CME Mirpurkhas Sindh

CME Mirpurkhas Sindh

Share

This page is designed to publish the information and updates regarding the continue medical educatio

Photos from CME Mirpurkhas Sindh's post 06/04/2026

Family Medicine Conference April 2026
AKU Karachi.

03/01/2026

With Parhlo – just got recognized as one of their top fans! 🎉

02/12/2025

Get Registered for Neurology Certificate Course at AKU ✨

02/11/2025

Pakistan International Airlines (PIA) flight PK-197, carrying 39 passengers, departed from the newly constructed airport in Gwadar for Muscat, Oman on Friday. This marks the official commencement of international operations at NGIA, which will now operate a weekly flight connecting Gwadar to Muscat to meet growing passenger demand and bolster regional connectivity.

Just a week earlier, NGIA officially began its operations, welcoming its first commercial flight and signaling a new era in Pakistan’s aviation history.

Spanning 4,300 acres, NGIA is the largest airport in Pakistan and symbolizes a major leap forward in regional development, connecting Gwadar with global destinations and vice versa.

02/11/2025

بڑی سوچ
(قاسم علی شاہ)
اروما ٹرین میں سوار اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔ وہ خوب صورت مستقبل کے خواب بننے میں مصروف تھی کہ اچانک بوگی میں کچھ بدمعاش آگئے۔ وہ لوگوں کو لوٹ رہے تھے۔ ان کی نظر اروما کے گلے میں موجود سونے کی زنجیر پر پڑی، بدمعاشوں نے چھیننے کی کوشش کی لیکن اروما نے بھرپور مزاحمت کی جس پر وہ آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے اروما کو چلتی ٹرین سے باہر پھینک دیا۔ بدقسمتی سے اسی وقت مخالف سمت سے ٹرین آرہی تھی، اروما اس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی اور دوسری کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ شدید زخمی حالت میں وہ رات بھر پڑی رہی، صبح گاؤں والوں نے اسے دیکھا تو اٹھاکر قریبی ہسپتال لے گئے۔وہاں اس کا علاج کیا گیا لیکن وہ ایک ٹانگ سے محروم ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے وہیل چیئر استعمال کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ وہ مصنوعی ٹانگ کے سہارے آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کرنے لگی اور کچھ عرصے بعد اس کی رفتار تیز ہوگئی۔ وہ سائیکل بھی چلانے لگی۔ اسے خیال آیا کہ بدترین حادثے کے باوجود بھی میں زندہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا مجھ سے خاص کام لینا چاہتاہے۔ اتفاق سے ایک دن وہ بچیندری پال سے ملی۔ یہ ہندوستان کی پہلی خاتون تھی جس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا تھا۔ اروما دل کی بات زبان پر لے آئی کہ میں بھی آپ کی طرح ایورسٹ کی چوٹی سر کرنا چاہتی ہوں۔ معذور لڑکی کا اس قدر بڑا جذبہ دیکھ کر بچیندری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ کہنے لگی:” اروما! یہ کہہ کر تم اپنے عزم سے ماؤنٹ ایورسٹ فتح کرچکی ہو، بس اب دنیا کو دکھانا باقی ہے۔“ اروما نے تیاری شروع کرلی لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں تھا۔ اسے پہلا دھچکا تب لگا جب اس کے ساتھیوں نے روڈ سے بیس کیمپ تک کافاصلہ دو منٹ میں طے کیا اور وہ تین گھنٹوں میں وہاں پہنچی۔ اس کے زخم تازہ تھے، کچھ دیر سفر کے بعد ان سے خون رسنا شروع ہوجاتا لیکن اروما ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے مزید تیاری شروع کی اور طویل محنت کے بعد اس قابل ہوگئی کہ یہ خطرناک سفرطے کرسکے۔وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئی۔ قدم قدم پر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مصنوعی ٹانگ کبھی نکل جاتی، کبھی مڑجاتی۔ طوفانی ہوا اس کی ہڈیوں میں گھس رہی تھی اورپرانے زخموں سے درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ جب وہ چوٹی کے قریب پہنچی تو وہاں ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔ اس کا آکسیجن ختم ہوگیا۔ اس کی امید ٹوٹنے لگی، دوست بار بار اسے واپس جانے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن اس حالت میں بھی وہ واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ سچ ہے کہ جس انسان کے عزائم بلند ہوں تو قدرت بھی اس کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔ خوش قسمتی سے کچھ فاصلے پر اسے کسی کوہ پیما کا اضافی سلنڈر مل گیا۔ اس نے دوبارہ سفر شروع کیا اور بالآخر گرتے پڑتے اور پھولے سانسوں کے ساتھ 21 مئی 2013 کی صبح وہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئی اور دنیا کی پہلی خاتون بن گئی جس نے معذوری کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ سرکرلیا تھا۔
