07/07/2022
* Karne Ke 5 Fazail*
* #فضائلِ استغفار*
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَـلِیْن
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
یہ مضمون کتاب ”مَدَنی پنج سورہ“ صفحہ 139 تا 161 سے لیا گیا ہے ۔
فضائلِ اِستِغفار
دعائے عطار :یاربَّ المصطفےٰ !جوکوئی17صفحات کا رسالہ فضائل ِاِستِغفار پڑھ یا سُن لے، اُسے تیری رضا کےلئے زیادہ سے زیادہ ذِکر کرنے کی توفیق عطافرما اوراُسے بے حساب بخش دے ۔
اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبِیّیْن صلّی اللہُ علیه واٰلہٖ وسلّم
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
مجھے سوار کے پیالے کی مانند نہ بناؤ کہ سوار اپنے پیالے کو پانی سے بھرتا ہے پھر اُسے رکھتا ہے اور سامان اُٹھاتا ہے، پھر جب اُسے پانی کی حاجت ہوتی ہے تو اُسے پیتا ہے، وضو کرتا ہے ورنہ اسے پھینک دیتا ہے لیکن مجھے تم اپنی دُعا کے اَوَّل وآخِر اور دَرمیان میں یادرکھو۔ (مجمع الزوائد، 10/239، حدیث: 17256)
خدایا واسِطہ میٹھے نبی کا شَرَف عطارؔ کو حج کا عطا ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
”مَغْفِرَت‘‘ کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے اِستِغْفار کرنے کے5 فضائل
(1)دِلوں کے زَنگ کی صفائی
حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین، محبوبِ ربُّ العالَمِین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دِلنشین ہے : بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہے
اور اس کی جِلاء ( یعنی صفائی )اِستِغْفار کرنا ہے.
( مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)
(2) پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات
حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے،جس نے اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔
(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)
(3) خوش کرنے والا اعمال نامہ
حضرت زُبیر بن عوّام رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ مکرم، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مَسرَّت نشان ہے: جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ اس میں اِستِغفارکا اضافہ کرے۔
(مجمع الزوائد، 10/347، حدیث: 17579)
(4) خوشخبری ! حضرت عبدُ اللہ بن بُسْر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفار کو کثرت سے پائے۔ (ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3818)
(5) سیِّدُ الْاِسْتِغفار پڑھنے والے کے لئے جنّت کی بشارت حضرت شَدّادبن اَوس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ المُرسَلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ ” سیِّدُ الْاِسْتِغفار “ ہے: ” اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّه لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔“( )
جس نے اِسے دن کے وَقت ایما ن و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے اور جس نے رات کے وقت اِسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے۔
(بخاری، 4/190، حدیث: 6306)
”وَاحِد “کے چار حروف کی نسبت سے کلمہ طیّبہ کے 4 فضائل
(1) خوش نصیب کون
حضرت ابوہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے اِنہوں نے عرض کی: یارسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب لوگ کون ہونگے؟ فرمایا: اے ابو ہُریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سُننے کے معاملہ میں تمہاری حِرص کو جانتا ہوں، قیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہو گا جو صدقِ دل سے”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“کہے گا۔(بخاری، 1/53،حدیث: 99)
(2) اَفضل ذکر و دُعا
حضرت جابر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہی میں نے نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا: سب سے اَفضل ذکر ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ہے اور سب سے افضل دُعا ” اَلحمدُ لِلّٰہ“ ہے۔
(ابن ماجہ، 4/248، حدیث: 3800)
ترجمہ اے اللہ پاک ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبو د نہیں ، تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور بقدرِ طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں ، میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اِقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔
(3) آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: ” جس بندے نے اِخلاص کے ساتھ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ کہا تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
(ترمذی، 5/340، حدیث: 3601)
(4) تجد یدِایمان حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے کہ اسلام کے سب سے بڑے مُبلِّع،رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،اپنے ایما ن کی تَجدید کر لیا کرو۔ عر ض کیاگیا: یارسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کیا کریں ؟ فرمایا:” لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ کثرت سے پڑھا کرو۔(مسند امام احمد ، 3/281، حدیث: 8718)
” جنّت ‘‘ کے تین حروف کی نسبت سے” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ“ پڑھنے کے 3فضائل
(1) گناہ مٹادئیے جاتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا
فرمانِ مغفرت نشان ہےجوسو مرتبہ ”سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“پڑھتا ہے اُس کے گُناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اگر چہ سمندرکے جھاگ کے برابر ہوں ۔ (ترمذی، 5/287، حدیث: 3477)
(2) سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے کا ثواب
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دِلنَشِین ہے : جس کے لئے رات میں عبادت کرنا دُشوار ہو یا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں بُخْل سے کام لیتا ہو یا دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرتا ہو تو وہ ” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللہ پاک کو اپنی راہ میں سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (مجمع الزوائد، 10/112، حدیث: 16876)
(3) جنت میں کھجور کا درخت
حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرْو رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو ” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“پڑھتا ہے اُس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/111، حدیث: 16875)
”آقا‘‘ کے تین حروف کی نسبت سے ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“ پڑھنے کے 3 فضائل
(1) جنّت کا دروازہ
حضرت مُعَاذ بن جَبَل رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا،کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے بارے میں
نہ بتاؤں ؟ عرض کی گئی: وہ کیا ہے؟ اِرشاد فرمایا ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“
(مجمع الزوائد، 10/118، حدیث: 16897)
l
(2) ننانوے بیماریوں کے لیے دَوا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ احمدِ مُجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،جس نے ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَاِلَّا بِاللہ کہا تو یہ (اُس کے لئے ) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اِن میں سب سے ہلکی بیماری رَنج و اَلَم ہے۔
(الترغیب و الترہیب، 2/285، حدیث: 2448 (
(3) نعمت کی حفاطت کا نُسخہ حضرت عُقبہ بن عامِر رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایاجسے اللہ پاک نے کوئی نعمت عطا فرمائی پھر وہ بندہ اس نعمت کو باقی رکھنا چاہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَاِلَّا بِاللہ“ کی کثرت کرے۔
(معجم کبیر، 17/311، حدیث: 859)
بیدار ہوتے وقت کے 3 اَوراد
(1)حضرت عُبادہ بن صَامِت رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نیند سے بیدار ہو کر کہا : لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھو عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ط اَلْحَمْدُ لِلهِ وَ سُبْحَانَ اللهِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اللهُ
اَکْبَرُ وَ لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ( )
پھر” اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ" کہا یا کوئی دعا مانگی تو اُسے قبول کر لیا جائے گا پھر اگر وضو کیا اور نماز پڑھی تو اُس کی نماز قبول کرلی جائے گی ۔ (بخاری، 1/391، حدیث: 1154)
(2)حضرت عبدُ اللہ بن عَمرو رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے فرمایا،جس نے نیند سے بیدار ہوتے وقت ”بِسْمِ اللهِ ، سُبْحَانَ اللهِ، اٰمَنْتُ بِاللهِ وَ کَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ“( )
دس ، دس مرتبہ پڑھا تو ہر اس گناہ سے بچا لیا جائے گا جس کا اُسے خوف ہو اور کوئی گناہ اُس تک نہ پہنچ سکے گا۔(مجمع الزوائد، 10/174، حدیث: 17060)
(3)” اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ“ ترجمہ: ” تمام تعریفیں اللہ پاک کے لئے جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد حیات (بیداری) عطا فرمائی اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔“(بخاری، 4/192، حدیث: 6312)
… ترجمہ: ”اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی کی خوبیاں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔ اللہ”پاک“ ہے اور اللہ پاک خوبیوں والا ہے اور اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور اللہ پاک سب سے بڑا ہے اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ پاک ہی کی طر ف سے حاصل ہوتی ہے۔“
… ترجمہ: ”اللہ پاک کے نام سے ، اللہ” پاک “ ہے، میں اللہ پاک پر ایمان لایا اور بُت اور شیطان سے منکر ہوا ۔“
”یا خُدا “کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے صبح وشام کے5 اَذ کار
(1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں نے ایسا بِچّھو کبھی نہیں دیکھا جس نے مجھے گزَشتہ رات کاٹا،حبیبِ پروردگار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا تم نے شام کے وقت ”اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ “ (ترجمہ: میں اللہ پاک کے پورے اور کامل کَلِمات کے ساتھ مخلوق کے شر سے پناہ لیتا ہوں۔) کیوں نہ پڑھ لیا کہ بِچّھو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔ (ابن حبان، 2/180، حدیث: 1016) (یہاں مخلوق سے مراد وہ مخلوق ہے جس سے شر ہوسکے)
(2)حضرت اَبان بن عثمان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام تین تین مرتبہ یہ پڑھے گا، تو اسے کوئی چیز نقصا ن نہ پہنچاسکے گی ، ”بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَایَضُّرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَ ھوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“
ترجمہ: ” اللہ کے نام سے جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی اور وہی سنتا جانتا ہے ۔“ (ترمذی، 5/251، حدیث: 3399)
(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کےپیارے پیارے آخری نبی ،مکی مَدَنی ،محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے صبح اور شام سو سو مرتبہ
” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“ پڑھا قیامت کے دن اس سے افضل عمل لے کر آنے والا کوئی نہ ہو گا مگر وہ جو اس کی مثل کہے یا اس سے زیادہ پڑھے۔ (مسلم، ص 1445، حدیث: 2692)
(4)حضرت ابو دَرْدَاء رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے صبح وشام سات سات مرتبہ پڑھا: ”حَسْبِیَ اللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ“
ترجمہ: ” مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسا کیا
اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔“ اللہ پاک اس کی تمام پریشانیوں میں کِفایت کرے گا۔
(ابو داود ، 4/416، حدیث: 5081)
(5)حضرت مُنَیْذِر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ پاک کے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو صبح کے وقت یہ پڑھے: ”رَضِیْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا“
ترجمہ: ” میں اللہ پاک کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔“ تو میں اُسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر جنت میں داخل کرنے کی ضمانت دیتا ہوں ۔(مجمع الزوائد، 10/157، حدیث: 17005)
” اَحَد‘‘کے تین حروف کی نسبت سے کلمۂ توحید کے 3 فضائل
(1)حضرتِ ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے ” لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
(ترجمہ: اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اُسی کیلئے ہے بادشاہی اور اُسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔) کہا تو اس کلمہ سے کوئی عمل آگے نہ بڑھ سکے گا اور اس کے ساتھ کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔
(مجمع الزوائد، 10/94، حدیث: 16824)
(2)حضرتِ عَمْرو بن شُعیب رضی اللہُ عنہما بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بہترین دُعا یومِ عَرَفہ کی دعا ہے اور سب سے بہتر کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے کے انبیا علیہمُ السّلام نے کہا: (وہ یہ ہے: ) ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“ (ترمذی، 5/339، حدیث: 3596)
(3)حضرتِ بَراء بن عازِب رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا جس نے چاندی یا دودھ صدقہ کیا یا اندھے کو راستہ بتایا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور جس نے ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“ کہا تو یہ بھی ایک غلام آزاد کرنے کی طرح
ہے۔ (مسند امام احمد، 6/408، حدیث: 18541)
ایمان پر خاتِمہ کے چار اَوراد
ایک شخص بارگاہِ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ میں حاضِر ہو کر ایمان پر خاتِمہ بالخیر کیلئے دعا کا طالِب ہوا تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے اُس کیلئے دعا فرمائی اور اِرشاد فرمایا :(1) (روزانہ) 41بار صبح کو” یَاحَیُّ یَاقَیَّوْمُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ“ (اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے ہمیشہ قائم رہنے والے! کوئی معبود نہیں مگر تُو)اوّل و آخِر دُرُود شریف (پڑھے)نیز(2) سوتے وَقت اپنے سب اَوراد کے بعد سُورۂ کافرون روزانہ پڑھ لیا کیجئے اِس کے بعد کلام وغیرہ نہ کیجئے ہاں اگر ضَرورت ہو تو کلام کر نے کے بعد پھر سُورۂ کافرون تلاوت کرلیں کہ خاتمہ اِسی پر ہو اِن شاءَ اللہ خاتِمہ ایمان پر ہو گا۔ اور(3)تین بار صبح اور تین بار شام اس دُعا کا وِرد رکھیں: ” اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِكَ مِنْ اَنْ نُّشْرِكَ بِكَ شَیْئًا نَّعْلَمُهٗ وَ نَستَغْفِرُكَ لِمَا لَانَعْلَمُهٗ“
ترجمہ: ” اے اللہ پاک! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اِس سے کہ جان کر ہم تیرے ساتھ
کسی چیز کو شریک کریں اور ہم اس سے اِستغفار کرتے ہیں جس کو نہیں جانتے۔ “
(مسند امام احمد، 7/146، حدیث: 19625۔ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص 311)
(4)بِسْمِ اللهِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللهِ عَلٰی نَفْسِیْ وَ وُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ۔ (ترجمہ: ”اللہ پاک کے نام کی برکت سے میرے دین، جَان، اولاد اور اہل و مال کی حفاظت ہو۔“ )
صبح و شام تین تین بار پڑھئے، دین، ایمان، جان، مال، بچّے سب محفوظ رہیں۔ (شجرہ قادِریہ رضویہ، ص 12)(غروبِ آفتاب سے صبحِ صادِق تک رات اور آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صبح ہے۔ )
گُناہوں کی بخشش
”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَسُبْحٰنَ اللهِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللهُ“ جو
شخص یہ وِرد پڑھتا ہے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
(مسند امام احمد، 2/662، حدیث: 6977)
چار کروڑ نیکیاں کمائیں
” اَشْھدُ اَنْ لَّآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ اِلٰهًا وَّاحِدًا اَحَدًا صَمَدًا لَّمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَهٗ کُفُوًا اَحَدٌ“
حضرت تَمِیم داری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مَدَنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہے، ایسے آدمی کیلئے چارکروڑنیکیاں لکھی جاتی ہیں۔(ترمذی، 5/289، حدیث: 3484)
شیطان سے بچنے کاعمل
”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: جس نے یہ کلمات دن میں سو بار کہے تو اس کا یہ عمل دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے نامۂ اعمال میں سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس دن شام تک شیطان سے اس کی حفاظت کریں گے اورکوئی شخص اس سے بہترعمل لے کرنہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ یہ عمل کیا۔ (بخاری، 2/402، حدیث: 3293)
غیبت سے بچنے کا مَدَنی نسخہ
حضرتِ علّامہ مَجدُ الدّین فیروز آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ سے منقول ہے : جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں ) بیٹھو تو کہو :”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّدٍ“ تو اللہ پاک
تم پر ایک فرشتہ مقرّر فرما دے گا جو تم کو غیبت سے باز رکھے گا اور جب مجلس سے اُٹھو تو کہو : ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّدٍ“ تو وہ فرشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔ (القول البدیع، ص 278)
پانچ مَدَ نی پھول
حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرْو بن العاص رضی اللہُ عنہ کا اِرشادِ سعادت بنیاد ہے : پانچ عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی اِنہیں اختیار کرلے تو دنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جائے: (1)وقتاً فوقتاً ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهُ “ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کہتا رہے (2)جب کسی مصیبت میں مُبتَلا ہو(مثلاً بیمار ہو یا نقصان ہو جائے یا پریشانی کی خبر سنے) تو ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْن “اور ”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَابِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ“پڑھے۔ (3)جب بھی نعمت ملے تو شکرانے میں ”اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ“ کہے۔(4)جب کسی(جائز)کام کاآغاز کرے تو ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ پڑھے اور(5) جب گناہ کر بیٹھے تو یوں کہے.
جادو اور بلاؤں سے حِفاظت کے لئے شَشْ قُفْل
ان چھ دعاؤں کو شَشْ قُفْل‘‘ کہتے ہیں جو شخص رات کو ہمیشہ شَشْ قُفْل پڑھتا رہے یا لکھ کر اپنے پاس رکھے وہ ہر خوف و خطرہ سے اور جادو سے اور ہر قسم کی بلاؤں سے اِن شاءَ اللہ محفوظ رہے گا ۔ (جنتی زیور ،ص 582)
قفل اوَّل:”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ“
قفل دُوُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ الْخَلَّاقِ الْعَلِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ“
قفل سِوُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَلِیْمُ الْبَصِیْرُ “
قفل چہارُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْغَنِیُّ القَدِیْرُ“
قفل پنجم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ“
قفل ششم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ الْحَکِیْمُ فَاللهُ خَیْرٌحَافِظاً وَّھوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ“
نَمازکے بعد پڑھے جانے والے اَوراد
نَماز کے بعد جو اَذکارِ طوِیلہ(طویل اَوراد) احادیثِ مبارکہ میں وارِد ہیں وہ ظُہر و مغرب و عشا میں سنّتوں کے بعد پڑھے جائیں قبلِ سُنّت مختصر دُعا پر قَناعَت چاہیے، ورنہ سنّتوں کا ثواب کم ہو جائے گا۔
(رد المحتار، 2/300۔ بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
احادیثِ مُبارَکہ میں کسی دُعا کی نسبت جو تعداد وارِد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اَذکار کے لیے ہیں وہ اسی عَدَد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قُفل(تالا) کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر کُنجی میں دَندانے کم یا زائد کردیں تو اس سے نہ کھلے گا، البتہ اگر شُمار میں شک واقِع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادَت(بڑھانا) نہیں بلکہ اِتمام (مُکمَّل کرنا) ہے۔
(رد المحتار، 2/302۔ بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
پنج وَقتہ نَمازوں کے سُنَن و نوافِل سے فراغت کے بعد ذَیل کے اَورَاد پڑھ لیجئے سَہولت کے لیے نمبر ضرور دیئے ہیں مگر ان میں تَرتیب شَرط نہیں ہے۔ہر وِرد کے اوَّل آخِر دُرُود شریف پڑھنا سونے پہ سُہاگہ ہے۔
(1)” آیَۃُ الْکُرسی “ایک ایک بار پڑھنے والا مرتے ہی داخلِ جنّت ہو۔
(مشکاۃ المصابیح، 1/197، حدیث: 974)
(2)” اَللّٰهُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ“
ترجمہ: اے اللہ پاک ! تو اپنے ذِکر،اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داود، 2/123، حدیث: 1522)
(3)” اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِیْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ“( )
(تین تین بار )اس کے گناہ معاف ہوں اگرچِہ وہ میدان ِجہاد سے بھاگا ہوا ہو۔
(ترمذی، 5/336، حدیث: 3588)
(4)تسبیحِ فاطمہ رضی اللہُ عنہا ”سُبْحَانَ الله“ تینتیس بار،” اَلْحَمْدُ لِله“تینتیس بار، ”اَللهُ اَکْبَرُ“تینتیس بار،یہ 99 ہوئے،آخر میں ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
ایک بار پڑھ کر(100 کا عدد پورا کر لے) اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچِہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
(5)ہر نَماز کے بعدپیشانی کے اگلے حصے پر ہاتھ رکھ کر پڑھے: ”بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْم۔
اَللّٰهُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْهَمَّ وَالْحُزْنَ۔
(پڑھنے کے بعد ہاتھ کھینچ کر پیشانی تک لائے) تو ہر غم و پریشانی سے بچے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مذکورہ دعا کے آخر میں مزید ان الفاظ کا اضافہ فرمایا ہے،وَعَنْ اَهلِ السُّنَّةِ یعنی اور اہل ِسنّت سے ۔
(6)عصر وفجر کے بعد بغیر پاؤں بدلے بغیر کلام کیے ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا
شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
دس دس بار پڑھئے۔( بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
(7) حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سےروایت ہے کہ اللہ کریم کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایاجس نے نماز کے بعد یہ کہا سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“( )تو وہ مغفِرت یافتہ ہو کر اُ ٹھے گا۔
( مجمع الزوائد، 10/129، حدیث: 16928)
(8) حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہُ عنہما سے رِوایَت ہےسرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے,جو ہر فرض نماز کے بعددس مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورۃ) پڑھے گا اللہ پاک اُس کیلئے اپنی رِضا اور مغفِرت لازِم فرمادے گا۔“
(تفسیر در منثور، پ30، الاخلاص، تحت الآیۃ: 1، 8/678)
(9) حضرت زَید بن اَرقم رضی اللہُ عنہ سے رِوایَت ہے نبیوں کے سُلطان ، محبوبِ رحمٰن صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:جو شخص ہرنماز کے بعد.
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲) (پ 23، الصّٰفّٰت: 180-182)
* #ترجمۂ کنز الایمان* پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے اور سلام ہے پیغمبروں پر اور سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا رب ہے۔“ تین بار پڑھے گا گویا اس نے اَجر کا بہت بڑا پیمانہ بھر لیا۔
(تفسیر در منثور، 23، الصّٰفّٰت، تحت الآیۃ: 180، 7/141)
* #مِنٹوں میں چار خَتمِ قرآنِ پاک کا ثواب*
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے جو بعدِ فجر بارہ مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورۃ) پڑھے گا گویا وہ چار بار (پورا) قرآن پڑھے گا اور اس دن اس کا یہ عمل اَہلِ زمین سے افضل ہے جبکہ وہ تقویٰ کا پابند رہے۔
(شعب الایمان، 2/501،حدیث: 2528)
* #شیطان سے مَحفوظ رہنے کا عمل*
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: جس نے نمازِ فجر ادا کی اور بات کئے بغیر قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورت) کو دس مرتبہ پڑھا تو اُس دِن میں اُسے کوئی گُناہ نہ پہنچے گا اور وہ شیطان سے بچایا جائے گا۔
(تفسیر در منثور،پ 30، الاخلاص، تحت الآیۃ: 1، 8/678)
نماز کے بعد پڑھنے کے مزید اَوراد مکتبۃُ المدینہ کی کتاب بہارِ شریعت حصہ 3،صفحہ 107 تا 110 پر الوظِیفَۃُ الکریمہ اور شجرہ ٔقادریہ میں مُلاحظہ فرما لیجئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد