دولت مند ہونا اور صاحبِ رتبہ ہونا… یہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔
پیسہ انسان کو خاندانی نہیں بناتا۔ یہ سچ ہے کہ پیسہ انسان کو آسائش ، دنیاوی طاقت دے سکتا ہے… مگر اصل بڑائی و رتبہ نہیں۔
پیسہ تو انسان دوڑ دھوپ، مشقت، نوکریاں کر کے کما لیتا ہے یا بعض اوقات دوسروں کا حق مار کے یا ناچ گانا کر کے بھی ۔ کچھ لوگ ایسے راستوں سے بھی دولت حاصل کر لیتے ہیں جہاں صرف پیسہ تو آ جاتا ہے، مگر عزت، وقار اور اصل مقام حاصل نہیں ہوتا۔
مگر رتبہ… رتبہ صرف پیسے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ رتبہ ایک نعمت ہے۔
رتبہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت، وقار اور لوگوں کے دلوں میں مقام عطا فرما دیتا ہے۔ کسی کو ایسے خاندان میں پیدا کر دیتا ہے جہاں قدر و منزلت پہلے سے موجود ہوتی ہے، اور کسی کو اس کے کردار، اخلاق، علم اور اعمال کی وجہ سے ایسا مقام عطا کرتا ہے کہ لوگ خود بخود اس کی عزت کرنے لگتے ہیں۔
اسی لیے ہر دولت مند انسان صاحبِ رتبہ نہیں ہوتا… اور ہر صاحبِ رتبہ انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں، بلکہ اس کا کردار، اس کی تربیت اور اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ اور بعض لوگوں پر اللہ تعالی اس قدر مہربان ہوتا ہے کہ ان کو رتبہ اور دولت دونوں عطا فرما دیتا ہے ۔
تو یہ بات سمجھ لیں کہ اگر کبھی کسی کے مقام، عزت یا رتبے کو دیکھ کر دل میں احساسِ کمتری پیدا ہونے لگے، تو دوسروں سے حسد کرنے کے بجائے اپنے کردار، اخلاق اور اعمال پر کام کریں… کیونکہ اصل بلندی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے، صرف جیب میں نہیں۔
#رتبہ #دولت #کردار #اخلاق #شخصیت #زندگی
آج کی بات Aaj ki Baat
Our aim is to:
Educate the minds to think
Hearts to feel
Body to act
آج رات 11 بجے سے راولپنڈی، اسلام آباد کے تمام ٹرانسپورٹ اڈے 26 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی اسلام آباد سے دیگر اضلاع کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، ٹریفک معطل رہے گی
دیگر اضلاع سے راولپنڈی اسلام آباد آنے والی ٹریفک بھی معطل رہے گی
راولپنڈی اسلام آباد میں انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ بحال رہے گی
15/04/2026
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کافروں سے فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اس کتاب (قرآن پاک) جو ہم نے اپنے بندے پر نازل فرمائی، اگر تمہیں اس میں شک ہے تو اس کی آیت کے مثل کوئی ایک آیت ہی لے آؤ۔
تو حالیہ دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ شیعہ عالم جواد نقوی کے ادارے میں خامنائی کا چہلم کیا گیا اس تقریب کے بیک گراؤنڈ میں قرآن پاک کی آیت کے مثل ایک جملہ تحریر تھا جس کو بعض افراد قرآن پاک میں تحریف کرنے کا کہہ رہے ہیں۔
لیکن اس کے جواب میں شیعہ کمیونٹی کہہ رہی ہے کہ نہیں ہم نے تو اس کو آیت کے طور پر نہیں لکھا ،نہ یہ لکھا کہ وہ قرآن پاک سے ہے بلکہ یہ تو ویسے ایک عربی جملہ لکھا گیا ہے ۔
تو اس سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ گو کہ وہ ایک جملہ ہے لیکن وہ جملہ قرآن پاک کی آیت کے مثل بنایا گی۔ جس میں الفاظ اور ترتیب و مفہوم قرآن کی آیت والا ہی ہے ۔ بس کچھ الفاظ کا معمولی ردو بدل کیا گیا ہے۔
اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن پاک کی آیت کے مثل کوئی آیت بنانا کافروں کا کام تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے مثل کوئی آیت لے آؤ اگر تمہارے پاس کچھ ہے
اور کافر بھی نہ لا سکے لیکن شیعوں نے آیت کا مثل بنا کر کافروں سے بھی بڑا کرتوت کر دکھایا ہے
"زہریلی دعا"
ہمدردی کے نام پر اذیت دینا بند کریں…
آج کی بات ایک ایسی حقیقت پر مبنی ہے جسے ہم سب دیکھتے ہیں… مگر مانتے نہیں۔
جب کسی جوڑے کی اولاد نہیں ہوتی، تو ہمارے معاشرے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ نشانہ عورت بنتی ہے۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کام مرد کم… اور عورتیں زیادہ کرتی ہیں۔
رشتہ دار ہوں، دوست ہوں، ہمسائے ہوں یا کسی محفل میں ملی کوئی اجنبی…
جیسے ہی سوال ہوتا ہے:
"آپ کے کتنے بچے ہیں؟"
اور جواب ملتا ہے: "میرے بچے نہیں ہیں"
تو وہیں سے ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے…
ایسے جملوں کا، جنہیں بولنے والے "ہمدردی" سمجھتے ہیں، مگر سننے والی کے لیے وہ زہر سے کم نہیں ہوتے:
"اوہو! اولاد کے بغیر تو زندگی ہی نہیں ہوتی"
"علاج کروائیں… مسئلہ کیا ہے؟ آپ میں یا آپ کے شوہر میں؟"
"اللہ آپ پر رحم کرے"
میں نے یہاں بہت نرم جملے لکھے ہیں…
حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ کڑوی اور چبھتی ہوئی باتیں کہی جاتی ہیں۔
یہ دعائیں نہیں ہوتیں…
یہ سیدھا یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ تم میں کمی ہے… تم محروم ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ
ہر بے اولاد عورت دکھی نہیں ہوتی۔
بہت سی عورتیں اللہ کی رضا پر راضی ہو کر
ایک پرسکون، مطمئن اور خوبصورت زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔
انہوں نے اس کمی کو اپنے سر پر سوار نہیں کیا ہوتا…
وہ اپنی زندگی کو مکمل سمجھتی ہیں۔
لیکن پھر… کچھ عورتیں آتی ہیں
اور انہیں یہ بتاتی ہیں کہ:
"تمہاری تو کوئی زندگی ہی نہیں ہے"
"تم گھر میں بور نہیں ہوتیں؟"
"ہم تو بچوں میں لگے رہتے ہیں، تم سارا دن کیا کرتی ہو؟"
اتنے سوال، اتنی باتیں…
کہ اگر اس عورت کو پہلے کوئی درد نہیں بھی ہوتا
تو آپ اسے درد دے دیتے ہیں۔
یاد رکھیں:
اولاد نہ ہونا زندگی کو عذاب نہیں بناتا…
صاحب اولاد عورتوں کے رویّے اسے عذاب بنا دیتے ہیں۔
پھر خوشیوں کے موقع پر بھی یہ رویہ ختم نہیں ہوتا…
عید پر کوئی ملے اور کہے:
"عید کی رونق تو بچوں سے ہوتی ہے… بچوں کے بغیر کیسی عید؟"
یا یہ کہہ دیا جائے:
"چلو اللہ کوئی رونق دے دے"
یہ دعا نہیں ہے…
یہ صاف صاف یہ کہنا ہے کہ تمہاری زندگی بے رونق ہے۔
اور ایک اور جملہ جو اکثر "دعا" کے نام پر دیا جاتا ہے:
"چلو بیٹا نہیں تو اللہ بیٹی ہی دے دے"
ذرا رک کر سوچیں…
یہ جملہ کتنا خطرناک ہے۔
اس میں نہ صرف ایک بے اولاد عورت کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے
بلکہ بیٹی کو بھی ایک second best option بنا دیا جاتا ہے۔
بات بہت سادہ ہے…
ہر عورت کو آپ کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اور اگر کسی کو واقعی درد ہو بھی…
تو آپ کے سوال، آپ کی تفتیش، اور آپ کی یہ "دعائیں"
اس کا درد کم نہیں کرتیں —
بڑھا دیتی ہیں۔
کبھی کبھی تو آپ اس کو وہ درد بھی دے دیتے ہیں
جو اسے پہلے تھا ہی نہیں۔
خدا کے لیے…
صرف یہ پوسٹ لائک کر دینے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
براہِ کرم
10 منٹ نکالیں…
اور اپنے گھر میں ماؤں، بہنوں اور بیویوں کو یہ بات سمجھائیں:
کسی سے اس کی اولاد کے بارے میں سوال نہ کریں
اس کے سامنے جا کر "دعائیں" نہ دیں
اس کی زندگی کو ادھورا ثابت نہ کریں
اگر واقعی ہمدردی ہے…
تو خاموشی اختیار کریں۔
دل میں دعا کریں۔
یا نماز میں اس کے لیے دعا کریں۔
کسی خوش بیٹھی ہوئی عورت کے پاس جا کر
اسے یہ احساس دلانا کہ تم ادھوری ہو…
یہ ہمدردی نہیں ہے…
یہ ظلم ہے۔ اور یاد رکھیں اللہ ظلم کرنے والوں، اذیت دینے والوں کو سخت ناپسند فرماتا ہے، ان کی پکڑ شدید ہو گی۔
تحریر : "سین میم "
#ہمدردی #عورت #احساسات #نفسیات #زندگی #احترام
26/03/2026
ایرانی لیڈرز کی اولادیں نہ صرف امریکہ میں مقیم ہیں بلکہ امریکہ میں ملازمت بھی کر رہی ہیں
سنئے !!! غزہ کے امام مسجد روافض شیعہ ایجنڈا کے خلاف بیان کر رہے ہیں۔
1965سے لے کر اب تک جب جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا،کشمیر بھی لے لیا۔کسی بھی برادر اسلامی ملک نے بھارت پر حملہ نہیں کیا۔جبکہ اس سے بر عکس بھارت سے اچھا تعلق قائم کیا۔پاکستان کی بجائے بھارت کو ترجیع دی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان نے پہلے برادر اسلامی ملک افغانستان کے لیے اپنے ملک میں دہشتگردی کی آگ لگا لی اور اب پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ برادر اسلامی ملک ایران کے لیے اسرائیل اور امریکہ پر حملہ کیا جائے۔ ہم اپنے ملک کو آگ لگانے میں سب سے آگےہیں۔۔۔💚🇵🇰
In this pandemic, you need to be more healthy. Melverse Honey will help you.
Like and Share
Melverse Honey
Melverse Honey is pure and naturally tasty with nothing added. It comes fresh from the healthy beehives which is absolutely amazing for health too.
Melverse Honey comes in a variety of flavours such as Acacia, Wild flowers, Orange, Cardamom, Ajowan, Casaka and Sidr.
To place order, inbox us Or whatsapp at 03175135615 . cash on Delivery.
Melverse Honey Melverse Honey is pure and naturally tasty with nothing added. It comes fresh from the healthy beehi
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Karachi
0000