حضرت مولانا عبدالمجيد نوراللہ مرقدہ

حضرت مولانا عبدالمجيد نوراللہ مرقدہ

Share

islahi bayanat

Photos from ‎حضرت مولانا عبدالمجيد نوراللہ مرقدہ‎'s post 19/02/2025

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

Photos from ‎حضرت مولانا عبدالمجيد نوراللہ مرقدہ‎'s post 17/02/2025

تقبل الله منك ومنكم ويسر أمرك.

Photos from ‎حضرت مولانا عبدالمجيد نوراللہ مرقدہ‎'s post 03/07/2024

برادر صغیر کے نکاح کی چند جھلکیاں

19/01/2023

اللھم ارحمہ

24/11/2021

یہ کیسے مسلمان ہیں؟

02/08/2021

وقت کا بہترین استعمال
=========
از روئے حدیث مبارک ، اہل جنت کو جنت کی نعمتوں میں لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے کسی چیز کا غم نا ہوگا ، بجز اس گھڑی کے جو دنیا میں اللہ کے ذکر سے خالی گزری۔

وقت کا بہترین استعمال ، حصول علم ہے جس میں ذکر خداوندی اور معرفت الہی دونوں یکساں حاصل ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہیکہ سلف صالح کتابوں پہ جھکتے یا کھڑے کسی سند پہ بحث کرتے تو اذان فجر انہیں رات گزرنے اور طلوع صبح کی نوید سناتی ۔

دنیا بھر کے بالعموم اور بر صغیر کے بالخصوص بابائے معقولات اور استاد شیخ شریف جرجانی رحمہ اللہ نے علم المنطق میں "شرح المطالع" کا بالاستیعاب 14 بار مطالعہ کیا ، پھر مصنف کتاب امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوکر درسا پوری کتاب پڑھی۔

ایک کتاب کو متعدد بار پڑھنے کے قصے ، فقہا و محدثین کے تراجم میں بکثرت ملتے ہیں ۔ ایک فقیہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا "الرسالہ" 30 بار مطالعہ کیا۔

اس انہماک اور یکسوئی کا نتیجہ ان نفوس قدسیہ کی پر اثر مقبول تصانیف سے خوب چھلکتا ہے۔ امام سنوسی رحمہ اللہ نے 19 سال کی عمر میں الحوفیہ کی شرح لکھی ۔
جب اپنے استاد حسن ابرکان کی خدمت میں پیش کی تو استاد صاحب نے امام سنوسی رحمہ اللہ کو نظر بد سے بچنے کے لیے چالیس سال کی عمر تک کتاب منصہ شہود پہ لانے سے منع فرمایا۔

آج بھی ہفتے کے سات دن ، دن و رات کے چوبیس گھنٹے اور فی گھنٹہ 60 منٹ ہی ہیں مگر افسوس ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں ۔
#عبدالواجد

01/08/2021

#مولوی سا ہو تو لاو

================
عید قربان کا دوسرا روز تھا ، پہلے دن کی تھکان تا حال پنجے گاڑے منہ چڑا رہی تھی کہ ڈھلتی شام ادارہ سے کال آئی۔ علیک سلیک کے بعد ایک غیر ملکی مہمان طالب علم کی ارجنٹ کرونا رپورٹ لینے کا کہا گیا ۔ اگلی صبح انہوں نے اپنے ملک کوچ کرنا تھا ۔

فورا سے حامی بھری اور درجنوں سوالات سوچتے ہوئے اپنی راہ لی کہ کیا آج تجربہ گاہ (لیبارٹری) کھلی ہوگی؟
اگر کھلی ہوئی تو نتیجہ (رپورٹ) ملے گا یا نہیں؟
بند ہوئی تو کیا کرنا ہوگا ؟ وغیرہ وغیرہ

راستے میں کہیں پھل فروش تو کہیں تازہ ٹھنڈا مشروب پیش کرتے محنت کش دکھائی دئیے۔ تجارتی مرکز بھی جوں کا توں بلکہ معمول سے زیادہ کھچا کھچ بھرا تھا ۔منزل مقصود پہ پہنچا تو طبیب ، معاون طبیب اور جملہ عملہ متحرک چاق و چوبند پھرتی سے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا۔

جہاں ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے تھے ، وہیں کارفرماوں سے یکجہتی جنم لے رہی تھی ۔

بیچاروں کی عید بھی کام میں گزر رہی ہے۔
یہ ہماری خدمت کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔
انہیں اس وقت پیاروں کے ہمراہ قہقہوں کی گونج
میں کباب کے مزے لینے چاہیے تھے، لیکن کندھوں پہ
سوار ذمہ داریوں نے یہاں تک پہنچادیا۔

خیالات کی مد بھیڑ میں خالق جہاں کی طرف بلاوا آیا تو سوئے خانہ خدا چل دیا۔
مجال ہیکہ پلک جھپکنے کے بقدر تاخیر ہوئی ہو۔ ادھر وقت ہوا۔ ادھر امام صاحب مصلے پہ جماعت کراتے نظر آئے۔

نماز کے بعد زوایہ فکر بدل گیا۔ آزاد کاروبار کرنے والے کسی کو جواب دہ نہیں ہوتے ، جب چاہا ، کام پہ آگئے ورنہ چھٹی کرلی۔ ملازمت پہ آنے والوں کو بھی ہفتہ وار ، ماہانہ اور سالانہ چھٹیاں سرکار کی طرف سے ملتی ہیں۔ چھٹیاں نا کرنے پہ اور عید کے دن حاضر خدمت ہونے پہ معاوضہ دگنا کردیا جاتا ہے ، مزید بر آں یہ کہ جملہ ملازمتوں کے اوقات کار متعین ہیں ، مخصوص گھنٹے کام کرکے جہاں جانا چاہیں ، آزادانہ جاسکتے ہیں۔

لیکن ہم میں ہی ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سب سے مشکل کام کرنے کے باوجود چوبیس گھنٹے ، پورے معاشرے کے لیے بغیر پرکشش معاوضوں کے حاضر خدمت رہتا ہے۔

جس کے کام میں کوئی چھٹی ہے نا آرام ۔ جو سب سے معزز ہوکر بھی سب کی جلی کٹی باتیں سہتا ہے۔ جس کے حجرے کی دیواریں، کمیٹی کے متولی کی چمکتی دمکتی گاڑی سے ہلتی ہیں۔ جس کے پاس بوڑھی ماں خے علاج کے لیے سرمایہ ہے اور نا نوزائدہ کے نزلہ کے لیے پیسے۔

جی ہاں وہی جو خطبہ نکاح پڑھائے تو انگشت بدندان بھبکیاں کستے ہیں کہ نکاح خوانی کی فیس لیں گے؟
اور وہی عمائدین علاقہ میراثیوں سے بجواتے ، رقاصہ(کنجریوں) کو نچواتے اور ان پہ جمع پونجی نچھاور کرتے ہیں۔

ہوٹل میں چائے پی کر ٹپ نا دی جائے تو عزت پہ حرف اور امام ولادت کی اذان سے لیکر دفن کی تہہ میں الوداع کرنے کے بعد سورہ بقرہ تک پڑھتا ہے ۔ زندگی بھر کے مسائل کی راہ نمائی کرتا ہے پر کبھی اسے اس کا مقام دیا؟
اگر ہاں تو مقام شکر بجالانا واجب ہے ۔
اگر ناں تو استغفار کے ساتھ تھوڑا نہیں
بہت زیادہ سوچیں۔

ہاں اگر کوئی زمانہ بھر میں بے لوث خدمت
گزار ، مخلص اور ہر جذبہ سے سرشار مولوی سا
مل جائے تو ضرور دکھانا۔

#عبدالواجد

30/06/2021

رئیس جامعہ بنوری ٹاون ، امیر عالمی مجلس ختم نبوت اور صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان حضرت اقدس شیخ عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ 71 برس کی تگ و دو کے بعد رحلت فرما گئے
آپ کی آخری آرام گاہ اکابرین بنوری ٹاون حضرت بنوری اور مفتی احمد الرحمن رحمھما اللہ کے پڑوس میں ہوگی۔

30/06/2021

(دوائے دل)
آہ حضرت ڈاکٹر صاحب!
( محمد شفیع چترالی)
وہی ہوا جس کا گزشتہ کئی روز سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔استاذ محترم ،شیخ مکرم ،مجسمہ شفقت،پیکر محبت حضرت علامہ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اپنے کروڑوں عقیدت مندوں اور لاکھوں بلاوسطہ اور بالواسطہ شاگردوں کو سوگوار بلکہ یتیم چھوڑ کر خلد آشیانی ہوگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ کہنا تو ایک رسمی سا جملہ ہوگا کہ مرحوم بڑے اچھے انسان تھے اور ان کے جانے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم آج ایک بہت بڑی خیر سے محروم ہوگئے ہیں اور اس دکھ،درد اور غم کا شاید اللہ کے سوا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا جو حضرت ڈاکٹر صاحب جیسی فرشتہ صفت شخصیت کی رحلت سے ان کے روئے انور کو قریب سے دیکھنے والے ،شاگردوں اور متعلقین و متوسلین کو آج درپیش ہے۔سو اللہ سے صبرو سلوان کی توفیق کی دعا و التجا ہے۔ ایسی ہی ہستیاں ہوتی ہیں جن کی زندگی بھی انسانیت کے لیے کوئی معنی رکھتی ہے اور موت بھی اور جن کے جانے پر ایک دنیا پکار اٹھتی ہے کہ ذھب الذین یعاش فی اکنافہم(وہ لوگ چلے گئے جن کے سائے میں جیا جاسکتا تھا)۔ ملک بھر کے دینی حلقوں میں حضرت ڈاکٹر صاحب کے احترام اور ان کے عظمت کردار کے اعتراف کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ ابھی چند روز قبل جب حضرت ڈاکٹر صاحب بستر علالت پر تھے، پاکستان کے دینی مدارس کے سب سے بڑے بورڈ نے محض ان کے وجود مسعود سے وابستہ خیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ایک بار پھر اپنا سربراہ منتخب کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب 1935ءمیں ضلع ایبٹ آباد کے گاو¿ں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم ا سکندرخان بن زمان خان صوم وصلوٰة کے پابند اور علماءکے صحبت یافتہ تھے، بڑے وجیہ اور ذی فہم انسان تھے، ڈاکٹر صاحب نے گاو¿ں میں ہی قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد میٹرک تک اسکول پڑھا، بعدازاں دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، ہری پور میں دو مدرسے تھے۔ ایک دارالعلوم چوہڑ شریف، یہاں آپ نے دو سال تعلیم حاصل کی اور دو سال احمد المدارس اسکندر پور میں پڑھا۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے 1952ءمیں کراچی تشریف لائے اور دارالعلوم کراچی( نانک واڑہ) میں داخلہ لیا۔ درجہ رابعہ سے سادسہ تک کی کتابیں آپ نے دارالعلوم نانک واڑہ میں پڑھیں۔
جس وقت ڈاکٹر صاحب دارالعلوم میںزیرتعلیم تھے، اسی دوران لیبیا اور مصر کی حکومت کے تعاون سے کراچی میں عربی سکھانے کے لیے مختلف جگہوں پر کورس شروع کرائے گئے تھے۔ ڈاکٹر امین مصری مرحوم اس کے نگران تھے، تربیتی کورس میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ سارے شرکاءعلماءاور اساتذہ تھے۔ ان علماءکو عربی پڑھانے کے لیے مختلف جگہوں پر تعینات کردیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کو شیخ امین مصری نے نیوٹاو¿ن مسجد میںکلاس شروع کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ کلاس عصر کے بعد ہوتی تھی، کلاس سے فارغ ہوکر آپ محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒکی مجلس میں حاضر ہوتے، اس طرح آپ کا مولانا بنوریؒ سے وہ والہانہ تعلق قائم ہوا، جس کو” نسبت اتحادی“ کی بہترین مثال سمجھا جاسکتا ہے۔ حضرت بنوری ؒ کو بھی عربی زبان و ادب سے بچپن سے غیر معمولی شغف رہا تھا اور ان کی عربی دانی پر ان کے اساتذہ بھی ناز کیا کرتے تھے اور انہیں بھی اپنے دور میں عالم اسلام میں ہندوستانی علماءکی ترجمانی کا اعزاز حاصل تھا، جو ان سے ڈاکٹر صاحب کو ورثے میں ملا۔
حضرت بنوری ؒ نے عام مدارس سے ہٹ کر اپنے مدرسہ کا آغاز تکمیل کی کلاس یعنی تخصص سے کیا تھا، نچلے درجات کی کلاسیں نہیں تھیں، ڈاکٹر صاحب کی ہی درخواست پر حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے موقوف علیہ اور دورہ کے درجات شروع کیے اور آپ ان دس ابتدائی طلبہ میں شامل تھے جن سے جامعہ میں درس نظامی کا آغاز ہوا۔ اس وقت سے آخری سانس تک ڈاکٹر صاحب جامعہ سے وابستہ رہے اور اپنے شیخ کے ادارے کو نہایت خوبصورتی سے چلایا۔
ڈاکٹر صاحب کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ آپ بیک وقت عالم اسلام کے تین ممتاز ترین دینی اداروں جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ازہر مصر کے فاضل تھے۔ 1962ءمیں آپ جامعہ سے چھٹی لے کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور چار سال وہاں تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے فارغ ہوکر دوبارہ جامعہ میں تدریس شروع کردی۔ جامعہ ازہر میں آپ کے داخلے کا پس منظر یہ تھا کہ ایک مرتبہ مصر کی المجلس الاعلیٰ بشﺅن الاسلامیہ کے رئیس پاکستان آئے، بنوری ٹاو¿ن بھی تشریف لائے، مدرسہ کا معاینہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے متکلم کے فرائض انجام دیے اور طلبہ واساتذہ کے اجتماع میں کلماتِ ترحیب اور خطبہ استقبالیہ بھی پیش کیا۔شیخ موصوف، جامعہ کی کارکردگی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے بھی بہت متاثر ہوئے اور اپنے خطاب میں انہوںنے اعلان کیا کہ میں مصر حکومت اور اپنے ادارہ کی طرف سے اس جامعہ کے لیے چار طلبہ کو جامعہ ازہر میں پی ایچ ڈی میں داخلے کی منظوری دیتا ہوں، جن میں پہلا نام عبد الرزاق کا ہوگا۔ ان کی دعوت پر 1972ءمیں حضرت بنوریؒ خود حضرت ڈاکٹر صاحب کو مصر لے گئے اور شفیق باپ کی طرح آپ کا وہاں داخلہ کرواکر آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے چار سال وہاں تعلیم حاصل کی اور ”عبداللہ بن مسعودؓ امام الفقہ العراقی“ کے عنوان سے مقالہ تحریر فرمایا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے فروری 1977ءمیں پاکستان واپس آئے اور جامعہ کے ناظم تعلیمات مقرر کیے گئے۔ 1997ءمیں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ کی شہادت کے سانحہ فاجعہ کے بعد اساتذہ جامعہ کے پرزور اصرار پر آپ نے جامعہ کے اہتمام کی ذمہ داری لینا قبول فرمائی اور آپ کے دور میں جامعہ بنوری ٹاون نے بے مثال ترقی کی۔ اس وقت 15000کے قریب طلبہ و طالبات جامعہ میں حصول علم میں مصروف ہیں۔ آپ کو اپنے شیخ حضرت بنوری ؒ سے والہانہ محبت تھی۔ آپ ”فناءفی الشیخ“ کا بہترین مصداق تھے۔ دوران زندگی سفر وحضر میں حضرت بنوری کی خدمت کرنا اور ہر وقت آپ کی مجلس میں حاضر رہنا، آپ کا معمول تھا اور حضرت بنوری کی وفات کے بعد سے تادم واپسیں جب بھی کوئی مجلس ہوتی ہے، حضرت کا تذکرہ ضرور کرتے اور جب بھی حضرت کا تذکرہ کرتے، بے اختیار آبدیدہ ہوجاتے ۔
میرے دل وارفتہ حیرت کو ہے اب تک
اس نازش صد ناز کی ایک ایک ادا یاد
محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی اس بے پناہ محبت اور ” نسبت اتحادی“ کا کرشمہ ہی ہے کہ جن جن اعلیٰ ترین دینی مناصب پر حضرت بنوری ؒ اپنی زندگی میں فائز رہے، ان میں سے ہر منصب نے رفتہ رفتہ ڈاکٹر صاحب کو اپنی طرف کھینچا۔ جامعہ بنوری ٹاﺅن کے اہتمام اور مسند بخاری سے لے کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی سربراہی تک ہر منصب پر حضرت بنوری کی جانشینی کا اعزاز آپ کے حصے میں آیا۔ علاوہ ازیں آپ 20ہزار کے قریب دینی مدارس کے ساتھ ساتھ اقراءروضة الاطفال ٹرسٹ کے ملک گیر اسکول سسٹم کے دسیوں ہزار طلبہ کے بھی باقاعدہ سرپرست تھے۔ پوری اسلامی دنیا میں آپ کے شاگردوں اور متوسلین کے زیر اہتمام چلنے والے ہزاروں ادارے اس پر مستزاد ہیں۔ ڈاکٹر صاحب متعدد بین الاقوامی اسلامی فورموں کے بھی رکن رہے اور تقریباً نصف صدی سے عالم اسلام میں پاکستان کی نمایندگی کا اعزاز حاصل کیا۔
ڈاکٹر صاحب نے مسلسل تدریسی و انتظامی مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، 15سے زائد کتابیں اور رسالے آپ کے قلم سے نکلے۔ آج کے دور میں جو بھی طالب علم عربی انشاءکی تعلیم کا آغاز کرتا ہے، ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”الطریقہ العصریہ“ سے ہی آغاز کرتا ہے۔ قادیانی مسئلے سے متعلق ڈاکٹر صاحب کی کتاب” موقف الامة الاسلامیہ“ نے عرب دنیا کو قادیانی فتنے سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی زندگی اور سوانح پر یقینا اہل قلم مختلف زاویوں سے روشنی ڈالیں گے۔ آج سے کوئی اکیس سال پہلے کی بات ہے، ہمارے دورہ¿ حدیث کے سال ہمارے کچھ ساتھیوں نے تعلیمی سال کے اختتام پر اساتذہ اور کلاس کے ساتھیوں کے تعارف پر مشتمل ایک ڈائریکٹری مرتب کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت ڈاکٹر صاحب کی زندگی سے متعلق کچھ لکھنے کی راقم کی ذمہ داری لگائی۔لیکن یہ میرے لیے بڑا مشکل ٹاسک ثابت ہوا کیونکہ میں جب بھی حضرت سے اپنے کچھ سوانح عنایت کرنے کی درخواست کرتا، حضرت فرماتے،”ارے بھائی کیا ہم اور کیا ہمارے حالات، کیا پدی کیا پدی کا شوربہ....!بہت اصرار پر حضرت نے اپنے ریکارڈ سے ایک پرانی تحریر نکال کر عنایت فرمائی جو کسی عربی جریدے کے سوالنامے کے جواب میں لکھا گیا تھا۔یہی وہ فنائیت،عاجزی اور بے نفسی تھی جس نے حضرت استاذ گرامی کو اندرون وبیرون ملک بے مثال محبوبیت عطاکی۔ڈاکٹر صاحب کی شفقت، مہربانی، کرم نوازی اور تواضع وانکساری کے بیان کے لیے شاید یہ بات ہی کافی ہوگی کہ ایک دور میں جامعہ بنوری ٹاون میں عبد الرزاق نامی کئی اساتذہ ہوتے تھے تو ان میں ڈاکٹر صاحب کی عرفیت ”میٹھے عبد الرزاق“ کی ہوتی تھیڈاکٹر صاحب میں بہت خوبیاں تھیں تاہم ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کی مثبت سوچ،شفیقانہ مزاج اور فکری اعتدال تھا۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کو کبھی کسی فرد، مسلک،فرقے کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے نہیں دیکھا۔ ان کا زیادہ سے زیادہ غصہ” اللہ کے بندے!“کے نیم فقرے پر مبنی ہوتا۔اللہ تعالیٰ حضرت ڈاکٹر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے اور ہم سب پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائے

11/06/2021



======================

پاکستان بھر کے مدارس میں آمد و رفت جاری ہے۔ گزشتہ ڈھائی ماہ سے ، مہمانوں کی منتظر، ویران در و دیواروں کی امید بر آرہی ہے ۔بہاریں بحال ہورہی ہیں۔ درسگاہوں کی رونقیں ، نئے ولولے اور عزم لیے لوٹ رہی ہیں ۔ کہیں پڑھائی شروع ہوچکی ہے تو کہیں مستقبل قریب میں مالیان چمنستان ، باغبانی کرنے جارہے ہیں ۔

اس موقع کی مناسبت سے دو بے ربط باتیں ، صفحہ قرطاس پہ بکھیرے قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا ۔

پہلی گزارش: میرے معزز و محترم تشنگان علوم نبوت ۔ آپ نے گھر بار ، ممتا کی شفقت ، بہنوں کا پیار ، بھائیوں کا لاڈ ، بابا کی صحبت اور جملہ آسائشوں کو خیر باد کہا ۔ جس کی رضا میں رب کی رضامندی پوشیدہ ، جس کے قدموں تلے جنت اور جن کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی کرنا ، حج مقبول سے کم نہیں ، انہوں نے با وجود آپ کی ضرورت ہوتے ہوئے فراق سہنا گوارا کیا تاکہ لخت جگر قرآن و حدیث اور باطنی علوم و معارف سے بہرہ ور ہوکر ، کل بروز آخرت ہماری نجات کا سامان کرسکے۔ جس مقصد کے لیے آپ عازم سفر ہوئے ، اس میں مگن رہیں اور کسی بھی قیمت میں ، لمحہ بھر کے لیے بھی اپنی منزل سے انحراف گوارا نا کریں۔ ہر وہ رنگین و خوشنما کانٹا جو آپ کے راستے کی رکاوٹ بنے اس سے دوری اختیار کریں اور عطر کی شیشی میں زہر قاتل کو سینے سے لگانے سے گریز کریں۔

دوسری گزارش: میری دوسری معروض ان ذمہ داران کی خدمت میں ہے جو دوران طالب علمی ، قیادت کے جنوں میں اپنا کل بنانے کا سہانا خواب دیکھتے ہوئے ، آج داو پہ لگادیتے ہیں۔ گو کہ ہر مدرسہ کاغذی کاروائی میں خود کو تمام تر سیاسی، مذہبی ، عسکری اور لسانی جماعتوں و گروہوں سے آزاد تصور کرتا ہے اور یہی حلف اپنے مہمان طلبا سے لینے کا اہتمام مرتا ہے لیکن طلبا سے مادرانہ شفقت سے مجبور ہوکر ان کی غیر تعلیمی سرگرمیوں سے آنکھ چراتے ہوئے پردہ پوشی کرتا ہے۔ دینی ادارہ کا غیر تعلیمی سرگرمی سے منع کرنا ، یقینا اس جماعت کی مخالفت یا رکاوٹ ہرگز نہیں ۔ دلی وابستگی سے کوئی منع نہیں کرتا لیکن آپ وارثان نبوت ، علم و عمل سے آراستہ ہوکر ، فراغت کے بعد عملی میدان میں اپنے جوہر دکھائیں تو ادارہ نا صرف سر اٹھائے ،سینہ چوڑا کیے آپ پہ فخر کرے گا بلکہ کمر پہ تھپکی دیتے ہوئے ، آپ کی ہر ممکن مدد کو بھی یقینی بنائے گا۔

میں اپنے ان سرگرم کارکنان و ذمہ داران سے عرض کرنا چاہوں گا جو سال شروع ہوتے ہی یونٹس اور کابینہ تشکیل دینے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں ، آپ حضرات کی جماعتی و تنظیمی سرگرمیاں اپنی جگہ لیکن خدارا! اپنی بھاگ دوڑ کو ، طلبا سے رسیدیں کٹوانے اور چندہ جمع کرنے کی حد تک نا رکھیں ۔ اگر یہ رکنیت اختیار کرنی ہی ہے تو ان کی ذہنی ، اخلاقی اور تربیتی اصلاح کا بیڑہ بھی اٹھائیں۔ انہیں بتائیں کہ فکر حق نواز ، جبل استقامت کے صبر اور سائیں حیدری شہید کے علم کا نام ہے ۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ "اللہ کی زمین پہ اللہ کا نظام" لانے کے لیے مفتی محمود کی فقاہت اور مولانا فضل الرحمن کی بصیرت و تحمل مزاجی ناگزیر ہے۔ انہیں بتائیں کہ ملا اور مسٹر کی تفریق ختم کرنے کے لیے قلم کو زہر اگلنے اور زبان کو شعلے او انگارے برسانے کی ضرورت نہیں ۔ اگر وہ آپ کے اخلاقی معیارات پورے نا کریں تو ذمہ داران ان کی رکنیت معطل کرنے کے مجاز ہوں گے۔
ایک بار پھر دامن پھیلائے، جھولی اٹھائے ، کشکول تھامے، دست بستہ بصد ادب و احترام عرض ہیکہ تعلیم میں مخل تمام سرگرمیاں سے مکمل کنارہ کش ہوجائیں اگر نہیں ہوسکتے تو سماجی روابط میں طوفان بدتمیزی بپا کرنے والے اور شور و غل کرنے والوں کی اصلاح کے لیے کوئی مجوزہ اصلاحات ترتیب دیں ۔ جو ہرزہ سرائی سے آپ کی جماعت کا نام روشن کرنا چاہے ، ایسے ناسوروں سے پیشگی معذرت کرلیں۔ خوش رہیں، خوش رہنے دیں۔

#عبدالواجد

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
25700