* Karne Ke 5 Fazail*
* #فضائلِ استغفار*
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَـلِیْن
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
یہ مضمون کتاب ”مَدَنی پنج سورہ“ صفحہ 139 تا 161 سے لیا گیا ہے ۔
فضائلِ اِستِغفار
دعائے عطار :یاربَّ المصطفےٰ !جوکوئی17صفحات کا رسالہ فضائل ِاِستِغفار پڑھ یا سُن لے، اُسے تیری رضا کےلئے زیادہ سے زیادہ ذِکر کرنے کی توفیق عطافرما اوراُسے بے حساب بخش دے ۔
اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبِیّیْن صلّی اللہُ علیه واٰلہٖ وسلّم
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
مجھے سوار کے پیالے کی مانند نہ بناؤ کہ سوار اپنے پیالے کو پانی سے بھرتا ہے پھر اُسے رکھتا ہے اور سامان اُٹھاتا ہے، پھر جب اُسے پانی کی حاجت ہوتی ہے تو اُسے پیتا ہے، وضو کرتا ہے ورنہ اسے پھینک دیتا ہے لیکن مجھے تم اپنی دُعا کے اَوَّل وآخِر اور دَرمیان میں یادرکھو۔ (مجمع الزوائد، 10/239، حدیث: 17256)
خدایا واسِطہ میٹھے نبی کا شَرَف عطارؔ کو حج کا عطا ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
”مَغْفِرَت‘‘ کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے اِستِغْفار کرنے کے5 فضائل
(1)دِلوں کے زَنگ کی صفائی
حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین، محبوبِ ربُّ العالَمِین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دِلنشین ہے : بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہے
اور اس کی جِلاء ( یعنی صفائی )اِستِغْفار کرنا ہے.
( مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)
(2) پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات
حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے،جس نے اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔
(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)
(3) خوش کرنے والا اعمال نامہ
حضرت زُبیر بن عوّام رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ مکرم، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مَسرَّت نشان ہے: جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ اس میں اِستِغفارکا اضافہ کرے۔
(مجمع الزوائد، 10/347، حدیث: 17579)
(4) خوشخبری ! حضرت عبدُ اللہ بن بُسْر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفار کو کثرت سے پائے۔ (ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3818)
(5) سیِّدُ الْاِسْتِغفار پڑھنے والے کے لئے جنّت کی بشارت حضرت شَدّادبن اَوس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ المُرسَلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ ” سیِّدُ الْاِسْتِغفار “ ہے: ” اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّه لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔“( )
جس نے اِسے دن کے وَقت ایما ن و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے اور جس نے رات کے وقت اِسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے۔
(بخاری، 4/190، حدیث: 6306)
”وَاحِد “کے چار حروف کی نسبت سے کلمہ طیّبہ کے 4 فضائل
(1) خوش نصیب کون
حضرت ابوہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے اِنہوں نے عرض کی: یارسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب لوگ کون ہونگے؟ فرمایا: اے ابو ہُریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سُننے کے معاملہ میں تمہاری حِرص کو جانتا ہوں، قیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہو گا جو صدقِ دل سے”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“کہے گا۔(بخاری، 1/53،حدیث: 99)
(2) اَفضل ذکر و دُعا
حضرت جابر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہی میں نے نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا: سب سے اَفضل ذکر ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ہے اور سب سے افضل دُعا ” اَلحمدُ لِلّٰہ“ ہے۔
(ابن ماجہ، 4/248، حدیث: 3800)
ترجمہ اے اللہ پاک ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبو د نہیں ، تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور بقدرِ طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں ، میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اِقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔
(3) آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: ” جس بندے نے اِخلاص کے ساتھ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ کہا تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
(ترمذی، 5/340، حدیث: 3601)
(4) تجد یدِایمان حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے کہ اسلام کے سب سے بڑے مُبلِّع،رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،اپنے ایما ن کی تَجدید کر لیا کرو۔ عر ض کیاگیا: یارسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کیا کریں ؟ فرمایا:” لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ“ کثرت سے پڑھا کرو۔(مسند امام احمد ، 3/281، حدیث: 8718)
” جنّت ‘‘ کے تین حروف کی نسبت سے” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ“ پڑھنے کے 3فضائل
(1) گناہ مٹادئیے جاتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا
فرمانِ مغفرت نشان ہےجوسو مرتبہ ”سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“پڑھتا ہے اُس کے گُناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اگر چہ سمندرکے جھاگ کے برابر ہوں ۔ (ترمذی، 5/287، حدیث: 3477)
(2) سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے کا ثواب
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ دِلنَشِین ہے : جس کے لئے رات میں عبادت کرنا دُشوار ہو یا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں بُخْل سے کام لیتا ہو یا دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرتا ہو تو وہ ” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللہ پاک کو اپنی راہ میں سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (مجمع الزوائد، 10/112، حدیث: 16876)
(3) جنت میں کھجور کا درخت
حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرْو رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو ” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“پڑھتا ہے اُس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/111، حدیث: 16875)
”آقا‘‘ کے تین حروف کی نسبت سے ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“ پڑھنے کے 3 فضائل
(1) جنّت کا دروازہ
حضرت مُعَاذ بن جَبَل رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا،کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے بارے میں
نہ بتاؤں ؟ عرض کی گئی: وہ کیا ہے؟ اِرشاد فرمایا ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“
(مجمع الزوائد، 10/118، حدیث: 16897)
l
(2) ننانوے بیماریوں کے لیے دَوا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ احمدِ مُجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،جس نے ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَاِلَّا بِاللہ کہا تو یہ (اُس کے لئے ) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اِن میں سب سے ہلکی بیماری رَنج و اَلَم ہے۔
(الترغیب و الترہیب، 2/285، حدیث: 2448 (
(3) نعمت کی حفاطت کا نُسخہ حضرت عُقبہ بن عامِر رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایاجسے اللہ پاک نے کوئی نعمت عطا فرمائی پھر وہ بندہ اس نعمت کو باقی رکھنا چاہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ ”لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَاِلَّا بِاللہ“ کی کثرت کرے۔
(معجم کبیر، 17/311، حدیث: 859)
بیدار ہوتے وقت کے 3 اَوراد
(1)حضرت عُبادہ بن صَامِت رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نیند سے بیدار ہو کر کہا : لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھو عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ط اَلْحَمْدُ لِلهِ وَ سُبْحَانَ اللهِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اللهُ
اَکْبَرُ وَ لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ( )
پھر” اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ" کہا یا کوئی دعا مانگی تو اُسے قبول کر لیا جائے گا پھر اگر وضو کیا اور نماز پڑھی تو اُس کی نماز قبول کرلی جائے گی ۔ (بخاری، 1/391، حدیث: 1154)
(2)حضرت عبدُ اللہ بن عَمرو رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے فرمایا،جس نے نیند سے بیدار ہوتے وقت ”بِسْمِ اللهِ ، سُبْحَانَ اللهِ، اٰمَنْتُ بِاللهِ وَ کَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ“( )
دس ، دس مرتبہ پڑھا تو ہر اس گناہ سے بچا لیا جائے گا جس کا اُسے خوف ہو اور کوئی گناہ اُس تک نہ پہنچ سکے گا۔(مجمع الزوائد، 10/174، حدیث: 17060)
(3)” اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ“ ترجمہ: ” تمام تعریفیں اللہ پاک کے لئے جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد حیات (بیداری) عطا فرمائی اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔“(بخاری، 4/192، حدیث: 6312)
… ترجمہ: ”اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی کی خوبیاں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔ اللہ”پاک“ ہے اور اللہ پاک خوبیوں والا ہے اور اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور اللہ پاک سب سے بڑا ہے اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ پاک ہی کی طر ف سے حاصل ہوتی ہے۔“
… ترجمہ: ”اللہ پاک کے نام سے ، اللہ” پاک “ ہے، میں اللہ پاک پر ایمان لایا اور بُت اور شیطان سے منکر ہوا ۔“
”یا خُدا “کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے صبح وشام کے5 اَذ کار
(1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں نے ایسا بِچّھو کبھی نہیں دیکھا جس نے مجھے گزَشتہ رات کاٹا،حبیبِ پروردگار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا تم نے شام کے وقت ”اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ “ (ترجمہ: میں اللہ پاک کے پورے اور کامل کَلِمات کے ساتھ مخلوق کے شر سے پناہ لیتا ہوں۔) کیوں نہ پڑھ لیا کہ بِچّھو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔ (ابن حبان، 2/180، حدیث: 1016) (یہاں مخلوق سے مراد وہ مخلوق ہے جس سے شر ہوسکے)
(2)حضرت اَبان بن عثمان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام تین تین مرتبہ یہ پڑھے گا، تو اسے کوئی چیز نقصا ن نہ پہنچاسکے گی ، ”بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَایَضُّرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَ ھوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“
ترجمہ: ” اللہ کے نام سے جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی اور وہی سنتا جانتا ہے ۔“ (ترمذی، 5/251، حدیث: 3399)
(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کےپیارے پیارے آخری نبی ،مکی مَدَنی ،محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے صبح اور شام سو سو مرتبہ
” سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ“ پڑھا قیامت کے دن اس سے افضل عمل لے کر آنے والا کوئی نہ ہو گا مگر وہ جو اس کی مثل کہے یا اس سے زیادہ پڑھے۔ (مسلم، ص 1445، حدیث: 2692)
(4)حضرت ابو دَرْدَاء رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے صبح وشام سات سات مرتبہ پڑھا: ”حَسْبِیَ اللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ“
ترجمہ: ” مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسا کیا
اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔“ اللہ پاک اس کی تمام پریشانیوں میں کِفایت کرے گا۔
(ابو داود ، 4/416، حدیث: 5081)
(5)حضرت مُنَیْذِر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ پاک کے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو صبح کے وقت یہ پڑھے: ”رَضِیْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا“
ترجمہ: ” میں اللہ پاک کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔“ تو میں اُسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر جنت میں داخل کرنے کی ضمانت دیتا ہوں ۔(مجمع الزوائد، 10/157، حدیث: 17005)
” اَحَد‘‘کے تین حروف کی نسبت سے کلمۂ توحید کے 3 فضائل
(1)حضرتِ ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے ” لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
(ترجمہ: اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اُسی کیلئے ہے بادشاہی اور اُسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔) کہا تو اس کلمہ سے کوئی عمل آگے نہ بڑھ سکے گا اور اس کے ساتھ کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔
(مجمع الزوائد، 10/94، حدیث: 16824)
(2)حضرتِ عَمْرو بن شُعیب رضی اللہُ عنہما بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بہترین دُعا یومِ عَرَفہ کی دعا ہے اور سب سے بہتر کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے کے انبیا علیہمُ السّلام نے کہا: (وہ یہ ہے: ) ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“ (ترمذی، 5/339، حدیث: 3596)
(3)حضرتِ بَراء بن عازِب رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا جس نے چاندی یا دودھ صدقہ کیا یا اندھے کو راستہ بتایا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور جس نے ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“ کہا تو یہ بھی ایک غلام آزاد کرنے کی طرح
ہے۔ (مسند امام احمد، 6/408، حدیث: 18541)
ایمان پر خاتِمہ کے چار اَوراد
ایک شخص بارگاہِ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ میں حاضِر ہو کر ایمان پر خاتِمہ بالخیر کیلئے دعا کا طالِب ہوا تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے اُس کیلئے دعا فرمائی اور اِرشاد فرمایا :(1) (روزانہ) 41بار صبح کو” یَاحَیُّ یَاقَیَّوْمُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ“ (اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے ہمیشہ قائم رہنے والے! کوئی معبود نہیں مگر تُو)اوّل و آخِر دُرُود شریف (پڑھے)نیز(2) سوتے وَقت اپنے سب اَوراد کے بعد سُورۂ کافرون روزانہ پڑھ لیا کیجئے اِس کے بعد کلام وغیرہ نہ کیجئے ہاں اگر ضَرورت ہو تو کلام کر نے کے بعد پھر سُورۂ کافرون تلاوت کرلیں کہ خاتمہ اِسی پر ہو اِن شاءَ اللہ خاتِمہ ایمان پر ہو گا۔ اور(3)تین بار صبح اور تین بار شام اس دُعا کا وِرد رکھیں: ” اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِكَ مِنْ اَنْ نُّشْرِكَ بِكَ شَیْئًا نَّعْلَمُهٗ وَ نَستَغْفِرُكَ لِمَا لَانَعْلَمُهٗ“
ترجمہ: ” اے اللہ پاک! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اِس سے کہ جان کر ہم تیرے ساتھ
کسی چیز کو شریک کریں اور ہم اس سے اِستغفار کرتے ہیں جس کو نہیں جانتے۔ “
(مسند امام احمد، 7/146، حدیث: 19625۔ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص 311)
(4)بِسْمِ اللهِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللهِ عَلٰی نَفْسِیْ وَ وُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ۔ (ترجمہ: ”اللہ پاک کے نام کی برکت سے میرے دین، جَان، اولاد اور اہل و مال کی حفاظت ہو۔“ )
صبح و شام تین تین بار پڑھئے، دین، ایمان، جان، مال، بچّے سب محفوظ رہیں۔ (شجرہ قادِریہ رضویہ، ص 12)(غروبِ آفتاب سے صبحِ صادِق تک رات اور آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صبح ہے۔ )
گُناہوں کی بخشش
”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَسُبْحٰنَ اللهِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللهُ“ جو
شخص یہ وِرد پڑھتا ہے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
(مسند امام احمد، 2/662، حدیث: 6977)
چار کروڑ نیکیاں کمائیں
” اَشْھدُ اَنْ لَّآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ اِلٰهًا وَّاحِدًا اَحَدًا صَمَدًا لَّمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَهٗ کُفُوًا اَحَدٌ“
حضرت تَمِیم داری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مَدَنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہے، ایسے آدمی کیلئے چارکروڑنیکیاں لکھی جاتی ہیں۔(ترمذی، 5/289، حدیث: 3484)
شیطان سے بچنے کاعمل
”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: جس نے یہ کلمات دن میں سو بار کہے تو اس کا یہ عمل دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے نامۂ اعمال میں سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس دن شام تک شیطان سے اس کی حفاظت کریں گے اورکوئی شخص اس سے بہترعمل لے کرنہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ یہ عمل کیا۔ (بخاری، 2/402، حدیث: 3293)
غیبت سے بچنے کا مَدَنی نسخہ
حضرتِ علّامہ مَجدُ الدّین فیروز آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ سے منقول ہے : جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں ) بیٹھو تو کہو :”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّدٍ“ تو اللہ پاک
تم پر ایک فرشتہ مقرّر فرما دے گا جو تم کو غیبت سے باز رکھے گا اور جب مجلس سے اُٹھو تو کہو : ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَصَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّدٍ“ تو وہ فرشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔ (القول البدیع، ص 278)
پانچ مَدَ نی پھول
حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرْو بن العاص رضی اللہُ عنہ کا اِرشادِ سعادت بنیاد ہے : پانچ عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی اِنہیں اختیار کرلے تو دنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جائے: (1)وقتاً فوقتاً ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهُ “ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کہتا رہے (2)جب کسی مصیبت میں مُبتَلا ہو(مثلاً بیمار ہو یا نقصان ہو جائے یا پریشانی کی خبر سنے) تو ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْن “اور ”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَابِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ“پڑھے۔ (3)جب بھی نعمت ملے تو شکرانے میں ”اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ“ کہے۔(4)جب کسی(جائز)کام کاآغاز کرے تو ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ پڑھے اور(5) جب گناہ کر بیٹھے تو یوں کہے.
جادو اور بلاؤں سے حِفاظت کے لئے شَشْ قُفْل
ان چھ دعاؤں کو شَشْ قُفْل‘‘ کہتے ہیں جو شخص رات کو ہمیشہ شَشْ قُفْل پڑھتا رہے یا لکھ کر اپنے پاس رکھے وہ ہر خوف و خطرہ سے اور جادو سے اور ہر قسم کی بلاؤں سے اِن شاءَ اللہ محفوظ رہے گا ۔ (جنتی زیور ،ص 582)
قفل اوَّل:”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ“
قفل دُوُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ الْخَلَّاقِ الْعَلِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ“
قفل سِوُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَلِیْمُ الْبَصِیْرُ “
قفل چہارُم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْغَنِیُّ القَدِیْرُ“
قفل پنجم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ“
قفل ششم: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بِسْمِ اللهِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ الْحَکِیْمُ فَاللهُ خَیْرٌحَافِظاً وَّھوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ“
نَمازکے بعد پڑھے جانے والے اَوراد
نَماز کے بعد جو اَذکارِ طوِیلہ(طویل اَوراد) احادیثِ مبارکہ میں وارِد ہیں وہ ظُہر و مغرب و عشا میں سنّتوں کے بعد پڑھے جائیں قبلِ سُنّت مختصر دُعا پر قَناعَت چاہیے، ورنہ سنّتوں کا ثواب کم ہو جائے گا۔
(رد المحتار، 2/300۔ بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
احادیثِ مُبارَکہ میں کسی دُعا کی نسبت جو تعداد وارِد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اَذکار کے لیے ہیں وہ اسی عَدَد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قُفل(تالا) کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر کُنجی میں دَندانے کم یا زائد کردیں تو اس سے نہ کھلے گا، البتہ اگر شُمار میں شک واقِع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادَت(بڑھانا) نہیں بلکہ اِتمام (مُکمَّل کرنا) ہے۔
(رد المحتار، 2/302۔ بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
پنج وَقتہ نَمازوں کے سُنَن و نوافِل سے فراغت کے بعد ذَیل کے اَورَاد پڑھ لیجئے سَہولت کے لیے نمبر ضرور دیئے ہیں مگر ان میں تَرتیب شَرط نہیں ہے۔ہر وِرد کے اوَّل آخِر دُرُود شریف پڑھنا سونے پہ سُہاگہ ہے۔
(1)” آیَۃُ الْکُرسی “ایک ایک بار پڑھنے والا مرتے ہی داخلِ جنّت ہو۔
(مشکاۃ المصابیح، 1/197، حدیث: 974)
(2)” اَللّٰهُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ“
ترجمہ: اے اللہ پاک ! تو اپنے ذِکر،اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داود، 2/123، حدیث: 1522)
(3)” اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِیْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ“( )
(تین تین بار )اس کے گناہ معاف ہوں اگرچِہ وہ میدان ِجہاد سے بھاگا ہوا ہو۔
(ترمذی، 5/336، حدیث: 3588)
(4)تسبیحِ فاطمہ رضی اللہُ عنہا ”سُبْحَانَ الله“ تینتیس بار،” اَلْحَمْدُ لِله“تینتیس بار، ”اَللهُ اَکْبَرُ“تینتیس بار،یہ 99 ہوئے،آخر میں ”لَآاِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“
ایک بار پڑھ کر(100 کا عدد پورا کر لے) اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچِہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
(5)ہر نَماز کے بعدپیشانی کے اگلے حصے پر ہاتھ رکھ کر پڑھے: ”بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْم۔
اَللّٰهُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْهَمَّ وَالْحُزْنَ۔
(پڑھنے کے بعد ہاتھ کھینچ کر پیشانی تک لائے) تو ہر غم و پریشانی سے بچے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مذکورہ دعا کے آخر میں مزید ان الفاظ کا اضافہ فرمایا ہے،وَعَنْ اَهلِ السُّنَّةِ یعنی اور اہل ِسنّت سے ۔
(6)عصر وفجر کے بعد بغیر پاؤں بدلے بغیر کلام کیے ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا
شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
دس دس بار پڑھئے۔( بہارِ شریعت، 1/539، حصہ: 3)
(7) حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سےروایت ہے کہ اللہ کریم کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایاجس نے نماز کے بعد یہ کہا سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ اِلَّا بِاللہ“( )تو وہ مغفِرت یافتہ ہو کر اُ ٹھے گا۔
( مجمع الزوائد، 10/129، حدیث: 16928)
(8) حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہُ عنہما سے رِوایَت ہےسرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے,جو ہر فرض نماز کے بعددس مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورۃ) پڑھے گا اللہ پاک اُس کیلئے اپنی رِضا اور مغفِرت لازِم فرمادے گا۔“
(تفسیر در منثور، پ30، الاخلاص، تحت الآیۃ: 1، 8/678)
(9) حضرت زَید بن اَرقم رضی اللہُ عنہ سے رِوایَت ہے نبیوں کے سُلطان ، محبوبِ رحمٰن صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:جو شخص ہرنماز کے بعد.
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲) (پ 23، الصّٰفّٰت: 180-182)
* #ترجمۂ کنز الایمان* پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے اور سلام ہے پیغمبروں پر اور سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا رب ہے۔“ تین بار پڑھے گا گویا اس نے اَجر کا بہت بڑا پیمانہ بھر لیا۔
(تفسیر در منثور، 23، الصّٰفّٰت، تحت الآیۃ: 180، 7/141)
* #مِنٹوں میں چار خَتمِ قرآنِ پاک کا ثواب*
حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے جو بعدِ فجر بارہ مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورۃ) پڑھے گا گویا وہ چار بار (پورا) قرآن پڑھے گا اور اس دن اس کا یہ عمل اَہلِ زمین سے افضل ہے جبکہ وہ تقویٰ کا پابند رہے۔
(شعب الایمان، 2/501،حدیث: 2528)
* #شیطان سے مَحفوظ رہنے کا عمل*
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: جس نے نمازِ فجر ادا کی اور بات کئے بغیر قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورت) کو دس مرتبہ پڑھا تو اُس دِن میں اُسے کوئی گُناہ نہ پہنچے گا اور وہ شیطان سے بچایا جائے گا۔
(تفسیر در منثور،پ 30، الاخلاص، تحت الآیۃ: 1، 8/678)
نماز کے بعد پڑھنے کے مزید اَوراد مکتبۃُ المدینہ کی کتاب بہارِ شریعت حصہ 3،صفحہ 107 تا 110 پر الوظِیفَۃُ الکریمہ اور شجرہ ٔقادریہ میں مُلاحظہ فرما لیجئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
Al BARQ islamic Messiging -ABM 03142580099
یہ وقت بھی گزر جائے گا
NAME:NAMAZ-E-JUMMA NA MILAY TO KON SI NAMAZ PARHEEN
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نمازِ جمعہ نہ ملے تو کون سی نماز پڑھیں؟
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(21صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ شَآءَاللّٰہ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا ۔
*دُرُود شریف کی فضیلت*
فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!تم جہاں بھى ہو مجھ پر دُرُود پڑھو کہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے.
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
*نمازِ جمعہ نہ ملے تو کون سی نماز پڑھیں؟*
سُوال: لىٹ ہونے کى وجہ سے اگر نمازِ جمعہ نہ مل پائے تو کون سى نماز پڑھی جائے ؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال )
جواب:اگر نمازِ جمعہ پورے شہر مىں کہىں بھى نہ مل پائے تو ا ب ظہر کی نماز پڑھىں گے.
والدین سے قطعِ تعلقی کس صورت میں جائز ہے ؟
سُوال:اَولاد کِن صورتوں مىں ماں باپ کے ساتھ قطعِ تعلقى کر سکتى ہے ؟
جواب:اگر والدىن مَعَاذَاللّٰہ اِىمان سے پھر کر مُرتَد ہو جائىں تو بے شک ان سے رِشتہ ختم کر دىا جائے.اگر نَعُوْذُبِاللّٰہ وہ اَولاد کے دِىن کو نقصان پہنچانے کے دَرپے ہو جائیں مثلاً وہ چاہتے ہىں کہ اَولاد کو اپنے جىسا بنا لىں تب تو زیادہ خطرناک مُعاملہ ہے لہٰذا ایسی صورت میں اَولاد ان سے اور بھی دور بھاگےبہرحال اگر والدىن مُرتَد ہوں تو ان سے رِشتہ توڑنا ہو گا۔اصلى کافر وہ ہوتا ہے جو شروع سے ہى کافر ہو اور مُرتد وہ جو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوا۔اصلی کافر کے مقابلے میں مُرتد کے اَحکام زىادہ سخت ہىں اور کافر کے مقابلے مىں مُرتد کو عذاب بھی زیادہ شدید ہوگا۔
*اَمّی کی بات مانیں یا اَبو کی ؟*
سُوال: اگر کسى کام کى اَبو اِجازت دے رہے ہوں لیکن اَمى اس کام سے منع کر رہى ہوں اور اس کام مىں کوئى بُرائى بھى نہ ہو تو کس کى بات مانى جائے ؟
(بابُ المدینہ کراچی سے ایک مَدَنی منے کا سُوال)
جواب:کسی کام کی تفصیل معلوم کیے بغیر مىں یہ فیصلہ کیسے کروں کہ اِس میں بُرائى ہے یا نہىں؟ممکن ہے کہ وہ بُرائی والی بات ہو لیکن اس کے کرنے کے لیے میرا کہنا دَلىل بن جائے بہرحال مَدَنی منے کو ایسی کوئی ترکیب نکالنی چاہیے کہ امی ابو دونوں راضی رہیں.اگر کوئی کام اىسا ہے جسےکرنے کی اَبو اِجازت دے رہے ہىں لىکن نہ کرنے پر ناراض نہىں ہوں گے اور اسی کام کے کرنے سے امى ناراض ہوجائے گى تو اب ظاہر ہے امى کو ناراض نہىں کرنا چاہیے امى کی نافرمانى کرنے سے امى آپ سے ناراض آپ کے ابو سے ناراض اور نتیجےمیں گھر کا امن وامان تاراج ہوجائے گا.
مُنہ میں غِذا کا ذائقہ رہنے سے روزے میں فرق نہیں آتا*
سُوال:جب سحرى کے وقت اچار کھاتے ہىں تو اس کا ذائقہ کچھ دىر تک منہ میں باقی رہتا ہے ، کیا اس سے روزے پر کچھ فرق پڑے گا؟ (بہاولنگر پنجاب سے سُوال)
جواب:اگر منہ اچھی طرح صاف کر لیا اور اچار کا کوئى جز مُنہ میں باقى نہىں ہے ، بس اس کا ٹىسٹ محسوس ہو رہا ہے تو اس سے روزے میں فرق نہىں آئے گا۔البتہ اگر سحری میں اىسى چىزىں کھانی ہوں تو جلدى کھا لی جائیں تاکہ روزہ بند ہونے سے پہلے پہلے اچھى طرح منہ صاف ہو سکے ۔
*اللہ پاک کے بارے میں وَسوسوں کا عِلاج*
سُوال: بندے کو اللہ پاک سے اچھا گمان رکھنا لازمى ہے مگر حالات کى وجہ سے بعض اوقات وَسوسے آتے ہىں بَرائے کرم! ان کا علاج عناىت فرمادىجئے ۔
(مَدنی صحرا سے ایک ماہ کے اِعتکاف میں عالَمی مَدَنی مَرکز تشریف لائے ہوئے مُعْتَکِف کا سُوال)
جواب:اللہ پاک کے ساتھ اچھا گمان رکھنا ضَرورى ہے ۔ وَسوسے کس کو نہىں آتے ؟لیکن وَسوسوں کى طرف توجہ نہ دینا بھى دافعِ وَسوسہ ہے یعنی ان کی طرف توجہ نہ دىنا بھى وَسوسوں کااىک علاج ہے۔مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کا رِسالہ ”وَسوسے اور ان کا علاج“ کا مُطالعہ کیجئے ۔
*فتحِ مکہ کے متعلق اِیمان افروز معلومات*
سُوال:فتحِ مکہ کب اور کیسے ہوا، اس کے اَسباب کیا بنے ؟اس کے بارے میں مَدَنی پھول عطا فرما دیجئے ۔
جواب:فتحِ مکہ کب ہوا اس کے متعلق مختلف تارىخیں منقول ہىں مگر 20 رَمَضَانُ الْمُبَارَک کو اس کا واقع ہونا مضبوط قول سے ثابت ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 20 رَمَضَانُ الْمُبَارَک فاتح کى حىثىت سے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً مىں داخل ہوئے ۔ہجرت کی رات حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے ىارِ غار صِدِّىقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو ساتھ لے کر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے مدىنہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً روانہ ہوئے اور اپنے وطنِ عزىز کو خىر باد کہہ دىا.مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً سے نکلتے وقت فرماىا اے مکہ! خُدا کى قسم تو مىرى نگاہ مىں تمام دُنىا کے شہروں سے زىادہ پىارا ہے ۔ اگر مىرى قوم مجھے نہ نکالتى تو مىں ہر گز تجھے نہ چھوڑتا ۔ اس وقت ىہ خىال بھى کسى کو نہىں ہو سکتا تھا کہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کو اس حالت مىں چھوڑنے والے رَسولِ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فقط آٹھ بَرس کے بعد ایک فاتحِ اعظم کى شان و شوکت کے ساتھ اس شہر مکہ مىں تشرىف لائىں گے ۔
*فتحِ مکہ کا سبب* صلحِ حدیبىہ مىں ىہ بات بھى طے پائی تھی کہ دونوں فرىقوں (یعنی مسلمانوں اور کفارِ قریش)کے دَرمىان 10 سال تک کوئى جنگ نہىں ہو گى لىکن کفارِ قرىش نے حُدىبیہ کے مُعاہدے کو عملى طور پر توڑ ڈالا ۔ وہ اِس طرح کہ قبىلہ بنو خزاعہ والے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مُعاہدہ کر کے آپ کے حلىف بن چکے تھے لیکن ان پر قبیلہ بنو بکر نے اپنے حلیف کفار قریش کے ساتھ مل کر حملہ کردیا اور انہیں بے دردى کے ساتھ قتل کرنا شروع کىا ۔ بنو خزاعہ والے حرمِ کعبہ مىں پناہ لىنے کے لىے بھاگے تو ان دَرندہ صفت حملہ آوروں نے حَرمِ اِلٰہى کے اِحترام کو بھى بالائے طاق رکھا اور حَرمِ کعبہ مىں بھى ظالمانہ طور پر بنو خزاعہ کا خون بہاىا ۔ اس حملے مىں بنو خزاعہ کے 23 آدمى قتل ہو گئے ۔ بنو خزاعہ پر حملہ کرنا ىہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر حملہ کرنے کے مترادف تھا چنانچہ اس حادثے کے بعد قبىلہ بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن سَالم خزاعى نے 40 آدمىوں کا وَفد لے کر مدىنے شرىف مىں بارگاہِ رِسالت مىں حاضرى دى اور اپنے قبىلے پر ہونے والے ظلم کى فرىاد کرنے کے بعد اِمداد چاہى ۔ ىہى واقعہ فتحِ مکہ کا سبب بنا ۔ ([4])چنانچہ صلحِ حدیبىہ کے کم و بىش دو سال بعد 10رَمَضَانُ الْمُبَارَک آٹھ سنِ ہجرى کو رَسُولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے تقرىباً 10 ہزار اَفراد کا لشکر ساتھ لے کر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کى طرف روانہ ہوئے ۔مکۂ پاک سے اىک منزل کے فاصلے پر مقامِ ”مَرُّ الظُّہْران“مىں پہنچ کر اِسلامى لشکر نے پڑاؤ ڈالا اور حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ کو حکم دیا کہ ہر صحابی اپنی الگ الگ آگ جلائے ۔
*نہیں ہے ہواَبُو سفیان کا قبولِ اِسلام*
ابو سفىان جو اس وقت تک مسلمان نہىں ہوئے تھے اپنے کچھ ساتھىوں کے ساتھ ”مَرُّ الظُّہْران“ آپہنچے اور دىکھا کہ مىلوں تک آگ ہى آگ جَل رہى ہے۔ىہاں پر انہىں حضرتِ سَیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ملے اور انہیں سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى بارگاہ مىں لے آئے۔رَحْمَةٌلِّلْعٰلَمِیْنَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دَربارِ کَرم بار مىں پہنچ کر ابوسفىان اور ان کے ساتھى کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔
فاتحِ اعظم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بے مثال عاجزی
رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا حلم و کَرم دىکھئے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کى سر زمىن پر قدم رکھتے ہى جو پہلا حکم جارى فرماىا اس کے ہر لفظ مىں رَحمتوں کے سمندر موجىں مار رہے تھے چنانچہ فرماىا : جو شخص ہتھىار ڈال دے اس کے لىے امان ہے۔جو اپنا دَروازہ بند کر لے اسکے لىے بھى امان ہے جو کعبے مىں داخل ہو جائے اس کے لىے بھى امان ہے ىعنى انکو بھى مارا نہىں جائے گا.مکۂ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً مىں داخل ہوتے وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنى اونٹنى قصوىٰ پر سوار تھےسىاہ رنگ کا عمامہ سرِ انور سے برکتىں لے رہاتھا چاروں طرف مسلح لشکر حاضر تھا مگر اس قدر جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکى شانِ تواضع ىعنى عاجزى اور انکسارى کا عالَم ىہ تھا کہ آپ سر جھکائے سورۂ فتح کى تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کا سرِ انور اونٹنى کے پالان سے لگ جاتا تھا.
*کعبہ شریف کو بتوں سے پاک فرمانا-
سُوال:کعبہ شریف کو بتوں سے پاک کرنے کا اِیمان افروز منظر بیان فرما دیجئے.
جواب:حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے رِواىت ہے کہ جب نبىٔ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مَکَّۂ مُکَرَّمَہ مىں فتح کے دِن داخل ہوئے تو کعبۂ مُقَدَّسہ کے گِرد 360 بُت نصب کىے ہوئے تھے ان بتوں کو لوہے اور رانگ سے جوڑ کر مضبوط کىا گىا تھا ۔ سىدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک ہاتھ مىں اىک لکڑى (Stick)تھى، حضورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ىہ مُبارَک آىت)وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱)
((پ۱۵، بنٓی اسرآئیل:۸۱) ترجمۂ کنز الایمان: ”اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مِٹ گیا بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ۔ “پڑھ کر اس لکڑى سے جس بُت کى طرف اِشارہ فرماتے جاتے وہ گِرتا جاتا تھا ۔پھر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان بتوں کو جو عىن کعبے کے اندر تھے سب کو نکالنے کا حکم فرماىا ۔جب تمام بتوں سے کعبۂ مُشَرَّفہ پاک ہو گىا تو رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدُنا اُسامہ بِن زىد، حضرتِ سَیِّدُنا بلال اور حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کو ساتھ لے کر خانۂ کعبہ کے اندر تشرىف لے گئے اور تمام گوشوں ىعنى کعبہ شریف کے تمام کونوں پر تکبىر پڑھى اور دو رَکعت نمازبھى ادا فرمائى.
*تم سے کعبے کی کنجی لینے والا ظالم ہوگا*
جب آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کعبۂ مُعَظَّمہ سے باہر تشرىف لائے تو حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن طلحہرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو بُلا کر کعبے کى کنجى ان کے ہاتھ مىں عطا فرمائى اور اِرشاد فرماىا:ىہ چابى لو، اب ىہ ہمىشہ تمہارے پاس ہى رہے گى جو اسے تم سے چھىنے گا وہ ظالم ہو گا.
مِراةُ المناجىح مىں ہے : اب تک کعبہ شرىف کى چابى انہى کى اَولاد مىں ہے اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ نہ کبھى ان کى نسل ختم ہو گى نہ کوئى ظالم بادشاہ ان سے چھىن سکے گا ۔ ىزىد اور حجاج بن ىوسف جىسے ظالمو ں نے بھى اس چابى کو ہاتھ نہ لگاىا.
*فتحِ مکہ پر عام مُعافی کا اِعلان*
سُوال:فتحِ مکہ کے موقع پر عام مُعافی کے اِعلان کا اِیمان افروز منظر بیان فرما دیجئے.
جواب:سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حَرمِ اِلٰہى مىں سب سے پہلا دَربارِ عام منعقد فرماىا جس مىں اَفواجِ اِسلام کے عِلاوہ کفار و مشرکىن کے عوام و خواص کا اىک ہجوم تھا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خطبہ دىا اور پھر اہلِ مکہ کو مخاطب کر کے اِرشاد فرماىا:کیا تم کو معلوم ہے کہ آج مىں تمہارے ساتھ کىا مُعاملہ کرنے والا ہوں؟اِس سُوال سے تمام مجرم و خطاکار جنہوں نے بَرسوں تک آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر طرح طرح کے ظلم کىے تھے ، حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لىکن اُمىدوں مىں ڈوبے ہوئے لہجے مىں عرض کى: اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ ”یعنی آپ کَرم والے بھائی اور کَرم والے باپ کے بیٹے ہیں ۔ “ىہ سُن کر فاتحِ مکہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے کرىمانہ لہجے مىں اِرشاد فرماىا:لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ یعنی آج تم پر کوئى ملامت نہىں ، جاؤ تم سب آزاد ہو ۔ عَفْو و دَرگُزر اور مُعافى دىنے کا جو بے مثال مُظاہرہ رَسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرماىا اِنسانى تارىخ اس کى مثال پىش کرنے سے قاصر ہے ۔ کفار ِ مکہ اِس شانِ رَحمت کو دىکھ کر جُوق در جُوق بڑھ بڑھ کر حضور پُر نور رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک ہاتھ پر اِسلام قبول کرنے لگے ۔مِراٰةُ المناجىح مىں ہے دو ہزار صحابہ ٔکرامرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم فتحِ مکہ کے دِن اِسلام کى دولت سے مالا مال ہوئے.
