Arshad Abdul Latif

Arshad Abdul Latif

Share

Allah Loves you , You Obey Allah

07/01/2023

عشاء کی نماز میں جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے ساتھ شروع ہو گئے کہ چھوٹے بچے کو مسجد میں کیوں لائے ہیں۔ نابالغ بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں۔ وہ شخص تو خاموش رہا لیکن میں نے اس بزرگ سے کہا کہ بقیہ نماز کے بعد اس کا جواب آپ کو میں دیتا ہوں، ابھی آپ خاموش ہو جائیں پلیز۔
باقی نماز مکمل کرنے کے بعد میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔ اس بزرگ نے نماز مکمل کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بیٹے ہیں؟
انھوں نے جواب دیا ماشاءاللہ تین ہیں اور ادھر ہی سب کے گھر ساتھ ساتھ ہی ہیں۔
میں نے پھر پوچھا کہ پوتے کتنے ہیں؟
کہنے لگے، ماشاءاللہ تینوں بیٹے صاحبِ اولاد ہیں۔ تینوں سے پانچ پوتے ہیں۔
میں نے پوچھا کہ ابھی عشاء کی نماز پر آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کوئی آیا تھا؟
انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
میں نے انھیں کہا کہ بزرگو! اگر بچپن سے ہی بچوں کو مسجد میں ساتھ لانے کی عادت ڈالی ہوتی تو ابھی آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے بھی یہاں مسجد میں موجود ہوتے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ مسجد آنے کی ضد کرتے ہیں تب ہم انھیں منع کر دیتے ہیں، وہ روتے ہیں، ضد کرتے ہیں لیکن انھیں روتا چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ بعد میں بڑے ہو جاتے تو آپ کہتے ہیں تو وہ نہیں آتے۔ بچپن سے ہی عادت بنانی پڑتی ہے۔
بات تھوڑی سی انھیں سمجھ آئی ، مگر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لیکن نابالغ بچوں کو نہیں لانا چاہیے، وہ دوسروں کی نماز خراب کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ بزرگو!بچوں کو سات سال میں ہی نماز پڑھانے کا حکم ہے اور دس سال تک نہ پڑھیں تو سختی کا حکم ہے۔ اب سات سال کا کونسا بچہ بالغ ہو جاتا ہے؟
کیا آپ نے احادیث شریف میں پڑھا ہے کہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے اور انھیں سجدہ بھی لمبا کرنا پڑ جاتا تھا۔ پھر خطبہ جمعہ کے دوران بھی جب یہ دونوں آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اٹھا کر پاس ممبر پر بٹھا لیتے تھے۔ اور بھی کئی بچوں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کیا یہ بچے چھوٹے نہیں تھے؟
اور نماز کیسے خراب ہوتی؟بچوں کے شور سے؟ تو باہر گلی سے شور نہیں آ رہا کیا؟
آگے گزرنے سے؟ تو آگے سے بچے گزر جائیں، انھیں کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔
کوئی بھی بچہ چند دن بھی مسجد آجائے تو اسے سارے ادب و آداب کو پتہ چل جاتا ہے۔
پھر میں نے پچھلی صف کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دو بچے بیٹھے ہیں، دونوں میرے بیٹے ہیں۔ ایک دس سال کا اور دوسرا چار سال کا۔ بڑا خود شوق سے آیا ہے کہ اسے پتہ ہے اب اس پر نماز فرض ہے اور چھوٹا خود ضد کر کے آیا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ابھی بہت سردی ہے، آج نہ آؤ لیکن اس نے جرسی کوٹ پہنا، بوٹ پہنے اور آگیا۔ ابھی دیکھیں سکون سے بیٹھے ہیں۔ دونوں کو مسجد کے آداب کا پتہ ہے۔
میرے والد صاحب مجھے چھوٹے ہوتے سے ہی مسجد ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ کے کرم سے ایسی عادت بنی کہ کسی وجہ سے جماعت رہ جائے تو بے چینی لگی رہتی ہے ۔
فرانس میں دیکھا کہ وہاں بسنے والے عربوں اور ترکوں میں نماز کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس کی باقی کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹے وقت سے ہی مسجد میں ساتھ لاتے ہیں۔ جبکہ یہاں برصغیر پاک و ہند میں کوئی بچہ مسجد آجائے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے، کئی مساجد میں شور کرنے یا شرارتیں کرنے پر مارا جاتا ہے ، اور یوں اسے شروع سے ہی مساجد سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مسجد جو جمعہ کی نماز پر بھری ہوتی ہے، اسی میں باقی نماز کے اوقات میں پانچ دس فیصد سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔
مسجد اللہ کا گھر ہے۔ اس پر بچوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا بڑوں کا۔ جو بچے آئیں انھیں پیار دیں اور پیار سے سمجھائیں۔ جو بچوں کا ساتھ لائے اسے ایسے نہ گھوریں کہ جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ وہ پیار سے سمجھاتا ہے بچوں کا، اسے سمجھانے دیں۔
میں نے ادب سے انھیں سلام کیا اور آگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اس بزرگ کے ساتھ اس کے دو پوتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عدنان خان نیازی
#نیازیات