انسان اگر سوچ بلند رکھے اور مشکلات کے باوجود ہار نہ مانے تو وہ بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کرسکتا ہے۔
دنیا کا امیرترین آدمی اینڈریو کارنیگی کہتا ہے کہ ”تم وہی ہو جو تم سوچتے ہو، لہٰذا بڑا سوچو، یقین بلند رکھو۔“
انسان کی زندگی کا معیار وسائل نہیں بلکہ اس کی سوچ طے کرتی ہے۔ بے تحاشا دولت اور بھرپور وسائل کے باوجود بھی اگر کسی شخص کی سوچ چھوٹی ہے اور وہ معمولی چیزوں میں الجھتا رہتا ہے تو ایسی دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس کسی کے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں لیکن اس کی سوچ بلند ہے تو وہ مشکل حالات کے باوجود اپنے پختہ ارادوں سے نمایاں مقام حاصل کرلیتا ہے۔
عموماً جوانی میں ہم بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں اور انھیں حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گرم جوشی ماند پڑجاتی ہے اور ہم بڑا سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔دراصل یہ ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے جو اونچا سوچنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص بڑے ارادوں کا اظہار کر رہا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کوئی اسے شیخ چلی کا لقب دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے یہ خیالی پلاؤ پکارہا ہے اور ہوا میں قلعے تعمیر کررہا ہے۔ تضحیک کے ساتھ ساتھ وہ اسے نصیحت بھی کرتے ہیں کہ”بیٹا! ہوش میں آجاؤ، تم جو سوچ رہے ہو وہ ممکن نہیں۔“دراصل یہ معاشرتی نفسیات ہے۔ لوگ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ رہنے والا شخص ان سے مختلف بنے۔ چنانچہ جوبھی منفرد بننے کی کوشش کرتا ہے، معاشرہ اس کے حوصلوں کو پست کرتا ہے۔
انسانی تاریخ میں ایسی بے شمار شخصیات گزری ہیں جن کی غیر معمولی صلاحیتوں اور منفرد خیالات کی وجہ سے لوگوں نے ان کی مخالفت کی اور ان ک امذاق اڑایا۔
سقراط کا شمار مغربی فلسفہ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ منفرد انداز میں مکالمہ اور سوال کرتا تھا اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے اپنے خیالات کے ذریعے روایتی سوچ کو توڑا اور لوگوں کو سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔ یہ چیز بااثر شخصیات کے لیے قابل قبول نہیں تھی، چنانچہ اس کی مخالفت کی گئی اور اسے باغی قرار دے کر موت کی سزا سنا دی گئی۔
ونسنٹ وان گوگ شان دار مصور تھا لیکن وہ روایت سے ہٹ کر چلتا تھا جس کی بنا پر لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ زندگی میں اس نے صرف ایک فن پارہ بیچا، وہ غربت میں وقت گزارتا رہا لیکن کسی نے اس کی قدر نہیں کی، البتہ مغربی آرٹ میں آج اسے بااثر شخصیت مانا جاتا ہے۔
نکولا ٹیسلا انتہائی ذہین انسان تھا۔ اپنے خیالات سے اس نے برقی دنیا میں انقلاب برپا کیا لیکن ایڈیسن سمیت بہت سے نامور لوگوں کی جانب سے اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ غریبی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا، البتہ آج ایلون مسک نے اس کے نام پر ایک کام یاب کمپنی بنائی ہے۔
میری کیوری ماہر طبیعیات اور کیمیا دان خاتون تھی جس نے ریڈیو ایکٹیویٹی پر اہم تحقیق کی۔چوں کہ وہ مردوں کے زیر تسلط میدان میں نمایاں ہورہی تھی اس وجہ سے اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے فزکس اور کیمسٹری میں نوبل انعام جیتا اور پہلی نوبل انعام یافتہ خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔
لوگ چھوٹا کیوں سوچتے ہیں، اس کے بہت سے عوامل ہیں۔
(1) ماحول
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس کے لوگ ہمیں ڈراتے ہیں کہ اگر بڑا سوچنے کے بعد تم ناکام ہوگئے تو زمانہ کیا کہے گا۔” لوگ کیا کہیں گے“ آج کا بڑا خوف ہے۔ یہ لوگوں پر اس قدر حاوی ہے کہ اکثر افراد اس وجہ سے بڑا قدم نہیں اٹھاتے۔
(2)خود اعتمادی کی کمی
خود اعتمادی کی کمی بھی ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گھر میں ماں باپ بچے کے اعتماد کو جس قدر بہتر انداز میں نکھاریں گے، اسی قدر وہ بااعتماد بنے گا، ا س کے برعکس جس بچے کی تضحیک کی جائے گی، اس کی سوچ پر اسے باتیں سنائی جائیں گی تو اس کا اعتماد ٹوٹے گا اور وہ کوئی بھی نیا قدم نہیں اٹھاسکے گا۔
