25/12/2022
آج کی اچھی بات
نیک بنو نیکی پھیلاؤ
25/12/2022
25/12/2022
آج "عیسی' ابن مریم" علیہم السلام کا یوم "پیدائش" ہے..
اور یقینا" "خدا" پیدا نہیں ہوا کرتا..
اور جو پیدا ہو , وہ خدا نہیں ہوتا !!
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے O
اللہ بےنیاز ہے O
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا O
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں O
25/12/2022
قائداعظم کی زندگی کے چند واقعات
دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بانیِ پاکستان محترم قائداعظم محمد جناح رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار ایسی ہی گوہر نایاب شخصیات میں ہوتا ہے- ہر سال 25 دسمبر کو قائداعظم کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ان کی شاندار خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے- اسی مناسبت سے آج قائد اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں-وقت کی پابندی کتنی ضروری:وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکای تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاء کی اگلی نشست ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاء کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزراء سرکاری افسر کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی قائد اعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولی گئی ۔اعلیٰ ظرفی:1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمان طلباء کے درمیان اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ یونیورسٹی میں کانگریس کا پرچم لہرا یا جائے۔ مسلمان طلباء کا ماننا تھا کہ کا نگریس کا پرچم مسلمانوں کے جذبات کا عکاس نہیں اور چونکہ الہ آباد یورنیورسٹی میں مسلمان طلبہ کی اکثریت زیر تعلیم تھی اس لیے یہ پر چم اصولاً وہاں نہیں لہرایا جا سکتا ابھی یہ تنازعہ جاری تھا کہ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے مسلم طلباء کی یونین سالانہ انتخاب میں اکثریت حاصل کر گئی یو نین کے طلباء کا ایک وفد قائداعظم کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ پنجاب یورنیوسٹی ہال پر مسلم لیگ کے پر چم لہرانے کی رسم ادا کریں قائداعظم نے طلباء کو مبارک باد دی اور کہا اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے کیا یہ منا سب بات نہیں کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔۔رشوت ایک ناسور:ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامنر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکھٹے ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔۔کفایت شعاری اختیار کرو:محمد حنیف آزاد کو قائداعظم کی موٹر ڈرائیوری کا فخر حاصل رہا ہے ایک بار قائداعظم نے اپنے مہمانوں کی تسلی بخش خدمت کرنے کی صلے میں انہیں دو سو روپے انعام دئے- چند روز بعد حنیف آزاد کو ماں کی جانب سے خط ملا جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے کچھ روپے کا تقاضا کیا تھا- حنیف آزاد نے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے قائد سے ماں کے خط کا حوالہ دے کر والدہ کو کچھ پیسے بھیجنے کی خاطر رقم مانگی- قائداعظم نے فوراً پوچھا ” ابھی تمھیں دو سو روپے دئے گئے تھے وہ کیا ہوئے “حنیف آزاد بولے ”صاحب خرچ ہوگئے قائد اعظم یہ سن کر بولے ” ویل مسٹر آزاد، تھوڑا ہندو بنو “-وکالت کے اصول:وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ مؤکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔ قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ مؤکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔ مؤکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوںکہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒنے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ’’میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔‘‘ عید کی نماز:یہ 25 اکتوبر 1947 کی بات ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت فریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینی تھی- قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا۔ مگر قائد اعظم عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیں۔ مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ’’میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں‘‘ چناں چہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ ابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ نماز شروع ہوچکی تھی۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ قائد اعظم کے برابر کھڑے نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہُوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا ریاست کا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ریاست کا سربراہ تھا۔ قائد اعظم نمازیوں سے گلے ملنے کے بعد آگے تشریف لائے۔ انھوں نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
"جس چیز کی تمنا کرتے ہو اُس کے لئے دعا کرتے رہو
ممکن اور ناممکن صرف انسان کے دماغ کا تصور ہے
ﷲ کیلئے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔" 🖤
27/11/2022
ایک دفعہ یہ اعلان ہو اکہ جو جو آدمی پریشان ہے وہ فلاں میدان میں آجائے ۔ جس چیز سے پریشان ہے اس کو وہا ں رکھ دے اس کا متبادل یعنی جس چیز کو اچھا سمجھتاہے وہ اٹھا لے ۔ اس اعلان کو سن کر سب خوش ہو گئے اور مقررہ دن میدان میں پہنچ گئے۔
(1) ایک آدمی شادی شدہ تھا ،بیوی سے تنگ تھا وہ بیوی کو چھوڑ آیا ۔(2) ایک کنوارہ تھا وہ بیوی کے بغیر ادھو را تھا وہ بیوی کو لے کر آگیا
(3 ) ایک آدمی کی اولاد نافرمان تھی ...وہ انہیں چھوڑ کرآگیا
(4 ) دوسرے کی اولا د نہیں تھی وہ اولا د لے کر آگیا
(5 ) ایک آدمی ٹی بی کا مریض تھا ۔ ساری را ت کھا نستا تھا وہ ٹی بی کو چھوڑ آیا اور شو گر لے آیا ۔
(6 )دوسرا جو شو گر کا مریض تھا وہ شوگر رکھ آیا اور ٹی بی لے آیا ...