*اِسلام تلوار سے نہیں حُسنِ اخلاق سے پھیلا ہے*
اِس واقعے سے ثابت ہوا کہ اِسلام تلوار کے زور سے نہىں حُسنِ اَخلاق سے پھىلا ہے۔مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے خون کے پىاسوں کو مُعافى دے دى، جس کا اتنا زبردست اثر ہوا کہ دو ہزار(2000) کفار مسلمان ہو گئے ۔ بَدقسمتی سے ہمارا ىہ ذہن ہوتا ہے کہ اىنٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے ۔ اب شرافت کا دور نہىں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کو مُعاف کر دیا جو خونخوار لوگ تھے بُت پَرست کفار تھے ، خون کے پىاسے تھے جنہوں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر بڑے ظلم ڈھائے تھے۔آج کل اُن جیسے وحشى لوگ نہیں ہیں وہ تو اپنى بىٹىاں زندہ دفن کر دىتے تھے لیکن جب مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عام مُعافى کا اِعلان کىا تو ان کے دِلوں مىں حقىقى مَدَنى اِنقلاب بَرپا ہوگیا۔اس سے ثابت ہوا کہ مُعافى اور دَرگُزر کا بڑا فائدہ ہوتا ہے دُشمن کو بھى بندہ مُعاف کر دے تو اس کے دِل مىں محبت پىدا ہو سکتى ہے ۔ کاش! ہم بھى پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى پىارى سنَّت پر عمل کرنے والے بن جائىں کہ جو ہمىں تکلىف دے دُکھ دے یا ستائے،ہم اسے مُعاف کر دىا کرىں۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مُعافی کا حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:)
*خُذِ الْعَفْوَ۔ (پ۹، الاعراف:۱۹۹)*
ترجمۂ کنزالایمان:”اے محبوب !مُعاف کرنا اِختیار کرو مُعاف کرنے سے عزت کم نہىں ہوتى بلکہ عزت بڑھتى ہے. مُعاف کرنے کا فائدہ ہى فائدہ ہے ، نقصان کچھ بھی نہیں.
*رہے حیات کا گلشن ہرا بھرا یا رَبّ*
سُوال: وَسائلِ بخشش کے اِس شعر کی وَضاحت فرما دیجئے۔
قضا پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار اىسى
*رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ*
جواب:قضا موت اور تقدىر کو بولتے ہىں۔شعر میں قضا کا لفظ سُن کر میں چونکا کہ ىہ کىسے ہو سکتا ہےکہ موت قریب نہ آئے.دَراصل شعر میں قضا کا لفظ نہىں بلکہ خزاں کا لفظ ہے.
خزاں پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار اىسى
رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ
(وسائلِ بخشش)
خزاں ىہ بہار کا اُلٹ ہے،اس موسم میں پتے جھڑتے اور باغ وىران اور بے رونق ہو جاتے ہیں۔ اب اس مصرعے ”خزاں پھٹک نہ سکے پاس دے بہار اىسى“ کا مطلب یہ ہو گا کہ یَااللہ!اىسى بہار مجھے دے ، اىسا مجھے سَدا بہار کر دے کہ مىرے قرىب بھى خزاں نہ آئے جو مجھے وىران کر دے ۔ ”رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ“ىعنى مىرى زندگى کا باغ سَدا بہار ہو جائے۔نىکىوں، عبادتوں اور خوشىوں سے ہر وقت ہرا بھرا رہے۔باطل خوشىاں بھى ہوتى ہىں جیساکہ آدمى حرام کام کر کے بھى خوشىاں حاصل کرتا ہے تو اىسى خوشىوں پر تُھو ہے۔ہمىں وہ خوشىاں چاہىیں جو ہمارے اِىمان کى جِلا کا باعث بنیں، ہمارى آخرت کى بہترى کا سبب بنیں جىسا کہ حدیثِ پاک میں ہے کہ اِفطار کے وقت روزہ دار کے لىے دو خوشىاں ہىں اىک تو اِفطار کرنے کی خوشى اور دوسری خوشی اس وقت ہو گی جب قىامت کے دِن ىا جنَّت مىں اللہپاک کا دىدار ہو گا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! ہمىں ىہ خوشىاں چاہىیں، ہمىں مدىنے کى حاضرى کى خوشى چاہىے ، مَغْفِرَت کى خوشى چاہىےجہنم سے آزادى کى خوشى چاہىے ، ماں باپ کے راضى ہونے کى خوشى چاہىے ۔ اللہ کرىم عشرۂ مَغْفِرَت کے صَدقے سارى خوشىاں ہمىں عطا کر دے ۔ کاش!ہم پر یہ کَرم ہوجائے ورنہ تو ہم اِعتراف کرتے ہىں کہ ماہِ رَمَضان میں نیک عمل کچھ بھی نہىں کىا۔
اللہ پاک کرىم ہے ، بس وہ اپنے کرم سے ہم سب کى مَغْفِرَت فرما دے اور ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
*لے پالک کاپالنے والی کے بھائیوں سے پَردہ*
سُوال: مىرے بچوں کى امى کو ان کے ماموں نے پالنے کے لىے لىا تھا۔ماموں کى کوئى اَولاد نہىں ہے اور وہ میرے بچوں کی امی کے رضاعى ماں باپ بھى نہىں ہىں،کىا ماموں ممانی کے حقوق سگِے ماں باپ کی طرح ہوں گے ؟ نیز ممانی کے شادى شدہ بھائیوں سے پَردے کا کیا حکم ہو گا؟
جواب:اگر ماموں نے پالا ہے تو وہ سگے ماں باپ کى جگہ پر نہىں آئىں گے ۔ ممانى جبکہ رضاعی ماں نہیں ہے تو اس کے بھائىوں سے پَردہ ضروری ہے اگرچہ بھانجى لے پالک ہو یا نہ ہو ۔ یوں ہی اگر ماموں کى اولاد ہوتی تو اس لے پالک بھانجی کا ان سے بھی پَردہ ہوتا ۔
*اِسْتِغْفَار کے کیامعنیٰ ہیں؟*
سُوال:اِسْتِغْفار کے کیا معنىٰ ہىں ؟
جواب: اِسْتِغْفار کے اىک معنىٰ توبہ کرنا ، مَغْفِرَت چاہنا ہیں ۔
*دَوائیوں مىں ریگ ماہی اور بیر بہٹى اِستعمال کرنے کا شرعی حکم*
سُوال:ہم حکیموں کی دَوائیوں مىں ”ریگ ماہی “نامی مچھلی اور ”بیر بہٹى “نامی کیڑا اِستعمال ہوتا ہے تو ان کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرما دیجیے کہ یہ حلال ہیں یا حرام ؟(ایک حکیم صاحب کا سُوال )
جواب:رىگ ماہى یعنی رىگستان کى مچھلى ىہ اىک جانور ہے جو چھپکلى سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے اور جہاں دیسی دَوائیاں ملتی ہیں وہاں اسے جار(مٹی یا شیشے کے مَرتبان) میں سُوکھا کر رکھا جاتا ہے اور دکاندار اسے وزن کے لحاظ سے بیچتے ہىں یہ حرام ہے ۔اِسی طرح بىر بہٹى جىسا کہ سُوال میں بتاىا گیا کہ یہ ایک کىڑا ہے تو ىہ بھی حرام ہے اور ان کے علاوہ بھى حکمت کی دَواؤں میں کچھ اىسى چىزىں ڈالى جاتی ہیں جو کہ حرام ہوتی ہیں ۔ مشکل ىہ ہے کہ حکىموں کى دَوائىں پاک سمجھى جاتى ہىں حالانکہ حکىموں کى دَوائیں بنانے والے حرام چیزیں اِستعمال کرتے ہىں.کسی خوفِ خُدا رکھنے والے حکیم نے یہ سُوال کیا ہے تو حکمت کی دَوا کسی خوفِ خُدا والے حکیم سے لی جائے یا جب کبھی بازار سے بھی حکمت کی دَوا لیں تو پہلے کسى خوفِ خُدا والے حکىم سے مشور ہ کر لیں کہ اس دَوا مىں کوئى حرام چىز تو نہىں ہے ؟یاد رَکھیے !حکمت کى دَواؤں مىں حرام چىزىں شامل ہوتى ہىں مگر ہر دَوا مىں حرام چیزیں شامل ہوتى ہوں یہ ضَرورى نہىں ہے ۔ ممکن ہے آپ کوئی معجون یا چورن لیں اور اس میں کوئی حرام جانور پىس کر ڈالا گیا ہو کیونکہ اُمَّت کی حالت بہت خراب ہے اور پىسوں کے لىے لوگ بہت کچھ کر ڈالتے ہىں ۔ بعض اوقات حرام چیزوں کا Alternate (یعنی نعمُ البدل)ہوتا ہے مگر وہ مہنگا ہوتا ہے اس لىے اُسے دَواؤں میں نہىں ڈالا جاتا مثلاً بعض دَواؤں میں پانی کی بلی کے خصیے اِستعمال ہوتے ہیں حالانکہ ان کاAlternate(یعنی نعم البدل)ایک جڑی بوٹی کی صورت میں موجود ہے مگر وہ جڑی بوٹی بہت مہنگی ہے ، مثال کے طور پر پانی کی بلی کا خصیہ 10 روپے میں آتا ہے اور جڑی بوٹی 100 روپے میں آتی ہے تو اب 10 روپے کی جگہ 100 روپے کون خرچ کرے گا؟ مجھے ایک حکیم صاحب نے بتاىا تھا کہ پانی کی بلی کے خصیے کی جگہ جو جڑی بوٹی اِستعمال ہوتی ہے اس کا بھاؤ خصیے کے مقابلے میں 15 گنا زىادہ ہے ۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب آپ کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے اور پتا چلا کہ بلی کے خصیے ڈالنا غَلَط ہے تو میں نے توبہ کر لی اور اب میں خصیے کی جگہ دَواؤں میں مہنگی والی جڑی بوٹی ڈالتا ہوں ۔ اِسی طرح اور بھى بڑى گندى گندى چىزوں کے ذَرىعے علاج ہوتے ہىں اور حکمت کی دَواؤں میں کىڑے مکوڑے اور لال بىگ وغیرہ ڈالے جاتے ہیں مگر یہ ہر دَوا مىں نہىں ڈالے جاتے اور ہر ڈاکٹر اور ہر حکیم اىسى چىزىں دىتا ہو ىہ ضَرورى نہىں ہے جىسا کہ ابھی مىں نے خوفِ خُدا والے حکىم صاحب کے بارے میں بتاىا تو اِسی طرح اور بھى خوفِ خُدا والے حکىم اور ڈاکٹر آپ کو ملىں گے جو مریضوں کو اىسى چىزىں نہىں دىتے ہوں گے ۔