20/09/2022

😂

ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔۔۔
کیا وجہ ہے ؟؟
۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کررہےہیں ۔۔۔
۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے 😍۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔۔۔۔
اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا۔تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔۔۔۔۔
اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟؟؟

۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے😜😜۔۔۔

وزیر نے حسب عادت کچھ بستر گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔۔۔
جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا۔۔۔۔
تو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں ؟؟؟۔۔۔۔
تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئین کرنا ہی تھا ۔اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی۔تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ۔۔۔
وزیر جب واپس آیا تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے.....
بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ...😜😝

اور روزانہ کرتے رہیں گے۔۔۔😝👍

بادشاہ سلامت یہ سن کے بہت خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا...!!!!

اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے ۔ ملازمین و عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ۔مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے۔اور بادشاہ سلامت خوش ہیں...!😜

12/05/2021

انشاء اللہ نورانی مسجد لیمارکیٹ میں عیدالفطر کی نماز 7:15 منٹ پر ادا کی جائے گی
جزاک اللہ خیرا

15/11/2020

انیس بیس برس پہلے انہی دنوں سید پرویز مشرف شاہ قوم کو بتایا کرتا کہ امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو پتھر کے زمانے میں پہنچ جائیں گے بش جونئیر میرا دوست ہے یقین دھانی کراچکا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا اسی لئیے ہم نے مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والے جہادی گروہوں پہ پابندی لگا دی انڈین شک و شبہے کو دور کرنے کے لئِے باڑ بھی پورے اہتمام سے لگنے دی اس سرحد کا احوال جاننے والے بتاتے ہیں کہ یہ صرف ایک باڑ نہیں بلکہ مختف فاصلوں سے تین باڑیں لگی ہیں اور کئی مقامات پہ انسانی وزن جتنی سرسراہٹ محسوس کرکے فائر کرنے والی خود کار مشین گنیں بھی نصب ہیں یعنی چند چوری چھپے رستوں کے سوا اب مقبوضہ وادی آنا جانا مشکل ترین کام ہے یہ تو خیر یاد دھانی تھی کہ بیس برس پہلے کیا ہوا تھا کیونکہ قوم کو نسیان کا مرض لاحق ہے اسی کی ذیل میں عرض ہے کہ 99 وہ کامیاب ترین سال تھا جب واجپائی خود چل کر نہ صرف لاہور آیا بلکہ کشمیر پہ مذاکرات کی سنجیدہ پیش کش کی { بنیادی وجہ اٹحاسی سے شروع ہوئی وہ کامیاب عسکری اور سیاسی تحریک تھی جس نے ہند کو محض دس برس میں گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کیا } لیکن افسوس ایک فاتر العقل گھمنڈی نفسیاتی مریض نے کارگل کا ناقص منصوبہ تیار کیا جسکے نتیجے میں کشمیر تو کیا لیتے خود اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور نواز شریف کو دوڑا کر مشرف نے اپنی جان خلاصی کرائی کیونکہ وہ بری طرح پھنس چکا تھا { پروپیگنڈا البتہ یہ کرایا گیا کہ کشمیر کی فتح قریب تھی کہ نواز شریف نے کلنٹن سے ملاقات کرکے ہماری فتح شکست میں بدل دی } اور پھر اسی احسان فراموش نے اقتدار پہ غاصبانہ قبضہ کیا اور گفت و نشید میں وہ تعطل آیا کہ آج دن تک ہم بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں مگر وہ ہمیں کہیں بھی لفٹ نہیں کراتا ۔۔۔۔
کل جب ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر خارجہ پریس کانفرنس کرکے افغانستان کے رستے پاکستان میں ہندی مداخلت کالعدم تنظیموں میں اربوں رقوم کی تقسیم ان گروہوں کے گٹھ جوڑ ریاست پاکستان پہ حملوں وغیرہ کی تکلیف دہ داستان ثبوتوں کیساتھ سنا رہے تھے تو بے اختیار دبئی کے اسپتال میں اربوں روپے اکاونٹ میں رکھنے والا مشرف شاہ یاد آیا اسکی ساری بھڑکیں باتیں فلسفہ یاد آیا کہ جب اس وقت اسلام و پاکستان کے خیر خواہ کہتے تھے کہ مشرف کی پالیسی کی نتیجے میں پاکستان جہنم بننے جارہا ہے ہند افغانستان میں تیزی سے جگہ بناکر ہم پہ حملہ آور ہوگا اور ہم سے لڑنے والے بھی ہمی میں سے ہونگے تو مشرف کے عقیدت مندوں کو یہ باتیں مذاق لگتی تھیں ،پھر ہوا کیا ؟؟
لوگ لاپتہ ہونا شروع ہوئے ، قبائل و بلوچستان میں ایسی آتش بھڑکی کہ آج تک پاکستان سلگ رہا ہے لال مسجد آپریشن ہوا ردعمل میں ایک خونریز جنگ چھڑ گئی اور نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہوا کیونکہ سید مشرف تو آج بھی دبئی میں بیٹھا فیملی لائف سے لطف اٹھا رہا ہے
یہ بات اب طے ہے کہ تقسیم ہند وہ زخم ہے جسے بھارتی فراموش نہیں کرسکے ہیں یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہماری ریاستی پالیسی کا محور ہندی طاقتور ریاست کے سامنے اپنا دفاع ہے ، ظاہر ہے جب یہ صورت حال ہو تو پھر صحت تعلیم معیشت سب نظر انداز ہوتے ہیں کیونکہ بڑے دشمن کے سامنے بقاء کی جنگ سب سے اہم قرار پاتی ہے ۔
پاکستان کو درپش مسائل لیپا پوتی جذباتی باتوں غداری کے فتوں سے دور نہیں ہوسکتے ، پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ اسٹیبلشمنٹ ہے سیاسی جماعتوں اور فوج کے درمیان کھلے دل کیساتھ مذاکرات لازمی ہیں ہر فریق اپنی خامیوں کا اعتراف کرے جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا دیں { بظاہر یہ ناممکن کی حد تک مشکل ہے } سزا نہیں دے سکتے اعتراف ضرور کریں اور آگے بڑھیں لاپتہ شہری عدالتوں میں پیش کریں بلوچستان و قبائل کے مسائل سنجیدگی سے سنیں جو قابل عمل ہیں انکے بارے میں اقدامات اٹھائیں صوبائی خود مختاری کو مزید وسعت دیں اور بلوچستان و قبائل کو اس حوالے سے خصوصی اہمیت دیں یہ مسائل طاقت کی بنیاد پہ حل نہیں ہوسکتے ہم امریکا نہیں ہیں جو آج مذاکرات کے نتیجے ہی میں اپنا راستہ بنارہا ہے
ہم آپس کے معاملات طے کرلیں گے تو ہند کا مقابلہ مشکل نہیں اسے آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے مگر اس سے پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا
آخری بات عالمی اداروں کے لئِے کہ جب پاکستان کے حوالے سے طالبان کی حمایت پہ پابندیوں کی بات ہوسکتی ہے ممبئی حملوں کے لئیے اسے کٹھہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے تو بھارت کی مداخلت رقوم کی فراہمی کے ثبوت کلبھوشن اور کالعدم تنظیموں کی حمایت بابت پاکستانی ثبوت کیوں نظر انداز کئِے جاتے ہیں ؟؟؟ پاکستان تو چلیں پسماندہ ریاست ہے لیکن آپ جو ٹیکنالوجی معیشت اور دفاعی اعتبار سے طاقتور ہیں انسانی حقوق کے علمبردار ہیں ، کیونکر اپنی ذمہ واریاں ادا نہیں کرتے ؟؟؟؟

Faizullah Khan

Photos from Arshad Abdul Latif's post 23/08/2020

یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے، لیکن شاید یہ نہیں جانتے ہیں پاکستان کا یہ قومی جانور دنیا میں جانوروں کی نایاب ترین نوع ہے۔ مارخور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ اُن 72 جانوروں میں شامل ہے جن کی تصاویر عالمی تنظیم برائے جنگلی حیات کے 1976ء میں جاری کردہ خصوصی سکہ جات کے مجموعے میں شامل ہے۔ جنگلی بکرے کی خصوصیات کا حامل یہ خوبصورت جانور گلگت بلتستان کی ٹھنڈی فضاؤں کے علاوہ کشمیر، چترال اور کیلاش کی سرسبز وادیوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ قیمتی اور کم یاب نوع بھارت، افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے کچھ علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں بالغ مارخور کی تعداد 25 سو (ڈھائی ہزار) سے بھی کم ہے۔

مارخور پہاڑی علاقوں میں رہنا پسند کرتا ہے اور 600 سے 3600 میٹر کی بلندی تک پایا جاسکتا ہے۔ اِس کے قد و قامت میں نمایاں اِس کے مضبوط اور مڑے ہوئے سینگ ہیں جن کی لمبائی 143 سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے۔ جبکہ اِس کا وزن 104 کلو گرام تک ہوتا ہے اور اونچائی 102 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ مارخور کی تین اقسام مشہور ہیں جن میں استور مارخور، بخارائی مارخور اور کابلی مارخور شامل ہیں۔

مارخور پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسی آئی ایس آئی کا نشان بھی ہے۔ مارخور فارسی کے الفاظ کا مجموعہ ہے، جس میں ’مار‘ کے معنی سانپ اور ’خور‘ کے معنی ہیں کھانے والا۔ مارخور کے متعلق بہت سی لوک کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ اِن مقامی لوک کہانیوں کے مطابق مارخور سانپ کو مار کر اُس کو چبا جاتا ہے، اور اُس جگالی کے نتیجے میں اِس کے منہ سے جھاگ نکلتا ہے جو نیچے گر کر خشک اور سخت ہوجاتا ہے اور جسے پھر سانپ کے کاٹنے پر تریاق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

19/07/2020

‏حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا، اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلمانوں اور قیصر کی فوج کے درمیان لڑائی نے طول پکڑ لیا، قیصر مسلمانوں کی بہادر اور ثابت قدمی پر حیران ہوا ‏اور حکم دیا کہ مسلمانوں کا کوئی جنگی قیدی ہو تو حاضر کیا جائے۔ عبد اللہ بن حذافہ کو لا کر حاضر کیا گیا جن کے ہاتھوں اور پاوں میں ہتھکڑیاں تھی، قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی تو ان کی ذہانت سے حیران رہ گیا، دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:-
قیصر: نصرانیت قبول کر لے تمہیں‏رہا کر دوگا۔
عبد اللہ: نہیں قبول کروں گا۔
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا
عبد اللہ: نہیں
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں حکمرانی میں شریک کروں گا
عبد اللہ: نہیں، اللہ کی قسم اگر تم مجھے اپنی پوری مملکت، اپنے آباواجداد کی مملکت،‏عرب وعجم کی حکومتیں بھی دے دو تو میں پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا۔
قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا،
عبد اللہ: مجھے قتل کردے۔
قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک ستون پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے (ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت‏قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے۔
جب قیصر نے دیکھا کہ اس سے بھی بات نہیں بنی اور وہ کسی حال میں بھی اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ اسکو قید میں ڈال دو اور کھانا پینا بند کر دو ۔۔۔ عبد اللہ کو کھانا پینا نہیں دیا گیا‏یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے موت کے قریب ہو گئے تو قیصر کے حکم سے شراب اور خنزیر کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا گیا۔۔۔
جب عبد اللہ نے یہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں وہ مضطر( پریشان حال) ہوں جس کے لیے یہ حلال ہے، مگر میں کفار کو خوش کرنا نہیں چاہتا، یہ کہہ کر‏کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ یہ بات قیصر کو بتائی گئی تو اس نے عبد اللہ کے لیے بہترین کھانا لانے کا حکم دیا ، اس کے بعد ایک حسین وجمیل لڑکی کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو چھیڑے اور فحاشی کا مظاہر ہ کرے۔۔۔اس لڑکی نے بہت کوشش کی مگر عبد اللہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی‏اور اللہ کےذکر میں مشغول رہے۔۔۔
جب لڑکی نے یہ دیکھا تو غصے سے باہر چلی آئی اور کہا : تم نے مجھے کیسے آدمی کے پاس بھیجا میں سمجھ نہ سکی کہ وہ انسان ہے یا پتھر۔۔۔ اللہ کی قسم اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں مذکر ہوں یا مونث!!
جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبد اللہ کے‏بارے میں مایوس ہوا تو ایک پیتل کی دیگ منگوائی اور اس میں تیل ڈال کر خوب گرم کیا اور عبد اللہ کو اس دیگ کے سامنے لایا اور ایک دوسرے مسلمان قیدی کو زنجیروں سے باندھ کر لایا گیا اور ان کو اٹھا کر اس ابلتے تیل میں ڈالا گیا جن کی ایک چیخ نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں‏الگ ہو گئیں اور تیل کے اوپر تیرنے لگی، عبد اللہ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، اب ایک بار پھر قیصر عبد اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور نصرانیت قبول کرنے اور اسلام چھوڑنے کی پیش کش کر دی مگر عبد للہ نے انکار کر دیا۔
قیصر غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ اس دیگ میں موجود تیل‏ اٹھا کر عبد اللہ کے سر پر ڈال دیا جائے، جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبد اللہ کے قریب کی اور اس کی تپش کو عبد اللہ نے محسوس کیا تو وہ رونے لگے!!
آپ کی ان خوش نصیب آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے جن آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تھا!!‏یہ دیکھ کر قیصر خوشی سے جھومنے لگا اور کہا : عیسائی بن جاو معاف کر دوں گا۔
عبد اللہ نے کہا : نہیں
قیصر: تو پھر رویا کیوں ؟
عبد اللہ : اللہ کی قسم میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میری ایک ہی جان ہے جو اس دیگ میں ڈالی جائے گی ۔۔۔ میری یہ تمنا ہے کہ میری میرے‏سر کے بالوں کے برابر جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں نکلیں۔۔۔
یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبد اللہ سے کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کروں؟
عبد اللہ: اگر میرے ساتھ تمام مسلمان‏ قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں۔
قیصر : ٹھیک ہے۔
عبد اللہ نے اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سرکوبوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کر دیے گئے۔
جب واپس عمر بن الخطاب کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتا دیا گیا‏تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبد اللہ کے سر کو بوسہ دیا ۔ رضی اللہ عنھم,
ہماری اولادیں یہ تو جانتی ھیں, کہ سپرمین, آئرن مین, بیٹ مین..
‏یہ ہیرو ہیں جو کہ خیالی ہیں, اور اصل ہیرو کون اور کیسے ھوتے ہیں یہ نہیں علم,
(حیات اصحابہ)
اللہ سب کو علم دین سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا کرے....
آمین........

يہ نبى عليہ السلام كى تربيت أور جزبہ ايمانى سبحان الله
يہ دين كى سربلندى كسى ايک شخص يا ايک خاندان كى مرہون منت نہيں. بلكہ آيک ايک صحابى كى جانثارى ہے.
الله تعالى ہر صحابى پر كروڑوں رحمتوں أور بركتوں كا نزول فرماۓ

30/06/2020

ایک نعرہ ہونا چاہئے ( اسلام آباد میں مندر کی تعمیر نا منظور) ھر مسلمان اپنا حق ادا کرے نا منظور نا منظور

25/06/2020

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیے

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.

ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ،

✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ
ﮐﯿﺎ
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘

ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
’’ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔

◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
◾ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"

◾ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘

◾ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، *ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔

ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘

ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘

ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ*، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

*ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘

جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا."

ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﮨﻮتا-`

15/05/2020

*📌 بیداری فکر*

*🎙️ مولانا عبد الستار صاحب حفظہ اللہ*

*📆 21 رمضان المبارک 1441ھ / 15 مئی 2020ء بروز جمعة المبارک*

*الحمدللہ والصلاة و السلام علی سیدنا محمد وعلی آله وأصحابه أجمعين*

أعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

میرے معزز بزرگوں اور بھائیو !

پچھلے دو ماہ سے ہم نے ممبر پر بیٹھ کر کوئی بات نہیں کی، پیش نظر حکومت وقت کی ہدایات، اپنے بزرگوں کی بات، لیکن اب حضرات دیکھ رہے ہیں کہ وطن عزیز میں ہمارے حکمران کس طرح فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں اور فرقہ پرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ہمارے لئے مساجد بند، جمعہ بند، تراویح بند، اعتکاف بند، رمضان کی عبادات بند اور دوسری طرف پورا پروٹوکول ہے، اس کے لئے تاجر کی ضرورت کی دکان بھی بند ،سڑک بھی بند اور انہیں ہمیشہ یہ پروٹوکول ملتا ہے تو ملتا رہے، ہمیں کوئی پرواہ نہیں لیکن مساجد کیوں بند ہوں؟
جمعہ پر کیوں پابندی ہو؟
رمضان کی عبادات کیوں روکی جائیں؟
تروایح اس کے انتظامیہ کیوں حرکت میں آجائے؟
اعتکاف سے مسلمانوں کو کیوں محروم رکھا جائے؟
میرے عزیزو!
ہم بھی گھروں میں سمٹ کر بیٹھ گئے ہیں، آپ کے ارد گرد مساجد بند پڑی ہیں، مگر ہم سمٹ کر بیٹھ گئے ہیں، اللہ کے گھروں کو آباد کرو!
کس انداز سے پورا اس پورے رمضان میں دیندار طبقے کو ذہنی ٹارچر دیا گیا ہے!
وکیل بھی بولتے ہیں مساجد!
ڈاکٹر بھی بولتے ہیں مساجد!
صحافی بھی بولتے ہیں مساجد!
اینکر بھی بولتے ہیں مساجد!
جج بھی بولتے ہیں مساجد!
تو اب کوئی کیوں نہیں بولتا ہے؟ کیوں اب کوئی پریس کانفرنس نہیں کرتا؟
وائرس ہے لیکن اسے آپ اہل دین کے خلاف ، تاجروں کے خلاف ، صنعت کاروں کے خلاف ملک کے عدم استحکام کی طرف اسے لے جائیں؟
اور ملک کو فرقہ واریت میں جھونک دیں؟
وطن عزیز محب وطن مسلمان اسے بر داشت نہیں کر سکتا!
اہل دین ملک سے محبت کرنے والے ہیں اس ملک کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن حکمران فرقہ پرست ہیں!
یہ فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں!
انتظامیہ میں کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے مساجد کے خلاف ، اہل دین کے خلاف اور انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ میں لابی ہے جس نے مساجد کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا ہے اور نادان ڈاکٹر (طبیب) یہ بھی اس میں استعمال ہوئے ہیں !!!
اللہ کے گھر کیا ہم SOP استعمال نہیں کر رہے ہیں؟
ہم اس کا اہتمام نہیں کر رہے ؟ پورے کراچی بلکہ ملک میں SOPs کا اہتمام سب سے زیادہ الحمد للہ مساجد میں ہو رہا ہے لیکن یہ ٹارگٹ ہے!
بہرحال ! جمعہ بھی ہوگا ، تراویح بھی ہوگی ، طاق راتیں بھی ہونگی، آباد ہوں گی یہ مساجد، لیکن آپ لوگوں کو بھی ہمت کرنی ہوگی، آپ لوگوں کو بھی اللہ کا گھر آباد کرنا ہوگا، ابھی عید کی نمازیں بھی انہیں ستائیں گی، ڈاکٹر بھی بیٹھیں گے، سیاستدان بھی بولیں گے، اینکر بھی بولیں گے، صحافی بھی بولیں گے ل، حکمران بھی بولیں گے، یہ ہماری کمزوری ہے اور یہ ہماری کمزوریوں سے یہ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ تو ہماری شرافت ہے، ہم نہیں چاہتے اس ملک میں بدامنی ہو، ہم نہیں چاہتے کہ فرقہ واریت ہو، ہم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا نہیں چاہتے لیکن یہ بھی تو ظلم ہے کہ تمام تر SOPs کے باوجود مساجد اہل دین، اہل مدارس، مسلمان تاجر کو ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے، ہمت کرنی ہوگی ، حوصلے سے کام لینا ہوگا ، دین سے، مساجد سے، دینی شعائر سے، اپنی وابستگی دکھانی ہوگی تو جمعہ بھی ہوگا اور ان شاء اللہ تراویح بھی ہوگی اور طاق راتوں کا سلسلہ بھی ہوگا!!
اللہ کے گھروں میں آئیں، آباد کریں، *کوئی گنجائش نہیں ہے گھروں میں فرض نماز پڑھنے کی، کوئی گنجائش نہیں ہے کہ گھروں میں جمعہ پڑھا جائے!*
یہ وائرس جو ہے اگر اس نے آنا ہے تو قلعوں کے اندر بھی آکے رہے گا، کوئی نہیں بچا سکتا اس وائرس سے ہمیں لیکن اگر آپ مساجد میں آتے ہیں اور آپ کو خوف ہے کہ وائرس لگ جائے گا تو احتیاطی تدابیر کریں، اللہ پر بھروسہ کریں، اللہ کے گھروں سے مسلمانوں کو دور کیا جارہا ہے ہم اللہ کے گھروں سے دور ہو رہے ہیں!!!
کیا دکھ کی بات ہے مسلمانوں کو ایک طاقت توانائی رمضان میں ملتی تھی اور اس توانائی سے وہ پورا سال صراط مستقیم پر چل پڑتا تھا، کتنوں کی زندگیاں بدل جایا کرتی تھیں، پورا مہینہ ہمیں ذہنی ٹارچر دیا گیا، ذہنی طور پر پریشان رکھا گیا، کبھی ہم نیچے اندھیروں میں نماز ہڑھ رہے ہیں!
کہیں لائیٹیں بند کر رہے ہیں!
کیا ہم مقبوضہ کشمیر میں ہیں؟
کیا ہم کافروں کے ملک میں ہیں؟
جب ہماری حرکتیں مسلمانوں کے ساتھ مساجد کے ساتھ یہ ہوں گی تو پھر ہندوؤں پر کیا رونا کہ انہوں نے مساجد ڈھا دی، انہوں نے اذانوں پر پابندی لگا دی؟ انہوں نے اللہ کے گھر بند کر دیئے ؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟؟
بڑے دکھ کی بات ہے کہ اب تک مساجد جمعہ کے لئے بند ہیں!!
فرض نماز پڑھنا گناہ بن گیا کیا؟ ایک چھوٹا سا دروازہ کھل رہا ہے، فرض نماز کے لئے اللہ کے گھر میں آنا مشکل کر دیا ہے، کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ اسلامی ملک میں نہیں ہیں اور دوسری طرف اسٹور بھی بند ہیں ، کریانہ کی دکان بھی بند ہیں ، سڑکیں بھی بند ہیں ، کنٹینر بھی ہیں پروٹوکول ہے !!!
میں عرض کر رہا ہوں کہ دو طرف پروٹوکول ہے لیکن ہمارے ساتھ ظلم مت کرو !!!
مساجد پر ظلم مت ڈھاؤ !!
سینکڑوں لوگ اعتکاف میں بیٹھا کرتے تھے اللہ کے گھروں میں !!
مگر اب اعتکاف بھی نہیں ہے، لوگوں کی زندگی بدل جاتی تھی، تروایح کے انوارات تھے، برکات تھیں ، رونقیں تھیں ، اللہ کے رحمتیں نظر آتی تھیں ، کیا حال ہے اس سب کا ؟؟
تو عید کی نماز بھی ہوگی اور اہتمام سے ہوگی ، اندر جگہ نہیں ہے تو باہر سڑک پر بنائیں، SOPs کا اہتمام ہو، تو اس کا اہتمام ہم پہلے بھی کر ریے تھے اور کریں گے جب سے یہ معاملہ ہے مستقل ماسک استعمال ہو رہا ہے، ہزاروں استعمال کر چکے ہیں، ہدیہ کر چکے ہیں، ہم ان ہدایات پر عمل پیرا ہیں، لیکن یہ کیا ظلم ہے کہ تراویح نہیں ، اعتکاف نہیں ، وہاں مجلسیں بھی ہیں ، جلوس بھی ہیں ، سب کچھ ہے !!!
یہ فرقہ واریت کو فروغ دیا جا رہا ہے!!
تعصب کو فروغ دیا جا رہا ہے !!
یہ فرقہ پرست حکمران اس ملک سے دشمنی کر رہے ہیں !!
ان شاء اللہ !! اللہ کر گھر آباد ہوں گے، گھروں میں نماز نہیں ہوگی، فرض نماز گھروں میں بالکل نہیں، مساجد کو آباد کریں، اللہ کے گھروں کو آباد کریں، فکر ہو کہ اللہ کے گھر کیوں بند ہو گئے ہیں !!
مسلمان معاشرے میں اللہ کے گھر بند ؟؟
غور کریں!!!!!!!

26/04/2020
15/04/2020

سلطنت عثمانیہ میں دو قسم کی کنڈیاں ہوتی تھی۔
ایک بڑے دائرے والی اور ایک چھوٹے۔
اگر گھر پر مرد مہمان آتا تو *بڑی کنڈی سے دروازہ کھٹکھٹاتا
جسکی آواز بھاری ہوتی تو گھر* *کا مرد اٹھ کر دروازہ کھولتے
اور اگر کوئی عورت مہمان آتی تو وہ چھوٹے دائرے والی
کنڈی کھٹکھٹاتی جسکی آواز تیز اور باریک ہوتی تو گھر
کی عورتیں دروازہ کھولتی...
حیا کا ایک پیکر تھا کبھی

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi