11/05/2026
دولت مند ہونا اور صاحبِ رتبہ ہونا… یہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔
پیسہ انسان کو خاندانی نہیں بناتا۔ یہ سچ ہے کہ پیسہ انسان کو آسائش ، دنیاوی طاقت دے سکتا ہے… مگر اصل بڑائی و رتبہ نہیں۔
پیسہ تو انسان دوڑ دھوپ، مشقت، نوکریاں کر کے کما لیتا ہے یا بعض اوقات دوسروں کا حق مار کے یا ناچ گانا کر کے بھی ۔ کچھ لوگ ایسے راستوں سے بھی دولت حاصل کر لیتے ہیں جہاں صرف پیسہ تو آ جاتا ہے، مگر عزت، وقار اور اصل مقام حاصل نہیں ہوتا۔
مگر رتبہ… رتبہ صرف پیسے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ رتبہ ایک نعمت ہے۔
رتبہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت، وقار اور لوگوں کے دلوں میں مقام عطا فرما دیتا ہے۔ کسی کو ایسے خاندان میں پیدا کر دیتا ہے جہاں قدر و منزلت پہلے سے موجود ہوتی ہے، اور کسی کو اس کے کردار، اخلاق، علم اور اعمال کی وجہ سے ایسا مقام عطا کرتا ہے کہ لوگ خود بخود اس کی عزت کرنے لگتے ہیں۔
اسی لیے ہر دولت مند انسان صاحبِ رتبہ نہیں ہوتا… اور ہر صاحبِ رتبہ انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں، بلکہ اس کا کردار، اس کی تربیت اور اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ اور بعض لوگوں پر اللہ تعالی اس قدر مہربان ہوتا ہے کہ ان کو رتبہ اور دولت دونوں عطا فرما دیتا ہے ۔
تو یہ بات سمجھ لیں کہ اگر کبھی کسی کے مقام، عزت یا رتبے کو دیکھ کر دل میں احساسِ کمتری پیدا ہونے لگے، تو دوسروں سے حسد کرنے کے بجائے اپنے کردار، اخلاق اور اعمال پر کام کریں… کیونکہ اصل بلندی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے، صرف جیب میں نہیں۔
#رتبہ #دولت #کردار #اخلاق #شخصیت #زندگی