Qari abdul qader

Qari abdul qader

Share

AlQader online Quran Academy

02/09/2022

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

میں آن لائن قرآن پاک ٹیچر ہوں اور آن لائن قرآن مجید کی کلاسیں دے رہا ہوں ،جس میں تجوید ، نورانی قائدہ ، نماز ، بنیادی مسنون ، دعائیں اور دیگر اسلامی تعلیمات کے ساتھ قرآن پاک کو مکمل طور پر پڑھنا شامل ہے....
ہفتے میں 5 دن کلاس اور روزانہ کی کلاس ٹائمنگ 25 منٹ تا 30 منٹ۔۔۔
اگر آپ یا آپ کی فیملی میں سے کوئی ممبر (عورت ، بچہ) قرآن مجید سیکھنا چاہتا/چاہتی ہے ، تو لہذا مجھ سے رابطہ کریں۔۔۔
اور آپ کی تسکین کے لئے 3 دن کی مفت آزمائشی کلاس ....
مزید تفصیلات کے لئے انباکس کریں۔۔۔
برائے مہربانی اس میسج کو ثواب کی نیت سے آگے شہٸر کریں۔۔whatsaap+923333433742
+923122244341

12/07/2022

مدرسہ بنین کمرہ نیوتعمیر کےسلسلےمیں شھیدکےوقت گروپ فوٹو

24/06/2019

👈 محبت سے قرآن پڑھنے کا واقعہ ۔۔۔

ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تہجد کی نماز میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں طبیعت پر کیف ہے ذرا انچی آواز سے قرآن پڑھنے کو جی چاہتا ہے گھر کا صحن چھوٹا ہے گھوڑا بھی بندھا ہے اور ایک چارپائی پر بچہ بھی سویا ہوا ہے جب اونچا پڑھتے ہیں تو گھوڑا بدکنے لگتا ہے دل میں ڈر سا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں بچے کو تکلیف نہ پہچا دے لات نہ مارے دے پھر آہستہ قرآن پڑھنے لگ جاتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد پھر طبیعت مچلتی ہے تو اونچا پڑھتے ہیں گھوڑا بدکتا ہے پھر آہستہ آہستہ پڑھنے لگ جاتے ہیں بس ہی کچھ تقریبا ساری رات ہوتا رہا جب انہوں نے صبح کے وقت دعا کے لئے ہاتھ اتھائے تو ان کی نگاہ آسمان پرپڑی کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ روشنیاں نہایت تیزی کے ساتھ ان کے سر سے دور آسمان کی طرف جا رہی ہیں حیران ہوئے کہ یہ کیا ہے چناچہ صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات میرے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہا اونچا پڑھتا تھا تو ڈر محسوس ہوتا تھا کہ بچے کو تکلیف نہ پہنچ جائے اورآہستہ پڑھتا تھا تو پھر طبیعت مچلی تھی کہ اونچا پڑھوں جب میں نے دعا کے لئے ہاتھ اتھائے تو نگاہ آسمان کی طرف اتھی میں نے کچھ روشنیاں دور جاتی ہوئی دیکھیں اللہ تعالی کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ تعالی کے فرشتے تھے جو تیرا قرآن سننے کے لئے آسمان سے نیچے اتر آئے تھے اگر تم اونچی آواز سے پڑھتے رہتے تو آج مدینہ کے لوگ ان فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے وہ فرش پر قرآن پڑھتے تھے تو عرش سے فرشتے اتر آتے تھے ۔ اللہ اکبر۔

20/10/2018

🌹السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

*○ جانوروں پر رحم کرو ○*

*❉ بہت دنوں کی بات ہے ۔ شہر غَزۡنۡیِ میں ایک شخص رہتا تھا ۔ اس کا نام تھا سُبُکۡتَگِیۡن ۔ وہ تھا تو اپنے قبیلے کا سردار ، مگر تھا بہت غریب ۔ ایک گھوڑے کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ تھا ۔ وہ اپنا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزارتا تھا ۔*

*ایک دن وہ شکار کو جا رہا تھا ۔ راستے میں اسے ایک ہرنی اور اس کا بچہ چرتے ہوئے ملے ۔ سبکتگین نے گھوڑے کو ایڑ لگائ ، اور ان کے پیچھے تیزی سے دوڑایا ۔ دونوں جان بچا کر بھاگے ۔ مگر بچہ تو آخر بچہ ہی تھا ۔ کتنا تیز بھاگ سکتا تھا ؟ بالآخر سبکتگین نے اسے پکڑ لیا اور لے کر گھر کو روانہ ہوا ۔*

*ہرنی بےچاری محبت کی ماری اپنے بچے کے لیے اس کے پیچھے ہو لی ۔ سبکتگین کی نگاہ ہرنی پر پڑی ۔ اس کے افسردہ چہرے اور للچائ ہوئ نگاہ کو دیکھ کر سبکتگین کو رحم آگیا اور اس نے بچے کو چھوڑ دیا ۔ آزاد ہوتے ہی بچہ چھلانگیں مارتا اور اچھلتا کودتا اپنی ماں کے پاس جاپہنچا اور دونوں خوشی خوشی جنگل کی طرف چل دیے ۔*

*رات کو سبکتگین نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں : " سبکتگین ! تم نے بےچاری ہرنی پر رحم کیا ، تمھارا یہ کام اللہ کو بہت پسند آیا ، اتنا پسند آیا کہ تمھارا نام بادشاہوں کی فہرست میں درج کر لیا گیا ، اب تم جلد ہی بادشاہ ہو جاو گے ، لیکن دیکھو سلطنت ملنے پر گھمنڈ نہ کرنا اور مغرور مت ہو جانا ، اپنی رعایا کے ساتھ اسی طرح مہربانی کا سلوک کرنا " ۔*

*اس کے بعد سبکتگین بادشاہ بن گیا ، اس واقعے کو اس نے ساری زندگی یاد رکھا اور اپنی رعایا کے ساتھ ہمیشہ شفقت و محبت کا برتاو کیا ۔*

*پیارے بچو ! اگر تم مخلوق پر رحم کروگے ، تو اللہ تعالی تم پر بھی رحم کرےگا ، جانور بھی اللہ تعالی کی ایک مخلوق ہے ، لہذا تم انھیں بھی بلاوجہ پریشان نہ کرو ۔*

09/05/2018

بسم اللہ الرحمن الرحیم

*کون ہے جو خوشی خوشی موت قبول کرتا ہے*.

موت ایک بہت بھیانک چیز معلوم ہوتی ہے. مگر مومن کے لیے یہ بھیانک نہیں ہوتی. بلکہ ایک تحفہ ہوتی ہے. اندازہ کریں انسان کی روح اللہ کا امر ہے، اللہ کی محبت میں ہی یہ زندہ ہے. جب اسکو اللہ کے پاس واپس جانا ہو تو اسکی خوشی کا کیا ٹھکانا ہوگا.
جب موت کے وقت رحمت کے فرشتے نظر آنے لگ جاتے ہیں اور اللہ کا سلام اور جنت کی بشارت ملتی ہے تو یہ مومن کے مصائب اور تمام تکالیف کا اختتام ہوتا ہے. اور ایک پر تعیش زندگی کا آغاز جہاں اللہ کی رضا کا پروانہ ساتھ ہوگا. مومن کی روح موت کے بعد سیدھی جنت کے باغیچے میں ڈال دی جاتی ہے.
ہمیں اگر اپنی موت کو ایک محبوب کے تحفے جیسا بنانا ہے تو پھر اللہ کو ہی دنیا میں دوست اور محبوب بنانا ہوگا.
اس کی محبت میں تمام حرام کام چھوڑ دینے ہونگے. نیک اعمال کی کثرت صرف اسکی محبت کے حصول کی نیت سے کرنا ہوگی. دل میں ہر وقت اللہ کی ملاقات کا شوق رکھنا ہوگا. چند دنوں کی فریب والی زندگی میں صبر کرنا ہوگا. اگر ہم نے ایسا کر لیا تو دل میں ایسا ایمان اور محبت پیدا ہو جاتی ہے کہ بندے کا نفس مطمئن ہوجاتا ہے ایسی کیفیت میں روح جسم میں بے چین ہو کر پھڑپھڑاتی ہے کہ میں اپنے رب سے ملوں اس حال میں کہ وہ محبت سے مجھے مخاطب کرے اور میرا اکرام کرے.

*حسین موت کے نظارے*.

الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿النحل: ٣٢﴾

اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں "سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے"

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿٣٠﴾نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ﴿٣١﴾ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ﴿٣٢﴾

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر (جب موت کے وقت) فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (30) ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی (31) یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے" (32)
(سورۃ فصلت)

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠﴾

اے نفس مطمئن! (27) چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے (28) شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں (29) اور داخل ہو جا میری جنت میں (30)
(سورۃ الفجر)

*اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنے والا*

رسول اللَّـہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(( مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ وَ مَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔ ))1
'' جو اللہ سے ملنے کا شوق رکھتا ہے، اللہ اس کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتے ہیں۔''

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا! موت کو تو ہم سب برا جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَیْسَ ذٰلِکَ، وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ، فَلَیْسَ شَيْئٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ، فَأَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللّٰہِ وَعُقُوْبَتِہِ فَلَیْسَ شَيْئٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَکَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہُ۔ ))2
''ایسے نہیں(بلکہ) بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آلگتی ہے (مرنے کے قریب ہوتا ہے) تو اس کو اللہ کی رضا مندی اور اس کی سرفرازی کی خوشخبری دی جاتی ہے، وہ اس وقت ان باتوں سے زیادہ جو آگے اس کو ملنے والی ہیں، کوئی بات پسند نہیں کرتا اور اللہ سے ملنے کی (جلد) آرزو کرتا ہے۔ اور جب کافر کو موت آنے لگتی ہے تو اسے عذاب اور سزا کی خبر دی جاتی ہے۔ پس اسے یہ آگے والی صورتحال انتہائی ناپسند ہوتی ہے ۔ چنانچہ وہ اللہ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتے ہیں۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 أخرجہ البخاري في کتاب الرقاق، باب: من أحب لقاء اللّٰہ أحب اللّٰہ لقاء ہ، رقم: ۶۵۰۸۔

اللہ ہمیں بھی ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے کہ موت ایک تحفہ معلوم ہو. آمین 🌺

Photos from Qari abdul qader's post 16/03/2016
Photos 12/11/2015
Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
QARIABDULL