*بیماریوں میں تحقیق کر کے دَوا اِستعمال کرنے کا ذہن کیسے بنائیں؟*
سُوال: اىک تو اتنى بىمارىاں اور تکلىفىں ہوتی ہیں اور پھر دَوا بھى پئىں تو پہلے تحقىق کرىں تو یوں تحقیق کرنے کا ذہن کس طرح بنے گا؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال )
جواب:مىں نے تو مشورہ دىا ہے کہ دَوا کے بارے میں کسى خوفِ خُدا والے ڈاکٹر یا حکىم سے پوچھ لىں اور پھر اِستعمال کریں ۔ اچھا مشورہ دىنے والے ڈاکٹر اور حکیم بھى موجود ہىں ورنہ اگر سب ہی مریضوں کا گلا گھونٹ رہے ہوتے تو دُنىا پلٹ جاتی اور عجىب سى ہو جاتی تو یوں اچھے اچھے ڈاکٹر بھی موجود ہیں اگرچہ ان کی تعداد کم ہے مگر ڈھونڈنے سے سب کچھ مل جاتا ہے ۔ ڈاکٹروں کی ایک تعداد ہے جو اچھے مشورے دىتی ہے اور بعض اوقات آپرىشن کا بھى آپشن ہوتا ہے لىکن اس کے باوجود ڈاکٹر خود ہى آپریشن کرنے سے منع کر دىتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم آپرىشن کے بجائے دَواؤں کے ذَرىعے آپ کا مسئلہ حل کر دیں گے حالانکہ آپرىشن کا خرچہ لاکھ (100000)روپىہ ہوتا ہے جبکہ دَواؤں مىں دس ہزار(10000) تو اِس طرح ڈاکٹر اپنى فىس 200، 500 یا 1000 روپے لے کر لاکھ (100000)روپے والا آپرىشن چھوڑ دیتے ہیں ۔ جو ڈاکٹر لوگوں کى جانوں سے نہىں کھىلتے اور صحىح مشورہ دىتے ہىں اللہ پاک اىسے ڈاکٹروں کو اور بَرکت دے ۔ ڈاکٹروں کو یہ سوچنا ہو گا کہ آج ىہ نوجوان علاج کے لے آىا ہے تو اگر کل اس کی جگہ مىرا بىٹا آ گیا تو کىا مىں آپریشن کے لیے اس پر بھی چُھرى چلا دوں گا تو یوں انہیں اللہ پاک سے ڈرنا چاہىے۔
*تَراویح کى رَکعتوں کى گنتى کے لیے تسبىح کا اِستعمال کیسا؟*
سُوال: کىا تَراوىح کى رَکعتوں کى گنتى کے لىے تسبىح کا اِستعمال جائز ہے ؟
جواب:تَراوىح کى رَکعتوں کى گنتى کے لىے اپنے پاس تسبیح رکھ سکتے ہیں مىں بھى کھجور کے دس بىج اپنے پاس رکھتا ہوں اور دو دو رَکعت پڑھ کر اىک اىک بىج ہٹاتا رہتا ہوں تاکہ گنتى بھول نہ جائے تو یوں اپنے پاس تسبیح رکھنے میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔ میں بیج ہاتھ مىں نہىں رکھتا سائىڈ مىں رکھتا ہوں اور یہ میرا بَرسوں سے معمول ہے کیونکہ حفاظتی اُمور کے مَسائل کی وجہ سے میں عوام مىں تَراوىح نہىں پڑھ سکتا ۔
*قرآن ِکریم قبرستان لے جا نے میں حرج نہیں*
سُوال:کىا اِىصالِ ثواب کے لىے قرآن ِکرىم قبرستان لے جا کر پڑھ سکتے ہىں؟
جواب:اِىصالِ ثواب کے لىے قرآن ِکرىم قبرستان لے جا کر پڑھنے میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔
*مکروہ وقت کے عِلاوہ کسى بھى وقت اِحرام کے نفل پڑھے جا سکتے ہیں*
سُوال:کىا اِحرام باندھنے کے بعد نفل کسى بھى وقت ادا کىے جا سکتے ہیں ؟
جواب:جب اِحرام والی چادرىں لپیٹ لیں تو اِحرام کی نىت کرنے سے پہلے دو رَکعت نماز نفل پڑھ لیں اور اگر کسی نے دو رَکعت نہیں پڑھیں اور اِحرام کی نیت کر کے لَبَّیْک کہہ لیا تو نیت ہو جائے گی ۔ اِحرام کى چادرىں اوڑھ کر جو دو رَکعت نفل نماز پڑھى جاتى ہے یہ سنَّت ہے. لہٰذا پڑھنى چاہىے مگر مکروہ وقت میں نفل پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ بعض اوقات اىسا ہوتا ہے کہ کوئی عمرہ کرنا چاہتا ہے لیکن مکروہ وقت ہوتا ہے مثلاًصبح صادق ہو گئی اور اب کوئی اِحرام باندھ کر جلدی جلدی عمرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ صبحِ صادق کے بعد نفل نہیں پڑھ سکتا لہٰذا بغیر نفل پڑھے بھی اِحرام کی نیت کرنے میں کوئی مُضایقہ نہیں ہے ۔ مکہ شریف میں رہنے والوں کو یہ صورت پیش آتی رہتی ہے ۔
*گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کا طریقہ*
سُوال: جو خاوند اپنى بىوى سے چھوٹى چھوٹى بات پر ناراض ہو جاتے ہىں ان کے لىے کچھ مَدَنى پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔ (SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب:خدا جانے وہ چھوٹی چھوٹی باتىں کس طرح کى ہىں مثلا ًشوہر آىا بىوى نے کچھ بھى نہىں کہا اور خالى منہ پھلا لىاتو اب ىہ چھوٹى بات ہے یا بڑى بات ؟ وہ تھکا ہارا آىا تو اسے کچھ دلاسے کى ، تسکىن کى اور پانى کا گلاس پىش کرنے کى حاجت ہے جبکہ بىوى اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کے بجائے منہ پھلا کر بىٹھى ہوئى ہے تو منہ پھلا کر بیٹھ جانا اگرچہ بات چھوٹی ہے لیکن اس سے شوہر کی کھوپڑی گھوم سکتی ہے تو یوں بعض اوقات وہ بات جس کو ہم چھوٹى سمجھتے ہىں شوہر کے نزدىک وہ بڑى ہوتى ہے ۔ یاد رَکھیے !بات بڑى ہو ىا چھوٹى ، ظلم سے سب کو بچنا ہے اور اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لىے سب کو اپنے اندر قوتِ بَرداشت کو پىدا کرنا ہے ، نہ بىوى کو لڑائی جھگڑے کا موقع دىنا چاہىے اور نہ شوہر کو بات بات پر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا روپ دھارنا چاہىے ۔
*وزن کے حساب سے عطر بیچنا کیسا؟*
سُوال:عطر بیچنے والے عطر چیک کروانے کے لیے عطر کی شیشی سے کئى کئى لوگوں کے ہاتھوں پر عطر لگاتے ہیں تو اس طرح اس مىں سے کچھ عطر کم بھى ہو جاتا ہے تو کیا اس طرح کچھ کم وزن والی شیشی کو پورا وزن بتا کر بىچنا دُرُست ہے ؟
جواب: اس طرح کا عُرف تو ہے کہ عطر بیچنے والے وزن کا کہہ کر نہىں دیتے بلکہ اس طرح بیچتے ہیں کہ ىہ بوتل اتنے کى ہے لىکن وزن کا کہہ کر بھی عطر بیچتے ہىں مثلاً پہلے تولے کے حساب سے عطر بکتا تھا کہ آدھا تولہ ہے مگر اب گرام کے حساب سے بکتا ہو گا مثلاً یہ پانچ گرام کى بوتل اتنے کى ہے حالانکہ اس سے اىک گرام نکل چکى ہوتى ہے ، اسی طرح بوتلوں مىں بھى مَسائل ہوتے ہىں کہ بعض بوتلوں کے پىندے موٹے ہوتے جس کی وجہ سے اُن میں عطر کم جاتا ہے اس لیے وزن کے بجائے یہ کہہ کر عطر بیچنے میں عافیت ہے کہ یہ شىشى اتنے کى ہے ۔
*رىکارڈ شُدہ آىتِ سجدہ سننے کا شرعی حکم*
سُوال:کیا موبائل وغیرہ پر ریکارڈ تلاوتِ قرآن سنتے ہوئے آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت لازم ہو جائے گا؟
جواب:رىکارڈ شُدہ آىتِ سجدہ سننے سے سجدہ ٔتلاوت واجب نہىں ہوتا۔
*جَل کر مَرنے والے کو نزع کی سختیاں زیادہ ہوتی ہیں یا گِر کر مَرنے والے کو ؟*
سُوال: جو شخص جَل کر مَرا اس کى نزع کى سختىاں زىادہ ہوں گى ىا جو 20 منزلہ بلڈنگ سے گِر کر مَرا اس کى نزع کى سختىاں زىادہ ہوں گى؟
جواب:اللہ پاک نزع کی سختیوں سے امن نصىب فرمائے ۔ خدا ہى بہتر جانے کہ کس کو نزع کی سختیاں کم ہوتى ہىں اور کسى کو زىادہ ؟ جس شخص نے خودکشى نہىں کى بلکہ وىسے ہى آگ مىں جھلس کر فوت ہوا تو وہ شہادت کا رُتبہ پا گىا۔
بہرحال نزع کى سختىاں اللہ پاک کى مَرضى پر ہیں ۔
*مسلمان جنات کو اِىصالِ ثواب کر سکتے ہىں*
سُوال: کىا مسلمان جنات کو اِىصالِ ثواب کر سکتے ہىں ؟
جواب: جی ہاں!مسلمان جنات کو اِىصالِ ثواب کر سکتے ہىں ۔
*حُدودِ حَرم میں عمرے کی نیت نہیں ہو سکتی*
سُوال:اگر کوئى مىقات مىں رہتا ہو تو کیا وہ حُدود ِحرم مىں جا کر عمرے کى نىت کر سکتا ہے ؟
جواب:حَرم کى حُدود سے باہر جانا پڑے گا جىسے مسجدِ عائشہ کہ وہ حِل میں ہے.
