18/05/2026
* موت و حیات کی حقیقت *
**سائل:** "مرشدِ محترم! یہ جو 'موت و حیات' ہے، یہ اصل میں کیا ہے؟ اور اس چکر سے نجات پانے کی جو بات کی جاتی ہے، پھر اس دنیا میں دوبارہ واپس آنے کا ذکر ہوتا ہے، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟"
**مرشد:** "بہت ہی گہرا اور بنیادی سوال ہے، اسے پوری یکسوئی سے سمجھو۔
موت و حیات کیا ہے؟
جسے تم 'حیات' یعنی زندگی کہتے ہو، وہ دراصل روح کا ایک مادی لباس (جسم) اوڑھ کر کائنات کے اس رنگ برنگے 'منظر' کو دیکھنے نکلنا ہے۔ اور جسے تم 'موت' کہتے ہو، وہ اس لباس کا پرانا ہو کر اتر جانا ہے۔
موت کسی وجود کے ختم ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل جانے کا نام ہے۔ جیسے پانی ابل کر بھاپ بن جائے تو پانی مٹتا نہیں، شکل بدل لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح، موت و حیات کا یہ سلسلہ دراصل روح کا ایک لامتناہی سفر ہے۔
اس چکر سے نجات کیا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ انسان اس چکر میں پھنسا کیوں رہتا ہے؟ اس کی وجہ انسان کی اپنی **اندرونی خواہش، وابستگی اور ادھوری حسرتیں** ہیں۔ جب تک انسان کا دل اس دنیا کے رنگوں، رشتوں، نفع نقصان اور مادی چیزوں سے جڑا رہتا ہے، وہ اس کائنات کے کھینچ تان سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ جسم تو مر جاتا ہے، لیکن جو پیاس اور خواہشات انسان اپنے اندر لے کر جاتا ہے، وہی لہر اسے دوبارہ کسی نئے وجود کی طرف کھینچ لاتی ہے۔
جب انسان اپنے اندر کے 'ناظر' (دیکھنے والے اندرونی شعور) کو دریافت کر لیتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ وہ یہ فانی جسم نہیں بلکہ ایک لافانی گواہ ہے، تو وہ خواہشاتِ نفسانی کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسی باطنی آزادی کا نام **'نجات'** ہے۔
#نجات کے بعد دوبارہ واپسی کی حقیقت
اب رہی بات نجات کے بعد دوبارہ دنیا میں آنے کی، تو اس کی حقیقت کو دنیا کے ایک **'میلے'** سے سمجھو۔ یہ کائنات خالقِ کائنات کا سجایا ہوا ایک عظیم میلا ہے۔
عام انسان، جو اپنی خواہشات کا غلام ہے، وہ اس میلے میں ایک **'خریدار یا تماشائی'** بن کر آتا ہے۔ وہ یہاں کی چیزوں میں الجھتا ہے، نقصان پر روتا ہے، چیزوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی الجھن کی وجہ سے وہ مجبوری میں دوبارہ زندگی اور موت کے چکر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔
لیکن وہ انسان جو نجات پا چکا ہے، جو ابدی سچائی سے جڑ چکا ہے، اس کا دوبارہ دنیا کے میلے میں آنا کسی مجبوری، سزا یا خواہش کے تحت نہیں ہوتا۔ وہ اب پوری طرح آزاد ہے۔ اگر وہ اس میلے میں دوبارہ قدم رکھتا بھی ہے، تو وہ ایک **'دکاندار'** بن کر آتا ہے۔
دکاندار بن کر آنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب دنیا سے کچھ لینے یا خریداریاں کرنے نہیں آیا، بلکہ وہ کائنات کو کچھ دینے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ دکھانے اور دنیا کو سدھارنے کے لیے آیا ہے (جیسے انبیائے کرام، صوفیائے عظام اور سچے رہبر آتے ہیں)۔ وہ کائنات کے اس رنگ و بو کو محض ایک کھیل سمجھ کر دیکھتا ہے اور اس کے نفع نقصان سے متاثر ہوئے بغیر پرسکون گزر جاتا ہے۔
اس لیے میں کہتا ہوں کہ باہر کی دوڑ چھوڑو اور پہلے اپنے اندرونی شعور کو پا کر نجات کے مقام تک پہنچو تو سہی! وہاں پہنچ کر خود دیکھ لینا کہ یہ دنیا کا میلا پھر سے دیکھنے کا دل کرتا ہے یا نہیں۔ اور اگر کبھی آنا بھی پڑے، تو دکاندار بن کر آنا، خریدار بن کر نہیں!"
*طبیب وجاہت عمر*