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے (ہمارے بلوچ بھائیوں کی اسپیشل سنگل گدھا گاڑی کی رفتار کے تقریباً برابر) سفر کر رہے ہیں، یعنی انہیں اسرائیل میں اپنے ہدف تک پہنچنے میں 10 گھنٹے لگ رہے ہیں، پھر پہلے سے اعلان کرکے بھیجے گئے، حالانکہ ڈرون طیارے کبھی بھی علانیہ نہیں بھیجے جاتے، کیونکہ سست رفتاری کی وجہ ان کا گرانا آسان ہوتا ہے۔ اب اسرائیل بھی ان سے باخبر تھا اور وہ ان کا انتظار کر رہا تھا۔ اس لئے وہ بہ آسانی انہیں گرا رہا ہے۔ اگر ایرانی اپنی اسٹرائیک میں مخلص ہوتے تو وہ یہ طیارے اپنی سرزمین کے بجائے شام یا لبنان سے لانچ کرتے، انہیں اسرائیل پہنچنے میں صرف 25 یا 35 منٹ لگ جاتے، پھر اسرائیل کے لئے انہیں گرانا بھی زیادہ آسان نہ ہوتا۔
2- لانچ کیے گئے تمام ڈرون طیارے بہت معمولی مقدار کے بارودی مواد رکھتے ہیں، جس کی اثر پذیری ایک بیلسٹک میزائل جتنی بھی نہیں ہے۔
3- اس اٹیک میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد صفر ہے، اور زخمی اب تک صرف یک نفر۔ یہ واضح اور حتمی ثبوت ہے کہ یہ حملہ مربوط، معلوم اور واضح تھا۔ جیسا کہ کل ہم نے عرض کیا تھا کہ اگر حملہ ہوا نتن یاہو کے مشورے سے ہی ہوگا۔ باقی بیانات اور میڈیا میں چیخ پاخ سب معمول کا حصہ ہے۔
کاپی

14/03/2024

اسرائیل کے خلاف پوسٹ لگائی پر فیس بک نے پوسٹ روک دی

19/01/2024

Assalamualaikum I am online quran tutor

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Model Colony
Karachi