*”جو اللہ پاک چاہتا ہے وہى ہوتا ہے “کی وَضاحت*
سُوال:جو اللہ پاک چاہے وہى ہوتا ہے اِس حدىثِ پاک کا کیا مفہوم ہے ؟
جواب:یہ مسلمان کا مسلمہ عقىدہ ہے کہ جو اللہ پاک چاہتا ہے وہى ہوتا ہے ىعنى اگر سارى کائنات کچھ چاہے اور اللہ پاک نہ چاہے تو کچھ بھى نہىں ہو گا اور وہی ہو گا جو اللہ پاک چاہے گا تو ان الفاظ کے معنیٰ بالکل واضح ہیں ۔ اب کوئی کہے کہ کھانا کھا لو تو اس سے کوئى نہیں پوچھے گا کہ اس کے معنیٰ کىا ہىں؟ہاں! وہ پوچھے گا جسکو اُردو نہىں آتى ہوگی۔(اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا:) حقىقى چاہنا تو اللہ پاک ہى کا چاہنا ہے لىکن اىسا نہىں ہےکہ اس کا معنیٰ پھر ىہ بىان کر دىا جائے کہ اللہ پاک کے پىاروں کے چاہنے سے کچھ نہىں ہوتا،اللہ پاک کے پیارے بندے اللہ پاک کى دى ہوئى طاقت سے جو چاہتے ہىں کرتے ہىں اور جو وہ کرتے ہیں اس مىں بھی اللہ پاک کا اِذن ہی ہوتا ہے.
(اس پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد فرمایا:) جسے اللہ پاک کے پىاروں سے دُشمنى ہوگى وہی اىسى بات کرے گا.دیکھئے !ڈاکو بھى چاہتا ہے تو گولى مار ہى دىتا ہے مگر اس کے بارے میں کبھى بھی وَسوسہ نہىں آئے گا اور نہ کوئی یہ کہے گا کہ ڈاکو نے گولى مارى اور بندہ مَر گىا تو یہ شرک ہوگىا۔اسی طرح کسى نے قتل کر دىا اور اب وہ کچہرى مىں جائے اور جج کے پاس کھڑا ہو کر کہے کہ مىں نے قتل نہیں کىا۔اللہ پاک نے چاہا تو مىں نے فائر کردىا اور ىہ بندہ مر گىا تو اس کی ىہ دَلىل نہىں چلے گى.
یاد رَکھیے ! ىہ عالَمِ اَسباب ہے ورنہ حقىقت ىہى ہے کہ اللہ پاک چاہے گا تو ہى ہوگا اور اگر اللہ پاک نہ چاہے تو نہىں ہو گا جىسا کہ دىوار مىں سر مارىں گے تو سر پھٹے گااور چوٹ لگے گى لىکن اگر اللہ پاک نہىں چاہے گا تو آپ بھلے زور زور سےسر مارتے رہیں نہىں پھٹے گا.
*مسجد کا دَروازہ بند کرنے کے لیے مُعْتَکِف کو خارج ِمسجد جانے کی اِجازت نہیں*
سُوال:کىا مُعْتَکِف اسلامى بھائى مسجد کا دَروازہ باہر سے بند کرنے کے لىے خارج ِمسجد جا سکتے ہىں ؟
جواب:مسجد کا دَروازہ تو خارج ِمسجد نہىں بلکہ اندر ہى ہوتا ہے لہٰذا مُعْتَکِف اندر سے دَروازہ بند کر دے اور اگر باہر سے دَروازہ بند کرنے کى ضَرورت ہے تو کسى غىر مُعْتَکِف کو بھىج دیا جائے اور وہ باہر سے بند کر دے ۔ دَروازہ بند کرنا اىسى ضَرورت نہىں کہ جس کے لىے مُعْتَکِف کو مسجد سے باہر جانے کى اِجازت دے دى جائے کیونکہ یہ نہ تو شرعى حاجت ہے اور نہ ہی طبعى حاجت ۔
*کیا فطرے کے لیے بھی سال گزرنا شرط ہے ؟*
سُوال:رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے آخری عشرے میں جو پورے مہینے کا فطرہ ادا کیا جاتا ہے اس کی وہی شرائط ہیں جو زکوٰۃ کے فرض ہونے کی شرائط ہیں تو ہم سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو فطرہ کیوں ادا کرتے ہیں؟
(ریکارڈ شدہ سُوال)
جواب:صَدقۂ فطر نہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں واجب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے آخری عشرے میں واجب ہوتا ہے بلکہ صدقۂ فطر عیدُ الفطر کی صبحِ صادق کے وقت مالکِ نصاب پر دِیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اَولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہوتا ہے اس کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ہے۔
(امیرِ اہل سنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب تشریف فرما مفتی صاحب نے فرمایا:) زکوٰۃ اور صَدقۂ فطر کے نصاب میں فرق ہے ، صدقۂ فطر کے لیے مالِ نامی جیسے سونا، چاندی یا مالِ تجارت ہونا شرط نہیں ہے بلکہ کسی کے پاس اس کے علاوہ بھی ضَرورت سے زیادہ سامان ہو جو ساڑھے باون تولے چاندی کی رَقم کو پہنچ جائے تو اس پر اگرچہ زکوٰۃ فرض نہیں ہے مگر صدقۂ فطر واجب ہے ۔ جیسے کسی کے پاس فالتو کپڑے ہوں یا ضَرورت سے زیادہ موبائل فون یا گھڑیاں ہوں یوں ہی جوتوں کے ڈھیر پڑے ہوں جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر کی رقم کے ہوں تو اس پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہوگا ان چیزوں کی وجہ سے زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی جبکہ اس کے علاوہ مالِ نامی نصاب کے برابر اور حاجتِ اصلیہ سے زائد نہ ہو ۔
(امیرِ اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اگر کسی کے پاس اس طرح کا سامان ضرورت سے زیادہ ہو کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی اور وہ نصاب کے برابر ہوجائے تو یہ شخص زکوٰۃ لینے کا بھی مستحق نہیں ہو گا یعنی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی بعض اوقات لوگ خود کو فقیر کہہ رہے ہوتے ہیں حالانکہ انکے گھر میں ایک سے ایک ڈیکوریشن کی چیزیں ہوتی ہیں جو بالکل بھی ان کی ضَرورت کی نہیں ہوتیں اور وہ فقیر شرعی کی تعریف پر پورا نہیں اُتر رہے ہوتے۔یوں ہی بیوہ عورت ہوتی ہے اس کے پاس نصاب کے برابر سونا ہوتا ہے اس کے باوجود وہ یہ کہہ کر زکوٰۃ لے رہی ہوتی ہے کہ میں کماتی نہیں ہوں حالانکہ ایسی عورت کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ لینے کے بجائے اپنی زکوٰۃ ادا کرے ۔ نیز زکوٰۃ دینے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی عورت کو ہرگز زکوٰۃ نہ دیں کیونکہ بیوہ ہونا مستحق ہونے کی دَلیل نہیں ہے۔کئی شادی شُدہ خواتین مستحقِ زکوٰۃ ہوتی ہیں ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔
*مُسافر جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو کیا حکم ہے ؟*
سُوال:اگر کوئی مُسافر دَورانِ سفر ویسے ہی یا پیاس کی شِدَّت کی وجہ سے روزہ توڑ دے تو اس پر صرف قضا ہوگی یا کفارہ بھی لازم آئے گا؟(ریکارڈ شدہ سُوال)
جواب:شرعی مُسافر ہے تو صِرف قضا لازم ہو گی۔
کیا امام صاحب کے مصلے پر پاؤں رکھنے سے اَعمال بَرباد ہو جاتے ہیں؟
سُوال:سنا ہے امام صاحب کے مصلے پر بِلاضَرورت پاؤں رکھنے سے ساری زندگی کے اَعمال بَرباد ہو جاتے ہیں کیا اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے ؟(SMSکے ذَریعے سُوال)
جواب:اِس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ کی جائیں اور نہ ایسا عقیدہ رکھا جائے کیونکہ یہ سب عوامی باتیں ہیں ۔ امام صاحب کی غیر موجود گی میں مؤذن صاحب جو نائب امام ہوتے ہیں وہ نماز پڑھائیں گے تو مصلے پر پاؤں تو رکھیں گے ۔
*اِجتماع گاہ میں خوشبو کا چِھڑکاؤ کرنا کیسا؟*
سُوال:جمعہ اور عیدین کے دِن مَساجد میں بعض لوگ خوشبو کا چِھڑکاؤ کرتے ہیں اور جہاں سے گزرتے ہیں لوگ انہیں رقم دیتے ہیں کوئی 10 روپے دیتا ہے تو کوئی20 روپے تو کوئی 50روپے دے دیتا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟(ریکارڈ شدہ سُوال)
جواب:یہ نئی بات سنی ہے کہ ایسا بھی ہو رہا ہے ۔ بہرحال یہ چھڑکاؤ کرنے والا رَقم لے یا نہ لے اِس طرح سب پر خوشبو چھڑکنا دُرُست نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کسی کو اس سے الرجی ہو اوروہ اس سے تکلیف محسوس کرے ، پھر اس طرح چھڑکنے میں پرفیوم کا قطرہ کسی کی آنکھ میں چلا گیا تو وہ آزمائش میں آجائے گا ۔ رہی بات رقم دینے کی تو اگر کوئی اس کے مطالبے کے بغیر اپنی خوشی سے رقم دے دے تو کوئی حرج نہیں اور اگر یہ طے ہے کہ خوشبو چھڑکنے والے کو رَقم دینی ہو گی نہ دینے پر یہ بُرا بھلا کہے گایہ دُرُست نہیں اور طعن و تشنیع سے بچنے کے لیے کچھ رَقم دی تو یہ رِشوت ہو گی اس میں اگرچہ دینے والا تو گناہ گار نہیں ہو گا کہ اس نے شر سے بچنے کے لیے رِشوت دی ہے لیکن لینے والا ضَرور گناہ گار ہو گا ۔ یہ چِھڑکاؤکرنے کا رَواج ختم ہونا چاہیے ۔ یاد رَکھیے !کسی بھی اِجتماعِ ذِکر و نعت یا جلسوں میں اسطرح خوشبو کا چِھڑکاؤ لوگوں کی تکلیف کاباعث ہوتا ہے ہوسکتا ہےجو ایسا کرتے ہیں وہ اس کو ثواب سمجھتے ہوں پھر فضا میں چھڑکاؤ کرنا الگ ہے اورکسی بندے پر چھڑک دینا الگ، لیکن جب فضا میں چِھڑکاؤ کریں اس وقت بھی یہی خیال رکھیں کہ لوگوں پہ آ کر نہ گرے بہرحال بہتر یہی ہے کہ اسکے علاوہ بہت سارے کرنے والے کام ہیں وہ کیے جائیں اس میں وقت ضائع نہ کیا جائے کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں جاپڑو گے۔
*نمازیوں کو عطر لگانے سے متعلق مَدَنی پُھول*
سُوال: بعض اسلامی بھائی عین نماز سے پہلے دوسروں کو عطر لگانا شروع کر دیتے ہیں، وہ عطر کبھی موافق ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا، بعض اوقات عطر کی کوالٹی میں بھی فرق ہوتا ہے اِس حوالے سے مَدَنی پُھول عطا فرمادیجیے ۔
جواب:یہ عمل مَشائخ کے یہاں دیکھا ہے لوگ لگا رہے ہوتے ہیں اس میں یہی سمجھ آتا ہے کہ اگر عطر موافق نہ ہو تو خود منع کر دے۔میں نے سیدی قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد قادری مدنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے یہاں دیکھا ہے کہ لوگ عطر لگا رہے ہوتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی وفات کے بعد جانشینِ قطبِ مدینہ حضرت مولانا حافظ فضل الرحمٰن قادری مَدَنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کےیہاں بھی عطر لگاتے ہوئے دیکھا ہے جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکثریت عطر لگواتی ہے تو جس کو عطر موافق نہ ہو یا وہ نہ لگوانا چاہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لے ۔
*نئے نوٹ زیادہ رَقم دے کر خریدنا کیسا؟*
سُوال:نئے نوٹ پرانے نوٹوں کے بدلے میں کمی زیادتی کے ساتھ خریدنے کا کیا حکم ہے کیا یہ سود ہے ؟
جواب:ایک نشست میں لین دین ہو تو جائز ہے جیسے 100 کا نوٹ چمکتا ہوا لیا اور اس کے عوض 101 روپے اسی مجلس میں دے دئیے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ قانوناً جُرم نہ ہو، اگر قانوناً جُرم ہے تو بچنا چاہیے ۔
*کیا مُردوں کو اِیصالِ ثواب پہنچتا ہے؟*
سُوال:اگر ہم کسی بزرگ کی وفات کے بعد انہیں اِیصالِ ثواب کریں تو کیا ان کو معلوم ہوتا ہے اور وہ ہمارے لیے دُعا کرتے ہیں جیسے دُنیا میں ہمارے لیے دُعا کرتے تھے ؟
(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب:بزرگ ہو یا غیر بزرگ مسلمان کو جب بھی اس کا کوئی عزیز وغیرہ اِیصالِ ثواب کرتا ہے تو اس کو پتا چل جاتا ہے کہ فلاں کی طرف سے مجھے یہ تحفہ بھیجا گیا ہے اور یوں اس کو خوشی ہوتی ہے ۔ البتہ دُعا کرتے ہیں یا نہیں اس کا مجھے یاد نہیں اور اس حوالے سے کہیں کچھ پڑھا بھی نہیں ۔
*فوت شُدہ کی ایک نماز کا فدیہ کتنا ہوتا ہے ؟*
سُوال: کسی فوت شُدہ مسلمان کے روزے رہ جائیں تو اس کے ایک روزے کا فدیہ 100روپے یعنی ایک صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے اگر کسی کی نمازیں رہ جائیں تو اس کی نمازوں کا بھی یہی فدیہ ہو گا؟ (ریکارڈ شدہ سُوال)
جواب:100روپے یہ صرف اس سال یعنی ۱۴۴۰ سن ہجری کے رَمَضَانُ الْمُبَارَککے لیے ہے بلکہ اس میں بھی اِحتیاطاًتاریخ بتانی چاہیے کہ آج کی تاریخ کا فدیہ 100روپے ہے کیونکہ کل گندم کی قیمت میں اِضافہ ہو گیا تو صدقۂ فطر کی رقم بھی بڑھ جائے گی جیسے 125 یا 110روپے ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں اسی وجہ سے عُلَمائے کِرام ایک مَخْصُوْص رقم بیان کر دیتے ہیں ۔ ورنہ اصل صدقۂ فطر دو کلو میں 80 گرام کم گندم یا اس کی قیمت ہے۔ یوں ہی(چار کلو میں 160 گرام کم ) کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت سے بھی صَدقۂ فطر دیا جا سکتا ہے ۔
بہرحال فوت شُدہ شخص کے ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے اس کی اَدائیگی کے بعد اللہ پاک کی رَحمت سے اُمید کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک کرم فرمائے گا ۔ نیز فوت شُدہ کی ایک فرض نماز کا فدیہ بھی صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے یاد رَکھیے ! نمازِ عشا کے دو فدیے ادا کیے جائیں گے ایک فرض نماز کااور ایک وتر کا۔
*کیا زکوٰۃ صِرف رقم سے ہی ادا ہوتی ہے ؟*
سُوال:میرے پاس گھر میں زیورات ہیں جن کی زکوٰۃ کی رقم 9925 روپے بن رہی ہے حالانکہ میری کل تنخواہ ہی 14000 روپے ہے میں اِس حوالے سے کیا کروں میری اتنی تنخواہ نہیں ہے اگر یہ زکوٰۃ میں دے دی تو میرے پاس کوئی خاص رقم نہیں بچے گی؟(ریکارڈ شُدہ سُوال) جواب: زکوٰۃ دینا فرض ہے اگر سونے کی مقدار زیادہ ہے تو سونا بھی زکوٰۃ میں دیا جا سکتا ہے یوں ہی کپڑے اور اناج بھی زکوٰۃ میں دیئے جا سکتے ہیں۔یاد رَکھیے زکوٰۃ فرض ہے اور ادا کرنا لازم ہے نہیں دیں گے تو گناہ گار ہوں گا۔جب اللہ پاک کی راہ میں یہ مال خرچ کریں گے تو وہ اسمیں بَرکت دے گا اور اِنْ شَآءَاللّٰہ تنخواہ بڑھ جائے گی بلکہ اپنا کاروبار ہو جائے گا.اسمیں سلامتی کی راہ یہ ہے کہ پیشگی(یعنی ایڈوانس )سارا سال تھوڑی تھوڑی رَقم زکوٰۃ کی مد میں دیتا رہے اس طرح زیادہ رقم بھی ایک ساتھ نہیں دینا پڑے گی اور بآسانی زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی.
جماعت میں مقتدی تکبیرِ قنوت کہہ کر رُکوع میں چلا جائے تو؟
سُوال:اگر امام وتر کی نماز پڑھاتے ہوئے تکبیرِ قبوت کہے اور مقتدی رُکوع میں چلے جائیں تو کیا رُکوع سے واپس آکر دُعائے قنوت پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اِنفرادی طور پر وتر پڑھنے میں ایسا ہو تو رُکوع سے واپس آکر قنوت پڑھنے کی اِجازت نہیں ہوتی؟(ریکارڈ شُدہ سُوال)
جواب:امام کی پیروی واجب ہے لہٰذا مقتدی رُکوع میں چلا گیا ہو تو واپس آجائے اور امام کے ساتھ دُعائے قنوت پڑھے ۔
*زکوٰۃکس کو دی جائے ؟*
سُوال:زکوٰۃ کس کو دی جا سکتی ہے ؟ میں نے سنا ہے اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو تو اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے حالانکہ میں نے ایسی بیوہ خواتین کو دیکھا ہے جن کی بیٹیاں بھی ہوتی ہیں اور پندرہ بیس ہزار مہینے کا آتا ہے اسی پر بمشکل گزارہ کر رہی ہوتی ہیں ۔
(ریکارڈ شُدہ سُوال)
جواب:زکوٰۃ اسے دی جاتی ہےجو شرعی طور پر فقیر ہو اور ہاشمی نہ ہو۔چودہ یا پندرہ ہزار ماہانہ آتا ہے اور ایک تولہ سونا موجود ہے ان چیزوں کا دیکھنا ضَروری نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے ان کے پاس ایک تولہ سونا تو ہو مگر یہ اس سے زیادہ کی مقروض ہو تب بھی وہ شرعی فقیر کے تحت آئے گی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi