12/04/2023
مختصر سیرتِ مبارکہ:
امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے ۔ یہ خاندان حرم کعبہ کی خدمات ، سقایہ زمزم کے انتظامات کی نگرانی اور حجاج کرام کے ساتھ تعاون و امداد کے لحاظ سے مکہ کا ممتاز خاندان تھا ۔
حضرت علیؓ کے والد ابو طالب اور والدہ فاطمہ دونوں ہاشمی تھے۔ اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نجیب الطرفین ہاشمی پیدا ہوئے۔
بعض اقوال کے مطابق حضرت علیؓ کی ولادت مکہ شریف میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی اور بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تیس سال بعد حضرت علی ؓ پیدا ہوئے ۔
حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو اپنی کفالت میں لے لیا تھا اس لئے حضرت علیؓ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش محبت میں تعلیم و تربیت نصیب ہوئی ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے کے بعد اسلام کی طرف دعوت دینے کا آغاز فرمایا تو نوخیز لڑکوں (بچوں)میں سے سب سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تربیت پانے واے حضرت علیؓ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
اسلام قبول کرتے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے الفاظ تھے ”گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے اور میری ٹانگیں دبلی پتلی ہیں تاہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور دست و بازو بنوں گا۔ “حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”بیٹھ جاﺅ ‘ تو میرا بھائی اورمیرا وارث ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان نثاری کا یہ عالم تھا کہ حضور نبی کریم کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت حضرت علیؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سکون و اطمینان کے ساتھ محو خواب ہو ئے اور صبح لوگوں کی امانتیں ان کے سپرد کرکے اور لین دین کے معاملات سے فراغت حاصل کرکے عازمِ مدینہ ہوئے ۔
جرات و بہادری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزوہ بدر میں دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے حضرت علیؓ کو ہی چند منتخب جاں بازوں کے ساتھ بھیجاگیا اور انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔
غزوہ احد میں حضرت مصعب بن عمیرؓکی شہادت کے بعد آگے بڑھ کر علم سنبھالااور بے جگری کے ساتھ داد شجاعت دی۔
غزوہ خندق میں دیگر کارناموں کے علاوہ بنو قریظہ کی سرکوبی کی مہم میں بھی آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
فتح خیبر کا شرف بھی حضرت علی ؓ کو حاصل ہوا۔ اس معرکہ میں حضور نبی کریم نے اپنا علم حضرت علی ؓ کو دیا علم دینے سے ایک دن پہلے فرمایا تھا کہ ”کل ایک ایسے بہاد ر کو علم دیا جائے گا جو خدا اور رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اسی کے ہاتھ میں مقدرہے۔ اس معرکہ میں حضرت علی ؓ نے خیبر کے یہودیوں کے سردار مرحب کو ایک ہی وار میں ڈھیر کر دیا تھا اور حیرت انگیز شجاعت کے ساتھ خیبر کے مضبوط قلعہ کو فتح کر لیا تھا۔
اس کے علاوہ فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ تبوک اور کسی بھی موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری ہمیشہ مثالی رہی۔
فضائل و مناقب کی بات کی جائے تو غزوہ تبوک کے موقع پر حضور نبی پاک نے حضرت علی ؓ کو اہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا تو شیر خدا کوجہاد سے محرومی کا غم لاحق ہو گیا۔ حضور نبی پاک نے ان کا غم دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : ً علی ؓ ! کیا تم اسے پسند کرو گے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے نزدیک تھاً۔
آپ (حضرت علیؓ)کے تقرب و اختصاص کی بناءپر خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپؓ کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے بچپن ہی میں لکھنے پڑھنے کی تعلیم حاصل کرلی تھی ۔ چنانچہ کاتبان وحی میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام بھی شامل ہےاس کے علاوہ حدیبیہ کا صلح نامہ بھی آپ رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا۔
حضرت علیؓ نے بچپن سے لے کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک پورے تیس سال حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور رفاقت میں بسر کئے او ر سفر و حضر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریباً تیس سال تک حضرت علیؓ مسند ارشاد پر فائز رہے ۔ پہلے تین خلفائے راشدینؓ کے عہد میں دعوت و ارشاد اور قضاءکی خدمت حضرت علیؓ کے سپرد رہی اور اپنے زمانہ ءخلافت میں بھی حضرت علیؓ کا فیض جاری رہا ۔ حضرت علیؓ کی روایتِ حدیث کی تعداد 586ہے ۔ حضرت علی ؓنے حضور نبی کریم کے علاوہ اپنے رفقائے محترم اور ہم عصروں میں حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضر ت عمر فاروقؓ،حضرت مقداد بن الاسودؓاوراپنی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ ؓسے بھی روایتیں کی ہیں ۔
آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد حضرت امام حسن ؓ،امام حسینؓ ، محمد بن حنفیہؓ کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام ؓمثلاً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت ابوہریرہؓ، ابوسعیدخدریؓ، زید بن ارقمؓ،صہیبؓ رومی ، ابن عباسؓ،ابن عمرؓ اور دوسرے بہت سے صحابہ کرام کے علاوہ بہت سے تابعین عظام نےعلمِ حدیث کا فیض آپ رضی اللہ عنہ سے پایا ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود خنجر کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا، آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ رضی اللہ عنہ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، اس لئے جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان المبارک 40ھ کو وفات پائی۔
آپ رضی اللہ عنہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!
”علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں“
”تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے“
”علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی“
”یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے“
آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور کمالات اور ان کی سیرت کے درخشاں پہلو تو بے شمار ہیں ۔ طوالت کے خوف سے ان سب کا احاطہ نہیں کیاجاسکتا۔ آخر میں عرض ہے کہ حضرت علیؓ اور ان کے عالی نسب خاندان سے عقیدت کے اظہار کے لئے میں نے اپنے بیٹے کا نام علی رکھا ہے اللہ سبحانہ وتعالی اسے آپ رضی اللہ عنہ کے نقش پا کا سایہ عطا کریں ۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے !آمین۔