اسی طر ح سب خوشی خوشی واپس آگئے ۔
(1 ) شادی شدہ جو بیوی کو چھوڑ آیا تھا گھر آیا، را ت ہوئی نہ کوئی کھانا پکا نے والا نہ کسی نے بستر بچھا کر دیا ۔نہ کوئی چائے بنا کر دینے والا توکہنے لگا کہ چلو جیسی بھی تھی خدمت تو کرتی تھی...
(2 ) جو غیر شادی شدہ تھا بیو ی لے آیا اس نے آتے ہی سامان کی لسٹ ہا تھ میں دے دی کہ یہ لے آﺅ ۔ فلاں لے آﺅسارے پیسے خرچ ہو گئے، جیب خالی ہوگئی کہنے لگا کہ میں تو بغیر شا دی کے ہی ٹھیک تھا ۔
(3) جو اپنی اولا د کو چھوڑ آیا تھا وہ بھی ایسے ہی پشیمان ہو اکہ جیسے بھی نا فرمان تھے کبھی کبھی حال چال ہی پوچھ لیتے تھے کبھی کوئی کام ہی کر دیتے تھے ۔
(4 )جو اولا د لے آیاتھا بڑا خوش تھا ۔ لڑکوں نے آتے ہی با پ کو لٹا کر مارنا شروع کر دیا اب وہ بولا کہ میں تو ایسے ہی ٹھیک تھا ۔
(5 )جو آدمی ٹی بی والا تھا ساری رات کھا نستا تھا وہ شوگر کی بیماری لے آیا ۔ ساری رات اٹھ اٹھ کر پیشاب کر تا تھا۔ سردی تھی ،بڑا پریشان ہوا اور کہا کہ ٹی بی ہی ٹھیک تھی چاہے ساری را ت کھا نستا تھالیکن بستر میں تو پڑا رہتا تھا ۔ یہ بار بار کا اٹھنا سر دی میں جا نا بڑا مشکل ہے ...
(6) جو شو گر والا ٹی بی لے آیا تھا وہ ساری رات کھا نستا رہا صبح اٹھ کر کہنے لگا کہ وہی شو گر ٹھیک تھی چلو پیشا ب کر کے کچھ دیر سو تو جا تا تھا ۔ اس کم بخت ٹی بی نے تو مجھے ساری رات سونے واقعی اللہ پا ک کا فرمان حق اور سچ ہے ۔ ” بے شک انسان نا شکر اہے .