یاد رکھیں کہ کام یابی اور خود اعتمادی کا آپس میں براہ راست تعلق ہے۔ خود اعتمادی ہوگی تو کام یابی ملے گی وگرنہ نہیں۔ کام یاب انسان سب سے پہلے اپنی اہمیت کو خود تسلیم کرتا ہے اس کے بعد دنیا اسے مانتی ہے۔ جو شخص خود کو نہیں مانتا، دنیا بھی اس کی قدر نہیں کرتی۔
(3) ماضی کے تجربات
جب ہم کسی ہدف کو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد کوئی نیا قدم اٹھاتے ہیں تو پرانے تجربے کی ناکامی کا خوف ہم پر سوار ہو جاتا ہے اور اندر سے آواز آتی ہے کہ اس بار بھی ناکامی ہوگی چنانچہ اس ڈر کی بنیاد پر ہم اونچی سوچ سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔
(4)خطہ آرام (Comfort Zone)
انسان کی فطرت آرام پسند ہے۔ یہ تکلیف کو ناپسند اور راحت کو پسند کرتا ہے۔ اس وجہ سے خطہ آرام میں رہنا چاہتا ہے اور مشقت والے کام سے گریز کرتا ہے۔”خطہ آرام“ انسانی صلاحیتوں کا قاتل ہے۔ جو انسان بھی اپنے گرد آرام پسندی کا خ*ل بناکر ا س میں رہنا شروع کر دیتا ہے وہ اونچا نہیں سوچ سکتا، اس وجہ سے ترقی نہیں کرسکتا۔
(5) مسائل سے دور بھاگنا
ہم اس لیے بھی بڑا نہیں سوچ سکتے کیوں کہ ہم Challenge Lover نہیں ہیں۔ ہم مسائل سے دور بھاگتے ہیں، حال آنکہ دور بھاگنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہترین تدبیر اپنا کر اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ غور کریں اگر فلم میں ہیرو کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہیروئن مل جائے تو فلم بے مزہ ہوگی۔ ولن کا کردار فلم کو ڈرامائی رنگ دیتا ہے اور اسے دلچسپ بناتاہے۔ مسائل اور مشکلات ہماری زندگی میں ولن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو انسان جدوجہد نہیں کرے گا، وہ نیا نہیں سوچے گا اور زندگی سے اکتا جائے گا۔
(6)لانگ ٹرم نہ نہ سوچنا
بڑی سوچ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ دن، ہفتے اور مہینے تک سوچتے ہیں،اس سے زیادہ نہیں۔اس وجہ سے ان کی زندگی میں Vision بھی نہیں ہوتا۔جب Vision نہ ہو تو زندگی بے سمت ہوجاتی ہے اور انسان کو جس طرف بھی فائدہ دکھائی دیتاہے، ادھر چل پڑتاہے۔
(7)وسائل کارونا
بعض لوگ یہ عذرپیش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں،جب وسائل ہوں گے تو ہم بڑاسوچنا شروع کریں گے۔یہ محض بہانہ ہے۔کیوں کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں جس نے ہرچیزکو آسان بنادیا ہے۔آپ کچھ سیکھناچاہیں، کسی بڑی شخصیت سے رابطہ کرناچاہیں،ان سے رہنمائی لیناچاہیں توبہ آسانی کرسکتے ہیں۔
ہم کیسے بڑا سوچ سکتے ہیں، اس کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کریں۔
(1) اونچے اہداف طے کریں
اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایسے اہداف طے کریں جو آپ کو آگے بڑھنے پر ورغلائیں اور آپ کے جذبوں کو متحرک کریں۔ جب آپ انھیں پانے کا مضبوط عزم کریں گے تو آپ کا ذہن آپ کے لیے راستے بنانا شروع کردے گا۔ آپ کی تخلیقی صلاحیت ہدف تک پہنچنے کے اسباب تلاش کرے گی اور آپ آہستہ آہستہ منزل کے قریب ہوتے جائیں گے۔
(2) گروتھ مائنڈ سیٹ اپنائیں
اپنا ذہن کشادہ کریں اور ترقی پسند ذہنیت کو پروان چڑھائیں۔ یہ یقین رکھیں کہ نیا سیکھنے اور استقامت کے ساتھ محنت کرنے سے آپ اپنی صلاحیتوں اور ذہانت کو بڑھاسکتے ہیں۔Growth mindset کا کمال یہ ہے کہ بدترین حالات میں بھی یہ آپ کو مثبت اندازِ فکر دیتی ہے جس کی بدولت آپ اپنے لیے مواقع ڈھونڈ لیتے ہیں اور آگے بڑھناشروع ہوجاتے ہیں۔
(3) اعلیٰ دماغ لوگوں کی صحبت اختیار کریں
ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھیں جو اپنی سوچ اور فکر سے آپ کو متاثر کریں، آپ کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور آپ کو سوچنے پر مجبور کریں۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے آپ کو نئے امکانات نظر آئیں گے اور آپ کی سوچ بلندیوں کی طرف گامزن ہوگی۔
(4) Out of the Box Thinking
ہمیشہ ایک جیسا مت سوچیں بلکہ روایت سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش بھی کریں۔ متبادل لفظ ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ اگر ایک جگہ کام رک جائے تو اسی پر سارا زور مت لگائیں بلکہ متبادل راستہ ڈھونڈیں۔ اپنے فیصلوں میں جدت لائیں اور منفرد چیزیں تلاش کریں۔
(5) لچک اور استقامت اپنائیں
یہ یاد رکھیں کہ جب آپ بڑا سوچیں گے تو آپ کے سامنے مشکلات بھی آئیں گی، ان کے لیے خود کو تیاررکھیں۔ البتہ اگر آپ کی زندگی کا مقصد بڑا ہو تو مشکل حالات آپ کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ہر قسم کے حالات کو قبول کرنا اور مسلسل محنت کرنا ایسی خوبیاں جن کی بدولت آپ ہر طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

02/11/2025

Lecture at Edith Cowan University Perth ( Australia 🇦🇺)

02/11/2025

Pakistan International Airlines (PIA) has achieved a significant milestone with its first international flight departing from the newly opened Gwadar International Airport to Muscat.

According to a PIA spokesperson, the inaugural flight, PK-197, carried 39 passengers and departed on time, marking the commencement of international operations from the state-of-the-art airport, as reported by Express News.

Initially, PIA will operate a weekly flight on the Gwadar-Muscat route to meet the growing demand for travel and enhance regional connectivity.

02/11/2025
02/11/2025

*504 Junior clerk Jobs - for 5 to 15 Graduation Category*
Apply online through Sindh Job Portal
*آئی بی اے گریڈ 05 سے 15 گریجویشن کیٹیگری میں 40 نمبر حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لیے کلرک کی 504 خالی آسامیاں کے لئے اشتھار جارہی ۔*
👉 For Jobs Updates & Notes Follow WhatsApp Channel
https://whatsapp.com/channel/0029Va7cJF91nozEAtvFjl0K

29/07/2025

🎓چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور میں فال 2025 کے داخلے شروع ہو چکے ہیں۔

💡 یہاں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

🧪 جدید لیبز، عملی تربیت، اسکالرشپس، اور انٹرن شپ کے مواقع موجود ہیں۔
🏡 لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ ہوسٹلز، ایئرکنڈیشنڈ کلاس رومز اور 24/7 میڈیکل سہولت دستیاب ہے۔

چاہے آپ کا رجحان سائنس، آئی ٹی، بزنس یا ویٹرنری جیسے شعبوں کی طرف ہو — چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور میں آپ کے روشن مستقبل کے لیے ایک موزوں اور کامیاب راستہ پہلے سے تیار ہے۔

💬 کسی بھی قسم کی رہنمائی یا معلومات کے لیے ابھی کال یا واٹس ایپ کریں:
📞 کال: 9255727-062
📱 واٹس ایپ:7465729-0332

🛑 داخلے کی آخری تاریخ 25 جولائی 2025 ہے
آن لائن اپلائی کریں: admissions.cuvas.edu.pk

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Karachi