25/05/2026
۸ ذی الحجہ ۶۰ ہجری — قافلۂ حسینی کی مکہ سے کربلا روانگی
نواسۂ رسول ﷺ، امام حسین علیہ السلام نے حج کو عمرے میں تبدیل کرکے اپنے اہلِ خانہ اور جانثار اصحاب کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے کربلا کی جانب سفر کا آغاز فرمایا، جو تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعہ، واقعۂ کربلا پر منتج ہوا۔
یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسلامی علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی جائے۔ امام حسینؑ نے کھلے الفاظ میں ظلم، فسق اور فاجر حکمران کی بیعت سے انکار فرمایا۔
اس سے قبل امام حسینؑ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے۔ مکہ میں آپؑ تقریباً چار ماہ قیام پذیر رہے۔ اس دوران اہلِ کوفہ کی جانب سے ہزاروں خطوط موصول ہوئے جن میں امامؑ کو عراق آنے کی دعوت دی گئی اور مکمل نصرت و حمایت کا یقین دلایا گیا۔
جب امام حسینؑ مکہ میں موجود تھے تو یزیدی حکومت نے خفیہ طور پر قاتلوں کو بھیجا تاکہ حج کے دوران امامؑ کو شہید کیا جائے۔ یہ خطرناک منصوبہ امام حسینؑ تک پہنچا، اور یہ واضح ہوگیا کہ اگر آپؑ مکہ میں رہ کر حج مکمل کرتے ہیں تو خانۂ کعبہ کی حرمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے امام حسینؑ نے حج کو عمرے میں تبدیل فرمایا اور ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے روانگی اختیار کی۔
جب امام حسین علیہ السلام مکہ سے روانہ ہوئے تو قافلے میں یہ عظیم شخصیات شامل تھیں:
اہلِ بیتؑ
حضرت عباس علیہ السلام — لشکر کے علمبردار اور محافظِ خیام
حضرت علی اکبر علیہ السلام — نوجوانانِ بنی ہاشم کے سردار
حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام
امام زین العابدین علیہ السلام — بیماری کی حالت میں قافلے کے ساتھ
حضرت عون بن عبداللہ
حضرت محمد بن عبداللہ
حضرت علی اصغر علیہ السلام — شیر خوار طفل
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا
حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا
حضرت رباب سلام اللہ علیہا
حضرت لیلیٰ سلام اللہ علیہا
اصحابِ باوفا
حضرت حبیب ابن مظاہر — بزرگ صحابی اور امامؑ کے وفادار ساتھی
حضرت مسلم بن عوسجہ — ابتدا کے جانثار، شدید زخمی ہو کر بھی وفادار رہے
حضرت زہیر بن قین — راستے میں شامل ہو کر کامل وفا اختیار کی
حضرت بُریر بن خضیر — عابد و زاہد اور مجاہدِ راہِ حق
حضرت نافع بن ہلال — شجاع محافظِ امامؑ
حضرت جون — غلام ہونے کے باوجود عشقِ اہلِ بیتؑ میں شہید
حضرت حنظلہ بن اسعد — حق کا پیغام بلند کرنے والے
حضرت عابس بن ابی شبیب — بے مثال شجاعت کے مالک
حضرت قیس بن مسہر — امامؑ کے پیغامبر، راستے میں شہید
حضرت عبداللہ بن یقطر
حضرت حر بن یزید ریاحی — ابتدا میں دشمن لشکر کے کمانڈر، بعد میں حق پہچان کر امامؑ کے ساتھی اور شہید
حضرت سعید بن عبداللہ حنفی — نماز کے وقت ڈھال بن کر شہید ہوئے
حضرت وہب بن عبداللہ — والدہ اور زوجہ سمیت قربان ہوئے
حضرت انس بن حارث — صحابیٔ رسول ﷺ، نصرتِ امامؑ کے لیے آئے
حضرت حجاج بن مسروق — اذان دینے کی سعادت حاصل کی
حضرت سوید بن عمرو — شدید زخمی حالت میں بھی لڑتے رہے
حضرت ابو ثمامہ صائدی — نمازِ ظہر کی یاد دہانی کرائی
روایات میں آتا ہے کہ جب قافلۂ حسینی مکہ سے روانہ ہوا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام حسینؑ کے ہمراہ تھیں، جبکہ حضرت عباس علیہ السلام قافلے کی حفاظت پر مامور تھے۔
روانگی کے وقت امام حسینؑ نے فرمایا:
میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد کے لیے، نہ ظلم کے لیے، بلکہ اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔
اور ایک مقام پر فرمایا:
“جو ہمارے ساتھ جان دینے کے لیے تیار ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے
السلام علیک یا اباعبداللّٰہ الحسینؑ
السلام علی الحسینؑ و علی علی بن الحسینؑ و علی اولاد الحسینؑ و علی اصحاب الحسینؑ
20/05/2026
*فرعون کا دریائے نیل میں ڈوبنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا مگر ڈوبنا پڑا شداد اگلے سینکڑوں سال اپنی جنت میں عیاشیاں کرنا چاہتا تھا مگر دروازے پر پہنچ کر مر گیا نمرود کی پلاننگ تو کئی صدیاں اور حکومت کرنے کی تھی مگر ایک مچھر نے مار ڈالا ہٹلر کے ارادے اور بھی خطرناک تھے مگر حالات ایسے پلٹے کہ خودکشی پر مجبور ہوا دُنیا کے ہر ظالم کو ایک مدت تک ہی وقت ملتا ہے جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو کچھ کام نہیں آتا سارا غرور گھمنڈ اور تکبر یہیں پڑا رہ جاتا ہے عنقریب فرعون زمان ٹرمپ بھی خلیج فارس میں غرق ہوجاےگا*
*اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ*
*یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے**
20/05/2026
نوجوان جوڑوں کے لیے شہید رہبرِ انقلاب کی نئی جاری کردہ ہدایات پر ایک نظر
17/05/2026
چلو چلو مینار پاکستان لاہور چلو
رہبر شہید، امام مقاومت، مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمی حضرت امام خامنہ ای قدس سرہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئیے عظیم الشان
شہید امت کانفرنس
بتاریخ: 13 جون 2026ء بروز: ہفتہ
بمقام: مینار پاکستان لاہور
تمام امت اسلامیہ سے اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کی استدعا ہے۔
اتحاد امت فورم پاکستان
14/05/2026
تین روزہ غدیرشناسی کارگاہ
عید سعید غدیر معرفت کے ساتھ منائیں
موضوعات
1. غدیر اہل سنت محدثین اور مورخین کی نگاہ
2. غدیر اہل تشیع محدثین اور مورخین کی نگاہ
3. ولایت امیرالمؤمنین قرآن کی نگاہ میں
استاد :مدیر موسسہ باقرالعلوم و استاد حوزہ علمیہ قم حجت الاسلام فدا علی حلیمی
زمان: یک ذی الحجہ سے تین ذی الحجہ
بوقت: ٹھیک 5:00بجے دوپہر
مکان :خاکفرج کوچہ 65 فرعی 3 پلاک 11
ثبت نام کےلئے رابطہ کریں
09300844258
09387016935
موسسہ باقرالعلوم قم المقدسہ ایران
14/05/2026
علامہ سید جواد نقوی صاحب کا مدرسہ ’’الولایۃ‘‘ کا دورہ اور وحدتِ ملت کی ضرورت
13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے عظیم اجتماع کے سلسلے میں استادِ محترم سید جواد نقوی صاحب ’’الولایۃ‘‘ تشریف لائے۔ بلاشبہ اس نوع کے باہمی دورے، ملاقاتیں اور رفت و آمد اپنی ذات میں خیر و برکت کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ روایات میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ موجود ہے کہ امت کے افراد کا ایک دوسرے کے پاس آنا جانا رحمت، قربت اور برکت کا سبب بنتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ تبادلۂ افکار، باہمی گفتگو، اور مشترک اہداف کے لیے ایک دوسرے کے قریب بیٹھنا کسی بھی اجتماعی تحریک کی روح ہوتا ہے۔
اس نشست میں متعدد دوست و احباب شریک تھے، اور مجموعی فضا میں ایک مثبت وحدت اور خیرخواہی کا احساس نمایاں تھا۔ بندۂ حقیر کے دل میں بار بار یہی دعا ابھرتی رہی کہ اللہ تعالیٰ اس اتحاد اور تقارب کو ہر قسم کی نظرِ بد، سوء تدبیر اور داخلی کمزوریوں سے محفوظ رکھے، کیونکہ یہ ایک نہایت مبارک اور قیمتی فضا ہے۔ امید یہی ہے کہ شیعہ علماء کونسل کے احباب بھی اس اتحاد و تقارب کے اس فورم میں اپنا فعال کردار ادا کریں گے، کیونکہ شیعہ ملت کا وسیع تر اجتماعی مفاد یقیناً ہمارے جزوی، جماعتی اور شخصی مصالح سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر ہم باہم متحد نہ ہوئے، اور چھوٹے چھوٹے اختلافات و جزوی مسائل ہی ہمارے افقِ فکر پر حاوی رہے، تو ہم کبھی بھی ملت کو درپیش بڑے چیلنجز کا مؤثر دفاع نہیں کر سکیں گے۔ افسوس یہ ہے کہ اس کے باوجود کبھی ہم سیاسی رقابتوں میں الجھے رہتے ہیں، اور کبھی معمولی امور کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ وہ وحدت و تقارب کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
بسا اوقات انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم مواقع پیدا کرنے کے بجائے مواقع ضائع کرنے کے زیادہ عادی کیوں ہیں۔ حالانکہ ملت کو آج ایسے رویّوں، فیصلوں اور قربانیوں کی ضرورت ہے جو دلوں کو قریب کریں، صفوں کو متحد کریں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اجتماعی سمت متعین کریں۔
علامہ ڈاکٹر سید جاوید شیرازی
14/05/2026
تین روزہ غدیرشناسی کارگاہ
عید سعید غدیر معرفت کے ساتھ منائیں
موضوعات
1. غدیر اہل سنت محدثین اور مورخین کی نگاہ
2. غدیر اہل تشیع محدثین اور مورخین کی نگاہ
3. ولایت امیرالمؤمنین قرآن کی نگاہ میں
استاد :مدیر موسسہ باقرالعلوم و استاد حوزہ علمیہ قم حجت الاسلام فدا علی حلیمی
زمان: یک ذی الحجہ سے تین ذی الحجہ
مکان :خاکفرج کوچہ 65 فرعی 3 پلاک 11
ثبت نام کےلئے رابطہ کریں
09300844258
09387016935
موسسہ باقرالعلوم قم المقدسہ ایران