17/01/2026
Admission Open
An online Quran Academy is a platform that provides remote instruction in the recitation, memorizatio
17/01/2026
Admission Open
16/11/2025
Online Quran Classes – Admissions Open
For kids female and adults
• Nazra | Tajweed | Basic Islamic studies
• One-to-one classes
• Flexible timing
• Qualified male and female tutor
• 1 Free Trial Class
Start learning Quran from home with comfort and proper guidance.
اللّٰہ تعالیٰ سے تعلّق کیسے پیدا ہو؟
ایک دفعہ میں نے حضرت سے یہ سوال پوچھا تو حضرت والا نے جواب میں فرمایا کہ "دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک ذکر، اور دوسری فکر۔ شروع میں تو یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنا زیادہ سے زیادہ فارغ وقت ذکر میں اور قرآن کریم کی تلاوت میں لگائے، اور دین کے کسی نہ کسی کام میں لگے رہے۔ پھر آہستہ آہستہ فکر پیدا ہونے لگتی ہے، اور آدمی کا دھیان اس طرف لگا رہتا ہے کہ کس طرح اللّٰہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کروں، اور کس طرح اسے زیادہ سے زیادہ بڑھاؤں؟ ہم لوگوں کو اِس وقت جب کبھی فارغ وقت ہوتا ہے تو کیا خیالات آتے ہیں؟ یہی نا کہ کبھی کوئی چیز پسند ہے اس کا خیال آگیا، کبھی جو چیز چاہیے اس کا خیال آگیا۔ لیکن جب فکر پیدا ہو جاتی ہے تو ان سب چیزوں کے خیالات نہیں آتے، پھر اللّٰہ تعالیٰ ہی کا خیال آتا ہے۔"
شروع میں میں یہی سمجھتا تھا کہ دین پہ چلنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ وقت اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہے۔ جتنا انسان زیادہ سے زیادہ نماز پڑھتا رہے، تسبیح پڑھتا رہے، قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، صرف یہی دین کے کام ہیں۔ اور ان کے علاوہ باقی سارے کام، مثلاً میڈیسن پڑھنا، شادی کرنا، بچے ہونا، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، یہ سب دنیا کے کام ہیں۔ لیکن بزرگوں سے تعلّق کا اور ان سے سوال پوچھ پوچھ کے اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہنے کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ انسان کو دین کی حقیقی سمجھ آنے لگتی ہے۔
بہت سالوں بعد آہستہ آہستہ یہ سمجھ آیا کہ فکر سے حضرت کی مراد یہ تھی کہ انسان اپنے ہر ہر کام کو کرتے ہوئے یہ سوچے کہ میں اس کام کو دین اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ کیسے بنا سکتا ہوں؟ اور اس کا سب سے آسان اور غلطی سے پاک ذریعہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام کو ہر خیال کو رسول اللّٰہ ﷺ کی سنّت میں ڈھالنے کی کوشش کرے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں فرما دیا ہے کہ اگر تم اللّٰہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو رسول کریم ﷺ کی اتّباع کرو، اللّٰہ تعالیٰ خود تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ مثلاً گھر میں انسان بیوی بچوں کے ساتھ ہو تو یہ سوچے کہ جب رسول اللّٰہ ﷺ گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ ہوتے تھے تو ان کا رویہ کیسا ہوتا تھا؟ جب صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے ساتھ ہوتے تھے تو ان کا رویہ کیسا ہوتا تھا؟ جب کسی سے وعدہ کرتے تھے تو ان کا عمل کیسا ہوتا تھا؟ جب انہوں نے تجارت کی، تو اس میں ان کے اخلاق کیسے تھے؟
انسان یہ سوچے کہ ہم جو پڑھائی کرتے ہیں، ملازمت کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اس میں ہماری نیّت دنیا کمانے کے نیّت کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیّت میں کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ ان سب کاموں کے بارے میں رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں، اور ہم ان کو کیسے اپنا سکتے ہیں؟ اگر غصّہ آئے تو یہ سوچو کہ جب رسول اللّٰہ ﷺ کو غصّہ آئے تو ان کا طرزِ عمل کیسا ہوتا تھا؟ آپ ﷺ کس بات پہ غصّہ کرتے تھے؟ کس بات پہ غصّہ نہیں کرتے تھے؟
یہ مشق بہت زمانے تک کرتے رہنا پڑتا ہے، اور اس میں ساتھ ساتھ کسی استاد سے مشورہ کرتے رہنا پڑتا ہے جو خود کسی مستند شخص کے زیرِ نگرانی اصلاح کے عمل سے گزر چکا ہو۔ پھر کرتے کرتے غیر محسوس طریقے پہ انسان کی ساری دنیا دین بننے لگتی ہے۔
05/11/2024
Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
05/11/2024
Marking my 1st anniversary on Facebook. I appreciate your ongoing encouragement. Your support has been instrumental to my success. 🙏🤗🎉