29/04/2026
اقراء مدارس اور سکول کا فیس سٹرکچر:
فیس سٹرکچر تقریبا ہر سکول کے پاس ہوتا ہے اور اس معاملے میں زیادہ تر دوست مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ میں صرف چند اضافی باتیں اور وہ لوگ جو نیا سکول چلارہے ہیں ان کے سامنے چند گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔
اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ فیس سٹرکچر کو Segregate کیا جائے۔
سب سے پہلے اپنے ادارے کے انفراسٹرکچر کا حساب لگا لیں کہ ایک بچہ بغیر اساتذہ کے آپ کو ماہانہ کتنے میں پڑتا ہے۔ عام سکول کو عموما ایک بچہ 1000 سے 1200 جبکہ سٹینڈرڈ سکول کو 2000 سے 2500 میں, جبکہ ہائی سٹینڈرڈ سکول کو اس سے ذیادہ کا پڑتا ہے۔ اس کا انحصار بچوں کی تعداد, بلڈنگ کا کرایہ اور سکول میں دی جانے والی سہولیات مثلاً بجلی، سولر اور اے وغیرہ پر ہوتا ہے۔ اگر بچوں کی تعداد زیادہ ہے تو اخراجات کم ہو جاتے ہیں لیکن ایک خاص حد سے زیادہ کم نہیں ہوسکتے۔
اس کے بعد سٹاف کی تنخواہوں کو بچوں کی تعداد پر تقسیم کرنے سے آپ کی ٹیوشن فیس کے اخراجات نکل آتے ہیں۔ نان ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہیں آپ انفراسٹرکچر میں شمار کرسکتے ہیں۔
انفراسٹرکچر اور ٹیوشن فیس کو جمع کرلیں تو فی بچہ آپ کے مکمل اخراجات کا تخمینہ نکل آتا ہے۔ اگر آپ سٹاف کو اوسط 30 ہزار تنخواہ دے رہے ہیں اور ٹیچر اور بچوں کا تناسب 20 ہے تو آپ کو ایک بچہ 1500 سے 2000 روپے کا پڑتا ہے۔ یہ عام سکول کی بات ہورہی ہے۔ تناسب اور اوسط اوپر نیچے ہونے سے ٹیوشن فیس تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس طرح ایک درمیانے درجے کے سکول کو ایک بچہ 2 ہزار سے 3 ہزار میں پڑتا ہے۔ یہی آپ کے ادارے کا Break Even Point بھی ہے۔ اگر اس فیس میں آپ 500 سے 1500 مزید رقم جمع کرتے ہیں تو ادارے کے مالک کو ایک لاکھ سے 3 لاکھ تک یا اس سے ذیادہ ماہانہ منافع ہوسکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ منافع آپ کا نیٹ پرافٹ نہیں ہے۔ اس میں ہم نے فکس Assets میں Depreciation شمار نہیں کیا ہے۔ سکول کی ڈیپریسی ایشن ویلیو ذیادہ ہوتی ہے کیونکہ فرنیچر اور باقی اشیاء بچوں کی وجہ سے جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ 7 سے 14 فیصد سالانہ رکھ سکتے ہیں۔ باقی اداروں میں یہ ویلیو کم ہوتی ہے اس لئے کتابی باتوں پر ذیادہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔
ایک اور سب سے اہم فیکٹر ڈیفالٹ کی رقم کا Write Off ہونا ہے۔ آپ کو پوری فیس کبھی نہیں ملتی۔ کچھ لوگ بغیر سرٹفکیٹ کے سکول چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور آپ کے علاقے کے دوسرے سکول اسی کو مچھلی سمجھ کر پکڑ لیتے ہے۔
تیسرا فیکٹر سکول کے باقی اخراجات ہیں۔ اس میں بلڈنگ کی تعمیر و مرمت، کرایہ میں اضافے کی شرح، سکول مارکیٹنگ اور نیو بیلیٹ (ادارے کی توسیع) کا حساب الگ سے رکھنا پڑتا ہے اور یہی وہ فیکٹرز ہوتے ہیں جو فیس کے بارے میں آپ کو بہتر راہنمائی دے سکتے ہیں۔
اگر آپ نیا سکول شروع کررہے ہیں اور افورڈ کرسکتے ہیں تو اچھی بلڈنگ سے آپ ذیادہ فیس چارج کرسکتے ہیں۔
یہ تمام انفارمیشن چند سکولوں کو ذہن میں رکھ کر دی جارہی ہے۔ اگر آپ مجھ سے اپنے سکول کی اصل فیس کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں تو آپ کو مجھے سالانہ بجٹ بنا کر دینا ہوگا۔ بجٹ بنانے سے آپ کے سکول کا فیس سٹرکچر بنانا آسان ہو جاتا ہے۔
ان تمام فیکٹرز کو مد نظر رکھتے ہوئے چار کیٹیگریز بتا دیتا ہوں۔
1 ۔ پہلی کیٹیگری سروائیول سکول کی ہے۔ اگر آپ کو صرف سروائیوو کرنا ہے تو 1000 سے 1500 کے درمیان فیس رکھیں۔ اس موڈ میں رہنے کے لئے آپ کے پاس گھر کی خواتین کے زیورات یا والدین کی تھوڑی سی زمین ہونی چاہیئے۔ کچھ سکول اس میں بھی پیسے کماسکتے ہیں۔ اس بارے میں ایک لمبا چوڑا آرٹیکل لکھ چکا ہوں لیکن دوستوں کی ناراضگی کا اندیشہ ہے اس لئے ابھی پوسٹ نہیں کررہا۔
2 ۔ دوسری کیٹیگری 1500 سے 3000 کی ہے۔ اس کیٹیگری میں آپ کے ادارے کی پراگریس کم ہوگی لیکن بطور سکول مالک آپ کی آمدن اچھی بن جاتی ہے۔ اس میں آپ کسی حد تک کوالٹی ایجوکیشن کی طرف بھی جاسکتے ہیں اور تھوڑی بہت میری فیس بھی افورڈ کرسکتے ہیں۔
3 ۔ اس کیٹیگری میں آپ کی فیس 3000 سے 9000 کے درمیان بن جاتی ہے۔ یہاں آپ کے پاس کافی آزادی آجاتی ہے۔ آپ اچھی تنخواہوں کے ساتھ ذاتی طور پر بھی سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں اور بچوں کا حق بھی ادا کرسکتے ہیں۔