NYK & books

NYK & books

Share

This page is about books and books. Urdu and English books. All bookworms are invited. Please come join the page and help in promoting book culture.

27/05/2021

Humjan / ہمجان by Faris Mughal | Urdu Book Review | NYK

28/06/2020
23/06/2020

ندگی کا سفر کاٹنا ہے اگر، آگ پررقص کرنے کا فن سیکھ لے۔

جسم چاہے جلے روح پھولے پھلے ، جینا چاہے تو مرنے کا فن سیکھ لے۔

سب کریں گے تیرے درد پر رشک بھی، سب کی آنکھوں میں ہونگے تیرے اشک بھی،

دامنوں میں سمیٹے گی دنیا تجھے، ٹوٹنے کا بکھرنے کا فن سیکھ لے۔

سب کے ہاتھوں پہ چاہے تیرا خون ہو، تُو مگر ساری دنیا کا ممنون ہو،

زخمِ جاں کی مہک جائے گی دور تک ، جھوم کر آہ بھرنے کا فن سیکھ لے ۔

دوسروں سے نہیں ہے ترا واسطہ، تیرے اندر بھی ہے اک کٹھن راستہ،

حوصلے کی ضرورت ہو تُجھ کو اگر، بےضمیری سے لڑنے کا فن سیکھ لے۔

اک سمندر سی ہوگی تیری ذات بھی، اور گہرائی جیسے خیالات بھی،

بس اک کام کر مشعلیں تھام کر، پانیوں میں اُترنے کا فن سیکھ لے۔

آدمی نام ہے شوقِ تعمیر کا ، ایک ہی رُخ نہ ہو تیری تصویر کا،

چاند کی دھول بن دھول کا پھول بن ، سنگ میں رنگ بھرنے کا فن سیکھ لے۔

گونج اُٹھے گا فِضاؤں میں تیرا لہو، قطرے قطرے سے ہوگا نمودار تُو،

محفلوں میں رہا اب مظفّر ذرا، مقتلوں سے گزرنے کا فن سیکھ لے۔

مظفر وارثی

01/06/2020

*کتاب سے دوستی!*
. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فن لینڈ میں ایک مجسمہ بناکر روڈ کے ایک کنارے نصب کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص غرق ہو رہا ہے تب بھی پڑھ رہا ہے یا اسے دیکھ کر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ پڑھو چاہے تم ڈوب ہی کیوں نہ رہے ہو ۔
اس مجسمہ کو دیکھ کر مجھے علامہ سید سلیمان ندوی کی مشہور تصنیف ‘ حیات شبلی ‘ میں مذکور وہ واقعہ یاد آگیا جس کی رو سے علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ پانی کے جہاز سے ترکی کا سفر کررہے تھے اس سفر میں ان کے ہمراہ پروفیسر آرنالڈ بھی تھے کہ راستے میں اچانک سمندری طوفان آگیا اور جہاز زور زور ہچکولے کھانے لگا قریب تھا کہ جہاز ڈوب جائے ، پورے جہاز میں کہرام مچ گیا ، بدحواسی کے عالم میں مولانا شبلی نعمانی پروفیسر آرنالڈ کے کیبن میں داخل ہوئے وہاں پہنچ کر وہ کیا دیکھتے کہ وہ مطالعہ میں پوری طرح غرق ہیں ، انھوں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ پروفیسر صاحب یہاں جہاز ڈوب رہا ہے اور ایک آپ ہیں کہ مطالعہ فرمارہے ہیں مولانا شبلی کی بات سن کر پروفیسر آرنالڈ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ اگر جہاز کو ڈوبنا ہی ہے تو کیا ہمارے واویلے کرنے سے وہ بچ جائے گا اسلئے زندگی کا جو وقت بھی بچا ہے اسے غنیمت جانئے اور اس سے فائدہ اٹھایئے اسکے بعد وہ بدستور اپنے مطالعہ میں محو ہوگئے ۔
إقرأ کا یہ وہی فارمولہ ہے جس کے ساتھ پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تھی اور آج اسی فارمولہ کو اپناکر مغرب پوری دنیا پر اپنی بالا دستی قائم کئے ہوئے ہے اور ایک ہم ہیں کہ جنھیں پڑھنے کا حکم دیا گیا پھر بھی نہیں پڑھتے۔
انسان فطرتی طور عادات کے توسط سے اپنے معمولات کی سعی کیا کرتا ہے اور عادات کو گھریلو اور معاشرتی ماحول سے زندگی میں پروان پاتے ہیں۔
کتب پڑھائی کی عادت کے ساتھ' ماں باپ کی نگہداشت بسلسلہ کتب تعین خصوصی طور دینی اور اصلاحی جانب ہونا ضروری ہوتا ہے۔

29/05/2020

وسیم بریلوی

‎نوجوان لکھنے والوں کو اردو ادب میں کیا پڑھنا چاہیے؟

‎ ’دنیا پاکستان‘ میں لکھنے والے کچھ نوجوان دوستوں نے استفسار کیا ہے کہ اردو غیر افسانوی نثر کی کون سی کتابیں پڑھنا مفید ہو گا تا کہ ان کی اپنی تحریر میں سلاست اور روانی پیدا ہو سکے۔ نیز وہ اردو نثر کے مختلف اسالیب سے آشنا ہو سکیں۔ مجھے ان کی اس درخواست سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وسیع مطالعے کے بغیر ہمارے نوجوان اردو زبان پر کماحقہ عبور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور اگر ان کی تحریر کی زبان غیر مؤثر ہو گی تو ان کے دلائل بھی اپنا وزن کھو بیٹھیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے اس موضوع پر لاہور میں محمد سلیم الرحمن صاحب، عارف وقار صاحب ، محمد خالد صاحب ، مسعود اشعر صاحب اور خواجہ محمد زکریاصاحب، ادھر کراچی میں غازی صلاح الدین صاحب ، رضا علی عابدی صاحب ، آصف اسلم فرخی صاحب اور افضال احمد سید صاحب سے رہنمائی لینی چاہیے۔ ملتان میں ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر قاضی عابد اور پروفیسر خالد سعید سے فیض اٹھایا جا سکتا ہے۔ پروفیسر نیئر عباس ، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر ضیاالحسن نہایت گہری بصیرت رکھتے ہیں اور طالب علموں کی پرخلوص رہنمائی فرماتے ہیں۔ جن اصحاب کی رسائی ان اساتذہ تک نہ ہو سکے ، انہیں اپنے شہر کے کسی بھی صاحب مطالعہ استاد سے رجوع کرنا چاہیے۔
‎ کوشش کیجئے کہ اس استاد سے رابطہ کریں جس کا مطالعہ تازہ ہو۔ ایسے اساتذہ جنہوں نے گزشتہ تیس برس سے کسی نئی کتاب کو ہاتھ نہ لگایا ہو، انہیں نہایت احترام سے ملئے لیکن یاد رکھئے کہ ادب کی فہم ان پر نہیں اترتی جو مطالعے سے بے نیاز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ غلط فہمی بھی دور کر لیں کہ اردو ادب کے بارے میں صرف اسی استاد کی رائے مستند ہو گی جس نے اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہو گا۔ اردو کے خزانے زیادہ امکان ہے کہ آپ کو انگریزی یا سائنس کے اساتذہ میں مل سکیں۔ اسی طرح افسانوی نثر کے شناور بالکل مختلف ہوں گے۔ شعر کی دنیا البتہ الگ ہے اور یہاں اس سے بحث نہیں ہو رہی ۔ فہرست سازی کتب کی ہو یا اساتذہ کی، اس میں سہو اور غلطی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ خاکسار ایک مبتدی ہے اور اس کی رائے محض ایک ابتدائی نصابی خاکے کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں تو اس امید پر کچھ نام تجویز کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ہمارے نوجوان اردو ادب کے ان جواہر پاروں سے آشنا ہوں گے تو ان کا ذوق جاگے گا اور پھر وہ اپنی ذاتی جستجو کی مدد سے نئے نئے موتی اور گوہر نکال لائیں گے۔

‎ (غالب)خطوط غالب،
‎ (محمد حسین آزاد)آب حیات
‎ (فرحت اللہ بیگ) مضامین فرحت اللہ بیگ،
‎ (رشید احمد صدیقی)ذاکر صاحب
‎ (نیاز فتح پوری) من و یزداں ،
‎ (خلیفہ عبدالحکیم)فکر اقبال
‎ (داؤد رہبر)نسخہ ہائے وفا،
‎ (ڈاکٹر آفتاب احمد) بنام صحبت نازک خیالاں
‎ (سید سجاد ظہیر) روشنائی،
‎ (علی عباس جلالپوری) عام فکری مغالطے
‎ (سید سبط حسن)نوید فکر،
‎ (عبدالمجید سالک)یاران کہن
‎ (چراغ حسن حسرت)حرف و حکایت،
‎ (فیض احمد فیض)صلیبیں مرے دریچے میں
‎ (انتظار حسین)چراغوں کا دھواں،
‎ (ابوالکلام آزاد)غبار خاطر
‎ (رستم کیانی)افکار پریشاں،
‎ (ڈاکٹر مبشر حسن)رزم زندگی
‎ (اخلاق احمد دہلوی)یادوں کا سفر،
‎ (سراج منیر)مقالات سراج منیر
‎ (آغا بابر) خد و خال،
‎ (انتظار حسین)قطرے میں دریا
‎ (ناصر کاظمی)خشک چشمے کے کنارے،
‎ (شیخ صلاح الدین)ناصر کاظمی، ایک دھیان
‎ (احمد بشیر) جو ملے تھے راستے میں،
‎ (سعادت حسن منٹو)گنجے فرشتے
‎ (صفدر میر)مضامین،
‎ (عاشق حسین بٹالوی)یادیں اور تاثرات
‎ (الطاف گوہر)لکھتے رہے حکایات خونچکاں،
‎ (پطرس بخاری)پطرس کے مضامین
‎ (ڈاکٹر فاخر حسین) راہ ساز،
‎ (مشتاق احمد یوسفی)آب گم
‎ (محمد خالد اختر )مکاتیب خضر،
‎ (ابن انشا) دنیا گول ہے
‎ (قدرت اللہ شہاب)شہاب نامہ،
‎ (سید امجد حسین )اپنا گریباں
‎ (کرنل محمد خاں)بجنگ آمد،
‎ (مجتبیٰ حسین )نیم رخ
‎ (حمید احمد خان)مرقع غالب،
‎ (حکیم احمد شجاع)لاہور کا چیلسیا
‎ (مختار مسعود)سفر نصیب،
‎ (شیخ منظور الٰہی) سلسلۂ روز و شب
‎ (احسان دانش)جہان دانش،
‎ (میرا جی) مشرق و مغرب کے نغمے
‎ (حسن عسکری )مجموعہ،
‎ (مظفر علی سید) یادوں کی سرگم
‎ (فراق گورکھپوری)اندازے،
‎ (ملا واحدی) دلی جو ایک شہر تھا
‎ (جوش ملیح آبادی)یادوں کی بارات،
‎ (سید ابواعلیٰ مودودی) خلافت اور ملوکیت
‎ (اقبال شیدائی ) انقلابی کی سرگزشت،
‎ (محمد اکرم) قید یاغستان
‎ (مولوی عبدالحق) چند ہم عصر ،
‎ (مشفق خواجہ)خامہ بگوش کے قلم سے
‎ (جعفر تھانیسری ) کالا پانی،
‎ (مولوی محمد سعید)آہنگ بازگشت
‎ (چراغ حسن حسرت) حرف و حکایت،
‎ (ممتاز شیریں )معیار
‎ (اخلاق احمد دہلوی )یادوں کا سفر،
‎ (شاہد احمد دہلوی ) بزم شاہد
‎ (آغا افتخار حسین ) قوموں کے عروج و زوال کے اسباب،
‎ (حمیدہ رائے پوری) ہم سفر
‎ (اختر حسین رائے پوری) گرد سفر،
‎ (مبین مرزا ، مرتب)اردو کے بہترین خاکے
‎ (عطاالحق قاسمی) بارہ سنگھے،
‎ (نیئر مسعود) انیس (سوانح)
‎ (ذوالفقار بخاری ) سرگزشت،
‎ (شفیق الرحمن)دجلہ
‎ (جمال پانی پتی) اختلاف کے پہلو،
‎ (حسن نظامی)آپ بیتی
‎ (محمد کاظم) کل کی بات،
‎ (ظہیر دہلوی)داستان غدر
‎ (دیوان سنگھ مفتون) ناقابل فراموش،
‎ (حمید نسیم) ناممکن کی جستجو
‎ (اشرف صبوحی) بزم صبوحی،

‎ وجاہت مسعود۔ روزنامہ دنیا پاکستان

27/05/2020

Book review of Sapiens / بندہ بشر by Yuval Noah Harari

23/05/2020

چالیس سال کی عمر میں فرانسز کافکا ، برلن کے پارک سے گزر رہا تھا جب اس کی ملاقات ایک ایسی چھوٹی بچی سے ہوئی جو اپنی گڑیا کے گم ہونے پہ رو رہی تھی ۔ کافکا نے اُسے روتے دیکھا تو اس بچی کے ساتھ مل کر پارک میں گمشدہ گڑیا کو تلاش کرنے لگا پر کافی وقت گزر جانے کے باوجود اُنہیں گڑیا نہ مل سکی ۔
کافکا نے اُس بچی کو اگلے دن دوبارہ اس سے ملنے کے لئے کہا کہ کل وہ دونوں پھر سے اس گمشدہ گڑیا کی تلاش کرنے کیلئے واپس آئیں گے۔

اگلے دن ، جب انہیں دوبارہ کافی تلاش بسیار کے باوجود گڑیا نہیں ملی تو کافکا نے اس لڑکی کو گڑیا کا خط لکھا ہوا خط دیا جس میں کافکا نے گڑیا کیطرف سے لکھا تھا کہ "براہ کرم تم رونا نہیں ، میں دنیا کو دیکھنے کے لیے سفر پہ نکلی ہوئی ہوں ۔ تمہیں گاہے بگاہے اپنے ایڈونچر کے بارے میں خط لکھ کر آگاہ کرتی رہوں گی" ۔

اس طرح ایک کہانی کا آغاز ہوا جو کافکا کی زندگی کے اختتام تک جاری رہا۔ اپنی ملاقاتوں کے دوران ، کافکا بہت محتاط طریقے سے گڑیا کے خطوط بچی کو پڑھاتا جس میں دنیا جہاں کی خوبصورت کہانیاں ہوتیں جنہیں پڑھ کر بچی کو بہت خوشی ملتی ۔

بالآخر ایک دِن کافکا نے بچی کو گڑیا لاکر دی (جو اس نے خود خريدی تھی) ۔ گڑیا بچی کے حوالے کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ "دیکھو تمہاری گڑیا دنیا گھوم کر واپس برلن تمہارے پاس آگئی ہے" ۔
اس گڑیا کو دیکھ کر بچی کو بہت حیرت ہوئی ، اسے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بچی نے کہا " پر یہ میری گڑیا جیسی بالکل نہیں لگ رہی"
یہ سن کر کافکا نے اسے ایک اور خط دیا جس میں "گڑیا" نے لکھا تھا کہ "میرے سفر نے مجھے بدل دیا ہے۔" چھوٹی لڑکی نے نئی گڑیا کو گلے لگایا اور خوش ہوکر اسے اپنے گھر لے گئی ۔ اس واقعہ کے ایک سال بعد کافکا کا انتقال ہوگیا۔

بہت سال بعد جب لڑکی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکی تھی تب اُس لڑکی کو گڑیا کے اندر ایک چھوٹا سا رقعہ پڑا ملا اس چھوٹے سے خط میں ، جس پر کافکا کے دستخط تھے ، لکھا تھا کہ
" ہر وہ شے جس سے آپ محبت کرتے ہو اس کا کھو جانا/ ختم ہوجانا طے ہے ، لیکن یہ یاد رکھنا کہ آخر میں ایک دِن وہ محبت کسی اور شکل میں آپکو ضرور ملے گی۔"

25/04/2020

"پانی کی ایک بوند بھی اپنے اندر کتنی بڑی خدائی رکھتی ہے۔ کیسے کیسے ممکنات اس کے اندر پنہاں ہوتے ہیں ۔۔وہ کبھی زندگی بخش دیتی ہے اور کبھی اس زندگی کو ڈبو ڈیتی ہے اور اس بوند کے ملاپ کی صدائیں بھی جداجدا ہوتی ہیں ۔۔گھنے جنگلوں میں سرگوشیاں کرتی پتوں اور شاخوں پر سے پھسلتی تنوں پر بہتی جب مٹی میں جا جذب ہوتی ہے تو ملاپ سے پل بھر میں ایک کونپل پھوٹ نکلتی ہے ۔۔صحرا میں گرتی ہے تو خاموشی سے خود ریت ہوجاتی ہے۔۔دھول پر ٹپکتی ہے تو مٹی کی مہک جنم لیتی ہے۔۔صرف ایک بوند ایک الاٶ کو سرد کردینے کا آغازہوسکتی ہے۔۔اور ایک سیپی کے اندر گرتی ہے تو لذت سے سسکاری بھرتی ہے، اپنا منہ بندکرکے ایک موتی کی پرورش کرنے میں محو جاتی ہے۔ "

خس و خاشاک زمانے
مستنصر حسین تارڑ

23/04/2020

کیڑے نکالنا یا کیڑے ڈالنا؟
"ہم عرض کر دیں کہ اردو کا محاورہ کسی چیز میں کیڑے ڈالنا ہے‘ کیڑے نکالنا نہیں۔ کیڑے نکالنے کا تو مطلب یہ ہو گا کہ جس چیز یا جس شخص کا آپ ذکر کر رہے ہیں اس کے اندر پہلے سے کیڑے موجود تھے اور آپ وہ کیڑے نکال رہے ہیں‘ یعنی آپ اس کے کیڑے نکال کر اور اسے کیڑوں سے پاک کر کے‘ صاف ستھرا کر رہے ہیں۔ یہ ہم اپنی زبان دانی کا رعب نہیں جما رہے ہیں۔ ہم نے اپنے استادوں سے یہی سنا‘ اور ادب کی کتابوں میں یہی پڑھا ہے۔ ہمیں تو صحافت میں بھی حمید ہاشمی اور ظہور عالم شہید جیسے استاد ملے۔ اگر کوئی سب ایڈیٹر لکھ دیتا کہ فلاں صاحب کراچی کے لئے روانہ ہو گئے‘ تو اسے ڈانٹ پڑتی ''کراچی روانہ ہو گئے۔ کراچی کے لئے نہیں۔‘‘
(مسعود اشعر صاحب کے کالم سے اقتباس)

05/04/2020

My Diary/میری ڈائیری | S01-E01| Naveed Yar Khan

In this series, I will be reading my diary for you. In addition I will be reading some excerpts from books I read. Hope you enjoy it.

15/01/2020

محبت چھلاوہ ھے۔ ۔ ۔ جس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ھے کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں وہ اتصال جسم کے خواہاں ہیں ۔ کچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں ۔ کچھ کو سمجھ سوچ و ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ھوتا ہے ۔ ۔ ۔ محبت چھلاوہ ہے جولاکھ روپ بدلتی ہے ۔ ۔ ۔ اسی لیے لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضرورتیں پوری کر دے یہ ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ اور بالفرض کوئی آپ کی ہر سمت ہر جہت کے خلا کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ اس کی ہر ضرورت کو ہر جگہ ہر موسم اور ہر عہد میں پورا کرسکیں گے ۔ ۔ ۔ انسان جامد نہیں ہے بڑھنے والا ہے اوپر دائیں بائیں ۔ ۔ ۔ اس کی ضروریات کو تم پابند نہیں کر سکتے ۔۔۔

ًبانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Karachi