خود بھی پڑھیں اور دوسروں سے بھی ضرور شئر کریں
👇
اگر آپ دل کو چھو لینے والی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے تو ایک مرتبہ میری ID کو ضرور وزٹ کریں اگر پسند آۓ تو Follow کر کہ see first لازمی کریں, شکریہ اس ترہا آپ کو ساری پوسٹس ملتی رہے گی M Arif Ishaq
راجن پور ، ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف کے علاوہ سندھ، بلوچستان کے کچھ علاقے تباہی کی زد میں ہیں
سیلاب میں بہتی انسانوں کی لاشیں
ہم سے پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہم انسان نہیں تھے ؟
پاک آرمی اور حکومتی ادارے دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیں مگر افرادی قوت اور وسائل کی اس سے زیادہ ضرورت ہے
ہمیں پوری قوم کو اس ساڑستی کا مقابلہ کرنا ہوگا
خدارا جنوبی پنجاب کے آفت زدہ لوگوں کی مدد کریں
اہل ثروت آگے آئیں کہ اللہ اس کا اجر عظیم عطا کرے گا😭
محبت خوبصورتی کو تو نہیں کہتے
عربی لغت میں تو محبت کہتے ہی کسی ایک شخص کا کسی دوسرے کی نظر میں خوبصورت لگنا اتنا خوبصورت کہ وہ دل میں سما جائے۔🌻💜
میرے مولا
تیرا پانی بپھر گیا ہے
مگر آپ کے حکم کا محتاج ہے
ہم توبہ کرتے ہیں آپ معاف فر ما دیں
بالآخر آپ کے لاڈلے حبیب کی امت ہیں
ہم امتحان کے قابل کہاں ہیں میرے رب
ہم شاید اس سے بڑے عذاب کے مستحق ہوں گے
مگر آپ کی رحمت کے سائے ہمیں نظر آ رہے ہیں
نستغفرک و نتوب الیک 😞
غسل خانہ
اور بیت الخلاء (واش روم)
سے متعلق چند ضروری اور اہم ہدایات کیا ہیں؟
عرب کے مشہور عالم ڈاکٹر عائض بن عبداللہ القرنی کی ایک فکر انگیز تحریر کا ترجمہ:
👈 چند کام کر لیجئے آپ کے جسم سے منفی توانائی کا خاتمہ ہوگا اور آپ کے شیاطین کمزور پڑجائیں گے۔
👈 بیت الخلاء کی صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں اور بیت الخلاء کومستقل بنیادوں پر صاف ستھرا اور بدبو سے پاک رکھئے ۔
👈 رات کو سونے سے پہلے لیٹرین کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجئے۔
👈 بیت الخلاء کا دروازہ ہروقت اور مستقل بنیادوں پر بند رکھنے کا اہتمام کیجئے۔ .....
👈 بیت الخلاء میں کپڑے اتار کر لٹکے نہ رہنے دیجئے ایک رات کے لیے لٹکے رہنے والے کپڑوں میں جتنی منفی توانائی بھر جاتی ہے اس کا خاتمہ تقریبا ناممکن ہے کم از کم 72 گھنٹے دھوپ میں لٹکانے سے کچھ خلاصی ممکن ہے۔
👈 میلے کپڑوں کو ہمیشہ بیت الخلاء سے باہرکسی ٹوکری میں رکھنے کا اہتمام کیجئے۔
👈 بیت الخلاء میں بھی عطر نہ رکھیے اور نہ ہی اس میں خوشبو وغیرہ کا استعمال کیجئے۔
👈 بیت الخلاء میں رونے سے سخت گریز کریں ایسا کرنا شیاطین کو کھلی دعوت دینا ہے کہ وہ آپ کے جسم میں داخل ہو جائیں یا وہ آپ کے جسم کو پکڑ لیں ۔
👈 واش روم گندے رہیں تو رزق یا شادی میں دیر ہوتی چلی جاتی ہے زندگی میں مشکلات بڑھتی جاتی ہیں، بغیر سبب غم اور افسردگی کا احساس ہوتا ہے اور تشنج یا مرگی تک ہوسکتی ہے ۔
👈 ہر تیسرے دن اپنے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں کھولئے اور گھر میں سورۂ بقرہ کی ریکارڈنگ چلائیں آپ کو بذات خود اپنے اور اپنے گھر والوں میں بہتری محسوس ہوگی
👈 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق گھر سے شیاطین اور جراثیم بھگانے کے لیے کلونجی کی دھونی دیجئے۔
👈 گھر میں جگہ جگہ شیشے آویزاں نہ کیجئے، گھر میں ایسی جگہ نہ بیٹھئے جہاں سے ابھی ابھی کوئی اٹھ کر گیا ہو۔
👈 جاگنے پر لمبی لمبی سانس لیجئے اور اٹھتے ہوۓ بسم اللہ پڑھئے۔
👈 رات میں سونے کا ایک مستقل وقت مقرر کرلیجئے اور سونے سے پہلے سورۂ ملک کی تلاوت بھی نہ چھوڑیئے یہ سورۃ عذاب قبر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت سے آپ اور جنت کے درمیان صرف موت کا حائل ہونا باقی رہتا ہے اس لئے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا بھی نہ بھولیں.
اللہ تعالی ہمیں ان تمام ہدایات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
آمین یا رب العالمین۔
😊🌺✨
#سیلاب
کہنے کو ایک خبر فلا ں فلا ں گاؤں زیر آب آ گئے ۔
مگر کبھی سوچا ہے ایک سیلابی ریلا کتنے خواب ساتھ بہا لے جاتا ہے ...
مائیں سب سے پہلے بچوں کی اسناد اٹھاتی ہیں ۔ہا ے میرے بیٹے بیٹی کی ۔16۔14 سال کی محنت ہے یہ ۔غریب لوگ روتے ہوے گھر چھوڑتے ہیں ۔ا ماں جی اس لکڑی کی صندو ق کو بار بار دیکھتی ہیں ۔جہاں وہ بیٹی کا جہیز جمع کر رہی تھی ۔کوئی اچھا مہنگا کپڑ ا کوئی خاندان میں شادی ہونے پہ لڑکے کی ماں دیتی ۔اماں جی بیٹی کے لئے رکھ لیتی ۔کوئی اچھا برتن جو اس نے خود نہیں استعمال کیا ہوتا بیٹی کے لئے رکھ دیتی ہے ۔وہ اپنی شادی کے سال بعد ہی اپنی اکلو تی سونے کی انگو ٹھی اتار کہ بیٹی کے لئے رکھ دیتی ہے ۔وہ صندو ق چھوڑ کہ نہیں جا سکتی ۔
پھر اسکی نظر چھت والے پنکھے کی طرف جاتی تو اسے یاد آتا اسے جہیز میں ایک اسٹینڈ والا پنکھا ملا تھا مگر پہلے بیٹے کی پیداءش پہ ملنے والے مبارک باد کے پیسوں سے یہ چھت والا پنکھا لیا تھا کیسے چھوڑ کے جا سکتی ھوں ۔
صحن میں رکھا دانوں والا بڑا ڈول کیسے چھوڑ کہ جاؤں؟؟ ۔جس میں رکھےگند م کے دانے اس نے اپنے بچوں شوہر کے ساتھ سخت گرمی میں زمیندا ر کی زمینو ں سے دو ماہ انکی فصل کاٹ کہ کما ے تھے ۔یہ گند م سال بھر اسکے بچوں کا پیٹ بھر سکتی تھی ۔اسکو کیسے چھوڑ دے ۔سب کہ رہے ہیں ۔گھر میں جو جو بھی جانور ہیں انکو کھول دیں اگر انکی زندگی ہوئی وہ تیر کہ اپنی جان بچا لیں گے ۔
اماں سوچ رہی ہے کہ کیسے جانے دوں یہ گاؤں جو ہما رے گھر کا چو لھا گرم رکھے ہوے ہے ۔غر بت کی وجہ سے سارا دودھ بیچ دیتی کہ بچوں کی فیس کے پیسے تو نکل اتے ہیں ۔پھر گھر کے کچے کمرے کیسے چھوڑ کہ جا ے۔ جن کو اپنے ہاتھوں سے مٹی کا لیپ لگاتی اماں ھر سال ۔بہت مشکل ہے گھر چھوڑنا ۔
مجھے سوچ کہ دکھ بھی ہوتا ہے اور افسوس بھی کہ ہما رے حکمران رب کو کیا منہ دکھائیں گے...
ہما رے آج کہ حکمر ان رب کا سامنا کیسے کریں گے ؟ کیا جواز هو گا انکے پاس ؟غریبی بھی نعمت ہے رب کی ۔ظلم اور کسی کا حق کھا نے کا موقع نا ملنا بھی فضل ہے رب کا ۔مالک ص غریبوں پر رحم فرما کر ان کی مدد کر آمین...
منقول..........
...
14 #اگست
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
#آمین
احمد ندیم قاسمی
#المیہ
ہم لوگ صرف 14 اگست پر متحد قوم کا ثبوت دیتے ہیں صرف رمضان المبارک میں نمازی بننے کا ثبوت دیتے ہیں صرف عید قربان پر ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں صرف 12 ربیع ال اول پر سچا عاشق رسول ہونے کا دعوہ کرتے ہیں اور باقی پورا سال اپنی ان رسومات کی مخالفت میں گزار دیتے ہیں علامہ اقبال اپنے ایک کلام میں اسی حقیقت کی اکاسی کرتے ہیں
حقیقت حرافات میں کھو گئی
یہ امّت روایات میں کھو گئی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi